Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہم نے خود کو منظم کرنا ہے، خود کو جگانا ہے، آپ سب پر اسلام آباد میں گولیاں چلائی گئیں، لاہور میں چلائی گئیں 9 مئی کو یہاں پشاور میں لوگوں کو زخمی اور قید کرلیا گیا مگر آپ پیچھے نہیں ہٹے، تو جماعتوں سے تو ہمارا مقابلہ ہی...

10,148 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 görüntüleme • 8 ay önce

کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔

Asad Qaiser

48,217 görüntüleme • 2 ay önce

وجاہت سعید Wajahat S. Khan نے نام تو نہیں لیا لیکن بہرحال یہ کال ندیم انجم کی جانب سے کی گئی یا کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “move on۔ اب آگے بڑھو جو تم لوگوں نے اکھاڑنا تھا وہ اکھاڑ لیا۔ اب ہم استحکام لیکر آئیں گے۔ عوام اب کچھ عرصے بعد ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ شور شرابا ختم ہوجائے گا۔ عمران خان کو دو دو دن بعد تہنیتی پیغامات آئے شہباز شریف کو اسی دن مل گئے۔ واشنگٹن پوسٹ نیویارک ٹائم اور دنیا کے دیگر اخبارات نے بھی دھاندلی اور عمران خان کو کوریج دینا بند کردی ہے۔ہم یہ سوشل میڈیا بھی بند کردیں گے ” تو جناب ندیم انجم صاحب جواب تو آپ کو وجاہت سعید نے بھی اپنے ولاگ میں اچھا خاصا دیا ہے لیکن میرے خیال میں اس سے آپ کی تسلی نہیں ہوئی ہوگی۔ آپ کی تسلی کرنا لازم ہے۔ آپ استحکام نہیں لاسکتے۔ کیونکہ استحکام ڈنڈے کے خوف کا نام نہیں ہے۔ استحکام چند ہزار گرفتاریوں کا نام نہیں ہے۔ استحکام چند مرضی کے عدالتی فیصلوں کا نام بھی نہیں ہے۔ رجیم چینج سے لیکر آج کے دن تک آپ صرف ایک استحکام لاسکے ہیں۔ اس استحکام کا نام استحکام پاکستان پارٹی تھا۔ جس کی گنتی کی چند سیٹیں بھی جعلی ہیں اور اس کا چئیرمین بھی عدم استحکام کا شکار ہوکر سیاست کو خیرباد کہ چکا۔ بلکہ آپ تو اس قدر بودے اور بونے نکلے کہ ڈنڈے کے خوف کے زور پر بھی استحکام نہیں لاسکے۔ آپ کو ہر محاذ پر بدترین شکست ہوئی ہے۔ نو مئی کا سرعام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر اس پر سوالات کیے جاتے ہیں۔ نومئی کو اب کور کمانڈرز کانفرنس کے علاوہ کہیں بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ آپ معیشت میں بہتری بھی نہیں لاسکتے۔ ایس آئی ایف سی کے نام پر حکومت کے تمام اختیارات ہاتھ میں لیکر بھی سوا سال میں آپ نے ابھی تک کیا اکھاڑا ہے؟ ایک روپے کی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ مدت ہوئی عربوں نے ارب دینا تو دور آپ کے آرمی چیف کو دعوت دینا بھی چھوڑ دی ہے۔ آپ جانتے ہیں یا میرے ذرائع جانتے ہیں کہ عربوں کے تیسرے درجے کے سرکاری اہلکار آپ کو ڈیل بلکہ ٹریٹ کررہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ ، نیویارک ٹائمز یا وال سٹریٹ جرنل تو آپ کے رجیم چینج پر بھی نہیں بولے تھے۔ ملک میں بدترین کریک ڈاون پر بھی نہیں بولے تھے۔ ملک میں ہونے والی بدترین فسطائیت پر بھی خاموش رہے تھے۔ اگر الیکشن کے نتائج نے انہیں حیرت زدہ کردیا اور انہوں نے چند ایک آرٹیکل چھاپ دیے ہیں تو عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ سارا میڈیا آپ کی مٹھی میں ہے لیکن پھر بھی آپ نے الیکشن میں دھول چاٹی ہے۔ آپ سوشل میڈیا بند کردیں اور شوق سے کردیں۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ کیونکہ کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرتا ہے تو خود اندھا ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا آپ بند کریں گے یہ آپ کو اندھا کرکے آپ کی موت کا سامان لیکر آئے گا۔ آپ نے اپنا وزیراعظم بنا لیا ، اپنا صدر اور چند ایک اضافی سینٹر بھی بنوا لیں گے ۔ اسے آپ اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں؟ کس قدر چھوٹی سوچ کے مالک ہیں آپ۔ یہ کامیابی نہیں یہی آپ کی ناکامی ہے۔ کہ آپ کے کپڑے اتر چکے۔ اب تو عوام آپ پر پتھر برسانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ابھی تو جدوجہد کے نئے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔ ابھی تو عوام نے پہلا معرکہ الیکشن جیتا ہے۔ ابھی آپ کو تو ہرانا ہے۔ ابھی آپ کو تو بے بس کیا ہی نہیں۔ ابھی آپ کا نشانہ تو باندھا ہی نہیں۔ آپ کو تو پھیرا ابھی تک دیا ہی نہیں۔ موو آن تو ہوگا۔ لیکن آپ کے بغیر ہوگا۔ آپ کے ادارے کے بغیر ہوگا۔ بلکہ آپ کے ادارے کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہوگا۔ اس سے قبل نہ یہاں کچھ موو ہوگا نہ آن ہوگا۔

Enkidu Reborn

314,303 görüntüleme • 2 yıl önce

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 görüntüleme • 2 ay önce