Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

وزیر اعظم آذادکشمیر سردار تنویر الیاس نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سوال کرنے پر صحافی کو “را”کا ایجنٹ قرار دے دیا۔ جب ان سے وضاحت مانگی گئی توانہوں نےاپنے سٹاف سے صحافی کا موبائل چھینوالیا۔ واضع رہے کہ ان کا تعلق پاکستان کی سب سے مہذب جماعت PTI سے ہے۔...

40,364 Aufrufe • vor 3 Jahren •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

"گفتار کا غازی " (ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن اس سے پہلے ان کو نارمل انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا) مجھے جواد احمد کا یہ طرز گفتگو اور لہجہ دیکھ کر حیرت نہی ہوئی بلکہ مجھے تعجب ان لوگوں پر ہوا ہے جو نئی جنریشن سے مخاطب ہونے کیلئے ایسے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جن کو نہ یہ پتا ہے کہ اختلاف راےکو کیسے ہینڈل کرنا ہے ' نہ یہ پتا ہے کہ کسی بچے کے سوال کا جواب کیسے دینا ہے - "او تو بیٹھ جا !" "کتنے ٹک ٹاک دیکھے آج؟ " " اس کا موبائل چیک کرو " " تمہیں مسٹر چپس سے کیا پرابلم ہے - آگیا سوال کرنے" "او - تم جھوٹ بول رہی ہو - میں پولیٹکس کرتا ہوں ' مجھے پتا ہے ان کو کیسے ڈیل کرنا ہے " یہ لب و لہجہ ہے ایک پارٹی کے سربراہ کا جس کا نام ہے برابری پارٹی - "برابری " تو وہی گئی تیل لینے جب آپ کسی کے سوال پر اس قدر ججمنٹل ہوگیے کہ اس کا موبائل چیک کرنے کے درپے ہوگیے - مسٹر چپس کے ناول سے مجھے خود کوئی پرابلم نہی - ایک اچھی رومینٹک کہانی ہے جس میں مسٹر چپس کی اپنی بیوی سے محبت دکھائی گئی ہے لیکن بچے کی راے سے اگر آپ کو اختلاف بھی ہے اور اس کا سوال آپ کو ناگوار بھی گزرا ہے تو اس کا جوبہ دینے کا بھی کوئی تمیز کوئی طریقہ ہوتا ہے - ایسے لوگوں کو آپ سٹیج پر مائیک دے کر بس نئی نسل کو بدظن کرسکتے ہیں ' آگاہ اور آنلاٹین (enlighten ) بالکل نہی - یعنی ساتھ بیٹھے باقی مہمان اور اینکر بھی سمجھا رہے ہیں کہ "جواد بھائی ! اس طرح نہ کریں - بچے کا سوال ہے ' آپ اس کی ذات کو جج نہ کریں' ان کی راۓ ہے ' اس کا احترام کریں ---- پر تمیز ' شائستگی ' گفتار ' انداز' احترام راے اور اختلاف راے کیا ہوتا ہے ' ان صاحب کو یہ باتیں چھو کر بھی نہیں گزریں - سوچیں جب یہ بچے سے کہ رہے تھے کہ آج تم نے کتنی ریلیں دیکھیں ؟ تو جواب میں وہ بھی کہ دیتا کہ " آپ نے آج اپنی دوائی کھائی کے نہیں " تو یہاں لوگ کہتے کہ ذات پر بات کر دی - مجھے جواد احمد سے زیادہ برابری پارٹی کے ان تین چار اکاونٹس پر ترس آتا ہے جن کو جواد کا اب یہ لہجہ اور انداز بھی ڈیفنڈ کرنا پڑے گا - یہ بہت سخت ڈیوٹی ہے - اختلاف مجھے اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed کی بھی بہت سی باتوں ہوتا ہے پر کم از کم یہ ماننا چاہیے کہ ان کا لب و لہجہ تمیز اور شائستگی والا ہوتا ہے اور بندہ گفتگو کو دلیل سے جاری رکھ سکتا ہے - پر ان صاحب سے بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے دھویں میں پھونکیں ماریں اور ہر پھونک کے ساتھ دھواں آپ کی سانس میں گھستا چلا جائے یا کیچڑ پر پتھر پھینکیں اور اس کے چھینٹیں آپ کے ہی کپڑوں کو مکدر کردیں - ویسے تو ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کیلئے ان کو پہلے انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا - "گفتار کے ایسے ہی کسی غازی " کے لب و لہجے سے عاجز ہو کر کسی شاعر نے یہ کہا تھا ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے (اب اس ٹویٹ کے جواب میں ان کا لب و لہجہ دیکھیے گا جو میری اوپر کی گئی ہر بات پر خود مہر ثبت کردیگا ) قلم کی جسارت وقاص نواز --------------------------------------------------- Jawad Ahmad

Dr Waqas Nawaz

133,993 Aufrufe • vor 11 Tagen