正在加载视频...

视频加载失败

میاں سعید نے پشاور کو قبضہ گروپ سے نجات دلا دیا۔ جب تک امن نہیں ہوگا خوش حالی نہیں آسکتی۔ میاں سعید کو سفیر کا امن کا ایوارڈ دیا جاۓ۔ Capital City Police Peshawar 💕❤💕 Dr. Mian Saeed

29,017 次观看 • 28 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

افغان گلوکارہ آریانا سعید نے 2021 کے بعد مغربی اور بھارتی میڈیا پر جتنے بھی پلیٹ فارم ملے، تقریباً ہر جگہ افغانستان کے سقوط کا سارا ملبہ صرف پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔ پابندیوں کا مطالبہ کیا اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ افغانستان کی ہر تباہی کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے۔ مگر اس نے افغانستان کی کرپٹ قیادت، ناکام سیاستدانوں، تباہ کن پالیسیوں اور دو دہائیوں کی بدعنوانی کا ذکر تک نہیں کیا۔ آریانا سعید نے اُس امریکہ کو بھی نظرانداز کیا جس نے 2005 سے طالبان کے ساتھ پسِ پردہ رابطے شروع کیے، 2013 میں قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر کھولنے میں کردار ادا کیا، اور بیس سالہ جنگ کے بعد ہزاروں افغانوں کی قربانیوں کے باوجود طالبان کو دوبارہ اقتدار تک پہنچایا۔ آریانا سعید نے ان تمام حقائق کو نظرانداز کرکے صرف ایک ہی بیانیہ بیچا: “ہر چیز کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن طالبان کو وہ کبھی “پاکستانی کٹھ پتلی” کہتی تھی، آج جب وہی طالبان انڈیا کے کٹھ پتلے ہیں تو آریانا سعید مکمل خاموش ہیں۔

Najiba Faiz

45,888 次观看 • 4 个月前

حکمرانوں کی بے شرمی اور منافقت کا تماشہ دیکھیے؛ ایک طرف ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر بڑے معصومانہ انداز میں شکوہ کیا جاتا ہے کہ "ایکشن کمیٹی ہم سے بیٹھ کر بات نہیں کرتی، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں"۔ لیکن دوسری طرف جب اپوزیشن کا ایک معتبر وفد زمینی حقائق جاننے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کے لیے راولا کوٹ جانے لگتا ہے، تو انہیں راستے میں ہی روک دیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی سینیٹ کے قائدین حزب اختلاف محمود اچکزئی،علامہ راجہ ناصر عباس،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر،خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ اخونزادہ حسین یوسفزئی پر مشتمل وفد کو آزاد کشمیر جانے سے روک کر حکومت نے خود اپنے جھوٹے بیانیے کا جنازہ نکال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سچی ہے اور واقعی کچھ چھپانے کو نہیں ہے، تو یہ خوف کیسا؟ جب آپ سیاسی قیادت کو عوام اور ایکشن کمیٹی سے ملنے ہی نہیں دیں گے، تو مسائل کا سیاسی حل کیسے نکلے گا؟ طاقت کے زور پر آوازیں دبانے اور راستے روکنے کا یہی وہ آمرانہ رویہ ہے جس نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے، رکاوٹیں کھڑی کرنے سے سچ نہیں چھپے گا، بلکہ عوامی غصے میں مزید اضافہ ہوگا۔

PTI

12,770 次观看 • 3 个月前

شکریہ کرک۔ میرے پاکستانیو! کرک کی عوام اپنے امن کے لئے نکل آئے ہیں اب آپکا کام ہے ان کی آواز ہر جگہ پہنچانا۔جب سیکورٹی کے ذمہ داران پارلیمان ،عدلیہ ،میڈیا، الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے فتح کرنے کے بعد چلغوزے کی کاشت اور کھیتی باڑی میں مصروف ہوں۔جب ان کی تمام توانائیاں ملک کے مقبول ترین لیڈر اور ان کی پارٹی کو کچلنے اور ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں صرف ہورہی ہوں۔ جب حفاظت کرنے والو سے ہی آپ کو خطرہ ہو تب آپ کو اپنا امن خود بحال کرنا پڑتا ہے۔جب آگ گھر کی دہلیز پر ہو اور آگ بجھانے والے آگ بھڑکا رہے ہوں تو اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو خود بچانا پڑتا ہے۔ میرے پاکستانیو! یہ ملک ہمارا ہے، یہ گھر ہمارا ہے اور ہم نے مل کر تمام سیاسی وابستگیوں ذات پات قومیت سے بالاتر ہوکر اس کو بچانا ہے۔ ۲۰۲۲ میں جب مالاکنڈ سوات دیر بونیر میں یہ جنگ لائی گئی تو دو مرتبہ ہم نے اپنے زور بازو سے ان کو نکالا تھا، اب سابقہ فاٹا اور جنوبی اضلاع سے انکو نکالنے کا عزم کرنا ہے۔کرک آغاز ہے میرے مہمند، باجوڑ،لکی مروت، وزیرستان، ٹانک، ڈی آئی خان اور خیبر کے غیرت مندوں تیار رہو انشاءاللہ جلد مل کر وہاں بھی امن کے پرچم کے سائے تلے نکلیں گے۔اور پھر دیر باجوڑ سے لیکر بلوچستان تک سب کو متحد کرکے پنڈی اسلام آباد کا رخ کرینگے۔آپ نے چوکیداری چھوڑ کر سیاست شروع کر دی ہے ہم نے فی الحال امن کا پرچم تھاما ہے اس سے قبل کے آپ کا کام قوم سنبھال لے اپنے مورچوں پر واپس جاؤ۔ اپنے ڈالروں کے لیے ہمیں آگ میں مت دھکیلو۔ ہمارے گھر، ہماری جانیں، ہمارے بچے، ہمارا مستقبل برائے فروخت نہیں ہے!

Murad Saeed

153,701 次观看 • 1 年前

بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں

Qaimkhani

15,327 次观看 • 4 个月前

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں
0:10

Sensitive content

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں

Mr Rumi (✊ #KRBT انقلاب)

19,700 次观看 • 5 个月前

☆ ڈی جی ISPR نے فخریہ انداز میں کہا کہ ان کا لیڈر ( عمران خان ) تو کہہ رہا ہے کہ آپریشن نہیں ہو رہا لیکن آپریشن تو ہو رہا ہے ☆ وزیر دفاع نے اسمبلی میں فخریہ انداز میں کہا " کہ ہم کررہے ہیں آپریشن اور ہم ہر صورت آپریشن کریں گے " ☆ تیراہ کی عوام کو 25 جنوری تک انھوں نے ڈیڈ لائن دی کہ ہر صورت علاقہ خالی چاہیے ☆ اس سے قبل تیراہ پر ڈرون حملے کرتے رہے، تیراہ میں معصوم بچی تو کو دہشتگرد کہہ کر شہید کیا گیا اور آج جب شدید سردی اور برف باری کی حالت میں تیراہ کی عوام نے اپنے آباو اجداد کی زمین کو اسٹیبلشمنٹ کی ڈیڈ لائن کے بعد چھوڑا تو اب یہ ذمہ داری نہیں لے رہے فیصلہ سازو !! اب ایسا نہیں ہو گا کہ تم ظلم کرو اور پھر اس کا ملبہ کسی اور پر ڈال دو اور قوم تمھاری باتوں میں آجائے، قوم تمھاری منافقت اور ان ہتھکنڈوں کو پہچان چکی ہے تم نے جب ڈیڈ لائن دے کر تیراہ کی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا اس وقت عمران خان کا وزیر اعلٰی Sohail Afridi اور اس کی صوبائی حکومت ہی تیراہ کی عوام کے ساتھ کھڑے تھے

Ahmad Hassan Bobak

186,750 次观看 • 8 个月前

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 次观看 • 1 年前

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

673,530 次观看 • 2 年前

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

Khadim Ali khan Yousaf zai

16,301 次观看 • 9 个月前