Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پائین پیچھے تو شیخنی دے پئے او کافی تے اس نو بلا رہے او 🤔 ‏⚘ قــــــلــنـــدر ‏⚘ 0-6⚘

25,044 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اتوار کے روز 20 تاریخ کو تقریباً ساڑھے نو بجے کے قریب علیمہ خان صاحبہ ڈرائیور کے ہمراہ گھر سے کام کے سلسلے نکلتی ہیں تو ظفر علی روڈ سے انہیں اغواء کرلیا جاتا ہے اس کے بعد جب ان کی تلاش کی جاتی ہے تو ان کی گاڑی تھانہ مزنگ میں ملتی ہے لیکن سارا دن یہ پتہ نہیں چلتا کہ علیمہ خان کو کہاں رکھا ہوا ہے۔تقریبا دن 2 بجے تھری ایم پی او کا ایک آرڈر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے۔ ہم نے اس آرڈر کو عدالت میں چیلنج کیا وہ آرڈر بیس تاریخ کا ہی ہے۔ بیس تاریخ کو ایس پی سول لائن ایک رپورٹ فائل کرتی ہے کہ چونکہ علیمہ خان صاحبہ نو مئی کے احتجاج میں شریک ہوئی تھیں اس لیے ان کی وجہ سے آج بھی نقص امن کو خطرہ ہے اس کے ساتھ ان کا ڈرائیور بھی بہت بڑا خطرہ ہے لہٰزا ان کو نظر بند کردیا جائے اسی تاریخ کو ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کی میٹنگ میں فیصلہ ہوتا ہے کہ نو مئی کے مقدمے میں علیمہ خان شامل تھیں لہٰزا اس میٹرئل کی بنیاد پر ان کو نظر بند کردیا جائے۔ ہم عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ بیس تاریخ کو جب انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو اتوار کے روز کیسے یہ رپورٹ، میٹنگ اور سارا پروسیجر مکمل ہو کر نو بجے سے پہلے گرفتاری بھی ہوجاتی ہے۔ ایم پی او کے اس آرڈر میں جتنا بھی میٹیرئل ڈالا گیا ہے وہ فیک ہے ،مکینیکل ہے اس کے ساتھ ڈرائیور کو نوٹفکیشن یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ گرفتاری کے بعد نکالا گیا۔ہم نے عدالت کو بتایا کہ جس نو مئی کے مقدمے کو میٹیرئل بنایا گیا ہے اس میں پولیس کی تفتیشی ٹیم علیمہ خان کو بے گناہ قرار دے چکی ہے ۔ وکیل علیمہ خان

PTI

54,264 views • 7 days ago

یہ پلوشہ خان اور علیم خان کی لفظی جھڑپ کی ایک کلئیر اینگل سے صاف ویڈیو ھے اس میں دیکھا جاسکتا ھے کہ سفارش پر آئی ہوئی سینیٹر نے عوامی نمائندے سے کس لہجے میں بات کی اور وہ نمائیندہ جو اربوں پتی ھے ، علیم خان چپ بیٹھے تھے اپنی صفائی دے کر ، لیکن جب پلوشہ خان نے سینٹیر بننے کی بجائے جج بنتے ہوئے فیصلہ صادر کرکے ان پر ذاتی حملہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ گلٹی ہیں (مجرم ہیں ) تو اس بات پر علیم خان بھڑک اٹھے لیکن اس کے بعد پھر خاموش بیٹھے رہے لیکن پلوشہ خان کی زبان قینچی کی طرح چلتی رہی ، جرنیل کے رکھیل رہی ھے اس کی بھی اکڑ اب جرنیلوں والی ھے ، باہر آکر معصوم بن کر کہہ رہی ھے کہ سوال کرنا میرا حق ھے ، او سوال تم نے کردیا اور جواب بھی علیم خان نے دے دیا ، اب جج بن کر تم نے ایک قومی اسمبلی اور معاشرے کے معزز رکن کو مجرم کہہ دیا تو وہ خاموش بیٹھا رہے گا ؟ علیم خان نے آگے سے کہا ھے کہ میں نے تو جواب دے دیا ھے اپنے گریبان میں جھانکو اگر میں نے سوال کیا تو تمہارے پاس جواب ہی نہیں ہوگا ۔۔۔
1:35

Sensitive content

یہ پلوشہ خان اور علیم خان کی لفظی جھڑپ کی ایک کلئیر اینگل سے صاف ویڈیو ھے اس میں دیکھا جاسکتا ھے کہ سفارش پر آئی ہوئی سینیٹر نے عوامی نمائندے سے کس لہجے میں بات کی اور وہ نمائیندہ جو اربوں پتی ھے ، علیم خان چپ بیٹھے تھے اپنی صفائی دے کر ، لیکن جب پلوشہ خان نے سینٹیر بننے کی بجائے جج بنتے ہوئے فیصلہ صادر کرکے ان پر ذاتی حملہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ گلٹی ہیں (مجرم ہیں ) تو اس بات پر علیم خان بھڑک اٹھے لیکن اس کے بعد پھر خاموش بیٹھے رہے لیکن پلوشہ خان کی زبان قینچی کی طرح چلتی رہی ، جرنیل کے رکھیل رہی ھے اس کی بھی اکڑ اب جرنیلوں والی ھے ، باہر آکر معصوم بن کر کہہ رہی ھے کہ سوال کرنا میرا حق ھے ، او سوال تم نے کردیا اور جواب بھی علیم خان نے دے دیا ، اب جج بن کر تم نے ایک قومی اسمبلی اور معاشرے کے معزز رکن کو مجرم کہہ دیا تو وہ خاموش بیٹھا رہے گا ؟ علیم خان نے آگے سے کہا ھے کہ میں نے تو جواب دے دیا ھے اپنے گریبان میں جھانکو اگر میں نے سوال کیا تو تمہارے پاس جواب ہی نہیں ہوگا ۔۔۔

Aamir Hussain

91,574 views • 9 months ago

اسوقت یہ کلپ وائرل ہے ۔۔ جہاں جہاں فوڈ رائیڈرز کام کرتے ہیں دنیا میں وہ اس کلپ پر اواز اٹھا رہے ہیں ۔۔ اس عورت کا نام ندا خان ہے جو پاکستان میں سب سے زیادہ ریٹنگ لینے والے مارننگ شو کی ہوسٹ ہے ۔ اور اس کے ساتھ باقی ادکارئیں ندا جمیل ندا یاسر بھی موجود ہے ۔۔ اس عورت کی سوچ دیکھیں فرماتی ہیں ڈیلیوری بوائز جو رائیڈر ہوتے ہیں انکو ٹپ نہی دینی چاہیے وہ اپ سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ہمارے پاس چینج نہی ہے ۔ میں تو انکو کہ دیتی ہوں کہ جاو کھلے کرا کے او ۔۔ یا پھر انہیں باہر کھڑارکھتی ہوں تاکہ ان کی دوسری ڈیلیوری لیٹ ہو جاے۔۔ یہ ہے ان امیر زادیوں کی گھٹیا نیچ سوچ لالھوں کے اے سی میں بیٹھ کر لاکھوں کما کر پانچ سے دس روپے جو اس ڈیلیوری والے کو کوی خدا ترس دے بھی دیتا ہے تو ان کو وہ بھی برداشت نہی ۔۔ اک ڈیلیوری کے پیچھے پچاس سو روپے بچتے ہونگے اس حلال کی روزی کیلے وہ بارش ہو دن ہو رات اپ امیر زادیوں کیلے اپنی زندگی رسک میں ڈال کر اتے ہیں ۔۔ مگر اپ لوگ تو سونے کے چمچ منہ میں لیکر پیدا ہوے ۔۔ اپ کو کیا پرواہ اگر اسے ٹپ نہی دے سکتی یہ اپکا زاتی فعل ہے مگر پوری دنیا کو اپکو کیا مسیج دے رہی ہیں ۔۔ کسقدر گھٹیا منفی سوچ ہے ۔۔۔ سنیں پہلے حصے میں ندا یاسر کا کلپ اور دوسرے میں فوڈ رائیڈرز کا جواب

Saleem Speaks

34,179 views • 9 months ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 views • 1 month ago

بلوچ راج! اس ظالم اور جابر ریاست کی سفاکیت اور درندگیاں ہم سب کے سامنے واضع ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کیسے بلاجواز اور بلاتفریق ریاست نے ہمارے لیڈراں کو پابندِ سلاسل کیا ہے۔ یہ نوآبادکار اپنے طاقت کے نشے میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اس کے سامنے جنس، عمر اور پیشہ وغیرہ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے اگر وہ مارتے یا تشدد کرتے وقت کسی بھی چیز کا خیال رکھتا ہے تو وہ بلوچ شناخت ہے اور بلوچ کو مارنے یا بیگواہ کرنے کے لئے یہی شناخت کافی ہے۔ویسے تو کئی سالوں سے ہم یہ قیامت جھیلتے آ رہے ہیں لیکن اس مختصر دورانیے میں ہم نے ریاست کی بدترین شکل دیکھی ہے کہ اُس نے کیسے ہمارے نہتے مظاہریں پر گولیاں برسائی، آنسو گیس چلائے اور واٹر کینن سے پانی برسائے اور جب سے ہمارے توانا آوازیں ہمارے رہنما سلاخوں کے پیچھے ہیں اُس دن سے ریاست پورے بلوچستان میں اس گھمنڈ کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہی ہے کہ پیچھے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم بھی نادانستہ طور پر آہستہ آہستہ ریاست کی سفاکیتوں کے سامنے خاموشی کا رواج اپنا رہے ہیں جو کہ ہمارے لئے باعث موت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قریب ماضی میں جہان بھی کوئی شخص اٹھایا جاتا یا کسی کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا تو اس کے لواحقین فوراً سراپاء احتجاج ہوتے لیکن حالیہ دنوں میں ریاست ہماری خاموشی کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز کسی نہ کسی جگہ سے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا رہی ہے اور مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے لیکن ہم خاموش ہیں کیوں؟ کیا ہم بالاچ مولابخش کی شہادت کو بھول چُکے ہیں کہ جس سے ایک تحریک وجود میں آئی، اس کی بھی بنیادی اکائی شہید بالاچ کے لواحقین تھے کہ جنہون نے خاموشی کا گلا گھونٹ دے کر ہم سب کو ایک آواز ہونے پر مجبور کیا، آج بھی حالت وہی ہیں آج بھی بالاچ مر رہے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں کیا ہم اس خاموشی کو اپنا کر اپنے ہی شہداء کی وارثی سے کترا کر انکا مجرم تو نہیں بن رہے؟ بلوچ راج! ہم بارہا کہتے ہیں کہ بی وائی سی صرف ایک پارٹی نہیں اور نہ ہی اس قیادت تک محدود ہے بی وائی سی پوری قوم ہے وہ قوم جو ریاستی جبر کے سامنے لاشیں اٹھارہی ہے جو اپنے آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو اجھڑتا دیکھ رہی ہے۔ ہر بلوچ جو اس جبر کو دیکھ رہا ہے اور اس کو محسوس کر رہا ہے اُس پر اتنی ہی زمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی کہ بی وائی سی پر ہوتی ہے، تو پھر اس کٹھن حالت میں جہاں ہر طرف موت ہے اور مزاحمت کرکے زندہ رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا کسر موجود ہی نہیں تو یہ خاموشی اور بے حسی کیسی؟ کیا ہم خود کو اور اپنے قوم کو اس چیز سے دھوکے میں نہیں ڈال رہے کہ خاموشی سے ہم بچ سکتے ہیں، لیکن ظالم کا ہمشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے غلام قوم یا زمین پر لوگوں میں تفریق نہیں کرتی۔ تو پھر ہم کیوں اس خوش فہمی میں رہیں؟ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

26,173 views • 1 year ago

فیصل آباد پیٹرولنگ پولیس کمالپور پوسٹ پر تعینات کانسٹیبل دل خرم نامی اینٹیں بنانے والے بھٹہ مالکان سے بھتہ وصول کرنے لگا۔ بھتہ وصول کرتے کی ویڈیو کرائم ٹریسر کو موصول۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے سادہ کپڑوں میں موٹا تازہ کانسٹیبل جوکہ خود کو کمالپور پیٹرولنگ پولیس کا اہلکار ظاہر کرتا ہے اور بھٹہ ملک جو کہ 6 چک ہے کو اپنے ڈی ایس پی کا حکم سناتا ہے کہ ہمیں انسپکشن کے نام پر پیسے دو ورنہ پیٹرولنگ پولیس آپکی ٹرالیاں نہیں گزرنے دے گی جب بھٹہ نے تقاضا کیا کہ اپنے افسر سے میری بات کروا تو موصوف نے کہا اس طرح تو افسر کال پر بات نہیں کرتے چلیں اچھا کریں اپ مجھے ہی پیسے دے دیں جس پر بھٹہ مالک نے 5 ہزار کا نوٹ دیکر اپنے کاروبار چلانے کی راہ ہموار کی ، آر پی او فیصل آباد سے نوٹس کی اپیل ہے پیٹرولنگ پولیس کو ہدایت کریں غریب شہریوں کو جینے دیں نہ کہ سرعام بھتہ وصول کریں مہنگائی کے اس دور میں عوام پہلے ہی بہت پریشان ہے شکریہ

Naseem Khaira

36,145 views • 4 months ago

صابر شاکر نے جنگ کے دنوں میں DGISPR کی اچھی چیخیں نکلوائیں تھیں صابر شاکر نے ویڈیو لگائی کہ پاکستانی فوج نے امرتسر حملہ کر کے ائیرپورٹ تباہ کر دیا اور جالندھر شہر کے پرخچے اڑا دیے DGISPR نے کہا ہم نے جالندھر اور امرتسر پر تو کوئی حملہ ہی نہیں کیا پاکستان نے ابھی تک بھارت پر کوئی میزائیل بھی نہیں پھینکا تھا تو صابر شاکر نے چنائی لکھنؤ سمیت کافی شہر تباہ کر دیے تھے صابر جب سو کر اٹھا تو پاکستان نے بھارت کے شہر آدم پور اور مقبوضہ کشمیر میں ایک چھاؤنی پر میزائل مارا تھا لیکن صابر بھائی جان نے نیند بھی پوری کر لی تھی اور شاید ہائی کیفین والی کافی بھی پی چکے تھے صابر نے کلمہ پڑھ کر DEFCON ویڈیو گیم میں سے ایک کلپ نکالا اور بھارت پر 23000 ہزار ایٹم بم ٹھوک دیے یہ والی ویڈیو آج بھی صابر شاکر کی ایکس ٹائم لائن پر موجود ہے میں نے سوچا چل DG آ ذرا اب اس کا بھی دفاع کر کے دکھا صابر کا غصہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اس نے پاکستان اور بھارت نے جو ایٹمی دھماکے کیے تھے وہ ایٹم بم بھی چلا دیے اور کیپشن لگایا اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا صابر نے بھارت اور پاکستان کے ایٹم بم والی ویڈیو میں چھے ایٹم بم ایک طرف اور پانچ دوسری طرف چلا دیے یعنی پانچ کا منہ پاکستان کی طرف تھا صابر بھائی جان نے آزربئیجان کی عوام کا لندن میں آرمینیا کیساتھ جنگ میں اظہار یکجہتی کی ویڈیو لگا کر کہا پاکستانی لندن میں بھی نکل آۓ حالانکہ تقریباً ہر شخص نے ازربائیجان کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا صابر بھائی نے پھر ایک ہی میزائیل سے نو جہاز تباہ کیے اس میں تھوڑا کام یہ خراب ہوا کہ اس کلپ میں ویڈیو گیم کا نام نیچے آ رہا تھا صابر جب کوئی چھوٹے سے چھوٹا بم بھی چلاتا تھا تو وہ ایٹم بم ہی ہوتا تھا صابر بھائی کا یہ کارنامہ اس لیے یاد آیا کہ آج وہ پھر ایک بہت پرانی ویڈیو لگا کر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سرحد یونیورسٹی کے طالبعلم گرفتار ہوۓ ہیں اور جیل میں نعرے لگا رہے ہیں

Waqar khan

81,008 views • 1 month ago