Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کیا یہ 25 سالہ نوجوان رضا ڈار ہے؟اگر رضا ڈار ہے تو مریم نواز حکومت کا ملازم فیصل کامران دو ٹوک انداز میں رضا ڈار کا نام لینے سے کترا کیوں رہا ہے؟ رضا ڈار کا نام لینے کے بجائے 25 سالہ نوجوان کیوں کہا جارہا ہے؟ ثمر عباس...

130,963 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کیا رضا ڈار پی ٹی آئ کے عمر ڈار کا بھانجا اور ریحانہ ڈار کا نواسہ ہے ؟ سراسر جھوٹ کیا رضا ڈار نائب وزیراعظم ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ ہے؟ جی ہاں سو فیصد درست(منیب فاروق نے اپنے ویلاگ میں کنفرم کیا ہے) پھر کچھ ن لیگی سوشل میڈیا ورکرز رضا ڈار کو عمر ڈار ریحانہ ڈار اور پی ٹی آئ سے کیوں جوڑ رہے ہیں ؟ غریب ٹھرکیوں کے نیفے میں سیدھا پستول اور امیر ٹھرکیوں کے خلاف قانون پر عمل؟ کیا بگاڑ لے گا یہ سسٹم رضا ڈار کا ؟ آج جسمانی ریمانڈ پر ہے کل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جاۓ گا پرسوں کوئ بڑا وکیل کروڑوں روپے فیس لیکر رضا ڈار کو ضمانت پر رہا کرا لے گا اور تیسرے دن پتا چلے گا کہ غیر ملکی خواتین اور رضا ڈار کے درمیان تمام معاملات باہمی رضامندی و خوش اصلوبی سے طے پا گۓ ہیں لہذا "مٹی پاؤ" ایک منٹ کے لیے مان لیتے ہیں یہ جنسی زیادتی وغیرہ کا کیس نہیں بلکہ کاروباری لین دین کا معاملہ ہے تو کیا کاروباری معاملات میں بیرون ملک سے خواتین کو بلا کر گھمایا پھرایا جاتا ہے ؟ جی بلکل مہمان نواز کی جا سکتی ہے تا کہ کاروبار کے مثبت نتائج نکل سکیں ۔ لیکن کیا گھمانے پھرانے کے بعد ان غیر ملکی خواتین کو اغواہ کر کے کہیں قید کیا سکتا ہے ؟ جی بلکل بھی نہیں کیوں کہ کاروبار میں ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کاروباری بندہ فراڈیا دو نمبر نا ہو اب یا تو رضا ڈار دو نمبر کاروباری فراڈیا ہے یا پھر جنسی درندہ اگر کاروباری فراڈ کا معاملہ ہوتا تو خواتین کو بازیاب کروا کے انکے بیانات اور میڈیکل کروا کے انہیں فوری انکے ملک واپس نا بیجھ دیا جاتا بلکہ انہیں روک کر کاروباری فراڈ پر تحقیقات آگے بڑھائ جاتیں

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

39,770 görüntüleme • 1 ay önce

شاید مقدمہ درج ہوا نہیں کروایا گیا ہے: عمران شفقت صاحب کا اہم نقطہ شریف خاندان کی پنجاب اور وفاق میں حکومت ہو، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ہوں اور پاکستان نے سفارتی سطح کے اوپر بڑی کامیابیاں سمیٹی ہوں، ایسے وقت میں اُن کے نواسے کے خلاف مقدمہ درج ہو جانا اس کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ درج ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم اس لیے ہیں کہ وہ نواز شریف صاحب کے سمدی ہیں، اور وہ نواز شریف صاحب کے سمدی اس لیے ہیں کہ نواز شریف کے بچپن کے دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں لیکن اُن کے ساتھ اسحاق ڈار کا ہونا نواز شریف کا آدمی ہونا قرار دیا جاتا ہے، اور پھر پنجاب میں علی ڈار مریم نواز کے مشیر ہیں، کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز نے اگلے وزیراعلی پنجاب کے لیے علی ڈار کو ذہن میں رکھا ہوا ہے تاکہ حمزہ شہباز کا راستہ روک سکیں:

Zeshan Noor

34,817 görüntüleme • 1 ay önce

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 görüntüleme • 7 ay önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 2 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

یہ سب کچھ ڈی جی صاحب نے کہا ۔ صرف انکی جونسی انگریزی ہے اس کا ترجمہ کر دیا ۔ وہ یہ سب سمجھتے ہیں اسی لئے یوتھ کے خلاف ہیں ؟ انہوں نے کہا ۔ جو ہوپ والی بات ہے۔ ​آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا جو نوجوان ہے وہ باشعور نہیں ہے؟ بہت باشعور ہے مجھے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اس شاندار نوجوان طبقے سے بارہا گفتگو کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اور میں آپ کو سچ بتاؤں، جس عمر میں وہ ہیں، اس عمر میں ہمارے مقابلے ان کی سوچ کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ بے حد واضح ​وہ جو دنیا کے حالات دیکھتے ہیں نا میرے بھائی، انہیں ریاست کی اہمیت کا مجھ سے اور آپ سے زیادہ اندازہ ہے جو ہمیں اس عمر میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی، پاکستان سے ان کی محبت، اور پاکستان پر ان کا اعتماد بہت مضبوط ہے۔ اور میرے خیال میں وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے ابھی 50 سے 70 سال کی پوری زندگی پڑی ہے، کہ وہ ذاتی طور پر زندگی میں اور یہ ملک مجموعی طور پر کن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ​اور ایک بہتر تبدیلی اور سنہرے مستقبل کے لیے ان کی خواہش کہیں زیادہ شدید ہے۔ ​تو اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے، اور اب ہم کھلم کھلا اس بات پر بحث بھی کر رہے ہیں کہ جی ہاں، تبدیلی کی ضرورت ہے..." , تو آئی تھنک مایوسی نہیں، کہیں گے... وہ پرہیپس آئی تھنک کہیں گے 'دیر آئے درست آئے'۔ ٹھیک ہے نا؟ Because they also, ان کا اسٹیک ہے میرے بھائی ان کے پاس زندگی زیادہ ہے، ان کے پاس دہائیاں زیادہ ہیں۔ ​اور اسی ملک کے نیچے، انہیں پتہ ہے وہ غزة کو نہیں دیکھ رہے، انہیں پتہ ہے ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست کی جگہ... انہیں پتہ ہے پاکستان کے علاوہ نہ ان کی پہچان ہے، نہ عزت ہے، نہ اوقات ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں، مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میں جب بھی انٹریکٹ کرتا ہوں، ایک چیز.. . جب آپ ان سے ملتے ہیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ کا دل جیت لیتی ہیں، کہ ہمارے پاس کتنا شاندار نوجوان طبقہ ہے! کتنا سلجھا ہوا اور روشن دماغ نوجوان طبقہ ہے!" ​تو یہ ان کی ریکوائرمنٹ ہے میرے بھائی۔ یہ امید کم نہیں ہوئی، یہ ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تو اب ایک... ایک سوچ جنم لے رہی ہے، ایک عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔" اب اس کا طریقہ جونسا ہے وہ آئین اور قانون اور عوام... اور ​"تو پھر، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی تو وہی ہیں ​اگر پاپولیشن وائز بھی دیکھا جائے تو سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر وہی ہے نہ؟ 'ویل آف دی پیپل' کی بات کی جائے تو 'ویل آف دی پیپل' کا سب سے بڑا کمپوننٹ تو وہی ہے۔ تو ہم تو یہی کہہ رہے ہیں لوگوں کی رائے لیں' تو. یوتھ بتا دے گی آپ کو،کہ وہ کیا چاہتے ہیں"

Shafqat Ch

20,395 görüntüleme • 21 gün önce