Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کس شہزادہ کی آمد ہے۔۔🔥 جو اتنے محبت سے کھڑے ہے

41,547 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Sajid Shohab Ahmed's profile picture
Sajid Shohab Ahmed1 year ago

ایسے انسان نسلیں سنوارتے ہیں اور ہم سمجھ نہیں پا رہے

Basharat Ali Awan's profile picture
Basharat Ali Awan1 year ago

پنجاب کی اماں دیکھ لے جالی اور اصلی محبت میں کیا فرق ہوتا ہے

Dr. Hemayat's profile picture
Dr. Hemayat1 year ago

پٹواریوں کی ماں آگئے ہیں 😂

RONA ZURURI HA's profile picture
RONA ZURURI HA1 year ago

شہزادہ تو ایک ہی ہے بس

ZEShan ⚫'s profile picture
ZEShan ⚫1 year ago

❤️❤️

prEeShY PTI 👀🦋♥️🦋's profile picture
prEeShY PTI 👀🦋♥️🦋1 year ago

Murshid 🔥

ZEShan ⚫'s profile picture
ZEShan ⚫1 year ago

❤️❤️

Maria's profile picture
Maria1 year ago

عمران احمد خان نیازی

Danakhan..💖's profile picture
Danakhan..💖1 year ago

یہ وہ شہزادہ جس کے آنے سے جان میں جان آجا تی ہے.. 💝

Sabeen Malik سبین ملک's profile picture
Sabeen Malik سبین ملک1 year ago

♥️♥️♥️

Related Videos

امجد اسلام امجد کی بہت ہی خوبصورت نظم ”تمہیں مجھ سے محبت ہے“ محبت کی طبعیت میں ، یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے ؟؟ کہ یہ جتنی پرانی ، جتنی بھی مضبوط ہو جائے اِسے تائیدِ تازہ کی ، ضرورت پھر بھی رہتی ہے۔ یقین کی آخری حد تک ، دِلوں میں لہلہاتی ہو نگاہوں سے ٹپکتی ہو ، لہو میں جگمگاتی ہو ھزاروں طرح کے دلکش ، حسیں ہالے بناتی ہو اِسے اظہار کے لفظوں کی حاجت ، پھر بھی رہتی ہے محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی کہ جیسے طفلِ سادہ ، شام کو اِک بیج بوئے اور شب میں بارھا اُٹھے ، زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے ؟؟ محبت کی طبعیت میں ، عجب تکرار کی خُو ہے کہ یہ اِقرار کے لفظوں کو ، سننے سے نہیں تھکتی بچھڑنے کی گھڑی ہو ، یا کوئی ملنے کی ساعت ہو اسے بس ایک ھی دُھن ہے ، کہو مجھ سے محبت ہے کہو مجھ سے محبت ہے ، تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ سمندر سے کہیں گہری ، ستاروں سے سِوا روشن پہاڑوں کی طرح قائم ، ہَواؤں کی طرح دائم زمیں سے آسماں تک ، جس قدر اچھے مناظر ہیں محبت کے کنائے ہیں ، وفا کے استعارے ہیں ، ہمارے ہیں ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ھیں ، سنہر ا دن نکلتا ہے محبت جس طرف جائے ، زمانہ ساتھ چلتا ہے۔ کچھ ایسی بے سکونی ہے ، وفا کی سرزمیوں میں کہ جو اھل محبت کو ، سدا بے چین رکھتی ہے کہ جیسے پُھول میں خوشبُو کہ جیسے ہاتھ میں پارا ، کہ جیسے شام کا تارا۔ محبت کرنے والوں کی سحر ، راتوں میں رہتی ہے گماں کے شاخچوں میں ، آشیاں بنتا ھے الفت کا یہ عینِ وصل میں بھی ، ھِجر کے خدشوں میں رھتی ہے محبت کے مسافر ، زندگی جب کاٹ چکتے ھیں تھکن کی کرچیاں چُنتے ، وفا کی اَجرکیں پہنے سمئے کی رھگزر کی ، آخری سرحد پہ رُکتے ہیں تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر دھیرے سے کہتا ہے یہ سچ ھے نا ، ھماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے اسی کا نام چاھت ہے تمہیں مجھ سے محبت تھی تمہیں مجھ سے محبت ہے. محبت کی طبعیت میں , یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے... ”امجد اسلام امجد“

اردو ورثہ

110,284 views • 3 years ago