Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پنجاب بھر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوا اور کسی کا لحاظ نہی کیا گیا سوات میں ہلاکتوں کے بعد آپریشن شروع ہوا مگر با اثر لوگوں کی تجاوزات کو ٹچ نہی کیا گیا اور مشنری واپس چلی گئ یہ ہے صاف چلی شفاف چلی پی ٹئ آئئ کی...

13,473 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

Bashir Ahmad profil fotoğrafı
Bashir Ahmad1 yıl önce

با اثر افراد میں امیر مقام اور غلام علی ہے

سمیع خان profil fotoğrafı
سمیع خان1 yıl önce

بااثر لوگوں میں سرفہرست ن لیگ کا امیر مقام شامل ہے۔

Mrs.Mohsin profil fotoğrafı
Mrs.Mohsin1 yıl önce

جس نے احتجاج کیا سب سے پہلے اس کا ہوٹل گرایا

ASad abbasi profil fotoğrafı
ASad abbasi1 yıl önce

شہَزاد بھائی مری شہر میں بھی یکساں نہیں ہوا ہے آپریشن ایلیٹ کلاس اشرافیہ مافیا سب کو چھوڑا دیا گیا جو کہ سب سے زیادہ غیر قانونی قابض ہیں جن کے پاس نہ ہی این او سی ہے ہے تو جعلی ہے نہ نقشہ نہ کحچھ غریب عوام کا نقصان کیا گیا ہے قانونی ہونے کے باوجود

Malik Asghar Advocate profil fotoğrafı
Malik Asghar Advocate1 yıl önce

پنجاب میں صرف فرضی کاروائی ہوئی وہ بھی چند دن سب جوں کا توں ہے ن لیگی ٹاوٹ

Malik Muhammad Ikram Afzal profil fotoğrafı
Malik Muhammad Ikram Afzal1 yıl önce

Ye tjawzaat kiski naak k nichay hui kia uska zimedar bhi koi hoga? Pakistan mn pehle hi rozgar nahi hai lekin jahil hakumto k kam mehaz logo ko berozgar krna hai. Kisi ne un logo ka dukh smjhne ki koshish ki jo berozgar hue? Hakumat ne koi alternative unko dia?

Sikandar Afridi profil fotoğrafı
Sikandar Afridi1 yıl önce

وہ اک تمہارے ابو امیر مقام کا ہے ، دوسرا تمہارے ابو کے دوست مال لانا کے گورنر غلام علی کی ، اور پریشر تمہارے بڑے ابو نے ہی کیا.

Shah Raza profil fotoğrafı
Shah Raza1 yıl önce

تاریک انصاف کا میرٹ پختونخوا پر تاریک انصاف کو مسلط کر کے تباہ کر دیا گیا ہے

Benzer Videolar

ڈان اخبار کی آج کی ایک خبر کے مطابق اسلام آباد کلب کا سرکار کی 51 کنال اراضی پر قبضہ ہے۔ کلب نے پارکنگ کے لیے بھی سی ڈے اے کی زمین اور مری روڈ کے رائٹ آف وے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر کلب 54 کنال زمین پر تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایک اور ایلیٹ کلب گن اینڈ کنٹری کلب لیز کے بغیر سرکار کی 256 کنال زمین پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف حالیہ دنوں میں وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں پہلے مسلم کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ مسلم کالونی جس میں آباد لوگوں کے آباؤ اجداد نے اپنے ہاتھوں سے دارالحکومت اسلام آباد تعمیر کیا۔ اس کے بعد ایچ نائن میں رمشا کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا جسے 2012 میں یہاں آباد کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رمشا کالونی کو اس وقت کی حکومت نے خود ہی ایچ نائن میں خالی جگہ پر آباد کیا تھا۔ اب سی ڈی اے نے بری امام کے ساتھ ملحقہ نور پور شاہاں میں دہائیوں سے آباد مقامی افراد کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔ اگر یہ سب کچی آبادیاں اور اس کے مکین “غیرقانونی” ہیں تو پھر اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جب تک سی ڈی اے اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے 54 کنال واگزار نہیں کرواتا، اس کے کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن کا بھی کوئی جواز نہیں۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اشرافیہ کے کلبس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے سی ڈی اے کے پر جلتے ہیں۔

Ghazi Amir Gujjar

28,889 görüntüleme • 5 ay önce