Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

میرے ادراک کو چھوڑیں ۔ فوٹیج کو نہ جھٹلائیں کیسے گھستا ہے کا جواب ہے ایسے گھستا ہے اور پھر یہ جو شاید انٹیلی جنس والے ہیں ان کو جھجھکتے ہوئے کہتا بھی ہے کہ آپ آگے آ جائیں۔

127,598 просмотров • 11 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا " (اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے ) احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا - پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟ جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے ) پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں - جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے " وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )- یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا - یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے- اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں " یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے - بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو - سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟ کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟ الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟ پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟ جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟ جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟ جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟ جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟ سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟ میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں - قلم کی جسارت وقاص نواز ------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Javeria Siddique Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

15,839 просмотров • 27 дней назад

پہلے زمانے میں والدین اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے تھے تو ایک ہی بار رقم ملتی تھی، رقم ختم ہوئی تو معاملہ بھی ختم۔ اب اس کا ایک نیا طریقہ آ گیا ہے: بچوں کو بچپن سے ہی TikTok کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہوتے ہوتے وہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جائیں۔ اس بچی کو یہ تک نہیں معلوم کہ لائک کیا ہے، گفٹ کیا ہے، گانا کیا ہے یا ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔ اسے بس موومنٹ سکھائی جا رہی ہے کہ یہ کرو، ایسے کرو، تاکہ کل یہ ہمارے لیے کمائی کا ذریعہ بنے۔ اور اس میں بچوں سے زیادہ والدین شریک ہیں۔ جو لڑکے لڑکیاں کم عمری میں TikTok پر لائیو آتے ہیں یا ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے پیچھے اکثر والدین کی رضامندی اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچے نہ خود اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ یہ سب فیصلہ کر سکیں، نہ اپنی مرضی سے موبائل اور یہ سب سہولیات خرید سکتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک کوئی نہیں پوچھتا جب تک وہ مشہور ہو کر کمائی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

its me میٹھو

24,809 просмотров • 4 дней назад