Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے اس وقت ہمارا احتجاجی دھرنا جاری ہے تمام اقوام سے اپیل ہے آگے آئیں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ظلم اور تشدد کے خلاف ہماری اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں بلوچ ماؤں بہنوں کی نگاہیں آپکی منتظر رہیں گی #MarchAgainstBalochGenocide

66,720 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 görüntüleme • 1 yıl önce

ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کے لواحقین کے ہمراہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست نے ان مظلوم ماؤں اور معصوم بچوں کی بات سننے یا ان کے مسئلے کے حل کے بجائے، انہیں شدید بارش میں ایک عارضی شیلٹر یا کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہ بلوچ مائیں اور بچے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ سے اسلام آباد اس امید پر آئے کہ شاید ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے، ریاست نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انہیں خراب موسم اور تیز بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خواتین اور بچے شدید خراب موسم کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اپنی جگہ قائم ہے۔ ہم تمام انسان دوست افراد، سول سوسائٹی، اور بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور ان ماؤں اور بچوں کی اس پرامن جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

Mahrang Baloch

19,552 görüntüleme • 1 yıl önce

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں صرف فوج کرتی ہے لہذا پوری ریاست کو ذمہ دار نہ ٹھہرائے جائے۔ ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ جب فوج انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل عام کرتی ہے تو ریاست کے باقی ادارے بشمول پارلیمنٹ اور عدلیہ کس جانب کھڑے ہوتے ہیں؟ بلوچستان میں گزشتہ 75 سالوں سے جاری نسل کشی میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کا کیا کردار تھا؟ ان سب کو چھوڑے، ہم گزشتہ ایک مہینے سے جبری گمشدگیوں اور ماروائے عدالت قتل کے خلاف لانگ مارچ کررہے ہیں، گزشتہ دس دنوں سے ہم اسلام آباد میں موجود ہیں، ہمارے ساتھ بزرگ، خواتین اور بچے ہیں، ہمارے اوپر اسلام آباد میں داخل ہوتی ہی تشدد ہوا، گرفتاریاں ہوئی اور مسلسل دھمکیوں اور ہراسمنٹ کا سامنا کررہے ہیں۔ کیا اس دوران آپ کے پارلیمنٹ اور عدلیہ نے ان سب کو روکنے میں کردار ادا کیا؟ جب آپ کے عدلیہ، پارلیمنٹ سمیت ریاست کے تمام ادارے ازخود اس قتل عام اور ظلم و جبر کے خاموش حمایتی ہونگے تو سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پوری ریاست ہماری نسل کشی میں شریک ہے۔ #MarchAgainstBalochGenoscide #StopBalochGenocide

Mahrang Baloch

139,572 görüntüleme • 2 yıl önce