Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

پنجاب میں کاٹن کی پیداوار سمیت کاٹن کی کاشت کا ایریا بھی کم ہوگیا یہ خود حکومتی ادارہ کہہ رہا ۔ پھر لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ گندم گزشتہ سال 2 ہزار روپے فی من فروخت ہوئی جبکہ کسان کے فی من 28سو روپے خرچ ہوئے یعنی کسان کا...

27,681 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میں آج پنجا ب اسمبلی کے باہرحکو مت پاکستان کی گندم خریداری پالیسی کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والےکسانوں کی گرفتاریوں اوران پرتشدد کی شدید مذمت کرتاہوں۔ کسان حکومت سے کوئی بھیک یا خیرات نہیں بلکہ اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن انہیں ان کا حق دینے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرتشدد کیاجارہا ہے، انہیں گرفتارکیا جارہا ہے۔ پنجاب اورسندھ کے کسان لاکھوں ٹن گندم لئے حکومت سے فریادیں کررہے ہیں کہ ان کی گندم خریدی جائے لیکن حکومت کی جانب سے مسلسل انکارکیا جارہا ہے اور کسانوں کوجواب دیاجارہا ہے کہ سرکار کے پاس گندم کے بہت ذخائر موجود ہیں لہٰذا حکومت گندم نہیں خریدسکتی۔ جبکہ حقائق یہ سامنے آرہے ہیں کہ گزشتہ سال پنجاب میں 46لاکھ ٹن گندم موجودتھی اس کے باوجود حکمراں اشرافیہ نے گزشتہ سال22 اکتوبر 2023ء کویوکرین سے 34لاکھ ٹن گندم درآمد کرلی۔ اس حکمراں مافیا نے 3100 روپے کے حساب سے یوکرین سے گندم خرید کرپنجاب میں 4300 روپے کے حساب سے فروخت کی۔ اس طرح اس حکمراں مافیانے ایک اندازے کے مطابق 85 ارب روپے کامنافع کمایا۔ یہ حکمراں مافیا اپنی بے قاعدگیوں کے ذریعے قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹ رہی ہے جبکہ چھوٹے کسانوں سے ان کی گندم نہیں خریدی جارہی ہے، اس طرح کسانوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے ۔حکومت کی گندم خریداری پالیسی کی وجہ سے چھوٹے کسان سڑکوں پر گندم لئے اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں ۔یہ سراسرظلم ہے کہ آج اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے باہرپرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کوپولیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورانہیں گرفتارکیاگیا۔ میں اس ظلم کی شدید مذمت کرتاہوں اورحکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ کسانوں پر یہ ظلم بند کرے،گرفتارکئے گئے کسانوں کوفی الفور رہا کیا جائے، حکومت گندم خریداری پالیسی پر فی الفورنظرثانی کرے۔ خدارا اس بات کا احساس کیا جائے کہ کسانوں کی گندم کھلے آسمان تلے پڑی ہے اور بارشیں بھی شروع ہوچکی ہیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ کسانوں کی ہزاروں ٹن گندم بارشوں کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائے اور کسان مکمل طور پر تباہ ہوجائیں، کسانوں سے ان کی گندم مناسب نرخوں پر خریدی جائے اورکسانوں کی حق تلفی بند کی جائے

Altaf Hussain

11,594 Aufrufe • vor 2 Jahren

"جب سے قیامت خیز مہنگائی کا طوفان آیا ہے۔ میں نے آپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جونہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گریں گی، میں ان شاء اللہ وہ فائدہ فوراً آپ تک پہنچاؤں گا۔ گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے اور اس مرحلے پر اپنے محنتی کسان کے لیے لاگت کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ نا صرف کسان کی محنت ضائع ہو جائے گی بلکہ عام شہری کے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ لہٰذا میں ڈیزل کی قیمت میں فوری طور پر 135 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتا ہوں۔ ڈیزل کی قیمت جو اس وقت 520 روپے فی لیٹر ہے، وہ کم ہو کر 380 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، اور آپ کو ڈیزل اسی نئی قیمت پر دستیاب ہوگا۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت، جس میں میں نے پچھلے ہفتے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، اس میں آج مزید 12 روپے کمی کا اعلان کر رہا ہوں، اور اس طرح پٹرول کی قیمت آج رات 12 بجے 378 روپے سے کم ہو کر 366 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے جمعہ کو میں نے چاروں صوبوں کی عوام ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کے لیے صوبائی حکومتوں کے مشورے اور ان کے بھرپور تعاون سے جو ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا تھا، وہ سبسڈی بدستور آپ کے لیے جاری و ساری رہے گی۔" ~وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب

Government of Pakistan

14,941 Aufrufe • vor 4 Monaten