Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کوہاٹ کا جلسہ بھی ختم ہو چکا ہے ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ کوہاٹ جلسے سے بہت بڑا لائحہ عمل دیا جائے گا مگر عملاً وہی باتیں دہرائی گئیں جو پشاور کے جلسے میں ہو چکی تھیں۔ سارا ملبہ ایک بار پھر محمود خان اچکزئی صاحب اور...

22,417 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جیسے کہ ہم سب کو بولا گیا تھا کہ بدھ کو بہت بڑا پلان دیا جائے گا۔۔ اور وہ پلان آپ سب کے سامنے آگیا ہے کہ پانچ اگست کو پشاور میں جلسہ کیا جائے گا اور اس میں لائحہ عمل دیا جائے گا تم کفار سے بڑے منافق ہو تم لوگوں نے بہت بات جھوٹ بولا۔۔۔۔ پہلے بھی تم لوگوں نے بہت جھوٹ بولے اور اب ایک اور چورن تم لوگ بیچ رہے ہو خان صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ تم لوگ خان صاحب کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہو۔۔۔۔ خان صاحب کی ایک آنکھ تقریباً ضائع ہوچکی ہے۔۔۔ خان صاحب کی صحت خراب ہے۔۔۔۔ خان صاحب نے ایک ایک لائحہ عمل تم لوگوں کو دیا ہوا تھا۔۔۔ تم لوگوں نے خان صاحب کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔ جب میں راجہ صاحب سے سوال کروں تو بولتے ہیں فکر نہ کریں۔۔۔۔ ہم کیوں نہ فکر کریں؟ تم لوگ چاہتے ہو خان صاحب کو کچھ ہو جائے اور تم لوگ ان کو بھٹو بنا کر ان کے نام پر ووٹ لو۔۔۔۔ خان صاحب نے تم لوگوں کو ملک گیر تحریک چلانے کا کہا تھا لیکن تم لوگ جلسہ جلسہ کر کے خان صاحب کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر سائن کر رہے ہو۔۔۔۔ بہت مشکل ہے چکیوں میں مکمل آئسولیشن میں رہنا۔۔۔ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنا سب سے ضروری ہے۔۔۔ شفیع جان نے جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا کہ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔۔۔۔ ہم نے اپ لوگوں کو خان صاحب کی رہائی کے لیے ووٹ دیا تھا۔۔۔۔ نا ہی خان صاحب آپ کو معاف کریں گے۔۔۔ نا ہی عوام آپ کو معاف کرے گی۔۔ نا ہی میرا ﷲ آپ کو معاف کرے گا۔۔۔۔ 9 مہینے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔ اخری ملاقات عظمیٰ آپا کی ہوئی تھی اس میں ان کی انکھیں بتا رہی تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو کس حالت میں دیکھا ہے۔۔۔۔ خان صاحب بہت کمزور ہوچکے ہیں۔۔۔۔ لیکن ابھی بھی وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کر رہے۔۔۔۔ وہ ڈیل نہیں کر رہے صرف اور صرف اس عوام کی خاطر۔۔۔۔ اب یہ سوچنا ہوگا کہ آپ لوگ پانچ اگست کے جلسے کے چورن کے ٹرک کے پیچھے لگتے ہیں یا اس غدار قیادت کے سامنے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔۔۔۔ شکریہ

Haider Saeed

16,043 Aufrufe • vor 2 Monaten

کل بروز جمعرات سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا، جو اچانک ڈھائی بجے ختم کر دیا گیا۔ سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا تھا کہ دھرنا پوری رات جاری رہے گا اور صبح لائحہ عمل دیا جائے گا، مگر آدھی رات کو دھرنا ختم کر دیا گیا۔ آج سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا گیا اور ختم ہوتے ہی کہا گیا کہ علامہ راجہ ناصر محمود خان اچکزئی کو شامل کر کے پولیٹیکل کمیٹی اجلاس میں لائحہ عمل دیا جائے گا، لیکن اجلاس کے بعد خان صاحب کی رسائی کے حوالے سے کوئی واضح پیغام نہیں ملا۔ خان صاحب کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ اگر انہیں آئیسولیشن میں ڈالا جائے یا کسی اور جیل منتقل کیا جائے تو صوبہ بند کیا جائے۔ ہر صورتحال کے لیے خان صاحب کی الگ ڈائریکشن ہے، اس کے باوجود ورکرز کو مایوس کیا جا رہا ہے اور جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ یہ پارٹی عمران خان کی ہے، ان کے فیصلے کے بعد کسی پولیٹیکل کمیٹی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ساری قربانیاں خان صاحب دے رہے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے بڑے نام خاموش ہیں، جو منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ 20 دسمبر سے اب تک خان صاحب کو کسی نے نہیں دیکھا، 41 دن ہو چکے ہیں اور 60 دن سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں ہوئی۔ خان صاحب اس وقت اغوا ہیں، اور ان کی مکمل آئیسولیشن اور اغوا کے خلاف خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔ آٹھ فروری کی شٹ ڈاؤن کال تاریخی ہے اور ہم اس پر اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ لیکن خان صاحب کی صحت، خاص طور پر آنکھ کے مسئلے کے باعث، ان تک فوری رسائی اور ملاقات انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ ہم آٹھ فروری تک انتظار یا کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ ہمیں آٹھ فروری سے پہلے ایسا لائحۂ عمل اور دباؤ بنانا ہوگا جس کے نتیجے میں خان صاحب سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ منگل کو ملاقات کے دعوے محض بہانے ہیں، کیونکہ اگر نیت ہو تو ہفتہ، اتوار یا پیر کو بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔ مزید جھوٹے وعدے اور لالی پاپ بند ہونے چاہئیں۔ یہ تحریک حقیقی آزادی اور پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ خان صاحب نے ملک کے لیے جنگ لڑی ہے، اب قیادت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک سب مل کر اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے، نہ عمران خان رہا ہوں گے اور نہ ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ شُکریہ (حیدر سعید)

Haider Saeed

17,067 Aufrufe • vor 8 Monaten

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 Aufrufe • vor 9 Monaten

ہمارے پشاور کے کچھ یوٹیوبرز کو شاید بہت مسئلہ ہے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ فرمائشی یوٹیوب چلاتے ہیں، اسی لیے بار بار یہی سوال اٹھاتے ہیں۔ میں اس حوالے سے بات واضح کر دیتا ہوں۔ جب مجھے صوبائی صدر بنایا گیا تو عمران خان صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ صوبے میں تحریک کو دوبارہ فعال کروں۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 26 نومبر کے بعد حالات انتہائی خراب تھے، ہم نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی تھیں اور پارٹی احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارٹی دوبارہ کھڑی کے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک میری عمران خان صاحب سے نہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی رابطہ ہو سکا۔ اس دوران عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔ چند دن بعد جب علی امین گنڈاپور صاحب کی عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ذمہ داری دوبارہ انہیں دے دی گئی۔ علی امین صاحب نے اس حوالے سے باہر آ کر پریس کانفرنس بھی کی، اور میں نے بھی اس کی مکمل تائید کی۔ اس کے بعد سہیل آفریدی صاحب آئے، لیکن انہیں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ جو بھی سیاسی سرگرمی یا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے، وہ محمود خان اچکزئی صاحب کے مشورے سے کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صاحب نے اس حوالے سے انہیں ذمہ داری دی ہے۔ لہٰذا، جیسے ہی عمران خان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان شاء اللہ ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔ نہ ہم نے پہلے کبھی عمران خان صاحب کو مایوس کیا، نہ آئندہ کریں گے۔ میں آج بھی اپنے کی ایک ایک بات پر پہلے کی طرح قائم ہوں۔ صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی پشاور میں پریس کانفرنس۔

Junaid Akbar

26,749 Aufrufe • vor 2 Monaten

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,457 Aufrufe • vor 1 Monat

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 Aufrufe • vor 7 Monaten

193 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں ایک میٹنگ ہوئی تھی کے پی کے ہاؤس میں جس میں ہمیں بولا گیا تھا 72 گھنٹے کے اندر ہمیں خان صاحب کی رہائی لائحہ عمل دیا جائے گا لیکن ابھی تک 194 گھنٹے ہو گئے ہیں لیکن لائحہ عمل نہیں دیا گیا میرا خان سخت گرمی میں ہے اپنا وقت گزار رہا ہے میرا خان چھوٹی سی 6×8 کی چکی میں ہے پورا دن گزارتا ہے اس کمرے میں پورا دن دھوپ پڑتی ہے وہ کمرہ پورا دن گرم رہتا ہے جس بستر پہ خان صاحب سوتے ہیں وہ بھی صرف چھ فٹ کا ہے جب کہ خان صاحب کا قد چھ فٹ دو انچ ہے خان صاحب صحیح طرح سو بھی نہیں سکتے جو باتیں خان صاحب نے پچھلے سال بتائی تھی کہ پانی بند کر دیتے ہیں بجلی نہیں تھی یہ باتیں سچی تھی جب میں اڈیالہ جیل میں رہا میں نے وہاں لوگوں سے پوچھا ایک ایک بات سچی تھی جو خان صاحب نے کی خان صاحب کے ٹویٹر کے اکاؤنٹ سے 15 فروری 2025 کو لائحہ عمل کے حوالے سے ٹویٹ کی گئی تھی جس میں احتجاج کے حوالے سے بات کی تھی عید کو بھی اتنے دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک لائحہ عمل نہیں ایا میرے پاکستانیوں ہمارے پاس وقت بہت کم ہے بڑی عید انے والی ہے بڑی عید کے بعد 14 ورکنگ ڈیز ہمارے پاس رہ جائیں گے جس کے بعد عدالتوں میں دو مہینے کی چھٹی انے والی ہیں ہمارے پاس 30 جون تک کا وقت ہے ہم نے خان صاحب کو 30 جون سے پہلے پہلے ہر صورت میں نکالنا ہے پھر چھٹیاں آ جائیں گی پھر ستمبر میں چھٹیاں ختم ہو گی میرے پاکستانیوں اب ہمیں خود کچھ کرنا پڑے گا میرے مرشد عمران احمد خان نیازی بہت مشکل حالات میں رہ رہے ہیں سخت گرمی ہے ٹمپریچر 44 تک چلا جاتا ہے پانی کا بھی وہاں بہت مسئلہ ہوتا ہے میرے خان پر بہت سختیاں کی جا رہی ہیں لیکن وہ اس قوم کی حقیقی ازادی کے لیے ڈٹ کے کھڑے ہیں حقیقی ازادی ٹائیگر والوں نے 31 مئی کی ڈیٹ دی ہے کہ ہم مارچ کریں گے لکی مروت سے لے کر اٹک پل تک پر اٹک پل بند کر دیں گے ہم سب کو اس میں شرکت کرنی چاہیے ہمارا القادر کا کیس ابھی تک فکس نہیں ہوا اور امید بھی نہیں ہے کہ ہوگا اور پھر چھٹیاں آ جائیں گی عدالتوں سے امید نہیں لگانی چاہیے مزاحمت ہوگی تو انصاف ملے گا مزاحمت ہوگی پھر مذاکرات ہوں گے پھر جا کے خان صاحب کو رہا کریں گے مزاحمت ہوگی تو ہی رہائی ہوگی

Haider Saeed

76,917 Aufrufe • vor 1 Jahr

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 Aufrufe • vor 1 Jahr

میرا تجزیہ آج کے جلسے پہ۔۔۔۔ آج کی کال اور خان صاحب کا پیغام کیا تھا؟... خان صاحب کا پیغام۔۔۔ میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا۔۔۔۔ 26 مئی 2025 تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔۔۔۔ 3 جون 2025 آج کے جلسے کے انتظامات؟ فیصلہ کن جلسہ 3 سال بعد جس میں عوام زیادہ اور جگہ چھوٹی۔۔۔۔۔ خان صاحب نے دوبارہ اسلام آباد آنے کا بولا؟ قومی حکومت کی راہ ہموار؟ جب عوام سے سوال پوچھا گیا کہ آپ تیار ہیں۔۔۔ تو عوام نے کہا ہم تیار ہیں۔۔۔۔ لیکن آپ کا جواب کہ میں تیار نہیں کیوں؟ تین سال ہونے کے بعد بھی تیاری مکمل نہیں؟ ستمبر میں ایک سال مکمل ہوجائے گا۔۔۔۔ اتنے عرصہ بعد کال؟ ان دو مہینوں میں کیا خان صاحب سے ملاقات ہوگی؟ کیا جلسے میں خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کے حوالے سے بات ہوئی؟ کیا خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بات ہوئی؟ کیا خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونے کے حوالے سے بات ہوئی؟ ویڈیو مکمل دیکھیں۔۔ اور خود فیصلہ کریں۔۔۔۔ شکریہ

Haider Saeed

20,802 Aufrufe • vor 1 Monat