Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

منصور علی خان بتا رہا ہے جب پولیس نے ڈار فیملی سے رابط کیا تو رضا ڈار کے تمام نمبر بند تھے پھر ایک نمبر کا پتہ چلا اس پہ خود ڈار فیملی نے رابط کیا اور رضا ڈار کی لوکیشن پولیس کو دی کہ آپ جاکر گرفتار کریں...

124,615 görüntüleme • 3 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کیا رضا ڈار پی ٹی آئ کے عمر ڈار کا بھانجا اور ریحانہ ڈار کا نواسہ ہے ؟ سراسر جھوٹ کیا رضا ڈار نائب وزیراعظم ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ ہے؟ جی ہاں سو فیصد درست(منیب فاروق نے اپنے ویلاگ میں کنفرم کیا ہے) پھر کچھ ن لیگی سوشل میڈیا ورکرز رضا ڈار کو عمر ڈار ریحانہ ڈار اور پی ٹی آئ سے کیوں جوڑ رہے ہیں ؟ غریب ٹھرکیوں کے نیفے میں سیدھا پستول اور امیر ٹھرکیوں کے خلاف قانون پر عمل؟ کیا بگاڑ لے گا یہ سسٹم رضا ڈار کا ؟ آج جسمانی ریمانڈ پر ہے کل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جاۓ گا پرسوں کوئ بڑا وکیل کروڑوں روپے فیس لیکر رضا ڈار کو ضمانت پر رہا کرا لے گا اور تیسرے دن پتا چلے گا کہ غیر ملکی خواتین اور رضا ڈار کے درمیان تمام معاملات باہمی رضامندی و خوش اصلوبی سے طے پا گۓ ہیں لہذا "مٹی پاؤ" ایک منٹ کے لیے مان لیتے ہیں یہ جنسی زیادتی وغیرہ کا کیس نہیں بلکہ کاروباری لین دین کا معاملہ ہے تو کیا کاروباری معاملات میں بیرون ملک سے خواتین کو بلا کر گھمایا پھرایا جاتا ہے ؟ جی بلکل مہمان نواز کی جا سکتی ہے تا کہ کاروبار کے مثبت نتائج نکل سکیں ۔ لیکن کیا گھمانے پھرانے کے بعد ان غیر ملکی خواتین کو اغواہ کر کے کہیں قید کیا سکتا ہے ؟ جی بلکل بھی نہیں کیوں کہ کاروبار میں ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کاروباری بندہ فراڈیا دو نمبر نا ہو اب یا تو رضا ڈار دو نمبر کاروباری فراڈیا ہے یا پھر جنسی درندہ اگر کاروباری فراڈ کا معاملہ ہوتا تو خواتین کو بازیاب کروا کے انکے بیانات اور میڈیکل کروا کے انہیں فوری انکے ملک واپس نا بیجھ دیا جاتا بلکہ انہیں روک کر کاروباری فراڈ پر تحقیقات آگے بڑھائ جاتیں

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

39,770 görüntüleme • 3 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨شہزاد اکبر کا رضا ڈار کیس کے متعلق اہم انکشاف۔ اسٹبلیشمنٹ کا بڑا حکمنامہ جاری۔ رضا ڈار کو بچالیا گیا 🔥🔥 اسحاق ڈار نے رو رو کر تکیے گیلے کردیے ہیں اور اتنی زیادہ منت سماجت، خدمت، کہ جناب "مینوں بچا لو، مینوں بچا لو" اُس کے بعد اسٹبلیشمنٹ کے حکمنامے جاری ہوئے اور ڈار صاحب کی رپورٹنگ کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اب رپورٹنگ کے اوپر تو پابندی ہے لیکن بڑے بڑے شو بھی کروائے جارہے ہیں لیکن ملا جلا رجحان ہے۔ اسکا تازه ترین ثبوت آج رضا ڈار اور دیگر ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے دوبارہ پیش کیا گیا اور پھر سے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پولیس نے لے لیا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ یہ سارا کام کیا گیا۔ کسی رپورٹر کی خبر نہیں چلائی گئی میڈیا کے اوپر۔ جیسے پہلے خبریں فلیش ہورہی تھیں اُس طرح نہیں ہوا۔ اب ایک سطری خبر کے طور پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہ ہوتا ہے میڈیا منیجنگ جس سے Narrative مینجمنٹ ہوتی ہے اور پھر جاکر ہوتی ہے کیس مینجمنٹ۔ میڈیا مینجمنٹ کیلئے خدمات لی گئی ہیں مریم نواز کے جو رشتے دار خاندان ہے جنکا پاکستان کے باہر بڑا کاروبار ہے۔ انکے جو ذاتی احسانات ہیں میڈیا کے اوپر انکے ذریعے سے سبکو جھکڑ لیا ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

54,712 görüntüleme • 2 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 3 ay önce