Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ڈاکٹرز جلاد بن گئے ہیں 💔 بیوی کو سٹی ہسپتال لے کر گیا تھا جہاں اُس کو ایڈمٹ کیا گیا رات تین بجے کے قریب اُس کی نارمل ڈیلیوری ہوئی لیکن بلیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا میں ڈاکٹر اور سٹاف کیلئے آواز دیتا رہا لیکن کسی نے میری بات...

702,149 views • 1 day ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

10 دسمبر 2024 کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے تین افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کی، جس میں اتفاق منظور اور ان کے دو بھائیوں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئیں۔ بعدازاں، اتفاق منظور کے دونوں بھائیوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن پرسوں رات ایک دھماکے میں اتفاق منظور کو قتل کر دیا گیا۔ اسی دوران، ایک اور واقعہ میں، نوجوان جہانزیب کو ہوشاب میں احتجاجی دھرنے کے دوران کچھ ریاستی کارندوں نے گاڑی سے ٹکر مار دی۔ جہانزیب کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن کل رات وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ روزانہ کی بنیاد پر افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے اور قتل کیا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کے اداروں سے دوخواست ہیکہ بلوچستان میں ہونے والی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نوٹس لیں۔

Sammi Deen Baloch

13,828 views • 1 year ago

کل اپنی جوان بچی کو دفن کرنے کے بعد آج النور ہسپتال انچولی ڈاکٹر شازیہ کنول (M.B.B.S, M.C.P.S) گائناکالوجسٹ سے ملنے گئے تو اسٹاف نے بتایا کہ اُن کی لاپرواہی کی وجہ سے انہیں نکال دیا ہے۔ جب کہا کہ یہ بات لکھ کر دیں تو انکار کر دیا۔ 26 سال کی جوان لڑکی جس کو نارمل ڈیلیوری کا کہا گیا تھا۔ ساری رپورٹس اور ٹیسٹس نارمل تھے۔ 15 اپریل کو ایڈمٹ کیا گیا 16 اپریل کو آپریٹ کیا گیا بچی پیدا ہوئی سب کچھ نارمل بتایا گیا مگر لڑکی نیم بے ہوش رہی۔ 17 اپریل کو اُسے بیٹھانے کی کوشش کی گئی مگر اُس سے بیٹھا نہیں گیا۔ پھر ٹیسٹ پر ٹیسٹ کرتے رہے اُس پر سوجن آنی شروع ہو گئی مگر کچھ نہیں بتایا گیا۔ 17 اپریل کی رات میں اچانک بتایا گیا کہ ہمارے پاس I.C.U نہیں ہے اور ہم نے ضیاء الدین ہسپتال کے ڈاکٹرز کو کیس سمجھا دیا ہے آپ وہاں لے جائیں۔ ہمیں مریضہ کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوگیا کے اَلنور ہسپتال (اِنچولی) والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اُن سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ضیاءالدین Emergency پہنچے تو انہوں نے میڈیکل آئی سی یو میں بھیج دیا، ڈاکٹرز نے بتایا اِسکا تو لیور ہی کام نہیں کر رہا اور کڈنی بھی ایفیکٹڈ ہیں۔ بس ٹریٹمنٹ شروع ہی ہوا کہ پتہ چلا سانس چلی گئی, وینٹیلیٹر پر گئی اور اُسی وقت دَم توڑ دیا۔ cause of death HELLPSYNDROME بتائی گئی۔ اُس کو 18 اپریل کو دفن کر کے 19 اپریل کو ڈاکٹر شازیہ کنول سے پوچھنے گئے تو نئے لوگوں کو سامنے کر کے اصل لوگوں کو ہٹا دیا اور صرف زبانی کہتے رہے کہ ہم ڈاکٹر سے ملیں مگر ملوایا نہیں۔ بولے کہ آپ کے کیس میں ڈاکٹر شازیہ نے Negligence کی جس کی وجہ سے انہیں نکال دیا ہے پھر یہ ہمارا حق تھا کہ یہ بات النور ہسپتال ہمیں لکھ کر دے تو انہوں نے انکار کیا اور تلخ کلامی ہوئی۔ پوسٹ شئیر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری جوان بچی تو چلی گئی وہ بھی ایک دن کی معصوم کو چھوڑ کر مگر ایسے ہسپتال اور ڈاکٹرز کے پاس جانے سے پہلے لوگ ہمارے کیس سے سبق سیکھ لیں۔ Karachi Police Sindh Human Rights Commission (SHRC) Government of Sindh Murtaza Wahab Siddiqui Bilawal Bhutto Zardari Aseefa B Zardari Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Samrina Hashmi of Al-Noor Hospital you know the cause of death very well...

Shani

136,962 views • 2 years ago