Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

چوہدری پرویز الٰہی کے سیاسی گھر میں مریم نواز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ۔۔۔۔ گاکھڑا کلاں گجرات میں بلال بھائی ، تصور بھائی اور ان کے بزرگوں سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے بتایا کہ یہ وہ گاؤں ہے جس سے چوہدری پرویز الٰہی کبھی نہیں ہارے لیکن اگلے...

198,673 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

مریم نواز کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم کی رسید کے معاملے پر 17ستمبر اور 18 ستمبر کی بحث ہو رہی ہے، جبکہ اصل سوال کچھ اور ہیں : مثلا یہ کہ اس پرائیویٹ ٹرپ کے عوض مریم نواز کے ذمہ جو رقم واجب الادا ہوئی، اس کا تعین کس نے کیا؟ کسی ادارے نے؟ کسی آفس نے؟ مریم نواز کی ٹیم نے؟ یا کسی اور نے؟ جس نے بھی کیا اس کے ڈاکیومنٹس کہاں ہیں؟ اس میں شفافیت کو کیسے یقینی بنایا گیا؟ کیا مریم نواز جہاز کو پرائیویٹلی استعمال میں لانے سے پہلے کسی سے اجازت لینے کی پابند ہیں؟ کیوںکہ خود ان کے بقول یہ جہاز مریم نواز کا نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے؟ تو پنجاب حکومت کو کونسا ادارہ انہیں اس جہاز کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت دیتا ہے؟ تیسرا، تقریبا پونے تین کروڑ روپے کی جو رقم نیشنل بنک کے اکاونٹ میں جمع کرائی گئی وہ کس کے اکاونٹ سے جمع ہوئی؟ چونکہ رسید کے ساتھ کسی چیک کی تصویر نہیں جاری کی گئی تو اس سے اندازہ نہیں ہو رہا رقم جمع کرانے والا اکاونٹ مریم نواز کا اپنا تھا یا کسی اور کا۔ بہتر ہے ان سوالوں کے جواب بھی مریم نواز یوٹیوبر یا اینکر سمجھ کر نہ دیں ، ہمیں عوام سمجھ کر ان سوالوں کے جواب دے دیں۔

Asad Ullah Khan

10,498 görüntüleme • 21 gün önce

شاید مقدمہ درج ہوا نہیں کروایا گیا ہے: عمران شفقت صاحب کا اہم نقطہ شریف خاندان کی پنجاب اور وفاق میں حکومت ہو، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ہوں اور پاکستان نے سفارتی سطح کے اوپر بڑی کامیابیاں سمیٹی ہوں، ایسے وقت میں اُن کے نواسے کے خلاف مقدمہ درج ہو جانا اس کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ درج ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم اس لیے ہیں کہ وہ نواز شریف صاحب کے سمدی ہیں، اور وہ نواز شریف صاحب کے سمدی اس لیے ہیں کہ نواز شریف کے بچپن کے دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں لیکن اُن کے ساتھ اسحاق ڈار کا ہونا نواز شریف کا آدمی ہونا قرار دیا جاتا ہے، اور پھر پنجاب میں علی ڈار مریم نواز کے مشیر ہیں، کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز نے اگلے وزیراعلی پنجاب کے لیے علی ڈار کو ذہن میں رکھا ہوا ہے تاکہ حمزہ شہباز کا راستہ روک سکیں:

Zeshan Noor

34,817 görüntüleme • 3 ay önce

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ایک 13 سیکنڈ کی شارٹ ویڈیو سوشل میڈیا پر غلط تشریح کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی چھوٹی بیٹی نے 13 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کی۔ اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے ہم نے سپریم کورٹ میں قیدیوں سے متعلق ریفارمز کانفرنس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تقریباً 15 منٹ کی مکمل تقریر لفظ بہ لفظ سنی۔ تقریر میں انہوں نے دراصل کہا جن الفاظ کی ہو بہو تشریح اس طرح تھی: جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود کسی قیدی کے لیے اپنے پیاروں سے ملاقات محض ایک ملاقات نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے کہ ان دیواروں کے باہر زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ “میری چھوٹی بیٹی، جس نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی، وہ 13 سال کی تھی جب جیل میں مجھ سے ملنے آتی تھی اور روتے ہوئے واپس جاتی تھی۔” واضح ہے کہ 13 سال کی عمر کا تعلق بیٹی کے جیل میں ملاقات کے زمانے سے ہے، نہ کہ گریجویشن مکمل کرنے سے۔ مریم نواز شریف یہ واقعہ قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش مشکلات اور قیدیوں کے حقوق کے تناظر میں بیان کر رہی تھیں۔ لیکن ان کی بات کا ایک مختصر حصہ سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کا مطلب بدل دیا گیا اور پھر اسے پروپیگنڈے کے طور پر پھیلایا گیا۔ نتیجتاً، یہ دعویٰ کہ مریم نواز نے اپنی بیٹی کی 13 سال کی عمر میں گریجویشن کا دعویٰ کیا، جھوٹ، گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

Expose Propaganda

16,267 görüntüleme • 3 ay önce

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

138,311 görüntüleme • 1 ay önce