Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا دفتری امور کا آغاز شہریوں سے ملاقات کے بعد، اوپن ڈور پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کی روزانہ کی بنیاد پر شہریوں سے ملاقاتیں جاری ہیں جبکہ نشاندہی پر فی الفور موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایات دی جاتی ہیں، بعد ازاں...

69,927 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پاکستان میں بیوروکریسی کی اکاؤنٹیبلٹی میں مقننہ کا بڑھتا ہوا کردار ! اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری اور دیگر انتظامی افسران کے دفاتر بنیادی طور پر پبلک آفسز ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ریاستی امور کی انجام دہی ہے، اس لیے یہ دفاتر عوام کے لیے قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔ تاہم عوامی رسائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کسی بھی وقت براہِ راست افسر سے ملاقات کرے۔ ایک منظم طریقۂ کار، مقررہ اوقات، شکایات کے اندراج اور متبادل انتظامی ذرائع کے ذریعے عوام کو رسائی دی جا سکتی ہے، تاکہ افسران انتظامی ذمہ داریاں بھی پوری کر سکیں اور عوامی شکایات بھی مؤثر طور پر سنی جائیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شہری سے براہِ راست ملاقات ممکن نہیں۔ اسی لیے ایک مؤثر نظام میں شکایت جمع کرانے، اس کی نگرانی کرنے اور مقررہ مدت میں نتیجہ حاصل کرنے کا شفاف طریقہ ہونا چاہیے۔ اگر افسر کسی وقت دفتر میں موجود نہ بھی ہو تو ریاستی مشینری کا کام رکا نہیں رہنا چاہیے۔ عوامی نمائندگان، خصوصاً ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، کی حیثیت اس سے مختلف ہے۔ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور انتظامیہ سے رابطہ کرنا ان کے آئینی و سیاسی کردار کا حصہ ہے۔ تاہم پارلیمانی استحقاق کو محض ملاقات، فوری رسائی یا کسی افسر کے خوش اخلاقی سے ملنے کے حق تک محدود کرنا ایک سنجیدہ فکری غلطی ہے۔ استحقاق کا تعلق قانون ساز ادارے کے مؤثر آئینی کردار سے ہے، نہ کہ کسی فرد کی شخصی فوقیت سے۔ جمہوری نظام میں اصل طاقت کسی افسر، سیاست دان یا ادارے کی ذات میں نہیں بلکہ قانون میں ہوتی ہے۔ اقتدارِ اعلیٰ عوام کا ہے اور عوام اس اختیار کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کو سیاسی قیادت اور منتخب حکومت کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ سیاسی اور انتظامی دونوں سطحوں کو پارلیمان اور متعلقہ قانون ساز کمیٹیوں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اسی لیے استحقاق کے معاملات کو ذاتی پسند و ناپسند، ملاقات نہ ہونے یا کسی افسر کے رویے تک محدود کرنے کے بجائے سنجیدہ آئینی اور پارلیمانی معاملات سے جوڑنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قائمہ کمیٹیوں کو زیادہ فعال ہونا چاہیے، کیونکہ یہی وہ فورمز ہیں جہاں حکومتی کارکردگی کا جائزہ، پالیسیوں کی نگرانی اور انتظامیہ کی مؤثر جواب دہی ممکن ہے۔ ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کا یہ ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ مقننہ کی قائمہ کمیٹیاں بیوروکریٹک اکاؤنٹیبلٹی کا بہترین فورم ہیں۔ ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کے ریپبلک گورننس ماڈل کا مطالعہ اس بابت مفید ہو سکتا ہے۔ ریپبلک پالیسی نے اپنی کتابوں Fixing the Executive، Fixing the Legislature اور The Bureaucratic Coup میں بیوروکریسی، سیاسی انتظامیہ اور قانون ساز اداروں کے باہمی تعلق، اختیارات اور آئینی جواب دہی پر تفصیلی بحث کی ہے۔ یہ کتابیں وینگارڈ بکس اور دیگر کتب مراکز سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں حاصل کرنے کے لیے ریپبلک پالیسی سے رابطہ کریں: +92 341 4222501

Republic Policy

27,911 просмотров • 1 месяц назад

🚨"برطانیہ کی معیشت پانچ ٹریلین کی ہے، آپ کو حیرانگی ہوگی کہ برطانیہ کے اندر ٹوٹل 82 گاڑیاں ہیں، اور وہ پول کارز ہیں۔ 82 گاڑیاں ہیں برطانیہ کے اندر، ہمارے ہاں تو میرا خیال ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے پاس 82 گاڑیاں ہوں گی۔ اور ملک کا حال یہ ہے کہ ملک کا بال بال قرضے میں بکا ہوا ہے۔ آپ دیکھیں، سرگودھا کا جو ڈپٹی کمشنر ہے، وہ 104 کنال کے گھر میں رہتا ہے، میانوالی کا ڈپٹی کمشنر 94 کنال کے گھر میں رہتا ہے، فیصل آباد کا ڈپٹی کمشنر 90 کنال کے گھر کے اندر رہتا ہے۔ دیکھیں، ہم تو کالونیل ازم سے باہر نکل ہی نہیں سکے۔ یہ بالکل کالونیل مال ہے، جیسے وہ مسٹر براؤن چھوڑ گئے تھے یہاں پر۔ میں قسم کھا کے کہتا ہوں، میرا ضمیر ہی نہ مانے کہ یہ لوگ کیسے رہ لیتے ہیں، 100، 100 کنال کے گھروں کے اندر۔ اب بنیادی طور پر ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے کہ کسی حکومت نے، کسی سیاسی حکومت نے آج تک اصلاحات نہیں کیں۔ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ کچھ جائز ہیں، کچھ نہیں بھی ہیں، کچھ عذر ہیں، کچھ جائز وجوہات ہیں کہ انہیں کبھی کارکردگی دکھانے کا یا موقع ہی نہیں ملا۔ باقی آپ آ جائیں تنخواہوں کے اوپر۔ آپ نے پارلیمنٹیرینز کی بات کی، دیکھیں، پارلیمنٹیرین کی تنخواہ کو میں جسٹیفائی تو نہیں کروں گا۔" رانا عاطف Amir Mateen Rana Atif

Arbaz Raza Bhutta

17,565 просмотров • 1 месяц назад

کمشنر کراچی کے احکامات کو اسسٹنٹ کمشنر نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ریونیو محکمہ کا جونیئر کلرک انسداد تجاوزات کارروائی کے دوران ضبط کیا گیا سامان بیچتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ضلع کورنگی ماڈل کالونی زون میں تجاوزات کے نام پر نیا دھندھا شروع* دن بھر ضبط کیا گیا سامان رات کی تاریکی میں فروخت کیا جارہا تھا جونیئر کلرک شہزاد شاہ پر غریب شہریوں کا سامان بیچنے کا الزام *شہریوں نے ہوٹل پر بیٹھے اپنا سامان پہچان کر گاڑی روک لی* شہزاد شاہ موقع پر پہنچ کر سامان سے بھری گاڑی روانہ کروا گیا شہزاد شاہ فون پر ہدایات لیتا رہا، شہریوں کو جھوٹے مقدمات کی دھمکیاں *واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی* *فوٹیج میں آفس سے سامان باہر لے جاتے واضح دیکھا جا سکتا ہے* *چوکیدار نے گاڑی روکی تو سفید گاڑی آکر سامان والی گاڑی کو نکال لے گئی* *متاثرہ شہریوں کی نشاندہی کے باوجود افسران کارروائی سے گریزاں* *ڈپٹی کمشنر کورنگی کو درخواست کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا *متاثرہ شہریوں کی کمشنر کراچی سے فوری کارروائی کی اپیل

Shahid Hussain

16,175 просмотров • 6 месяцев назад