Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

وزیرداخلہ محسن نقوی کو پارلیمنٹ میں ٹریپ کرنے کا فیصلہ؟ لگتا ہے محسن نقوی کا پہلا بڑا امتحان اب اکتوبر میں پارلیمنٹ میں ہوگا جہاں بقول ڈاکٹر طارق فضل چوہدری صوبوں پر بحث ہوگی۔ نقوی صاحب کو پارلیمنٹ میں تقریر کرنے کا زیرو تجربہ ہے اورانہوں نے ڈھائی سالوں...

49,850 görüntüleme • 10 gün önce •via X (Twitter)

7 Yorum

کھیتران profil fotoğrafı
کھیتران10 gün önce

جن کو تقریریں کرنی آتی ہیں انہوں نے کون سی دودھ اور شہد کی نہریں نکال دیں۔ ضیاء صاحب قادرالکلام تھے انہی کے دریافت کردہ نام نہاد مجاہدین نے معروف شاہراہوں پہ ناکے لگا رکھے ہوتے ہیں قائد اعظم کے اللہ درجات بلند کرے اجنبی تلفظ لیکن ہمیں ہندووں سکھوں سے محفوظ کر گئے

khurram shahzad profil fotoğrafı
khurram shahzad9 gün önce

Sir jee محسن نقوی جن کے ہیں وہ تقر ير کرا لے گے

ImtiaZ Hussain Bhatti۔۔🪖🇵🇰❤️ profil fotoğrafı
ImtiaZ Hussain Bhatti۔۔🪖🇵🇰❤️10 gün önce

نااہل، کرپٹ اور نالائق ، پاکستان کے ظالم حکمران.مسلسل چوتھے دن بھی رات کے اندھیرے میں غریب عوام پر پٹرول اور ڈیزل بم گرا دیا گیا!

Comparing World profil fotoğrafı
Comparing World10 gün önce

کیسا ملک ہے نقوی لگتا ہے گونگا ہے جو بول نہیں سکے گا واہ رے پاکستان

M.Tahir Shahzad profil fotoğrafı
M.Tahir Shahzad9 gün önce

جناب تقریروں کی انکو ضرورت ھوتی ھے جنکےپاس عسکری ڈنڈا نہ ھو؟ شائد پارلیمنٹ میں بھیpmlکچھ نہیں کر پائےگی سوائےpppکےپیچھےچھپنےکے؟ کیونکہ میاں صاحبان کےپیچھےحافظ صاحب کا ڈنڈا ھےاور آگےمحسن نقوی جیسا تگڑا منڈا؟ پیچھےمڑتےہیں تو ڈنڈا وڑتا ھے اور آگےھوتےہیں تو حافظ کامنڈا مارتا ھے؟

Em A Jay profil fotoğrafı
Em A Jay10 gün önce

طارق فضل چودری اور ان کے رفقا کی اتنی اوقات ہے ؟؟؟؟

Khizer Hayat profil fotoğrafı
Khizer Hayat10 gün önce

کلاسرہ صاحب۔۔بادشاہ بندے ہوے تساں!! سر جنہوں نے بنانے ہیں صوبے وہ پارلیمان سے بالاتر ہیں۔پاکستان کے آسمان ہیں وہ۔ یہی پارلیمان نئے صوبوں کے حق میں دلیل دے گا جس دن انہوں نے ذرا سی سختی سے کہا۔

Benzer Videolar

عمران خان نے جو سوچ کر محمود خان اچکزائی کو اپوزیشن لیڈر بنوایا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کو اپنی دھواں دھار تقریروں سے شدید ہرٹ کریں گے اور انہیں تکلیف ہوگی، وہ کام انہوں نے خان کی توقعات کے مطابق بڑی خوبصورتی سے ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فوجی قیادت یقینی طور پر اچکزائی کے حملوں سے اپ سیٹ ہوگی جس کا اندازہ خواجہ آصف کی دفاعی انداز میں کی گئی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ اچکزائی اپوزیشن لیڈر ہو کر پارلیمنٹ میں پاکستان سے زیادہ افغانستان کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ افغانوں /طالبان کے موقف کو زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں سابقہ یا موجودہ آرمی قیادت اور پاکستانیوں کو زیادہ قصور وار اور افغانوں کو مکمل طور پر معصوم سمجھتے ہیں۔ پی پی پی اور نواز لیگ بھی فوج کا دفاع اس سطح پر جا کر کرنے کو تیار نہیں جس کی ان حالات میں فوج توقع رکھتی ہے۔ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ فوج نے سسٹم کو کنٹرول کر رکھا ہے تو جواب بھی وہی دے یا ان کا پاور فل وزیرداخلہ محسن نقوی ایوان میں آ کر دے۔ جبکہ محسن نقوی ایوان کا رخ ہی نہیں کرتا۔ وزیراعظم شہباز شریف شاید اس لیے اسمبلی یا سینٹ نہیں جاتے کہ اچکزائی کی تقریروں کا جواب دینا پڑے گا۔ وہ چاہتے ہیں یہ بھاری پتھر خواجہ آصف اٹھائیں تاکہ ان کے اپنے تعلقات اچکزائی سے بھی ٹھیک رہیں۔ اچکزائی بھی ہر تقریر میں “شہباز بھائی” کہنا نہیں بھولتا۔ پھر ایک اور مشکل ہے کہ جب وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پی ٹی آئی ایم این ایز انہیں ان کی فوج کے خلاف ماضی میں کی گئی تقریریں یاد دلاتے ہیں اور یوں ان کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔ باقی کوئی حکمران جماعت کا ممبر فوج کے حق میں تقریر نہیں کرتا اور اوپر سے خواجہ آصف محمود خان اچکزائی سے اپنے تعلق کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں لہذا وہ اچکزائی سے اس لیول پر انگیج نہیں ہوتے جس لیول کے اٹیک اچکزائی کرتا ہے۔ دونوں اپنی تقریروں میں بار بار اپنے بزرگوں ( صمد خان اچکزائی/خواجہ صفدر) کے پرانے تعلقات اور اپنی پرانی دوستی کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ ہر سخت حملہ کرنے کے فورا بعد اچکزائی بڑی سمجھداری سے “خواجہ بھائی” یا “شہباز بھائی” کا تڑکہ بھی لگا دے گا تاکہ وزیراعظم اور وزیردفاع ان تعلقات کو اہمیت دیں نہ کہ ان کے سخت حملوں کا جواب دینے کا سوچیں۔ یوں اچکزائی دراصل عمران خان کے چوائس کو درست ثابت کررہا ہے کہ وہ اکیلا فوج کو پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دے سکتا ہے اور وہ دھیرے دھیرے ان سب کو خوب سنا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ بھی ایک مذاق ہی بن کر رہ گئی ہے۔ نہ وہاں وزیراعظم آتا ہے نہ وزیرداخلہ نہ ہی ساٹھ رکنی کابینہ ماسوائے دو تین وزیروں کے۔ جب یہ سب نہیں آتے تو بھلا باقی ایم این ایز کیوں آئیں لیکن تنخواہ/الاونسنز سب پورے لیتے ہیں۔ شہباز شریف دور میں پارلیمنٹ اتنی کیوں فارغ ہوچکی ہے۔۔ کسی کو ٹکے کی دلچسپی نہیں رہی؟ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Khawaja M. Asif Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sardar Ayaz Sadiq Dr. Tariq Fazal Ch. Barrister Gohar Khan Junaid Akbar Ishaq Dar Sher Afzal Khan Marwat

Rauf Klasra

18,538 görüntüleme • 7 ay önce