Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل غزل بھی وہ جو کسی...

17,523 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اس کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو نہ رشتۂ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئنہ حیا کرے نہ اختلاط میں وہ رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس قدر سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفراں کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بد تر از ہوس کہے شجر حجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پا بہ گل رہیں نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں محبتوں کی وسعتیں ہمارے دست و پا میں ہیں بس ایک در سے نسبتیں سگان با وفا میں ہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ اک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کے پریم میں رہوں تمہاری سوچ جو بھی ہو میں اس مزاج کی نہیں مجھے وفا سے بیر ہے یہ بات آج کی نہیں نہ اس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی جو عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غم شکستگی سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں، مگر کبھی کبھی احمد فراز

Book of Love

14,532 views • 3 years ago

تصویر کہانی: موت زندگانی ہے! حوا بلوچ : وہ اپنے ساتھی جنگجوؤں کے ہمراہ دشمن کے فولادی حصار کو توڑ کر ایسی مضبوط پوزیشن سنبھال چکی تھی جہاں سے پسپائی کا کوئی سوال باقی نہ رہا تھا۔ اس کی للکار میں خوف نہیں، فیصلہ تھا، ایک ایسا فیصلہ جو محکوم قوموں کی تاریخ میں صرف وہی کرتے ہیں جو زندگی کو مقصد اور موت کو دلیل بنا لیتے ہیں۔ دورانِ جنگ اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ دشمن کی بزدلی پر ایک زوردار طمانچہ تھی۔ وہ مسکراہٹ محض چہرے کا تاثر نہیں تھی بلکہ شعور کا وہ سیلاب تھا جو غلامی کے تمام بند توڑ دیتا ہے۔ وہ جنگ سے خائف نہیں تھی کیونکہ اس نے خوف کو بہت پہلے شکست دے دی تھی۔ وہ موت سے بے باک تھی کیونکہ اس نے زندگی کو قومی آزادی کے ساتھ مشروط کر لیا تھا۔ دشمن کے کیمپ پر قبضہ کرکے وہ دوبدو مقابلے کا چیلنج دے رہی تھی، کھلے میدان میں، نظریے کے زور پر، یقین کے ہتھیار کے ساتھ۔ وہ ہنستی تھی، مسکراتی تھی، پُرعزم اور پُرحوصلہ، جیسے خطرہ اس کے وجود سے راہِ فرار اختیار کر چکا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کی چمک تھی اور اس کی زبان پر قومی شعور کا وہ درس تھا جو صدیوں کی محکومی کو لمحوں میں بے معنی کر دیتا ہے۔ وہ مسکراتی ہوئی، پری نما زمین زادی، اپنی موت کا فیصلہ خود کرکے اس میدانِ کارزار میں اتر چکی تھی کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ اعلیٰ شعور ہی انسان کو نظریے کا حقیقی وارث بناتا ہے۔ یہی شعور فرد کو علامت، علامت کو مثال اور مثال کو تاریخ کا فیصلہ کن موڑ بنا دیتا ہے۔ ایسی مثالیں ہی قوموں کے مقدر لکھتی ہیں اور ایسی ہی موتیں زندگانی بن جاتی ہیں۔ تحریرحکیم بلوچ ۔

Rodium-A

25,759 views • 7 months ago