Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کہاں تو ایک وقت نواز لیگ جنوبی پنجاب میں دو دو صوبوں کی قرادادیں منظور کرا رہی تھیں اور کہاں 2020 سے لولے لنگڑے ملتان سیکرٹریٹ میں بچھے کچھے افسران کو آخرکار لاہور شفٹ کر دیا گیا ہے۔ سب پاورز دوبارہ تخت لاہور کو دے دی گئی ہیں۔سرائیکی علاقوں...

24,238 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بیوروکریسی/افسران دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں ان کا اس طرح ایشوز پر طریقہ کار ایک ہی ہے کہ جھوٹ بول کر حکمرانوں کو پھنسا دو۔ اپنے ایک پائو گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کر دو۔ انڈیا میں سافٹ وئیر انجنیر لڑکا ڈوبا تو پولیس نے ڈیلیوری بوائے کو پکڑ کر مارا کہ تم ویڈیو بیان میں بولو کہ وہ تو پولیس نے زندہ ریسکو کر لیا تھا۔ امریکہ میں ICE نے ایک میل نرس کو دس گولیاں ماریں تو وائٹ ہاوس کے مکینوں کو جھوٹی رپورٹ دے کر ان سے بھی بیانات دلوا دے کہ وہ گن سے حملہ آور ہوا تھا ۔ اب یہی کچھ لاہور میں ان افسران نے کیا ہے کہ ماں بیٹی کی سیوریج میں گرنے کی اطلاع ہی جھوٹی ہے اور خاوند کو پکڑ لیا۔! آپ ایک بات کی تو داد دیں کہ امریکہ، انڈیا سے پاکستان تک افسران پھنس جائیں تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنے حکمرانوں کو ہی عوام اور میڈیا کے سامنے جھوٹ بلوا کر پھنسا دیتے ہیں۔ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed @nasruallamalik Government of Punjab Maryam Nawaz Sharif Azma Zahid Bokhari

Rauf Klasra

14,491 views • 8 months ago

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 views • 1 month ago