正在加载视频...

视频加载失败

میرا ایسا بٹن دابا دے 🔥🤯🥰 میری کینٹکی کھٹکے وے❤ 😂💋

17,224 次观看 • 2 天前 •via X (Twitter)

2 条评论

Nasir Jutt 的头像
Nasir Jutt2 天前

So hot

Mr. Khalif 的头像
Mr. Khalif1 天前

Kya iskay sath meri mulaqat krawa sekhta ha kya

相关视频

انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک خوبصورت تحفہ ہے اور اس زمین پر موجود رنگ برنگی نعمتیں اس پروردگار کا احسان ہیں۔ اکثر ہم ڈاکٹروں کے مشوروں اور ڈائٹ کے چکر میں آ کر ان حلال لذتوں کو خود پر حرام کر لیتے ہیں، مگر میرا ذاتی تجربہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔​میں نے مسلسل پانچ سال تک اپنی زندگی کو سخت پہروں میں گزارا۔ گندم، چاول، چینی اور ہر قسم کے میٹھے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ پیدل چلنا اور پہاڑوں پر ہائیکنگ کرنا میرا معمول تھا۔ میری فیملی ہسٹری میں کبھی کسی کو دل کی تکلیف نہیں ہوئی تھی، اس لیے میں مطمئن تھا کہ میں مکمل محفوظ ہوں۔ لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اتنی سخت احتیاط اور ورزش کے باوجود مجھے 'ہارٹ اٹیک' کا سامنا کرنا پڑا۔​اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ زندگی صرف پرہیز کا نام نہیں ہے۔ اگر آپ کو کوئی مشورہ دے کہ یہ مت کھاؤ وہ مت کھاؤ، تو یاد رکھیں کہ یہ مختصر سی زندگی اللہ کی نعمتوں سے منہ موڑنے کے لیے نہیں ملی۔ سموسے ہوں یا چنا چاٹ، نہاری ہو یا پائے، کابلی پلاؤ ہو یا گرما گرم بریانی اور مٹن تکہ—یہ سب اس رب کا رزق ہیں، انہیں خوش دلی اور شکر کے ساتھ کھایا کریں۔ قدرت کے پیدا کردہ پھلوں کا رس چکھیں اور چینی کے بجائے گڑ، شکر اور شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں۔​میرا مقصد یہ نہیں کہ انسان بے احتیاطی کرے، بلکہ میرا پیغام یہ ہے کہ خود کو محرومیوں کی قید میں نہ ڈالیں۔ اللہ کی نعمتوں پر پابندی لگا کر ہم وقت سے پہلے بوڑھے تو ہو سکتے ہیں، مگر تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔ ہر چیز کھائیں، مگر اعتدال کے ساتھ اور ہر نوالے پر اس رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں ان ذائقوں سے نوازا۔​خوش رہیں، سب کچھ کھائیں اور زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں، کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی

Khadim Ali khan Yousaf zai

24,553 次观看 • 4 个月前

مئی 2019 کو کیس دائر ہوا/PECA ایکٹ لگا۔ 14 روز کا جسمانی ریمانڈ ہوا تقریبا 6 ماہ سینٹرل جیل لاہور میں گزارے ہائیکورٹ سے ضمانت ملی۔ آج 16 جولائی 2026 کو کیس جج صاحب نے ایک سال کی Probation پر بھیج دیا۔ ان سات سالوں میں جیل سمیت پیشیاں بھگتیں دماغی مالی دباؤ برداشت کیا جب پکڑا گیا تب سکرین پر میڈیا میں بطور رپورٹر کیرئیر چل رہا تھا اس میں ڈینٹ آیا۔ آج سات سال بعد جب FIA یعنی سرکار کیونکہ کیس سرکار بنام عظیم ہے تو سرکار سات سال مجھے کھجل کرنے کے بعد کچھ پیش نا کر سکی کوئی گواہی کوئی ثبوت ایسا نا دیا جس سے مجھ پر اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کرنے یا ریاست مخالف ہونے کا جرم ثابت ہو تو جج صاحب نے احسان کرتے ہوئے کیس کو Probation یعنی عدالتی نگرانی ایک سال کی کہ میں اچھا بچہ بن کر رہوں اس کیلیے ریفر کر دیا۔ مطلب کمال ہے نا کہ عدالت کو ریاست کو سات سال میری پیشیاں بھگتنے کے باوجود بھی ابھی مکمل یقین نہیں آیا اور کیس ایک سال کیلیے مزید Probation پر ڈال دیا ہے اس کے بعد کیس ختم ہو جائے گا ایک اچھے بچے والا سرٹیفیکیٹ عدالت کی جانب سے مل کر، مطلب میرے سات سال کی کھجل خرابی میری تقریبا 6 ماہ کی جیل کا حاصل وصول کیا ہے؟ کیس بنانے والوں کو کون پوچھے گا؟ میرے دماغی مالی اور جسمانی دباؤ کا ازالہ کون کرے گا؟ کوئی نہیں۔۔۔۔ میں اگر پیش نا ہوتا تو میں اشتہاری میں اگر گواہ ثبوت دلیل نا دے پاتا تو مجرم مگر ایف آئی اے سات سال کھجل کرنے کے بعد کچھ نہیں لا سکی تو کوئی بات نہیں Probation پیریڈ میرا اور سب اچھا۔ سلام ہے میرے ملک کے قانونی نظام کو ۔۔۔۔

Azeem Butt

26,000 次观看 • 1 个月前

بریکنگ نیوز 🚨عمران خان کے ساتھی وقار یونس نے بھی خُوف کے بُت پاش پاش کردیے۔ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایمانداری کی کھل کر تعریف کرڈالی، بڑی گواہی دے دی مخالفین کو تتے توے پر بیٹھا دیا 🔥🔥 عمران بھائی اگر مجھے کہتے نہ کہ اس چھت سے چھلانگ مارو، تو میں نے دوسری دفعہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں؟ ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔ کنسیکوئنسز (نتائج) ہم لوگوں نے نہیں دیکھے تھے۔ میرے خیال میں جو Success بھی تھی ہماری وہ اسی لیے تھی کہ ہم نے ایک ایسے قائد کی پیروی کی جو ایماندار تھا اور جو ہم سے بہترین کارکردگی چاہتا تھا اور I Think انہوں نے جو سکھایا ہے، یا جو انہوں نے کر کے دکھایا ہے، جو Attitude کے Issues ہوتے ہیں۔ بولرز یا کرکٹرز کے۔ آپ جانتے ہیں مہارت تو سب کے پاس ہوتے ہے talent بھی سب کے پاس ہوتا ہے، ایک ایٹی ٹیوڈ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ Attitude ان کی طرف سے آیا۔ میرے لیے، میرے والد کے بعد میری زندگی پر سب سے بڑا اثر عمران خان کا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے، ہمیں اُس پر فخر ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,718 次观看 • 1 个月前

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,962 次观看 • 1 个月前

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 次观看 • 1 个月前

"میرا یار زندہ ' صحبت باقی" (تحریک انصاف کے مایوس سپورٹرز کو یہ کالم پورا پڑھنا چاہیے ) کل کے ہسپتال ٹرانسفر ساگا میں مجھے کچھ ایسا نہی نظر آتا جس سے تحریک انصاف کے لوگوں کا مایوس ہونا چاہیے- میں اپنی بات کی وضاحت کر دیتا ہوں : کل کے حکومتی ڈرامے کے دوران عمران خان کی ایک بہن کی ان سے ملاقات اور آج ان کی پریس کانفرنس سے جو میرے لئے سب سے تسلی بخش بات ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان حیات ہیں - ان کی صحت الحمد الله ٹھیک ہے - سیاست اور حکومت گئی تیل لینے ' میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان جن کو نو ماہ سے کسی نے دیکھا بھی نہی تھا ؛ وہ جسمانی طور پر ویسے نہی تھے جیسے بہت سے یوٹیوبرز ان کو بنا کر پیش کر رہے تھے - میرا یار زندہ ' صحبت باقی - اب آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف - بلاشبہ یہ ٹوپی ڈرامہ کرکے حکومت نے ووہی کیا جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی - میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کا گریس ' ظرف اور آئین کی پاسداری سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا جواد احمد کا شائستگی سے ، خواجہ آصف کا امور وزارت دفاع سے— چاہت فتح علی کا سروں اور ساز سے -- ہماری عدالتوں کا انصاف سے— اور ہماری اسٹبلشمنٹ اور فوج کا اپنے حلف سے ہے- کل بھی انہوں نے ووہی کیا جیسے کسی محلے کے کن ٹٹے ' نومی ' پومی ' شادا' مادہ یا اچھو ' کرتے ہیں - یعنی جھوٹ ' دھوکہ ' فریب ' اور وہ بھی محض سپریم کورٹ نہیں بلکہ سو سے زیادہ لوکل چینلز ' انٹرنیشنل میڈیا' شفا کے ڈاکٹروں سمیت پچیس کروڑ اس عوام کے ساتھ جو بیچاری وہاں راستوں میں پھول بچھا رہی تھی یا بیرون ملک سے میری طرح پھول بھجوا رہی تھی - لیکن اس معصومیت اور سادگی پر پاکستان کے عوام کو اپنے آپ کو بالکل بھی بدھو اور "naive" نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ جو بھی ہوجاے سادگی اور معصومیت کبھی بدمعاشی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی - اس سارے ڈرامے میں مجھے جو روشنی کی پہلو نظرآتے ہیں وہ یہ ہیں : 1 . سب سے بڑھ کر خان حیات ہے - الحمد لللہ - جسمانی طور پر ابھی بھی اتنا توانا ہے کہ ان کی بینڈ بجا سکتا ہے - 2 . شفا شپتال کی جگہ پمز بھیجنے کی یہ بچگانہ حرکت کرکے اور ڈاکٹر فیصل کو شفا بھیج کر خان کو چیک کرنے والے ڈاکٹروں میں ان کو نہ شامل کرکے حکومت نے کھلم کھلا سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کرکے کم سے کم اپنے خلاف "توہین عدالت " فائل کرنے کا فورم ضرور مہیا کردیا ہے - 3 . ایک ہی رات میں عمران خان کی جیل واپسی نے غریده فاروقی جیسے بہت سے ان "دانش وڑوں" کے اس بیانیے کو بھی دفن کردیا ہے کہ عمران خان کسی "ڈھیل یا ڈیل" کے چکر میں ہیں - ساتھ میں رائٹرز (Reuters ) کو دیے گیے زلفی بخاری کے بیان کو بھی کلئیر کردیا ہے جس کو توڑ مروڑ کر حکومتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ "خان اب باہر آئیگا تو آرمی چیف پر تنقید نہی کریگا " یعنی یہ سب کسی ڈیل کا نتیجہ ہے - 4. پاکستان کے عوام کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑا کر اس حکومت نے اپنے خلاف اس نفرت کو مزید تڑکا لگادیا ہے جو پہلے ہی بام عروج پر تھی - لوگوں کو اس بات کا اور بھی یقین ہوگیا ہے کہ یہ صبح جھوٹ بولتے ہیں ' دوپہر میں کوڑ بکتے ہیں اور شام کو بھی بکواس ہی کرتے ہیں - ان میں نہ اخلاق ہے نہ احساس اور نہ آئین کی پاسداری - مجھے لگتا ہے یہ غصہ اگلے مہینے ہونے والے ستمبر 27 کے احتجاج کو نئی زندگی دیگا - 5 . اس حرکت کے بعد لوکل اور انٹرنیشنل میڈیا میں مسلم لیگ کے اس موقف کے بھی پرخچے اڑ گیے ہیں کہ ہم صحت پر سیاست نہی کرتے - ہر جگہ ایک ہی سوال ہے کہ جب بقول خود ان کے تحریک انصاف حکومت کی سفارش پر نواز شریف جیل سے لندن علاج کیلئے گیے تھے ' تو اپنی دفعہ جب یہ عمران خان کو جیل سے باہر لے ہی آیے تھے تو ایسا کیا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال کی جگہ سرکاری ہسپتال لے کر گیے - ایسا کیا ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں اور ایسا کیا ہے جس کی انویسٹیگیشن سے ان کو ڈر لگتا ہے کہ اس کو چھپانے کیلئے عدالت سے بھی متھا لگالیا اور عوام سے بھی کھلے کھاے- 6 - اس دھوکے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اتحاد بننے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے اور یہ ایک مہینے بعد ہونے والے احتجاج کیلئے مثبت ثابت ہوگا - یہ سب پوائنٹس تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں - عمران خان شفا ہسپتال میں آ بھی جاتے وہاں بھی کچھ دن بعد وہ خود واپس جانے کی طرف مائل ہوتے کہ وہاں ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ کبھی بھی ان کو یوں اکیلا نہ چھوڑتے - ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایک ہفتے میں ان کا کارڈیک ورک اپ ضرور ہوجاتا جو اب نہیں ہوا - پر یہ بھی ایک نکتہ ہے جو عدالتوں کے سامنے اور اگلے ماہ سڑکوں پر اٹھایا جاسکتا ہے - سو میں مطمئن ہوں کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جس سے عمران خان یا تحریک انصاف کو نقصان ہوا ہو - ہاں البتہ اس نظام کے "نومی ' اچھو ' اور ان کے پیچھے بیٹھے شادے اور گامے " اور بھی ننگے ہوگیے ہیں جو ایسا موقع ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنے منہ پر کالک مل سکیں اور پھر اتنی کالک ملتے ہیں اتنا گوبر لیپتے ہیں کہ بدبو کے بھبھوکے آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے دلیل دے کر کہتے ہیں کہ گوبر میں نیچرل توانائی ہوتی ہے اسی لیے تو اس سے ایندھن جلتا ہے - مایوس نہ ہوں اور عمران خان کا یہ کلپ سنیں جو ان کی مظبوط شخصیت اور فولادی عزم کی ترجمان ہے -- کیوں کہ میرا یار زندہ - صحبت باقی - قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------- Mir Mohammad Alikhan Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Maryam Riaz Wattoo Sabee Kazmi Jibran Ilyas

Dr Waqas Nawaz

34,965 次观看 • 22 天前

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ لوگ پورا اترے ہیں - ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان سے نرم دل ' میٹھا میٹھا یا حاتم طائ ہونا آئیکسپیکٹ کرتے ہیں - ہر گز نہیں - لوگ ان سے بس قانون کی عمل داری کرنا اور پروفیشنل ہونا ایکسپکٹ کرتے ہیں اور الحمد للہ یہ ہر موقع پر انتہائی غیر پروفیشنل' بے قانون اور غیر ذمے دار ثابت ہوتے ہیں - عورت کو بس ایک عورت اہلکار ہی ہاتھ لگاے -- لیکن نہیں - وہاں ان کے مرد اہلکار عورتوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھے گیے ہیں - ایک سرکاری افسر ہوتے ہویے ان کو عوام کا خادم ہونا ہوتا ہے - وہاں ان کے آئ جی پھولوں والی بگھیوں پر برطانوی راج والے پروٹوکول میں اسلام آباد کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے بھی دیکھے گیے ہیں - اور اب آج یہ نمونہ - ایک نوجوان جو بغیر ڈرائیور کے گاڑی کا تجربہ بغیر کسی لائسینس ' کسی انجنیرنگ اتھارٹی اپروول کے اسلام آباد کی ہائی وے پر کر رہا تھا ' اور ساتھ کیمرہ مین کو انٹرویو بھی دے رہا تھا ' اس نے پولیس کی گاڑی میں ٹکر دے ماری تو پولیس محض یہاں ویوز اور عوامی داد سمیٹنے کیلئے ایک انتہائی غفلت والے اقدام کو سراہ رہی ہے اور جگہ جگہ میمز بن رہی ہیں - یہ مذاق ہے ؟ ابھی تین دن پہلے اس ملک میں ایک حادثہ ہوا ہے جہاں ایک ہسپتال میں چودہ ننھے بچے جل کر دنیا سے چلے گیے ہیں ' اس کے بعد اس طرح کے بھیانک مذاق ؟ چلیں یہ تو پولیس تھی - یہی کسی کا بچہ اس نے نیچے دے دیا ہوتا - اپنے ویوز کے چکر میں کسی موٹر سائکل کو کچل دیا ہوتا - کسی ویل چیئر یا فٹ پاتھ پرچڑھ جاتا ' یا کسی کو ساری عمر کیلئے معذور کردیا ہوتا ' تو تب بھی پولیس کا یہی رسپانس ہوتا ؟ اگر جواب "نہیں " میں ہے تو اب یہ والا رسپانس کوئی بہت بردباری نہیں بلکہ انتہائی غیر پروفیشنل رویہ ہے - یہاں کوئی بھی مہذب ملک ہوتا تو اس آدمی کو جرمانہ کرکے اس کے ڈراوئنگ لائسنس کینسل کرکے اس کو حوالات میں رکھتا - کیا آ پ کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا انتہائی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس معطل کرکے اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیور سیٹ پر ہوتے ہویے بھی دماغی طور پر کار کی سیٹ پر نہیں ہوتا - اور یہاں تو ڈرائیور دماغی طور پر نہیں ' جسمانی طور پر سیٹ سے ہی غائب ہے - اس پر یہ واہ واہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ پروفیشنل نہی ہے - کیا پولیس والے نے چیک کیا کہ اس معاملے میں قانون کی کہتا ہے ؟ پاکستان پینل کوڈکیا کہتا ہے ؟ یہ کبھی سزا دے دینا اور کبھی معاف کردینا کسی پولیس والے کی بساط اور اختیار کب سے ہوگیا ؟ یہ ملک ہے یا ان کا تھانہ ہے کہ کسی کو چھتر چڑھا دیے کسی کو ہار پہنا دیے - جہاں تک اس سٹوڈنٹ کی بات ہے تو اس کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے اگر ایسا تجربہ کرنا بھی ہے تو اس کا پروٹوکول ہے - آپ کسی آتھینٹک کمپنی سے گاڑی چیک کرواتے ہیں ' اس کے بعد اس گاڑی کے بنانے والے کی اہلیت اور کریڈنشل چیک کراتے ہیں اس کے بعد ایسا تجربہ کسی ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں عوام یا ٹریفک نہ ہو - اگر اس طرح کے عمل پر شاباش ملنے لگی تو کل کو کوئی انجن لگا کا جہاز بنا کر چھت سے چھلانگ لگا دیگا اور کسی راہ چلتے پر ٹرانسفارمر جیسا انجن گرادیگا - اسی اصول کے مطابق ون ویلنگ کرنے والے سارے من چلوں کو ایوارڈ دینا چاہیے کہ یہ بھی ٹیلنٹ ہے - خدا کیلئے - کبھی تو ہمیں بھی غلط ثابت کریں - کوئی کام ویسے بھی کیا کریں جیسا قانون کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے - آپ کو سوشل میڈیا پر حاتم طائ بننے کی تنخواہ نہی دی جاتی ' قانون پر عملداری کی تنخواہ ملتی ہے جس کا آپ کے عمل سے دور دور کا بھی تعلق نہی ہے - خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے قلم کی جسارت وقاص نواز ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Hamid Mir حامد میر Imran Riaz Khan Islamabad Police

Dr Waqas Nawaz

65,229 次观看 • 11 天前