Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ہم کسی جج کے گھر ریڈ نہیں کر سکتے، ہم نے ایس ایچ او بھیجا جج کا گھر کا گیٹ کھلا ہوا تھا سامان تب بکھرا تھا جج صاحب نئے شفٹ ہوئے تھے مریم بھی جھوٹی اس کی پولیس بھی جھوٹی، شرم بھی نہیں آتی ان کو ایسے منہ...

77,401 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ہمارا (الیکشن کا) مقدمہ ایک ایسے سوکالڈ جج صاحب کو دیا جاتا ہے جو کبھی ہائیکورٹ کے جج تھے ہی نہیں۔۔پہلے قانون یہ تھا کہ الیکشن کے مقدمات حاضر سروس ہائیکورٹ کے ججز کے پاس جائیں گے۔اس فارم 47 حکومت نے جو پہلی قانون سازی کی وہ یہ تھی کہ صرف ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج نہیں بلکہ کوئی بھی ایسا شخص جسکو الیکشن کمیشن جج مقرر کر دے وہ مقدمے سن سکتا ہے۔ اسکے بعد انہوں نے چن چن کر لوگوں کو الیکشن ٹریبونل مقرر کیا۔۔۔میرا مقدمہ ایک ایسے جج کو دیا جو مشرف کی ایمرجنسی اور پی سی او کے دوران جج لگا۔۔جسکے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ یہ شخص کبھی جج نہیں تھا۔۔اسکو حق نہیں ہے اپنے نام کے ساتھ جسٹس لکھنے کا۔۔یہ اپنے نام کے ساتھ کبھی جسٹس نہیں لکھ سکتا۔۔سابق اور ریٹائرڈ بھی نہیں لکھ سکتا۔ اس شخص کو انہوں نے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کا لقب دیکر الیکشن ٹریبونل بنا دیا اور میرا مقدمہ اسکے حوالے کر دیا۔ اسکے خلاف دو سال ہوگئے ہمیں لاہور ہائیکورٹ گئے ہوئے کہ یہ شخص مقدمہ نہیں سن سکتا: سلمان اکرم راجا salman akram raja Asad Ullah Khan

Kismat Khan

10,782 views • 5 months ago