Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مکہ معاہدے کا اب نیا نام مکہ ڈیفنس الائنس ہے۔۔ بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کو بھی اب اس میں شامل کیا جائے گا۔ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد جارحیت سے دفاع ہے جارحیت نہیں۔۔ اس کا پہلا سیکرٹری پاکستان سے ہو گا...

24,337 views • 2 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پروفیسر عادل نجم، ماہر بین الاقوامی امور 👈مکہ معاہدہ ایک اہم قدم ہے، کتنا تاریخی ہے اس کا فیصلہ تاریخ نے کرنا ہے۔ 👈واضح یہ ہے کہ جو پہلے کا سیکیورٹی نظام تھا جس کا چوہدری امریکا تھا وہ اب ٹوٹ رہا ہے۔ 👈ابھی معاہدے کی ابتدائی شکل ہے جسے حتمی شکل اختیار کرنا ہے، کویت سے بات چیت رہی ہے، مصر نے اس معاہدے میں آنا تھا مگر وہ نہیں آیا یہ بھی اہم ہے۔ 👈امریکا میں جو گفتگو ہے اس میں بہت زیادہ سایہ اسرائیل کے بیانیے کا ہے۔ امریکا میں دیکھا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امریکا کے دفاعی اسٹرکچر کو ختم کر رہا ہے اور نئے سیکیورٹی نظام کو لا رہا ہے۔ 👈سابق سیکیورٹی آرکیٹیکچر ٹوٹنے کی گفتگو نیٹو میں بھی جاری ہے، افریقہ میں بھی اور لاطینی امریکا میں بھی۔ اس معاہدے کی نیٹو سے کافی مماثلت ہے کیونکہ نیٹو بھی ایک دفاعی ارینجمنٹ ہے۔ 👈فائدہ یہ کہ اس معاہدے میں شامل ممالک اپنے زیر اثر ممالک پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جیسے پاکستان کے معاملے پر اب سعودی عرب اور ترکی بھارت پر اپنا دباؤ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ Adil Najam  #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

19,035 views • 23 days ago

آج مکہ مکرمہ میں بعد نماز جمعہ مسلم دنیا کی دفاعی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا گیا، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد پہلی بار تین بڑی مسلم ریاستیں ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں شامل ہو گئی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، انسدادِ دہشت گردی، ایئر اور میزائل ڈیفنس، بحری سیکیورٹی، دفاعی پیداوار اور مشترکہ فوجی رابطوں کو بھی نئی سطح پر لے جایا جائے گا۔سعودی عرب کی معاشی و سفارتی طاقت، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور تجربہ کار مسلح افواج اس اتحاد کو غیرمعمولی اہمیت دے رہی ہیں۔ سفارتی حلقوں میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ مستقبل میں قطر، کویت، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک بھی اس تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔اس تاریخی معاہدے کے خطے اور دنیا پر ممکنہ اثرات جاننے کے لیے آج کا “On My Radar” ضرور دیکھیں۔ مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے OMR کے YouTube لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

34,111 views • 26 days ago