Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

چائنا ہم سے بعد میں ازاد ہوا اور ہم سے سو سال اگے نکل گیا ہے اور ہم ابھی تک اس ٹیکنالوجی تک نہیں پہنچ سکے یہ ہمارے پاکستانیوں کے لیے اور پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے

38,971 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا جس سے فوج کو مارشل لا لگانے کے مواقع ملے۔ قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ سال بعد سن 1958 میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور دس سال تک وہ حکمران رہے،یہ ملک نظریاتی،سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریاؤں کو ہم نے ہندوستان کے حوالے کردیا، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں،یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ بظاہر تو کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ناکام ہوگئے، یہ تو کرپشن کرتے ہیں، لیکن جب سن 1958 میں مارشل لا لگیا گیا اور ٹھیک مارشل لا کے دو سال بعد پاکستان کے تین دریاؤں کو ہندوستان کو ہاتھ بیچا گیا اور آج بھی عالمی بینک کی ثالثی کے ہوتے ہوئے آپ وہ معاہدہ پڑھیں کہ اس میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے ہیں، ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے ہیں۔ یہی کچھ سن 1949 کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ لیے گئے۔ یہ بھی ڈکٹیٹر ہی کر سکتا ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، بنگال ہم سے الگ ہو گیا۔ مغربی پاکستان اور بنگال کے بیچ میں سوائے اسلام کے ہمارے درمیان کوئی قدرِ مشترک نہ تھی۔ ان کی تہذیب مختلف، ہماری تہذیب مختلف، ان کا بودوباش مختلف، ہمارا بودوباش مختلف، ہمارے طور طریقے اور ان کے طور طریقےاور۔ اور اگر کوئی چیز قدرِ مشترک تھی ان کے اور ہمارے درمیان تو اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی، اور جب اسلام کو راستہ نہیں دیا گیا تو پھر اس ملک کے دو حصوں کو یک جان نہیں رکھا جا سکا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

19,836 views • 21 days ago

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 views • 7 months ago

الحمدللہ، 2017 اور 2018 میں میاں نواز شریف صاحب کی جماعت میں جب مجھے ایک سال کے لیے وزیر رکھا گیا، تو میں نے اپنی وزارت کے دوران نیٹ میٹرنگ کا میکانزم کابینہ سے منظور کروایا اور اس ریولوشن کا آغاز کیا۔ کلین انرجی کے حوالے سے ہماری انٹرنیشنل کمیٹمنٹس بھی ہیں۔ ہم نے بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے وعدہ کیا کہ 2030 تک بجلی پیداوار کا 60 فیصد حصہ کلین انرجی ہوگا۔ اس سال 2024–25 کے اندر ہم پہلے ہی 55 فیصد کلین انرجی حاصل کر چکے ہیں، اور 2034–35 تک یہ 90 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ کلین انرجی سولر، ونڈ، ہائیڈل اور نیوکلیئر توانائی کی شکل میں ہوگی۔ ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کلین انرجی ریولوشن کے اس پورے خطے میں لیڈر ہے۔ حالانکہ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے، بیرونی انڈسٹریل ممالک کی غلطیوں کے باعث ہمارے ہاں فلڈز آتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان ایک ذمہ دار اور ایڈوانسڈ ملک کی طرح عمل کر رہا ہے۔ جیسا کہ سینیٹر صاحب نے کہا، کلین انرجی والے ملک زیادہ ایڈوانسڈ سمجھے جاتے ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ پاکستان اس معاملے میں بھی ایڈوانسڈ اور کلین انرجی والا ملک ہے۔

Awais Leghari

11,595 views • 7 months ago