Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پاکستانی میڈیا سے بیغیرت میڈیا دنیا میں کہیں نہیں ھوگا اور سارا دن مظلوموں کی آواز بننے کی شور مچاتے ہیں اور آزادی رائے کی آوازیں لگاتے ہیں لیکن کسی بیغیرت کے بچے کو آج بلوچستان میں پاکستانی قاتل فوج کی بربریت نظر نہیں آرہی ہے #GwadarIsUnderSiege #BalochNationalGathering

77,467 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

مسٹر پاکستانی profil fotoğrafı
مسٹر پاکستانی2 yıl önce

ایڈٹ شدہ ویڈیو جس میں کہیں بھی یہ واضح نہیں ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جوان کسی عام بندے کو نشانہ بنا رہے ہو۔ یہ مہرنگ اور بی ایل اے کی گھناونی سازش ہے جس میں یہ اپنے ناکام جلسے پر توجہ دلانے کے لیئے یہ سب کچھ کررہے ہیں

Zaeem 🇮🇹 profil fotoğrafı
Zaeem 🇮🇹2 yıl önce

بھائی۔ ایسی صورتحال میں یہ مسکیں بلوچ کیا کرے؟ دِل خون کے آنسو رو رہا۔ نہ جسم پر پراپر لباس نہ پیٹ میں کھانا اور اوپر سے ظُلم بے حساب۔ 😞

Sumaira profil fotoğrafı
Sumaira2 yıl önce

Ye jo shafiq ahmed adv3 sab say pehle to ye khud ko asli or asli baap ka bcah sabit kr day phirl baki baat ho gi ye khud ko ggaddar hay jo asi cheezain dikha kr awam ko aapas me lerwata hay

Ahmad Khan profil fotoğrafı
Ahmad Khan2 yıl önce

پھر بکواس کرتے تکتے نہیں کہ بلوچ باغی کیوں ہوتے جارہے ہیں ۔ آئی جی ایف سی بلوچستان کو کس نے اختیار دیا کہ پرامن مارچ کے شرکاء پر گولیاں چلاو،

A.D profil fotoğrafı
A.D2 yıl önce

ناپاک پنجابی میڈیا کو بس عمران کا کا رنڈی رونا کرنا ہوت ہے پورا دن

Ihsanullah khan profil fotoğrafı
Ihsanullah khan2 yıl önce

ان ملک دشمن اور غداروں کے ساتھ یہی ہونا چاہئے

Advocate Mazhar Mari profil fotoğrafı
Advocate Mazhar Mari2 yıl önce

لانت بیشمار حکومتی دھشتگردی نا منظور

Umar jan profil fotoğrafı
Umar jan2 yıl önce

یہ جرنل کرنل دہشت گرد یہ وردی والے دہشت گرد یہ ڈالر خو دہشت گرد

Benzer Videolar

پاکستانی فوج کے کاروبار کی مالیت 200 ارب ڈالر ہے، قومی بجٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیتی ہے، لیکن اپنے سپاہیوں کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کرتی۔ جی ایچ کیو میں بیٹھے جرنیل براہِ راست اس روزانہ کی سپاہیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ دو دن پہلے بلوچستان میں بی ایل اے نے ایک کیپٹن اور چار فوجیوں کو اسی طرح ہلاک کیا۔ میں یہ کئی بار کہہ چکی ہوں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پاکستانی سپاہی اور نوجوان افسر روزانہ کی بنیاد پر بے بسی سے مارے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی تربیت۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جنگی علاقے بن چکے ہیں، اور فوجیوں کو صرف بارودی سرنگوں سے محفوظ گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں میں گشت کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے وہ ٹویوٹا ہائی لکس میں استعمال کرتے ہیں، جو کہ ایک اسپورٹس پک اپ ہے اور تفریح کے لیے بنی ہے، جو دراصل پہیوں پر چلنے والے تابوت ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فوجی جوانوں کی حفاظت پر جتنے پیسے خرچ نہیں ہوتے، اس سے کہیں زیادہ گالف کورسز کی گھاس پر پانی دینے پر لگا دیے جاتے ہیں۔

Pakistan Walli

191,555 görüntüleme • 11 ay önce