Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پہلے الپ اُٹھایا پھر جوتی کا ناپ دیا پھر پچاس گاڑیوں کے ساتھ پنجاب آ کر دربدر ٹھوکریں کھا کر واپس گیا پھر تین تین جلسوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے اور اب تصویریں بنوا کر چاپلوسی کروا رہا ہے یہ حرکتیں کوئی اور کرتا تو راتب خوروں نے...

51,645 views • 11 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

یہ کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے۔ جب ہم بنی گالا شفٹ ہوئے تو ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک کھلا احاطہ ہے، جس کے اندر چار پانچ زیر تعمیر بنگلے ہیں۔ کئی سال سے یہ بنگلے جہاں تھے، وہیں رکے ہوئے ہیں۔ ان کی ایک لمبی چوڑی چھت تھی جہاں کبھی جانور، پرندے اور بلیاں آ کر وقت گزارتے تھے۔ ایک دن اسی چھت پر ہمیں ایک کتا نظر آیا۔ وہ زخمی نہیں بلکہ بیمار تھا اور خارش کی بیماری میں مبتلا تھا۔ اس کے گلے میں پٹا تھا، جس سے لگتا تھا کہ کبھی کسی کا پالتو کتا رہا ہوگا، مگر بیماری کی وجہ سے شاید اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اسے کھانا دینے والا کوئی نہیں۔ ہمارا گھر گلی کے دوسری طرف تھا، اس لیے ہم نے چھت پر کھانا پھینکنا شروع کر دیا۔ کبھی شاپر میں روٹی باندھ کر اس کی طرف پھینکتے۔ وہ خود شاپر کھول لیتا اور روٹی کھا جاتا۔ اگر روٹی نیچے گر جاتی تو سیڑھیوں سے اتر کر اسے اٹھاتا اور واپس اوپر لے جاتا۔ کئی مہینے وہ اسی چھت پر رہا۔ پھر ایک دن شاید کوئی جانور یا بچے اس کے پیچھے لگے تو وہ دیوار پھلانگ کر ہمارے دروازے تک آ گیا۔ اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ وہ دن اور کل کا دن، تقریباً ساڑھے چار سال تک، ہمارے دروازے پر رہا۔ آہستہ آہستہ اس کی صحت بہتر ہوئی اور اس نے ہمارے گھر کے تمام افراد کو پہچاننا شروع کر دیا۔ گھر کا کوئی فرد باہر نکلتا تو وہ اس کے ساتھ گلی کے ایک خاص موڑ تک جاتا اور پھر خود ہی واپس آ جاتا۔ رفتہ رفتہ ہمیں محسوس ہونے لگا کہ وہ ہماری زبان بھی سمجھتا ہے۔ کہتے، 'بیٹھ جاؤ' تو بیٹھ جاتا، 'پیچھے ہٹو' تو پیچھے ہٹ جاتا۔ کبھی کوئی دوسرا جانور ہمیں ناپسند ہوتا تو صرف اشارے سے سمجھ جاتا اور اسے بھگا دیتا۔ رات کے دو بجے بھی اگر میں یا میرے دوست زبیر علی خان گاڑی پر گھر آتے تو وہ گاڑی کی لائٹ پہچان لیتا اور گاڑی کے آگے آگے کودتا، ڈانس کرتا اور اپنی خوشی کا اظہار کرتا۔ اگر میں پیدل آتا تو وہ دروازے کے سامنے لیٹ کر میرا راستہ روک لیتا، جیسے پہلے مجھ سے کھیلنا چاہتا ہو۔ کئی بار میں اس کے اوپر سے گزر کر گھر میں داخل ہوتا، اور مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند تھی۔ کبھی وہ اپنی اگلی ٹانگیں آگے پھیلا کر سر جھکا لیتا، جیسے ہمارا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ گھر کے بچے چاہتے تھے کہ اسے اندر لے آئیں، لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔ تقریباً ڈیڑھ دو سال پہلے میں نے سوچا کہ اسے کسی بہتر جگہ پر ہونا چاہیے۔ میں نے اس کی ایک ویڈیو بنائی اور فیس بک اور ایکس پر پوسٹ کر دی۔ لوگوں نے بہت محبت کا اظہار کیا اور ایک فیملی نے اسے گود لے لیا۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئے، اس کی ویکسینیشن کروائی، اسے نہلایا دھلایا، مگر چار دن بعد معلوم ہوا کہ گھر کے تمام افراد دن بھر باہر رہتے ہیں اور وہ سارا دن اکیلا رہ کر پریشان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نے آٹے والی روٹی سے بھی منع کیا تھا اور صرف گوشت اس کی خوراک بنانا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ یوں وہ دوبارہ ہمارے دروازے پر آ گیا۔ اس وقت تک وہ صرف ہمارا نہیں، پورے محلے کا کتا بن چکا تھا۔ کوئی اسے گوشت ڈالتا، کوئی ہڈی، کوئی چاول اور کوئی روٹی۔ وہ سب سے اپنا حصہ وصول کرتا اور پھر ہماری گاڑی کے نیچے جا کر لیٹ جاتا۔ سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آتی یا گاڑی ان لاک ہونے کی آواز سنائی دیتی تو وہ فوراً باہر آ جاتا۔ وہ ہمارا رکھوالا، دوست اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ ایک دوسرے کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔ میرے بیٹے محمد اذان مظفر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا علاج کیا اور کافی حد تک وہ ٹھیک بھی ہو گیا۔ ہمیں لگا کہ وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے گا۔ لیکن پھر ایک دن ہماری گلی میں ایک بڑے گھر کے تین بہت بڑے کتے اپنے ملازم کے ساتھ سیر کے لیے نکلے اور اچانک انہوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا۔ اس وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ میری بیٹی نے مجھے فون کیا۔ وہ اتنا رو رہی تھی کہ میری جان نکل گئی۔ اس نے کہا: 'بابا! ان بڑے کتوں نے ہمارے کتے پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ اسے مار رہے ہیں۔' گھر کے بچے اور بڑے سب رو رہے تھے۔ گلی کے لوگ بھی باہر نکل آئے اور اسے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں شہر سے باہر تھا، اس لیے فوراً نہیں پہنچ سکا۔ محلے کے لوگوں سے کہا کہ کسی شیلٹر یا ریسکیو والے سے رابطہ کریں، لیکن اس وقت اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ واپس آ کر میں نے اس کے زخم دیکھے تو اندازہ ہوا کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ میں نے اپنی دوست آسیہ انصر سے رابطہ کیا۔ ان کی بیٹی کی کوشش سے ایک شیلٹر ہوم کا بندوبست ہوا اور وہ لوگ اسے ریسکیو کر کے لے گئے۔ اپنی تابعدار عادت کے باعث ریسکیو کے وقت بھی اس نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا بلکہ پنجرے کے اندر بھی میرے کہنے پر بیٹھ گیا اور چلا گیا۔ ہمیں تسلی ہوئی کہ اب کم از کم اس کا علاج ہو سکے گا۔

Bashir Chaudhary

15,284 views • 1 day ago

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 views • 1 month ago