Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
مولوی کو میں جانتا نہیں۔۔ پہلی دفعہ سنا ہے۔۔
12,554 görüntüleme • 4 ay önce •via X (Twitter)
25 Yorum

صرف دوسری شادی ہی نہیں جس کسی کو بھی اللہ کے کسی قانون پر موت پڑتی ہے ۔ ہماری طرف سے وہ مر جائیں۔

شاہ جی؟ قرآن مجید میں ہے کہ ’’ اگر تمہیں ڈر ہو کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو۔‘‘ (النساء:129) دوسرے مقام پر فرمایا: ’’ تم اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکو گے خواہ تم اس کی کتنی ہی خواہشیں کرو۔ ‘‘(النساء:4) میری ناقص سمجھ میں ان دونوں آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صر ف ایک عورت سے ہی شادی ہو سکتی ہے کیونکہ متعدد بیویوں کی موجودگی میں عدل کی شرط کو پورا کرنا ناممکن ہے، پلیز وضاحت فرما دیں تاکہ رہنمائی ہو؟

اس مولوی صاحب کو بار بار سنیں۔۔ بس اسی سے شاید جواب مل جائے گا

🫡🫡

اگر کوئی شخص بے اولاد ہے تو دوسرا نکاح کرے اگر وہ کسی بیوہ یا مطلقہ کو سہارا دینا چاہتا ہے تو دوسرا نکاح کرنا احسن ہے اگر دونوں بیویوں میں “عدل” کرسکتا ہے تو بھی دو نکاح جائز ہیں یہی اسلام کہتا ہے لیکن ہم نے ایسے کہی مرد دیکھے ہیں جو پہلی بیوی کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں قرآن پاک

محترم، جب قرآن میں دونوں آیات الگ الگ ھیں تو آپ انھیں ملا کیوں رھے ھو؟ اگر مقصد اللہ کی منشا سمجھانا ھے تو دونوں آیات کا سیاق و سباق، وجہہ نزول بھی بیان کرنا ھوگی۔ ورنہ آپ نے مذھب کو اُس کی اصل سے ھٹ کر اپنے مقصد کیلیے استعمال کیا ھے

۱-آپ مجھے بتاو کہ قران شریف میں کہاں لکھا ہوا کہ ہر مسلمنٹے کو چار چار عورتوں سے عیاشیاں کرنے کی اجازت ہے ؟ کھولو قران شریف ! جس سورت کا یہ جنسی شہوت گرد مولوی آسرا لیتے ہیں اس کو سیاق و سباق میں سمجھ کر پڑھیں :-

عربوں میں تو آج بھی ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا عام رواج ہے جو عین اسلامی ہے۔ ہمارے یہاں دین کی صحیح تعبیر نہیں کیوں کہ قران کو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔

رسول کریم کو بچوں کی زیادتی چاہیے ہوتی تو انکے اپنے بھی سو بچے ہوتے۔ کم از کم۔ گیارہ نکاح فرماے تھے۔ جاہل مولوی۔

کی تعداد بڑھا دیں گے تو اس سے میں کوئی مسئلہ نہیں مگر آپ ان مولوی صاحب کی فہم سے تو دنیا کو نہیں چلا سکتے۔ ان کے پاس زیادہ بچے پیدا کرنے کی مہارت کے علاوہ اور کوئی مہارت نہیں۔ حتی کہ دین کے معاملات تو بھی جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے قاصر ہوں گے۔ ایسے لوگ قابل تقلید نہیں۔

قرآنُ پاک اور صحیح حدیث شریف کے حُکم کے خلاف بات کرنے والا یا عملن نہ مان نے والا سیدھا سیدھا کافر ہے، اب انفلنسر عُلماء زیادہ تر درباری ہیں تو وہ حق بات بھی کھل کے بیان نہیں کرتے، جیسے پورے قرآن کا منکر پوری احادیث کا منکر کافر ہے اسی طرح ایک آیت یا حدیث کا منکر بھی کافر ہے

نکاح چار تک کر سکتے اگر عدل کر سکو۔ اس بات سے متفق ہیں ۔ سوال یہ ہیے کیا بچے بھی اتنے ہی پیدا نہیں کرنے چاہیے جن کی تعلیم وترببت اور اچھی پرورش ہو سکے۔ رہنمائی کے لیے سوال کیا ہے

بھائی کثرت ازواج پہ میں کوئی رائے نہیں دیتا مگر کثرت اولاد پہ بات کرنا چاہتا ہوں۔ مسئلہ دینی نہیں بلکہ معاشی اور انتظامی ہے۔ دنیا میں موجود تمام مسائل کی اگر ایک اکیلی وجہ نکالی جائے گی تو افراد کا وسائل سے زیادہ ہو جانا ہے۔ اگر زمین کے پاس وسائل زیادہ ہیں تو آپ افراد ++

بہت اچھی باتیں کی ہے مفتی صاحب نے

Pakistan only problem is population growth - no resources. Sab Pakistanio ko Khasi karo like China

👏👏👏👏👍👍👍

جو جو مرد دوسری شادی کے حق میں ہیں اللہ انکی بیٹیوں اور بہنوں کے خاوندوں کی چار چار شادی کروائے۔ بولو آمین

حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے پہلی بیوی کے ہوتے دوسرا نکاح نہیں کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد دوسرا نکاح کیا اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد دوسرا نکاح کیا

Well said.

انہوں نے ہر طرح کے کانٹکس کی ساری باتوں کو مکس کر کے ایک جواز گڑھ دیا۔ دوسرا نکاح جائز ہے مگر اسکے لیے منطق بہت فضول گڑھی ہے۔ سارا معاملہ انصاف کا ہے۔ انصاف نہیں کر سکتے تو ایک پر ہی اتفاء کرو مرد کی ضرورت ایک سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔

اس مولوی حرامزادے کو کس نے کہہ دیا کہ دوسری شادی کو منع کرنے والا کافر ہو جاتا ھے ؟

If you are Muslim you are allowed more marriages . But now mostly 97 % are Munafiqs. True muslims are very rare .

قرآن پڑھ لیں اللہ نے بھی ایک نکاح کا حکم ھتباوی کی اجازت ھے لیکن اگر دوسری بیوی آنے کے بعد عدل ھی کر سکتے تو ایک پر اکتفا کرو اور اگر مجبوری میں دو یا زیادہ کر لی ھیں تو کسی کوبھیلٹکا ھوا نہ چھوڑ دو مطلب بہے توجہی نہ کرو کہاس کی ضروریات پوری نہ ھوں

پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح خلاف سنت ہے

Molvi ko kia farq 5 hon ya 15 bachy , wo to Masjid madrissay k paison pr he parwarish paayn gy, phir wo sab ek ek masjid sambhaal lain gy, istrha k byaan ka he nateeja hai k hum me “Huqdaar” paida hoty hain Sadqa zakaat leny waly, ye log Islam ko ghalt tariqay se agy pohnchaty hn
Benzer Videolar
Sensitive content
یہ اب مجھے نہیں پتہ اقرار الحسن کی پہلی بیوی ہے یا دوسری ہے لیکن میں نے ہمیشہ اس کو دوپٹے میں دیکھا ہے اور اج پہلی دفعہ میں حیران ہوئی ہوں دیکھ کر کہ یہ محترمہ بھی عروسہ کے رنگ میں رنگ گئی ہیں۔۔
Shumaila Mubeen 🇵🇰
72,456 görüntüleme • 9 gün önce
