Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ٹک ٹاکر Eman Brand چھوٹا سا میاں مٹھو بن رہی۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب اس وقوعہ کو Rawalpindi Police کی حدود میں شو کرنے کی کوشش کی جارہی سوال یہ پیدا ہوتا اگر لڑکی کے سر بال کاٹنے وقوعہ تھانہ لوئی بھیر نہ ہوا تو کیوں اس تھانے کے افسران...

25,687 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

*اسلام آباد: پولیس وردی میں ملبوس افراد کی صحافیوں پر فائرنگ، آئی جی سے فوری نوٹس کا مطالبہ* تفصیلات کیمطابق اسلام آباد میں صحافیوں پر فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعہ تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں پیش آیا جہاں پولیس وردی میں ملبوس چند افراد کی مشکوک سرگرمیوں پر صحافیوں نے اپنی گاڑی روک کر جانچ پڑتال کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی صحافیوں نے سوالات کیے، مذکورہ افراد بغیر کوئی وضاحت دیے دو موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے، جس سے ان کے اصل عزائم پر شکوک مزید گہرے ہو گئے۔ صحافیوں کی جانب سے تعاقب کیے جانے پر مشتبہ افراد تھانہ آئی نائن کی حدود میں پہنچے جہاں انہوں نے خود کو بے نقاب ہونے سے بچانے کے لیے صحافیوں پر براہِ راست فائرنگ کر دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی پولیس اہلکار تھے تو وہ موقع سے کیوں فرار ہوئے؟ اور اگر مجرم عناصر تھے تو انہیں پولیس وردی کس نے فراہم کی؟ صحافیوں پر فائرنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملزمان کسی سنگین جرم میں ملوث تھے اور اپنی شناخت ظاہر ہونے سے بچنے کے لیے انتہائی قدم اٹھایا۔ صحافتی حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس وردی میں ملبوس مسلح افراد کی موجودگی، ان کے فرار اور فائرنگ کی وجوہات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Israr Ahmed Rajpoot

106,820 görüntüleme • 9 ay önce

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 görüntüleme • 3 ay önce

یہ تحریر اور ویڈیو بھی وائرل ہے،کسی کو اصل حقائق معلوم ہیں تو کمنٹ کریں ، FIR بھی کہیں نظر نہیں آئی👇 مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ گرفتار ہوئے، تھانے لائے گئے اور پھر ایک مقامی تھانے پولیس انچارج انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کے پہرے میں بلا دلیل ذلیل کر رہا ہے اور انہین ڈر دھمکا کر خوفزدہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان پر جو الزام اس نے لگایا، اس پر کہاں تفتیش ہوئی؟ اور اسے کس نے عدالت لگا کر فیصلہ سنانے اور پھر ویڈیو بنا کر اسے پھیلانے کی اجازت دی ؟ یہ کون سا قانون ہے ؟کون سی دفعہ کے تحت یہ سب درست ہے کہ ایک عام شہری تو کجا اتنے بڑے عالم دین کی ایک عام سا سپاہی یوں بے عزتی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ کیا ہے؟ ، سن لیں گرفتاری اور تھانے میں لائے جانے سے پہلے مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ہم یہاں اس علاقے میں ڈاکوؤں کے نرغے میں ہیں اور پولیس ہماری مدد کے لیے نہیں آ رہی۔ جس جگہ سے ابوبکر معاویہ صاحب نے ویڈیو بنائی اس جگہ کا نام بھی وہ بتا رہے تھے حضرت مولانا ابوبکر معاویہ صاحب پولیس کو کال کرتے ہیں تو پولیس والے حسب عادت و روایت وہی پہلا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ،دوسروں کو کال کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم آ رہے ہیں اور وہ نہین آتے، اسی دوران میں مولانا ابوبکر معاویہ صاحب ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرتے ہیں کہ ہم پولیس کو کہہ رہے ہیں اور یہ پہنچ نہیں رہے اور یہاں پر ڈاکوؤں نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ ایک گاڑی میں بچے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر میں مولانا ابوبکر معاویہ اپنی لائسنس یافتہ کارتوسی گن سے دو فائر کرتے ہیں جس سے ڈاکو راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹریفک کھل جاتی ہے اور وہ بھی گھر پہنچ جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اس جرم میں ان کو اسی لباس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تھانے کے اندر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہے کہ انہوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کی ہے یا اس سے دبوا رہے تھے اور پھر پولیس والا ان سے انتہائی بدتمیزی کر رہا اور بدترین الزامات لگا رہا ہے ۔ اس عرصے میں نہ تو کسی بچے کو سامنے لایا گیا اور نہ جنہوں نے ایف ائی ار کروائی ہے وہ سامنے آئے، نہ ہی بچے کے ورثا تک سامنے آئے ہیں ۔صاف سیدھا نظر آ رہا کہ یہ سب صرف اور صرف پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذمہ داری کی ناکامی چھپانے اور اس کے جواب میں علما کو ٹارگٹ کرنے کی کی کوشش ہے اور پولیس والا پہلی ویڈیو کی وجہ سے انتقام لے رہا ہے ۔ہماری سب اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک جید و متحرک عالم دین کے لیے آواز اٹھائیں۔مولانا ابوبکر معاویہ کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پولیس کے نہ آنے پر راستہ واگزار کیا اور ویڈیو اپلوڈ کی جسےعلاقے کی پولیس نے اپنی بدنامی تصور کرکے ان کے خلاف مذموم کارروائی کی اور پھر ان پر انتہائی گھٹیا اور قبیح ترین الزام عائد کر کے تھانے میں خود ہی عدالت لگا کر انہیں نشانہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کالج یونیورسٹی کا معاملہ ہو تو سارے لبرل سیکولر فوری اس کے دفاع میں آجاتے اور معاملہ دبا دیتے ہیں ، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ ایک مثال ہے تو پھر دینی طبقات جماعتیں علما اور شخصیات کہاں ہیں؟ وہ اس پر مکمل چپ سادھے بیٹھے ہیں ، آخر کیوں ؟ ( علی عمران شاہین)

Ammar Khan Yasir

83,355 görüntüleme • 2 yıl önce

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,554 görüntüleme • 26 gün önce

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------

Dr Waqas Nawaz

18,703 görüntüleme • 28 gün önce

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,746 görüntüleme • 2 ay önce

قصور الہ آباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ ایف ایس سی کی طالبہ کو اپنے کلاس فیلو سے پیار ہوگیا، دونوں آپس میں ملنے لگے، پھر لڑکے نے چالاکی سے نجی لمحات کی ویڈیوز بنا لیں، بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوا! لڑکا متعدد بار لڑکی کو ویڈیوز دکھا دکھا کر بلیک میل کرتا اور رقم کا مطالبہ کرتا! لڑکی نے اپنے سونے کے کانٹے دیئے جسے لڑکے نے بیچ کر اپنے لیے موبائل لیا پھر عیاشیاں کرنے لگا، جب وہ رقم ختم ہوگئی تو مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا، یہ معاملہ جب گھر والوں کے علم میں آتا ہے تو وہ اپنی عزت کو بچانے کے لیے لڑکے کے گھر والوں کے پاس جاتے ہیں التجا کی جاتی ہے کہ ہماری بیٹی کا رشتہ لے کر ہماری عزت کو بچا لیں لڑکے کا باپ رشتہ لینے سے انکار کر دیتا ہے لڑکی کے گھر والے جب مایوس واپس لوٹتے ہیں تو لڑکا پھر بھی باز نہیں آتا، بار بار پیسوں کو مطالبہ کرتا ہے، عامر کے مطالبے کے انکار پر اس نے پھر ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی، جس پر ویڈیو کال کے دوران عامر نے لڑکی سے مطالبہ کیا کہ اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہے تو پھر مجھے خود کشی کر کے دکھاؤ، لڑکی نے اُٹھ کر خود کو پنکھے سے لٹکا دیا اور عامر یہ مناظر ویڈیو پر دیکھتا رہا! بعد میں بھی عامر لڑکی کو میسج کرتا رہا کہ تم نے اپنا شوق پورا کر لیا؟ جب کہ لڑکی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی جب لڑکی کہ بہن کمرے میں آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اک طرف اسکی بہن پنکھے سے لٹکی ہے جبکہ دوسری جانب موبائل آن ہے وہ سارا کچھ ریکارڈ کر کے ثبوت میڈیا کو فراہم کردیتی ہے نوٹ یہ واقعہ 14فروری کو ہوا جبکہ ایف آئی آر 28 فروری کو درج کی گئی جس میں نہ 302 نہ ہی بلیک میلنگ اور نہ ہی زنا با لجبر یا رضا کی دفعات کو شامل کیا گیا
1:10

Sensitive content

قصور الہ آباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ ایف ایس سی کی طالبہ کو اپنے کلاس فیلو سے پیار ہوگیا، دونوں آپس میں ملنے لگے، پھر لڑکے نے چالاکی سے نجی لمحات کی ویڈیوز بنا لیں، بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوا! لڑکا متعدد بار لڑکی کو ویڈیوز دکھا دکھا کر بلیک میل کرتا اور رقم کا مطالبہ کرتا! لڑکی نے اپنے سونے کے کانٹے دیئے جسے لڑکے نے بیچ کر اپنے لیے موبائل لیا پھر عیاشیاں کرنے لگا، جب وہ رقم ختم ہوگئی تو مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا، یہ معاملہ جب گھر والوں کے علم میں آتا ہے تو وہ اپنی عزت کو بچانے کے لیے لڑکے کے گھر والوں کے پاس جاتے ہیں التجا کی جاتی ہے کہ ہماری بیٹی کا رشتہ لے کر ہماری عزت کو بچا لیں لڑکے کا باپ رشتہ لینے سے انکار کر دیتا ہے لڑکی کے گھر والے جب مایوس واپس لوٹتے ہیں تو لڑکا پھر بھی باز نہیں آتا، بار بار پیسوں کو مطالبہ کرتا ہے، عامر کے مطالبے کے انکار پر اس نے پھر ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی، جس پر ویڈیو کال کے دوران عامر نے لڑکی سے مطالبہ کیا کہ اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہے تو پھر مجھے خود کشی کر کے دکھاؤ، لڑکی نے اُٹھ کر خود کو پنکھے سے لٹکا دیا اور عامر یہ مناظر ویڈیو پر دیکھتا رہا! بعد میں بھی عامر لڑکی کو میسج کرتا رہا کہ تم نے اپنا شوق پورا کر لیا؟ جب کہ لڑکی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی جب لڑکی کہ بہن کمرے میں آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اک طرف اسکی بہن پنکھے سے لٹکی ہے جبکہ دوسری جانب موبائل آن ہے وہ سارا کچھ ریکارڈ کر کے ثبوت میڈیا کو فراہم کردیتی ہے نوٹ یہ واقعہ 14فروری کو ہوا جبکہ ایف آئی آر 28 فروری کو درج کی گئی جس میں نہ 302 نہ ہی بلیک میلنگ اور نہ ہی زنا با لجبر یا رضا کی دفعات کو شامل کیا گیا

Ruthless ZQ

379,892 görüntüleme • 6 ay önce

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 görüntüleme • 8 ay önce

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 görüntüleme • 4 ay önce

نئی ویڈیو آ گئی،زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔22 لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر سنگین مقدمات میں نامزد غیر ملکی ملزم کو عدالت میں پیش کرنے میں خاتون تفتیشی پولیس افسر آخرکار کامیاب ہو گئی، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اس پورے عمل کے دوران انہیں مختلف قسم کے مبینہ دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ چند روز قبل اسی خاتون پولیس افسر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جو انہوں نے تھانے میں کھڑے ہو کر ریکارڈ کی تھی۔ ویڈیو میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بعض بااثر پولیس افسران کی جانب سے ان پر تفتیشی عمل کے دوران دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ خاتون افسر کے مطابق وہ ایک ایسے غیر ملکی ملزم کے خلاف مقدمات کی تفتیش کر رہی تھیں جس پر 22 لڑکیوں کے ساتھ زیادتی سمیت دیگر سنگین الزامات کے مقدمات درج ہیں۔ اب عدالت سے سامنے آنے والی نئی ویڈیو میں خاتون افسر کا کہنا ہے کہ تمام تر مبینہ دباؤ، رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود وہ ملزم کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان کے اس دعوے نے ایک بار پھر اس پورے معاملے کو عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ اگر خاتون افسر کے الزامات درست ہیں تو متعلقہ اداروں کو شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

Sajid Hussain

12,388 görüntüleme • 3 ay önce

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 görüntüleme • 2 yıl önce

سابق وزیراعظم عمران خان کے ذاتی معالج اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا ویڈیو بیان: (16-02-2026) کل رات تقریباً نو بج کر پینتالیس منٹ پر میں نے اسلام آباد میں موجود ان دو ڈاکٹروں سے ٹیلی فون پر بات کی جو فی الحال جناب عمران خان کی آنکھ کا علاج کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھی ڈاکٹر خرم عظیم مرزا، جو لاہور میں ریٹینل اسپیشلسٹ ہیں، سے درخواست کی کہ وہ بھی اس گفتگو میں شامل ہوں اور انہوں نے مہربانی فرمائی۔ ہماری گفتگو تقریباً چالیس منٹ جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے جناب عمران خان کو کب پہلی بار دیکھا، اس وقت ان کے کیا علامات تھیں، کون سے ٹیسٹ ہوئے، اب تک کیا علاج دیا گیا ہے، اور آئندہ علاج کا کیا پلان ہے۔ ان کی تازہ ترین تشخیص کل ہوئی تھی۔ ان ٹیسٹوں اور تازہ اسیسمنٹ کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ علاج کی وجہ سے جناب خان میں نمایاں بہتری آئی ہے، آنکھ میں بہتری ہے اور بینائی بھی بہتر ہوئی ہے۔ میں بہت خوش ہوتا اگر میں اس کی پورے یقین سے تصدیق کر سکتا۔ بدقسمتی سے، چونکہ میں نے خود انہیں نہیں دیکھا، نہ ان کی دیکھ بھال میں حصہ لیا، نہ ان سے بات کی، اس لیے نہ تو میں اس کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید۔ اسی لیے میں ایک بار پھر اتھارٹیز سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھے یا ڈاکٹر فیصل سلطان کو، یا دونوں کو، اور جناب عمران خان کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹروں کو اسلام آباد میں معائنہ کرنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئندہ تمام دیکھ بھال اور علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں کیا جائے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ یہ عالمی معیار کا اسپتال ہے جہاں مناسب سہولیات موجود ہیں اور جناب عمران خان کو بہترین علاج مل سکے گا۔“ #WhatAreTheyHiding #ComeToStreetsForKhan

PTI

15,164 görüntüleme • 7 ay önce

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

35,167 görüntüleme • 2 gün önce

کئی سال پہلے میں نے حامد میر صاحب (Hamid Mir حامد میر) کے کہنے پر چینی کا بائیکاٹ #BoycottSugar کیا اور نہ صرف خود بلکہ اپنے پورے گھر اور دوستوں کو بھی اس "سفید زہر" سے دور رکھا۔ تاہم، کچھ ماہ پہلے جب میں مکمل طور پر اسلام آباد منتقل ہوا اور دوبارہ ہاسٹل لائف شروع کی، تو آمدن نہ ہونے اور اخراجات کے مسائل کے باعث مجبوری میں چینی والی چائے اور پراٹھے کا استعمال شروع کر دیا۔ ​کچھ ہی عرصے بعد اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی۔ اللہ بھلا کرے ایک انسان دوست ڈاکٹر کا، جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے پوچھا: "نوجوان! چینی کا استعمال کب سے کر رہے ہو؟" میں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ سے، کیونکہ اس سے پہلے کئی سالوں تک میں نے چینی مکمل طور پر ترک کر رکھی تھی اور اب صرف ہاسٹل کی مجبوری میں استعمال کر رہا ہوں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے ہدایت کی: "بیٹا! آپ دوبارہ کبھی چینی استعمال نہ کرنا۔" ​اب میں صبح کے ناشتے میں صرف ایک گلاس دودھ اور سادی روٹی لیتا ہوں اور اس سفید زہر سے جان چھڑا کر بہت پرسکون ہوں۔ اس کانفرنس میں حامد میر صاحب نے بالکل درست کہا کہ چینی واقعی ایک سفید زہر ہے اور اس کے پیچھے شوگر مافیا کا ہاتھ ہے۔ شوگر کے بہت سارے نقصانات ہیں جن میں انسولین کی کارکردگی خراب کر کے شوگر کی بیماری پیدا کرتی ہے، جسم اور پیٹ پر تیزی سے چربی جمع کرتی ہے جبکہ جگر پر چربی جما کر اسے متاثر کرتی ہے۔ ​ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور شریانوں کی سوزش بڑھاتی ہے اور خون میں شوگر اچانک بڑھا کر تیزی سے گراتی ہے۔ علاوہ ازیں دانتوں میں کیڑا اور کیویٹی پیدا کرتی ہے اور جھریوں اور دانوں کا باعث بنتی ہے۔ ​بہترین متبادل: گڑ، خالص شہد، کھجور، اور اسٹیویا (Stevia) ہے۔

Malik Ramzan Isra

30,232 görüntüleme • 14 gün önce