Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر...

28,338 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Mustafa Azizabadi profil fotoğrafı
Mustafa Azizabadi2 yıl önce

آخری رات ہے یہ سر نہ جھکانا لوگو فہم و ادراک کی شمعیں نہ بجھانا لوگو انتہا ظلم کی ہوجائے وفا والوں پر غیر ممکن ہے محبت کو مٹانا لوگو #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #ReleaseJoharAbidAdvocate

Matloob zaidi profil fotoğrafı
Matloob zaidi2 yıl önce

آزاد امیدواروں کو گرفتار کر کے ریاستی ادارے ملک کی عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ اس ملک میں کوئی آزاد نہیں . #ReleaseJouharAbidAdvocate #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar

سفیان profil fotoğrafı
سفیان2 yıl önce

وفاپرستوں اورشمع کے پروانوں کا نام نہاد آزاد ریاست میں آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصّہ لینا اور پھر سیاہ راتوں میں ڈر کر چھپ کر نامعلوم بن کرسرکاری ایجنسیوں کا انکوگرفتارکرناپھر نامعلوم جگہ منتقل کرنا اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وہ ہار گئے ہیں ڈر گئے ہیں انکی کانپیں ٹانگ گئی ہیں

Engr. Syed Atif Shamim profil fotoğrafı
Engr. Syed Atif Shamim2 yıl önce

#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #ReleaseJoharAbidAdvocatte @HRCP87 @HRCPOfficial @dohrpk @ICJ_org @hrw @UN_HRC @hrcberkeley @PTIofficial @soldierspeaks

Engr. Syed Atif Shamim profil fotoğrafı
Engr. Syed Atif Shamim2 yıl önce

@adeelraja @MrsSFaisall @SABAZAHID99 @javerias @badnocs @AsifButtPTI @JKhanClassified @PTIofficial @NajamBajwaa @IrshadHShehzad @NaeemAshrafBut2 @ShayanA2307 @Naya__Pakistan_ @FarooquiJameel @Mr_OmarMalik @MohUmair87 @SdqJaan @ShakirAwan88 @ameerabbas84 @AhmedASarfraz

AHMED AAMIR 90 profil fotoğrafı
AHMED AAMIR 902 yıl önce

ھم قانون ھاتھ میں نہیں لینگے نثار پنہور بھائی اور ان کے صاحبزادے کو رھا کرنے کے لیئے قانونی ٹیم کو ھدایت #ReleaseJouharAbidAdvocate #NisarPanhwarAndMohsinPanhwar @AltafHussain_90 @azizabadi @Barristerviews @DAS_090 @SafinaKhann @HamidMirPAK @MJibranNasir @MyBuriedFreedom

اردو ہے میرا نام !!!!! profil fotoğrafı
اردو ہے میرا نام !!!!!2 yıl önce

#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #ReleaseJoharAbidAdvocate #ہمارا_انتخاب_الطاف_حسین #LiftBanOnAltafHussain #ووٹ_صرف_الطاف_کا

Hussain profil fotoğrafı
Hussain2 yıl önce

#NisarPanhwarAndMohsinPanhwar @AltafHussain_90 دوہرا معیار دوہرا نظام نہ منظور نہ منظور نثار پنہور بھائی انکے صاحبزادے محسن پہنور کو رہا کرو رہا کرو رہا کرو

Mohammed Haque profil fotoğrafı
Mohammed Haque2 yıl önce

آداب بھائ: دو پارٹیوں کی مقبولیت پر نہ صرف اسٹیبلشمنٹ بلکہ ملک کہ جاگیرداروں وڈیروں سرداروں نوابوں سرمایہ داروں کی نیندیں حرام کردی ہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لے پالک دم ہلانے والے خنزیروں کو اپنی شکست نظر آرہی ہے اسی لئے اوچھے ھتکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ #ہمارا_انتخاب_الطاف_حسین

Only Peer Sahab profil fotoğrafı
Only Peer Sahab2 yıl önce

سب سے پہلے آداب بھائی انتہا ظلم کی ہوجائے وفا والوں پر غیر ممکن ہے محبت کو مٹانا لوگو #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #ReleaseJoharAbidAdvocate

Benzer Videolar

الطاف حسین اور اس کی MQM نے پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام اوراسٹیٹس کو کے خلاف آواز بلند کی تو اس کی سزادینے کے لئے اس کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کاطوفان کھڑا کیا گیا،میں نے سیاست میں فوج اوراس کی ایجنسیوں کی مداخلت کی مخالفت کی تواس پرمجھے فوج کا دشمن اورملک دشمن قراردیدیا گیا۔ ایک سازش کے تحت پورے ملک کے عوام بالخصوص اہل پنجاب کو الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے خلاف گمراہ کیاگیا، طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے، پروپیگنڈوں کے ذریعے پنجاب کے عوا م میں الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے خلاف نفرت پیدا کی گئی تاکہ اہل پنجاب ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اوراسٹیٹس کو کے خاتمے اور غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کےلئے الطاف حسین کے حق پرستانہ پیغام کوسننے اوراس کے قریب آنے کے بجائے اس سےنفرت کریں۔ لیکن جب عمران خان کو فوج کی جانب سے اقتدار سے نکالا گیا ، عمران خان کوکمرہ عدالت سے جس طرح غیرقانونی طریقے سے گرفتارکیا گیا، پورے پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور عمران خان کے چاہنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیاگیا، ان پردہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے اور ان کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو اہل پنجاب کو اپنی سوچ وفکرکا زاویہ بدلنا پڑا اورانہیں بھی سمجھ میں آگیا کہ ملک میں اصل حکومت کس کی ہوتی ہے،ملک کی پالیسیاں کون بناتا ہے، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کس طرح پورے نظام حکومت کوکنٹرول کرتی ہے، کرپٹ سول اورملٹری بیورو کریسی کس طرح ملک کولوٹتی ہے،سویلین حکومت برائےنام ہوتی ہےاورتمام فیصلے فوج کرتی ہے اسی وجہ سے عمران خان نے بھی حقیقی آزادی کانعرہ لگایا۔ پنجاب کے وہ لوگ خصوصاًتحریک ا نصاف سےتعلق رکھنےوالے وہ نوجوان جو ایسے ہی پروپیگنڈوں سے گمراہ ہوکر الطاف حسین اور اس کی MQM کودہشت گرد، بھتہ خور، ملک دشمن اورنہ جانے کیاکیا قرار دیتے آئے تھے،اب عمران خان کو جس طرح یہودی ایجنٹ، ملک دشمن قرار دیا جارہاہے، PTI کو دہشت گرد قراردیاجا رہا ہے، PTI کے رہنماؤں کو دس دس سال کی سزائیں دی جارہی ہیں، تو کیا اب اسٹیبلشمنٹ کے ان الزامات، مقدمات اورعدالتوں سے دی گئی ان سزاؤں کی بنیاد پر کیا پی ٹی آئی کے کارکنان اور اہل پنجاب یہ ماننے کےلئے تیارہیں کہ عمران خان کرپٹ اوریہودی ایجنٹ ہیں؟ PTI کے رہنما اور کارکنان دہشت گرد ہیں؟ میں اہل پنجاب سےکہتا ہوں کہ الطاف حسین ملک دشمن یاغدار نہیں بلکہ باغی ہے جس نے ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورکرپٹ نظام حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا، الطاف حسین کے فالوورز بھی دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کوحقیقی معنوں میں اس کرپٹ نظام سے آزاد کرانے اورمظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکن ہیں۔اہل پنجاب کوسمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ میں جس نے بھی ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی ہے اسے اسی طرح بدنام کیا جاتا ہے،اسے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مظلوم عوام کواس سے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں ملک کےخلاف نہیں اس کرپٹ نظام کامخالف ہوں۔ میں آج بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سےکہتاہوں کہ وہ ایم کیوایم کے خلاف سیاسی انتقام بند کرے، عمران خان کوجیل سے رہاکرے، اسی طرح الطاف حسین کو بھی پاکستان کے آئین وقانون کے دائرے میں کام کرنے کی اجازت دے، اسی طرح میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ملک کےنظام کوبھی آزاد کیاجائے اورفوج اور اس کے ادارے خود کوبھی آئین اورقانون کے دائرے میں رکھیں کیونکہ آئین وقانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔ میں آج بھی ناراض بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں، عمران خان اورفوجی جرنیلوں کے درمیان صلح اور مفاہمت کےلئے صلح کار کے طور پر کام کرسکتا ہوں ۔ الطاف حسین فکری نشست نمبر 296 سے خطاب 11 اگست 2025

Altaf Hussain

12,543 görüntüleme • 1 yıl önce

آزادکشمیر میں اپناحق مانگنے والے کشمیری عوام کوریاستی تشددسے کچلنے کےلئے حکومت آزاد کشمیر اور ریاست پاکستان کی جانب سے جو کارروائیاں کی جارہی ہیں، میں ان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔ ریاست پاکستان نےکشمیر کی آزادی کے نام پرکشمیری عوام کو ہمیشہ اپنے مفادات کےلئے استعمال کیا ہےلیکن حقیقت میں ریاست نے کشمیری عوام کواپناغلام بنایا ہوا ہے۔آج آزاد کشمیر کے عوام اپنےحقوق کے حصول کے لئے پرامن جدوجہد کررہے ہیں،اپنے مطالبات کے حق میں ان کی ہڑتال چوتھے روز میں داخل ہوچکی ہے، یہ افسوس کی بات ہے کہ کشمیری عوام کی آواز سننے کے بجائے انہیں فوج، ایف سی، رینجرز کی ریاستی طاقت سے کچلنےکی کوشش کی جارہی ہے،انکی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، گھروں میں گھس کرکشمیری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ میں ان مظالم کی شدید مذمت کرتا ہوں اور جائز حقوق کی اس جدوجہد میں آزاد کشمیرکے عوام کے ساتھ ہوں۔ میں حکومت ِآزادکشمیر اورریاستِ پاکستان کے کرتا دھرتاؤں سےکہتا ہوں کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کے غم وغصہ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس بات کوسمجھ لیں کہ اب طاقت اور جبرکے ہتھکنڈوں سے آزادکشمیر کے غیورعوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا،، وہ اب اپنےجائز مطالبات اور ا پنی حقیقی آزادی اور خودمختاری کے لئے اپنی جدوجہد سے دستبردارہونے کے لئے تیار نہیں۔لہٰذا وقت کا تقاضہ ہےکشمیریوں کی آوازکوطاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی ترک کی جائے، آزادکشمیر کے عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کیاجائے ،آزادکشمیر میں بجلی پر عائد کئے گئے ناجائز ٹیکسز ختم کئے جائیں،آٹے اوردیگراشیاء پر سبسڈی دی جائے اورآزادکشمیر کوحقیقی معنوں میں آزاد کیا جائے اورکشمیری عوام کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک بند کیاجائے #RightsMovementAJK

Altaf Hussain

22,212 görüntüleme • 2 yıl önce

اسٹیبلشمنٹ کے نام الطاف حسین کا اہم پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے، لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے خلاف اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ ایم کیوایم ملک دشمن نہیں، ایم کیوایم ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کی دشمن ہے، کرپشن کی دشمن ہے، ان چیزوں پر ہم سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ آپ آئیے، ہمارے ساتھ بیٹھئے، اپنی شرائط بتائیے، ایم کیوایم سے بات کیجئے، خدارا ایم کیوایم کو، الطاف حسین کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دیجئے۔میں پاکستان کیلئے وہ کچھ کرسکتا ہوں جو شاید پاکستان کے اور لیڈر نہ کرسکیں ۔ الطاف حسین اپنی تحریک، منشور، نظریئے اورسیاسی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کررہا ہے۔ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے پاکستان کو بچانے اورفرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے عملی اقدام کیا تواس سلسلے میں، میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ہمیں اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ سے پیسے کی یا کسی اور چیز کی مدد نہیں چاہیے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے اسٹیبلشمنٹ کی غیرجانبدارانہ پالیسی ہو،ہم نے ملک کے خلاف نہ کوئی سازش کی نہ ہی ملک کے خلاف کوئی ایسی بات کریں گے جس سے ملک کو، ملک کی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچے۔ ہم اسٹیبلشمنٹ کویہ بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ ہماری کسی بات کو ملک کے خلاف سمجھیں یا کسی انٹرنیشنل معاملے پرآپ چاہیں کہ ہم اس پرگفتگو کریں یا نہ کریں تو آپ ہمیں آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کی پالیسی کے مطابق آگے سفرکرسکیں۔ ماضی میں جوکچھ ہوا ہم ان افسوسناک واقعات کوایک طرف رکھ دیں گے لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کو بھول جائیں تو ہم اپنے شہیدوں کو نہیں بھول سکتے،ہم اپنے شہیدوں کا دن مناتے رہیں گے، ہمیں اس کی تو آپ کواجازت دینی ہوگی۔ آپ ہم پر سے پابندی ہٹائیں، ہمیں اجازت دیں، ہم ملک کیلئے اب بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، ملک کی فلاح وبہبود اورعوام کیلئے بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ میں اپنی تمام ترصلاحیتیں اوراپنا تمام تر علم پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے لگانے کیلئے تیارہوں، بس آپ سے غیرجانبداری چاہتا ہوں، آپ ہم سے یہ نہ کہیں کہ یہاں فلاں کو کھڑاکردویا فلاں کو ووٹ دے دو، ہم نے ہر الیکشن میں مخالفین کا احترام کیا، جتنے الیکشن ہوئے اس دوران کسی بھی سیاسی مخالف بشمول جماعت اسلامی، ہم نے کسی بھی مخالف کے کیمپ پرکبھی کوئی حملہ نہیں کیا، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم نے ان کے کیمپوں پر حملہ کیا ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے، ہمارے انتخابی کیمپوں پر ضرور حملے ہوئے لیکن ہم نے کبھی جواب میں کسی کے کیمپ پر حملے نہیں کیا، اس پر میری زیرو ٹالیرنس کی پالیسی تھی کہ اگر جس نے بھی ایسا کیا تو وہ پارٹی سے خارج ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ کے نام میرا یہ پیغام ملک وقوم کے مفاد کے لئے ہے، میں ملک کی خاطر تلخیوں کوبھلا کربہتر تعلقات چاہتا ہوں، میں امید کرتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی میرے اس انتہائی مثبت پیغام کا مثبت انداز میں ہی جواب دیا جائے گا۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 340 ویں فکری نشست سے خطاب 31، اکتوبر2025

Altaf Hussain

19,656 görüntüleme • 10 ay önce

میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں تاجروں کی دکانیں سیل کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ سراسر ظلم ہے، حکومتی غنڈہ گردی اور بربریت ہے ۔ حیدرآباد کے علاقے چھوٹی گٹی میں یہ دکانیں ، شہر کے تاجروں نے اپنی محنت کی کمائی سے برسوں پہلے بنائی تھیں، لیکن حکومت نے پولیس و انتظامیہ کے ذریعے رات کی تاریکی میں سیل کرنے کے نوٹس دکانوں اور شاپنگ پلازہ پر لگا کر انہیں سیل کردیا ہے، ایک عمارت میں نجی اسپتال بھی قائم ہے، اسے بھی سیل کرنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے حیدرآباد کے ان تاجروں ہی میں نہیں بلکہ پورے حیدرآباد کے شہریوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ دکانوں کو سیل کرنےکا سندھ حکومت کا اقدام حیدرآباد کے تاجروں کا معاشی قتل ہے۔ میں اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ چھوٹی گٹی کی دکانوں کو سیل کرنے کا اقدام واپس لیا جائے ۔ میں حیدرآباد کےدکانداروں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔

Altaf Hussain

10,431 görüntüleme • 2 ay önce

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 görüntüleme • 2 ay önce

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کی دو شناختوں کے متعلق حقائق ریکارڈ پر لانے کے بعد بیرسٹر شہزاد اکبر نے چیلنج کیا کہ قاضی برطانیہ کی عدالتوں میں ان حقائق کو جھوٹ ثابت کر کے دکھائیں۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ سپین کی شہریت رکھنے والی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا نے جب بھی وزارت داخلہ میں ویزے کے لیے اپلائی کیا تو بیان حلفی میں یہ سچ چھپایا کہ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ اگر کسی غیر ملکی خاتون نے فیملی کی بنیاد پر ویزہ اپلائی کیا ہو تو بیوی کے بیانِ حلفی کے ساتھ شوہر بھی بیانِ حلفی میں یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے اپنی غیرملکی بیوی کے متعلق ہر بات سچ بیان کی ہے اور کوئی حقیقت نہیں چھپائی ہے۔ بیگم سرینا عیسیٰ نے اپنے بیانِ حلفی میں ہمیشہ یہ بات چھپائی کہ سپین کی شہریت کے ساتھ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز ویلاگ کا کلائمیکس یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب بھی بیوی کے ویزہ کی درخواست کے ساتھ اپنا بیانِ حلفی جمع کروایا تو اس میں پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہمیشہ یہ حقیقت چھپائی کہ ان کی سپینش بیوی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا کا ایک اور نام سرینا عیسیٰ ہے جو پاکستان کی شہریت بھی رکھتی ہے یعنی اس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بیان حلفی جج کے حلف اور ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے ساتھ ایک فوجداری جرم بھی ہے جس کی بابت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان شہید نے دستاویزوں شواہد کے ساتھ وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔ ڈاکٹر رضوان شہید کی یہ رپورٹ بھی قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کا حصہ تھی جو اب بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود ہو گی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان شہید کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے پروٹوکول آفیسر سرینا عیسیٰ کی ویزا درخواست کا فالو اپ لینے وزارت داخلہ آتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک غیرقانونی، غیرآئینی اور مجرمانہ کام کے لیے بطور جج سپریم کورٹ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سپین کے درمیان دہری شہریت کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تحت سرینا عیسیٰ پر لازم تھا کہ اگر وہ سپین کی شہریت کو پاکستان کی شہریت پر ترجیح دیتی ہیں تو وہ پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو جاتیں اور اپنا قومی شناختی کارڈ نادرا کو واپس جمع کروا دیتیں جو انہوں نے نہیں کیا اور اس طرح وہ فوجداری جرم کی مرتکب ہوئیں۔ اب آپ سوچیں کہ نواز شریف کے ایون فیلڈ فلیٹس کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے برعکس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن پراپرٹیز خریدنے کے لیے آف شور کمپنی کیوں نہیں بنانی پڑی؟؟؟ Mirza Shahzad Akbar Abdul Qayyum Siddiqui imran waseem Matiullah Jan Hasnaat Malik Adeel Sarfraz Saqib Bashir Asad Ali Toor Mubashir Zaidi Tale of a Chief Justice’s wife with two identities…. via YouTube

اکرم راعی Akram Raee

219,276 görüntüleme • 2 yıl önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

"سپریم کورٹ ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں یہ واضح کر چکی ہے کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اگر کوئی منتخب رکن اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف کسی بھی ایوان میں ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ اب اسی فیصلے کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک بینچ میں نظرثانی کے لیے لگا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں درخواست لے جانے والوں کو امید ہے کہ نظرثانی کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت چور کے مفادات کا تحفظ کرے گی؛ یعنی اسے اسمبلی کی نشست سے محروم کرنے کی سزا تو دے گی مگر چوری کا مال چور کے پاس ہی رہنے دے گی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک شخص جو ایک پارٹی کے منشور پر جیتے اور اسمبلی میں پہنچ کر اپنے ذاتی مفاد میں کسی دوسری پارٹی اور منشور کی حمایت کرے، تو اس کا یہ عمل کم از کم اخلاقی پیمانے پر درست ہے یا غلط؟ قانونی بحثیں تو صدیوں سے چلتی آئی ہیں اور صدیوں تک چلتی رہیں گی۔ عمران خان کی مخالفت میں اس حد تک نہ جائیں کہ ان کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش میں دستور، قانون، عدالت، اور اخلاقیات ہی مذاق بن کر رہ جائیں۔" Habib Akram #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ

PTI

36,421 görüntüleme • 2 yıl önce

اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح پاکستان کے تمام سیاسی ،انتظامی ،معاشی اوراقتصادی نظام کواپنے کنٹرول میں کرلیاہے اس کے بعد پاکستان اب ایک مقبوضہ ملک بن چکاہے اورملک کے25کروڑ عوام اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں غلام بن گئے ہیں۔پاکستان میں اعلانیہ مارشل لاء نافذ کئے بغیر غیرآئینی طورپر مارشل لاء نافذ ہے اورفوج کی جانب سے ڈنڈے کے زورپر مارشل لائی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ شہبازشریف اور پیپلزپارٹی سمیت موجودہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں،اسٹیبلشمنٹ کے ان غیرآئینی، غیرقانونی اور ناجائز اقدامات کی حمایت کررہی ہیں ۔ پاکستان کومقبوضہ ملک بنانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے سپرپاورز سے سرٹیفکیٹ بھی لے لیاہے۔ آئینی ترامیم کاعمل بھی ملک کومکمل طورپراپنے کنٹرول میں لینے کے انہی مقاصد کاحصہ ہے۔ فوج کے طے شدہ منصوبے کے تحت مجوزہ آئینی ترامیم میں ججوں کی تعداد اور مدت ملازمت میں توسیع کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی ترمیم لائی جارہی ہے جس کے تحت اب چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تقرری سینیاریٹی کے بجائے وزیراعظم کی صوابدید پر کی جائے گی اورجس طرح آرمی چیف کی تقرری کے لئے 5یا7جرنیلوں میں سے کسی کاانتخاب کرلیاجاتاہے اسی طرح اب اس مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری بھی حکومت کی صوابدید پرہوگی کہ وہ 5 یا 7ججوں میں سے جس جج کوپسند کرے اسے ملک کی سب سے بڑی اورآئینی عدالت عظمی کا چیف جسٹس مقررکردے چاہے وہ سینئرترین ہو یانہ ہواورمیرٹ پر پورا اترتاہو یانہ ہو۔ اس آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تقرری کا اختیار اس نام نہاد حکومت کودیدیاجائے گاجوخود فارم 47 کے ٹینکوں پر بیٹھ کرجعلی اورغیرقانونی طریقے سے لائی گئی ہے۔ یہ ترامیم آئینی، قانونی اورجمہوری نہیں بلکہ چنگیزی ،فرعونی،نمرودی اورشدادی ترامیم ہیں۔ ان آمرانہ ترامیم کے لئے حکومت کو دوتہائی اکثریت کی حمایت نہیں مل رہی ہے تواس کے حصول کے لئے فوج، آئی ایس آئی ، ایم آئی اوردیگرایجنسیز استعمال کی جارہی ہیں، حمایت پر مجبور کرنے کے لئے PTI کے ارکان اسمبلی پر دباؤڈالاجارہاہے،انہیں اغواکیا جارہاہے، جوارکان اسمبلی گھروں پر نہیں مل رہے ہیں ان کےبیوی بچوں تک کواغوا کیا جارہا ہے۔ آخر کونسے آئین میں لکھاہے کہ جو آپ کی مجوزہ ترامیم کی حمایت کرنے پر راضی نہ ہوں توان کے بیوی بچوں کواٹھالو؟ جولوگ یہ ترامیم کررہے ہیں وہ ظالم اورجابر ہیں اور جمہوریت کے قاتل ہیں۔ آج پاکستان آج آرمی کے ہاتھوں مکمل طورپرمقبوضہ اورمفتوحہ ملک بن چکاہے اوراس قبضے کے تحفظ کے لئے عدلیہ پربھی مکمل قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں پاکستان کے عوام سے کہتاہوں کہ صرف پاکستان ہی مقبوضہ نہیں بلکہ آپ بھی غلام بن چکے ہیں،وقت کاتقاضہ ہے کہ خاموشی اختیارکرنے کے بجائے اپنی آزادی کےلئے باہر نکلیں، پرامن احتجاج کریں اورپاکستان کی آزادی کے لئے جہادکریں۔ الطاف حسین (ٹک ٹاک پر 113ویں فکری نشست سے خطاب) 14ستمبر2024

Altaf Hussain

12,905 görüntüleme • 2 yıl önce

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن، پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران فخرِ پاکستان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں ذرّہ برابر بھی یقین ہوتا کہ عمران خان نے کوئی سنگین غلطی کی ہے یا ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں حقیقت ہے، تو کیا وہ کبھی ایک براہِ راست کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران اس حساس معاملے کو اٹھاتے؟ Sky Sports دنیا کے معروف اسپورٹس براڈکاسٹرز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے عالمی سطح کے پلیٹ فارم پر، وہ بھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان براہِ راست میچ کے دوران، عمران خان کی صحت اور ان کے حالات پر گفتگو ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کا معاملہ اب محض پاکستان کی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ عمران خان کی عالمی سطح پر قائم ساکھ، ان کی کرکٹ کی خدمات اور پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دلانے میں ان کے کردار سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ تین سال سے قید عمران خان کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی عالمی کریڈبیلٹی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ 🇵🇰

Jahanzeb Khan PTI UK

59,347 görüntüleme • 22 gün önce

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 görüntüleme • 8 ay önce

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,722 görüntüleme • 1 ay önce