正在加载视频...

视频加载失败

پھر گھر والے کہتے ہیں چنگا بھلا گھروں نکلیا سی پتہ نئی کِدی نظر لگ گئی 🤦

148,422 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

کولیٹرل ڈیمیجز پر سیاست چمکانے اور چند فالوورز بڑھانے والے حضرات سے ایک سادہ سی گزارش ہے👇 کیا آپ نے کبھی ان درندوں کے خلاف آواز اٹھائی جو آپریشن کے وقت شہریوں کے گھروں اور مساجد کو ڈھال بنا لیتے ہیں؟ فوج کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس گھر میں کون چھپا ہے، کس کمرے میں کون بیٹھا ہے۔ لیکن جب کوئی خبیث مسجد یا گھر کو آڑ بنا لے تو پاک فوج کسی بھی کارروائی سے پہلے سو بار نہیں، سینکڑوں بار سوچتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایک بھی بے گناہ شہری کی جان خطرے میں آ جائے تو فوج جانتے بوجھتے ہوئے ان حیوانوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں: “طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟” اس کا جواب سیدھا ہے: جس دن یہ خوارج عوامی گھروں اور اجتماعات کو ڈھال بنانا چھوڑ دیں گے، اسی دن سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نہیں، سینکڑوں خوارج جہنم واصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں کے بیچوں بیچ چھپ کر آسانی سے فائر کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی آمنے سامنے کا وقت آتا ہے تو یہ دہشتگرد “شیر” سے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور زندگی کی بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ 📍نیچے دیا گیا کلپ تیرا میدان (ضلع خیبر) کا ہے، جہاں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائی کے وقت یہی خوارج شہری گھروں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یہ ہے ان کی اصل حالت ؛ بزدل اور دھوکے باز۔

War Analyst

28,217 次观看 • 11 个月前

میں ایک the physio college multan کا سٹوڈنٹ ہوں دن کو پڑھائی پڑھائی سے فارغ ہوکر میڈیکل سٹور پر جاب کرتا ہوں میں نے ایک روپیہ جوڑ کر یہ بائیک لی تھی جو کہ کالج کے باہر سے چوری ہوگئی ایف آئی آر کے بعد سی پی او ملتان جناب صادق علی ڈوگر صاحب کے پاس پیش ہوچکا ہوں انہوں نے متعلقہ ایس ایچ او سے پوچھا کب تک اس بچے کو ریکوری دے دینگے انہوں نے بدھ کا کہا سی پی او صاحب نے مجھے کہا آپ بدھ والے دن جاکر اپنی ریکوری لے لینا لیکن کئی دن گزرنے کے بعد بھی مجھے ریکوری نہیں ملی پتہ نہیں کتنے چکر لگا چکا ہوں ایس ایچ او صاحب ہر دفعہ کہتے ہیں ایف آئی آر کی کاپی دے جائو میں کال کرتا ہوں پھر کچھ دن بعد جاتا ہوں صاحب بھول چکے ہوتے ہیں پھر ایف آئی آر کی کاپی کا مطالبہ کیا جاتا ہے کافی دنوں سے یہی ہورہا ہے پلیز میں پنجاب کی ماں محسن پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور آرپی او ملتان سی پی او ملتان سے اپیل کرتا ہوں میری بائیک ریکور کرائی جائے مجھے کالج آنے جانے میں شدید دشواری ہے ایک ایک روپیہ جوڑ کر میں نے یہ بائیک لی تھی +92 327 0314597 سعد اللہ گوندل Maryam Nawaz Sharif Saima Farooq 🇵🇰 Chief Minister’s Complaint Cell RPO Multan Official CPO Multan Punjab Police Official صحرانورد Amir H. Qureshi

Zaza

21,755 次观看 • 24 天前

اس وقت پوری پاکستان تحریک انصاف کا صدر سینٹرل پنجاب Mohammed Ahmed Chattha کے ساتھ ہونے والے جبر پر آواز اُٹھانا فرض ہے۔ ان کے لاہور میں واقعہ گھر میں ۷ فروری کو پولیس اور سول بدمعاش داخل ہوئے، ان کی ۱۱ سالہ بیٹی کا دروازہ بندوق کی بٹ سے تباہ کیا، ان کی بھتیجی اور اہلیہ کے کمروں میں زبردستی داخل ہوئے، اور کہا ابھی ہم بدتمیزی نہیں کر رہے، آپ کو پتہ نہیں ہماری بدتمیزی کیا ہوتی ہے۔ اُس کے بعد جس گاؤں میں ریلی نکالی گئی، وہاں اب تک ۲۰ سے زائد گھر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ایک بزرگ خاتون کے سامنے اُس کے پوتوں پر تشدد کیا گیا، جو اُس کے بعد ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئیں۔ Hamid Mir حامد میر اُس بستی کا چکر لگائیں اور یہ باتیں کنفرم کریں۔ اور اپنی آواز بلند کریں۔ یہ کس قسم کے جانور ہیں، یہ کیسی ریاست ہے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کے ایسے عمل کرنے والوں کو انشاءاللہ اللّٰہ کی ذات اس دنیا میں اور آخرت میں عبرت کا نشان بنائے گی۔

Usama Mela

97,605 次观看 • 1 年前

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Saeed Ullah Khan

67,924 次观看 • 1 个月前

کراچی میں پیش آنے والے دو افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا دونوں واقعات میں دو خواتین اپنی ہی زندگی کے ساتھیوں کے ہاتھوں قت_ل ہو گئیں، جو نہایت دردناک اور قابلِ مذمت ہے پہلے واقعے میں تین روز قبل سرجانی ٹاؤن کی رہائشی مصباح کو مبینہ طور پر اس کے شوہر شہریار نے والدین سے نئی موٹر سائیکل لانے کا مطالبہ کیا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سلمان نے اسے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا ، جس کے باعث وہ دورانِ علاج اسپتال میں دم توڑ گئی آج دوسرے واقعے میں بھی سرجانی ہی میں ایک 22 سالہ مصباح کو اس کے شوہر سلمان نے گھریلو ناچاقی پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ والدین کے گھر، بہن بھائیوں کے سامنے گولیاں مار کر قت_ل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا وڈیو ملزم سلمان کی ہے جب وہ فرار ہو رہا تھا ایسے سانحات صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو زخمی کر دیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ گھریلو تشدد، جہیز اور لالچ جیسے ناسوروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ والدین بھی رشتہ طے کرتے وقت کردار، اخلاق اور مزاج کو اولین ترجیح دیں، کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، محبت اور رونق ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت و احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے #Karachi #BudgetForPakistan

Samar Abbas

29,392 次观看 • 2 个月前

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 次观看 • 6 个月前

یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔

منصور مصطفیٰ

63,519 次观看 • 8 个月前