Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

نہ تو میرا یہ مزاج ہے اور نہ میں ایسی پوسٹ کرنا پسند کرتا ہوں لیکن وفاقی وزیر حنیف عباسی صاحب اور ممبر صوبائی اسمبلی ضیا اللّٰہ شاہ صاحب کو اس طرح پارک میں جھولا جھولتے دیکھ کرمیرا دل خون کےآنسو رو رھاہے وہ کس لیےکہ انہی ضیا اللہ...

76,366 Aufrufe • vor 27 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہمارے پشاور کے کچھ یوٹیوبرز کو شاید بہت مسئلہ ہے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ فرمائشی یوٹیوب چلاتے ہیں، اسی لیے بار بار یہی سوال اٹھاتے ہیں۔ میں اس حوالے سے بات واضح کر دیتا ہوں۔ جب مجھے صوبائی صدر بنایا گیا تو عمران خان صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ صوبے میں تحریک کو دوبارہ فعال کروں۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 26 نومبر کے بعد حالات انتہائی خراب تھے، ہم نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی تھیں اور پارٹی احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارٹی دوبارہ کھڑی کے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک میری عمران خان صاحب سے نہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی رابطہ ہو سکا۔ اس دوران عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔ چند دن بعد جب علی امین گنڈاپور صاحب کی عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ذمہ داری دوبارہ انہیں دے دی گئی۔ علی امین صاحب نے اس حوالے سے باہر آ کر پریس کانفرنس بھی کی، اور میں نے بھی اس کی مکمل تائید کی۔ اس کے بعد سہیل آفریدی صاحب آئے، لیکن انہیں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ جو بھی سیاسی سرگرمی یا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے، وہ محمود خان اچکزئی صاحب کے مشورے سے کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صاحب نے اس حوالے سے انہیں ذمہ داری دی ہے۔ لہٰذا، جیسے ہی عمران خان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان شاء اللہ ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔ نہ ہم نے پہلے کبھی عمران خان صاحب کو مایوس کیا، نہ آئندہ کریں گے۔ میں آج بھی اپنے کی ایک ایک بات پر پہلے کی طرح قائم ہوں۔ صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی پشاور میں پریس کانفرنس۔

Junaid Akbar

26,744 Aufrufe • vor 2 Monaten

آپ نے جواب ہی دینا تھا تو دوسرے ٹوئیٹ کو کوٹ کرتے۔ جس میں اسد کھوکھر صاحب کی جولائی 2022 میں ٹکٹ جاری ہونے کی بات تھی۔ رہی بات سیاست میں سب ملتے ہیں تو پھر آپ عمران خان صاحب کو بھی ایسی سیاست سکھا دیتے۔ ہم نے تو عمراُن خان صاحب سے جو سیاست دیکھی سیکھی اس میں کہیں ایسے جھپیاں پڑتے نہ دیکھیں۔ یہ نارمل سیاست نہیں ہے حضور۔ زلے شاہ ارشد شریف نے خون دے کر آپکو اسمبلی بھیجا ہے۔ کم از کم اداکاری ہی کر لیں۔ پردے کے پیچھے تو جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے۔ یہ قہقے لگانے سے پہلے عمران خان کا سوچ لیتے۔ عورتوں کا جو جیلوں میں سڑ رہی ہیں۔ ویسے کس بات پر اتنا قہقہ لگ رہا تھا ؟ بتانا پسند کریں گے کیا ایسی خاص بات تھی ؟ رہی بات آپ نے فسطائیت سہی ہے تو وہ جنہوں نے سہی ہے وہ آج بھی عمر چیمہ کی طرح جیلوں میں ہیں یا میاں اسلم اقبال کی طرح آج بھی در بدر ہیں۔ میرے دوست آپ کو تو ایک منٹ فسطائیت نہ دیکھنی پڑی۔ دو دن پہلے ٹہلتے ہوئے پولیس کے درمیان سے گزرتے ہوئے اسمبلی تشریف لائے کسی نے پوچھا تک نہ۔ ایک لمحے کی گرفتاری نہ ہوئی۔ کوئی حفاظتی ضمانت نہ لی۔ سبکو سب معلوم ہے۔ اس سے زیادہ معلوم ہے۔ لیکن ابھی وقت نہیں ہے۔

Dr. Shahbaz GiLL

257,546 Aufrufe • vor 2 Jahren

خان صاحب، اب تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی کچھ ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیوں نہ آپ اب ڈیل ہی کر لیں؟ کوئی معاملہ طے کریں، ایک دفعہ رہا ہو جائیں، اس اذیت اور مصیبت سے نجات حاصل کریں، پھر جب باہر آئیں گے تو دیکھ لینا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ تو صحافی کہتے ہیں کہ جب میں نے خان صاحب سے یہ بات کہی تو خان صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا، پھر بولے کہ حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی رہائی کو چھ سال مؤخر کر دیا تھا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جو خدا حضرت یوسفؑ کا تھا، وہی خدا میرا ہے، اور جس خدا کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ ناحق قید میں تھے، اس خدا کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بھی ناحق قید میں ہے۔ اور جس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے صرف ان کا اللہ کافی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔ اس لیے میں اپنی رہائی کے لیے کسی سے کوئی بات یا کوئی ڈیل ہرگز نہیں کروں گا۔ #اللہ_پر_ایمان #اللہ_ہی_کافی

PTI Punjab

76,601 Aufrufe • vor 8 Monaten

میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔" "میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔ قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

104,590 Aufrufe • vor 1 Monat