Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

وزیرداخلہ ضیالنجار کےمطابق پولیس سرجن سمئیعہ طارق نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا جس سے سندھ حکومت کی ساخت خراب ہوئی۔ کوئی ناسمجھ ہی ہوگا جو نہ سمجھے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو کس مجبوری کے تحت tv پر آکر بیان دینا پڑا۔ ڈاکٹر سمئیعہ کی...

28,125 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میرے بھائی نے اندر سے کیا پیغام بھیجا ہے؟ میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میری نظر نہیں آ رہی، اور یہ جو ڈاکٹر آئے تھے میں ان سے مطمئن نہیں ہوں۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کو یہ کہا ہوگا دوپہر کو، اور انہوں نے اپنی بیٹی کو بتایا جو انہوں نے آگے پہنچا دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں ان کے لیے آواز اٹھائیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ عاصم یوسف اور فیصل سلطان میری بلڈ رپورٹس چیک کریں کیا کنسرن ہے جو کہہ رہے ہیں کہ میری بلڈ ٹیسٹ رپورٹ چیک کریں؟ کس لیے کہہ رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ عمران خان کو کس چیز کا خطرہ ہے جس چیز کا ہم سب کو خطرہ ہونا چاہیے کہ یہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں کئی ڈاکٹرز نے دنیا بھر سے لکھا ہے کہ اگر کچھ دیا جائے تو اس کی وجہ سے وہ رزلٹ آ سکتا ہے جو ہوا ہے۔ میرے بھائی عمران خان کو نہ ہی بلڈ پریشر ہے اور نہ شوگر کی کوئی شکایت ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ رپورٹ قبول کریں ہم کیسے قبول کر لیں آپ بھی آئندہ فون پر علاج کروانا ہسپتال نہ جانا۔ علیمہ آپا کی گفتگو

Haider Saeed

15,577 görüntüleme • 7 ay önce

اُمید ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آج رات تک اس کی عمل درآمد ضروری ہے۔ حکومت نے فیصلے کے خلاف جو اپیل کی ہے، اب دیکھتے ہیں کہ اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی کرتی ہے تو پھر ملک کا خدا حافظ۔ اگر اعلیٰ عدلیہ اتنا بڑا فیصلہ کرے اور حکومت اس پر عمل درآمد نہ کرے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہوگی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سے ہماری یہ بات ہوئی کہ اس وقت سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ کیا ہے، لہٰذا اس فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو بھی بلایا تھا۔ انہوں نے اپنی تکنیکی بات کی، جبکہ ہم نے انہیں کہا کہ سیاست ایک طرف ہے اور بنیادی انسانی حقوق دوسری چیز ہیں۔ آپ جو بات کرتے ہیں، اس کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں کہ میاں صاحب جب جیل میں تھے تو کتنے عرصے تک مختلف ہسپتالوں میں رہے۔ جب میاں صاحب بیمار ہوئے تو عمران خان صاحب نے ہم سات، آٹھ لوگوں کو بلایا، جن میں شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے۔ انہوں نے ہم سے مشورہ کیا، پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ سے بات کی اور ان سے رائے لی کہ اصل صورتِ حال کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے عمران خان کو رائے دی کہ انہیں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کی سہولت دی جائے۔

Asad Qaiser

19,467 görüntüleme • 1 ay önce

عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمٰی خان کی میڈیا سے گفتگو، انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس پر بات کی، ڈاکٹر عظمٰی خان نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کے دیرینہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات کی ہے۔ "جو ہمیں اطلاع ملی کہ عمران خان کا بی پی شوٹ کرگیا ہے یہ Medically Incorrect خبر تھی اور کہا گیا ان کی ادویات کی ڈوز ڈبل ہوگئی ہے ہم نے ڈاکٹر فیصل سے بھی بات کی ہے یہ خبر اس لیے غلط تھی کہ عمران خان کو کبھی بلڈ پریشر کی تکلیف تھی نہ ہے۔جب یہ خبر آئی کہ ادویات کی ڈوز ڈبل کردی تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ غلط ہے کیونکہ ایسا نہیں ہوتا کہ ادویات کی ڈوز ڈبل کردی جائے ،یہ غلط ہے اس کے بعد جیسے خبر کو پھیلایا گیا وہ بھی شکوک پیدا کررہا تھا، ہم بار بار جنرل ایگزامینیشن کا کہہ رہے کہ ایک آنکھ متاثر ہوئی تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کہیں دوسری بھی متاثر نہ ہو جائے۔ بلڈ پریشر کی خبر غلط ہے ان کو یہ مسئلہ کبھی رہا ہی نہیں ہے"۔ Dr Uzma Khan

PTI

91,476 görüntüleme • 1 ay önce

کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعتراض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا عادل راجہ

Waqar khan

331,759 görüntüleme • 1 ay önce

سھیل آفریدی کے دورہ لاہور کے اثرات ابھی شاید کسی کو پوری طرح سمجھ نہ آئیں لیکن آفریدی نے نہ صرف ان خدشات کو غلط ثابت کیا کہ وہ گنڈاپور کی طرح محض بیان بازی کر رہے ہیں بلکہ پنجاب کی جمود کا شکار قیادت کو بھی اس دفاعی پوزیشن پر لے آئے جہاں انکے لئے عملاً کچھ کئے بغیر اب کوئی چارہ نہیں۔ چھوڑا۔ پنجاب حکومت اور اس کے پشت پناہوں کو بھی مخمصے میں ڈال کر رکھ دیا وہ ایک قدم آگے بڑھاتے اور پھر پیچھے ہٹ جاتے رہے۔ انہیں خوف ہے کہ کچھ زیادہ کیا تو احتجاج ابھی یہیں ایک دم سے ناقابل کنٹرول حد تک پھیل جائیگا۔ پنجاب کے صحافیوں اور پولیس کے ذریعے جہاں انہوں نے خیبرپختونخواہ کی قیادت کو مزید جارحانہ رویہ اپنانے پر مجبور کیا وہیں پنجاب اسمبلی کے عملے کے ذریعے بدتمیزی سے وہ غلطی کی کہ پنجاب اسمبلی کے PTI اراکین کے پاس بھی بولنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا سہیل آفریدی کی لاہور آمد سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ انہوں نے تمام مرکزی و صوبائی قیادتوں پر انحصار کی بجائے عمران خان کی ہدایت کو سمجھتے ہوئے احتجاجی تحریک کی قیادت خود اپنے ہاتھوں میں لینے کا نہ صرف فیصلہ کیا ہے بلکہ سٹوڈنٹ لیڈر کی طرح ' جو انکی بنیادی تربیت ہے' اسے فرنٹ سے جارحانہ انداز میں لیڈ کریں گے سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ اس احتجاجی تحریک کا گراؤنڈ ورک ہے جو جلد شروع ہونے جا رہی ہے اور پنجاب حکومت اور 90 کی دہائی کی ذہنیت والی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قدیمی اطوار کی اپنی حماقتوں سے اسے مہمیز ہی کیا ہے ہم جلد ہی پاکستان میں ایک تیز ترین احتجاجی تحریک کو دیکھیں گے جس میں ریورس گیئر نہیں ہو گا۔ ان شاءاللہ

Shafqat Ch

57,220 görüntüleme • 9 ay önce

یہ ہیں وہ کیسسز جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواستوں پر نا انصافیاں کی. 1.توشہ خانہ کیس میں بار بار کیس اسی جج کو ریمانڈ کرنا جس کے اوپر عمران خان کو اعتماد نہیں، 2. نو مئی کو عمران خان صاحب کے اغوا کو قانونی قرار دینا. 3.سائفر کیس کی ضمانت کی درخواست پر لیٹ فیصلہ دینا اور پھر فیصلے کو محفوظ کر لینا اور 11دن بعد فیصلہ سنانااور بغیر کسی قانونی جواز کے ضمانت کو خارج کرنا. 4.سائفر کیس میں مقدمہ کے اخراج اور ٹرائل کو روکنے کی درخواست لیٹ فیصلہ سنانا اور پھر کوئی قانونی پہلو نہ دیکھنا اور درخواستیں خارج کر دینا. 5.ٹیرن وائٹ کیس کے اندر دو ججز نے فیصلہ عمران خان صاحب کے حق میں دے دیا اور عامر فاروق صاحب نے ابھی تک اس فیصلے پر دستخط نہیں کیے! 6.محفوظ کھانے اور وکلاء،ڈاکٹر،فیملی کی ایکسس پر ف2 مہینے بعد فیصلہ دینا اور فیصلہ میں واضح طور ڈائریکشن نہ دینا. 7.توشہ خانہ کیس میں سزا کو معطل کرنے پر 25 دن لگا دینا . 8.عمران خان صاحب کی طرف سے عدم عتماد کی درخواست دینا کہ آپ ہمارا کیس نہ سنے اور اس پر ہمارے درخواست قبول نہ کرنا اور تمام درخواستوں کو اپنے پاس رکھ لینا اور انصاف نہ دینا. 9 عمران خان صاحب کے زخمی ہونے کے باوجود مجبور کرنا کہ وہ خود آکر بائیو میڑک کروائیں اور گیٹ کے باہر انہیں گاڑی سے اتار دینا. 10.سابقہ وزیراعظم کی سیکیورٹی کی درخواست پر فیصلہ نہ دینااور عمران خان صاحب کا اپنی سیکیورٹی کے ساتھ اسلام آباد آنا. 11.ٹرائل جج طاہر سپرا سے تمام کیسسز کو ٹرانسفر کی درخواست کے اوپر ہماری استدعا قبول نہ کرنا. 12.نو مئی کو بائیو میڑک کمرے سے عمران خان صاحب کو اغوا کیا گیا توڑ پھوڑ ،وکلاء ،اہلکاروں پر تشدد کیا گیا ،کیمرے اتارے گئے اس کے اوپر انکوائری شروع کی گئی جو بعد میں بغیر کسی وجہ ڈسپوز آف کر دی گئی آج تک اس پر پھر کوئی بات نہیں کی گئی. 13.توشہ خانہ کیس میں 26 گھنٹے ایک وارنٹ کی وجہ سے اپریشن کیا گیا اور اس ورانٹ کو 26 گھنٹے بعد چیف صاحب نے منسوخ کیا گیا نہتے لوگوں پر تشدد ظلم،شیلنگ،واٹرکینن کا استعمال کیا گیا. 14.سترہ مارچ کو کہا گیا کہ آپ 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوں حالانکہ عمران خان صاحب پر وزیرآباد حملہ ہوا اور وہ اس وجہ سے پیش نہیں ہو پارے رہے تھے لیکن مجبور کیا گیا پھر وہ پیش ہوۓ اور 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس عمران خان پر حملہ ہوا،شیلنگ،تشدد،لاٹھی چارج،اور پھر ایف آرز درج کر دی گئی. 15.اوپن ٹرائل اور عدالت کو جیل کے اندر وزارت قانون کی طرف سے شفٹ کرنے کے نوٹیفیکشن کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے درخواست کو خارج کرنا اور دیگر درخواستں جو خارج کر دی گئی.

Naeem Haider Panjutha

56,750 görüntüleme • 2 yıl önce

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 görüntüleme • 1 ay önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce