Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

وردی اور بندوق کے ذور پر تو تم نے چوبیس کروڑ کا الیکشن بھی لوٹ لیا تھا ۔اپنوں پر بندق تان لینا تمھاری روایت ہے اسی لیے عوام کو تم سے نفرت ہے۔

52,284 views • 7 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

281,028 views • 1 month ago