Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پولیس پر ہوسکتا ہے کہ غلط الزام بھی لگ رہے ہوں، لیکن جب دنیا میڈیا پر دیکھے کہ عوام کی گاڑیاں سڑکوں پر پولیس توڑے رہی ہے، پھر سوال تو کھڑے ہونگے۔ لاہور میں نو مئی کے قابل مذمت واقعے کو روکنے میں بھی پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی...

55,447 views • 3 years ago •via X (Twitter)

9 Comments

haider ali's profile picture
haider ali3 years ago

سر عمران ریاض کے بعد جس نے حق کی بات کی ھے اور بہت ہی مہذب انداز میں اور دلائل کے ساتھ وہ آپ ہیں۔

Snia khan's profile picture
Snia khan3 years ago

Well said sir...

Counter Argument🙂's profile picture
Counter Argument🙂3 years ago

جب آپکی دال کسی اور چینل پر نہی گلی تو آپ نے یہ چوز کیا🤣🤣

huzzay naeem's profile picture
huzzay naeem3 years ago

Sir rokaaa he nai tha ksi ny. Ku k rokna plan ka hisa nai tha. Jb rana sana k ghr security majood hoskti h toh cor commndr ghq py ku ni? Sab k sab dramay baz. Jhothy munafiq. Kbi sakoon naseeb ni hoga inko IA.

Silver Rose's profile picture
Silver Rose3 years ago

#ReleaseImranRiazKhan

People Feelings's profile picture
People Feelings3 years ago

سوال; انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس کا دفاع کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ بعد میں قومی ترانے, ملی نغمے اور میڈیا مہم چلا کر سیاسی جماعت کو بدنام کیا جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ رینجرز فوج نے عمران خان کو مارا اور اغوا کیا اس لیے عمران کے حامیوں نے فوج کے خلاف احتجاج کیا۔

Muhammad Hamza Malik's profile picture
Muhammad Hamza Malik3 years ago

One sided drama with no progress...

Maria Bangash's profile picture
Maria Bangash3 years ago

Exactly

I m Muslim's profile picture
I m Muslim3 years ago

سنا ہے کہ افسران کو ایک ایک لاکھ انعام دیا ہے نقد

Related Videos

خزینہ بانڈہ حملے کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر، پولیس کی استعداد کار اور سیکیورٹی تیاریوں پر سوالات ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ اور بیک اپ پارٹی پر ہونے والے حملے سے منسوب ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں جدید ڈرونز، جدید اسلحہ اور حملہ آوروں کی مربوط جنگی حکمتِ عملی کا استعمال دیکھایا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکار محدود وسائل میں غیر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، جدید حفاظتی آلات اور ضروری جنگی سازوسامان کیوں میسر نہیں آ سکے۔ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر حملے کے دوران اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی رہائی کا منظر دکھایا گیا ۔ اس ویڈیو کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ دفاعی و سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس بنیادی طور پر سماجی جرائم کو کنٹرول اور معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سوشل فورس ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت سے لیس شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی فوجی تربیت، جدید سازوسامان اور مؤثر انٹیلی جنس اور فضائی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس کو درپیش خطرات کی نوعیت کے مطابق اگر وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر بھی دی جائے تو بھی پولیس فورس ایسے حملوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت نہیں پا سکتی۔ حالیہ ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آیا خیبرپختونخوا پولیس موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہے ؟ یا پھر خیبر پختون خوا پولیس مکمل انہدام کی طرف بڑھ رہی ہے ؟؟؟

Aslam Awan

18,570 views • 27 days ago

"عالیہ حمزہ اور دیگر لوگوں کے خلاف ایک اور نیا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس میں یہ الزام ہے کہ جب مویشی منڈی والے جلسے میں حماد اظہر صاحب سٹیج پر موجود تھے، تو پولیس اہلکار حماد اظہر کو پکڑنے کے لیے وہاں پہنچا تو عالیہ حمزہ اور لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے مل کر حماد اظہر کو چھڑوا کر فرار کرا دیا۔ اس دھکم پیل میں اس پولیس اہلکار کی وردی بھی پھٹ گئی اور اس پر حملہ بھی کیا گیا۔ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ ایک شرمناک ایف آئی آر ہے۔ یہ باتیں پولیس کی کریڈیبلیٹی پر سوال اٹھاتی ہیں۔ پولیس کا کیا حال ہو چکا ہے۔ ان میں ضمیر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ یہ لوگ انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔ ان کے جرائم کا حال اتنا بُرا ہے کہ انہیں یونیفارم پہنے غنڈے کہنا بھی کم ہے۔ یہ لوگ ہمارے پیسوں پر تنخواہیں لیتے ہیں اور ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ یہ پولیس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ قانون سے بھی گزر چکے ہیں۔" Samina Pasha #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ #UndeclaredMartialLaw

PTI

17,076 views • 1 year ago

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 views • 5 months ago