Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لاہور سے گرفتار کیا جانا انتہائی شرمناک، افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ایک صوبے کے سربراہ کے ساتھ ایسا سلوک جمہوری اور آئینی اقدار پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ حکمران یاد رکھیں، طاقت اور اقتدار ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتے۔ سیاسی انتقام،...

41,510 просмотров • 15 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 8

Фото профиля Naz Gul
Naz Gul14 дней назад

اب وہ غیرت مند پٹھان ہی مر گئے۔ پنجاب پولیس کا یہ عمل تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Фото профиля Zain Ali
Zain Ali14 дней назад

ڈرمہ کا نام کیا ہے

Фото профиля Dr. ZA Qureshi Ex PTI
Dr. ZA Qureshi Ex PTI14 дней назад

Umar dekho aur jhoot bol rahi ho aunty

Фото профиля Maria Khan
Maria Khan15 дней назад

Allah apni hifazt.mai rakhy pashtoon bhaion ko

Фото профиля Sarfraz Qamar
Sarfraz Qamar15 дней назад

کذاب بڈھی۔۔۔

Фото профиля Shakeel Shah
Shakeel Shah14 дней назад

بے بے آپ کو بھی پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ کا حصہ ہونا چاہیئے تھا۔ گھر میں بیٹھ کر مزمت ناقابل قبول ہے

Фото профиля Abdul Waheed
Abdul Waheed14 дней назад

shame shame shame . . . . . .

Фото профиля Universal Analysis
Universal Analysis14 дней назад

Oye budhi gashti. Ye police ka baghair Kaisa arrest ha? Awam ko chutiyay samajhte ho tum tik tok PTI walay?? Ye charsi tik tok shooting ka liyay khud betha ha police car me Tumhare jahil Pathanon ko gadha banane ki liyay!

Похожие видео

خیبرپختونخوا کے چار کروڑعوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو پنجاب پولیس کے ہاتھوں قیدی وین میں بٹھا کر لے جانا محض ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ پورے خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ، آئین اور جمہوری اصولوں پر کھلا حملہ ہے۔ یہ کیسا نظامِ ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو سیاسی انتقام، ریاستی طاقت اور جبر کا نشانہ بنایا جائے؟ عمران خان سے وفاداری کو جرم بنا کر، تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کرکے اور منتخب نمائندوں کو ہراساں کرکے آپ عوام کے دلوں سے نظریہ ختم نہیں کر سکتے۔ آج کا یہ اقدام صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ جمہوریت کے چہرے پر ایک اور سیاہ داغ ہے۔ وقت گواہی دے گا کہ کس نے آئین کا ساتھ دیا اور کس نے اقتدار بچانے کے لیے آئین اور جمہوری اقدار کو پامال کیا۔ جبر سے آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں بدلا جا سکتا۔ ظلم کی ہر حد کے بعد مزاحمت مزید مضبوط ہوتی ہے۔ 27 ستمبر انشاءاللہ اسلام آباد

Junaid Akbar

43,554 просмотров • 15 дней назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад

گلگت بلتستان الیکشن مہم کے دوران ہمارے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور پنجاب کی دیگر قیادت کو روکا گیا۔ نواز شریف اور بلاول بھٹو گلگت بلتستان میں ہیں، جبکہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں، جن کا نام بھی کوئی نہیں جانتا، وہ بھی وہاں موجود ہیں۔ تحریک انصاف کو اپنے آئینی اور قانونی حق سے روکا جا رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کے پاس حکومت ہوگی۔ کیا عوام یہ فیصلہ کریں گے، یا مقتدرہ کے چند لوگ آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔ محمود خان اچکزئی کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کرتا ہوں۔ حکومت کا ظلم، بربریت اور فاشسٹ رویہ قابلِ مذمت ہے، یاد رکھیں کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا، انصاف کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں قانون، آئین اور عوام کی حکمرانی کو موقع دیا جائے۔ اگر ایسے الیکشن کرانے ہیں تو مجلسِ شوریٰ بنا کر سلیکشن کر لیں۔ یہ الیکشن نہیں، بہت بڑا فراڈ ہے۔ اگر اس طرح الیکشن ہوں گے تو انہیں کون مانے گا۔ الیکشن کا اختیار گلگت بلتستان کے عوام کے پاس ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کے نمائندے کون منتخب کرے گا۔ گلگت بلتستان کے عوام عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کریں۔ عمران خان ملک میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Asad Qaiser

11,078 просмотров • 3 месяцев назад

کشمیر کے عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ منصفانہ انتخابات ہونے دیں، جس کا ووٹ نکلے اسی کی حکومت بننے دیں۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے اور یہی کشمیری عوام کا حق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ ہم اسلام آباد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے اور قومی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ ہم آج بھی صبر کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے لیے پاکستان اور عوام کا مفاد سب سے اہم ہے۔ لیکن ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ اگر کوئی ہم سے لڑائی چاہتا ہے تو لڑائی چھیڑ لے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس تمام جمہوری اور آئینی آپشنز موجود ہیں، اور ہم احتجاج کرنا بھی جانتے ہیں۔ 10 اگست کو کشمیر کے عوام صرف پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، بلکہ اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کریں گے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالے یا ان کے مینڈیٹ کو پامال کرے۔ اور میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں: اگر کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اگر ان کے ووٹ کے ساتھ ظلم ہوا، تو میں خود عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا، ان کے ساتھ بیٹھوں گا اور ان کے حق کے لیے احتجاج کروں گا۔ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے۔

Bilawal Bhutto Zardari

53,392 просмотров • 1 месяц назад

بنوں میں امن کی آواز اٹھانے والے پر امن لوگوں پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ ناقابلِ یقین اور افسوسناک عمل ہے پتا نہیں طاقتور حلقے ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں، آپریشنز اور جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہیں یہ مسئلوں کا حل کیا دیں گے، عمران خان نے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے اور معاملات کے سیاسی حل اور بات چیت کے حامی رہے ہیں، عمران خان نے 9/11 کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کی سی این این پر تب مخالفت کی تھی جب جنرل مشرف سمیت پوری دنیا امریکہ کے آگے لیٹ گئی تھی، 'وار آن ٹیرر' کے نام پر اس جنگ سے پاکستان کی اکانومی کو تقریباً 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ایک لاکھ سے زیادہ شہادتیں ہوئیں اور امریکہ نے کھربوں ڈالرز گنوا کر 20 سال بعد پھر وہی کام کیا جو عمران خان نے بتایا تھا یعنی مذاکرات کر کے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نکلے۔ عمران خان کی اسی پالیسی کیوجہ سے خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ممکن ہوا جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کو عوام کا تعاون حاصل تھا، عوام کے تعاون کے بغیر کہیں بھی امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، فارم 47 کی وفاقی حکومت اور اس کے ھینڈلرز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ انہیں آپریشنز اور جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس ہے کیونکہ ان تمام لوگوں کے کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر پڑی ہوئی ہیں اور استحکام کے نام پر آپریشن اور تباہی پھیلا کر ڈالرز جمع کر کے یہ سب ملک سے باہر بھاگ جائیں گے اور عوام دربدر ہو جائے گی اسی وجہ سے عمران خان نے جیل سے اس مرتبہ بھی خیبرپختونخواہ میں کسی بھی قسم کے آپریشن اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور ملک کی 95 فیصد عوام کو عمران خان پر اعتماد ہے۔ #BannuBleed #BannuAmanMarch #UndeclaredMartialLaw

Qasim Khan Suri

28,531 просмотров • 2 лет назад