Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ڈاکٹر مہرنگ کا کارواں کوئٹہ پہنچ گیا ہے اور 28جولائی سے شروع ھونے والا بلوچ اجتماع آج ختم ھونے جارہا ہے اور بلوچ لڑکیوں کی ہمت کو داد دینی پڑے گی کہ بدترین ریاستی جبر،قتل و غارت اور تشدد کا سامنا کیا لیکن اجتماع اور مارچ کرکے دیکھایا اور...

12,930 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پشتو کی ایک معروف کہاوت ہے سل دے مر شي خو د سولو سردار دے نہ مر شي (سو مر جائیں لیکن سو کا سردار نہ مرے)۔ ماضی میں جب پختونوں کی نمائندگی خان، مشران اور قبائلی رہنما کرتے تھے تو ایوانوں اور مجلسوں میں ایک خاص وقار، رعب اور اخلاقی تمکنت قائم رہتی تھی۔ لیکن افسوس کہ جب سیاسی فیصلوں سے بصیرت، خاندانی وقار اور اخلاقیات کا عنصر منقطع ہوا اور روایتی و باظرف قیادت کو پسِ پشت ڈال کر قصاب ،ترکان مستری ،کلئنر ،ڈرائیور کا انتخاب کیا گیا، تو نتائج اسی اخلاقی تنزلی اور بدتہذیبی کی صورت میں سامنے آئے۔ شفیع جان کی جانب سے مریم نواز اور عظمی بخاری کے خلاف استعمال کی جانے والی بازاری، رکیک اور گٹر چھاپ زبان اسی غلط انتخاب کا نتیجہ اور کھلم کھلا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ کیا کوئی خاندانی شخص اتنی نچلی سطح پر گر سکتا ہے؟ پشتون روایات (پختون ولی) اور اسلامی اقدار کی بنیاد ہی عورت کی عزت، حیا اور احترام پر قائم ہے۔ کسی خاتون کی تضحیک کرنا اور ان پر غیر اخلاقی و ذاتی حملے کرنا پشتون عالی ظرفی کے یکسر منافی ہے اور اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بولنے والا شدید بوکھلاہٹ، دلیل کے قحط اور ذہنی پسماندگی کا شکار ہے۔ ایک منتخب ایوان اور اسمبلی جیسے مقدس فورم کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہاں عوام کی اعلیٰ ترین اخلاقی و روایتی اقدار کی نمائندگی کی جائے۔ اس قسم کی غلاظت بک کر نہ صرف پختون روایات کی تضحیک کی گئی ہے بلکہ صوبائی اسمبلی کے ایوان کو بھی آلودہ کیا گیا ہے۔ جب قومیں اپنے محسنوں، مشران اور باظرف رہنماؤں کے بجائے تھرڈ کلاس اور بدزبان نمونوں کو مسلط کرتی ہیں تو گفتگو سے دلیل ختم ہو جاتی ہے اور صرف غلاظت ہی نکلتی ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

41,021 görüntüleme • 15 gün önce