Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ہمارا قرضہ دو سال قبل 634 ارب تھا دو سال میں وہ بڑھ کر 809 ارب روپے ہو گیا ہے، لیکن اچھی بات یہ کہ ہم نے ایک اکاؤنٹ کھولا ہوا جس میں قرض اتارنے کے لیے 250 ارب رکھا ہوا، مزمل اسلم تو سر وہ پیسے رکھے ہوئے...

34,615 просмотров • 8 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 16

Фото профиля Mubashir 🍁 مبشر
Mubashir 🍁 مبشر8 дней назад

جب کبھی وقت اور فراغت تھی تو اک شغل شروع کیا تھا۔ آجکل پھر انگلی ہو رہی ہے۔ دیکھتا ہوں:

Фото профиля Ehsan
Ehsan8 дней назад

واہ آپ کے پاس تو پورا سیٹپ ہے خبریں میں دوں گا آپ بس اس پر ویلاگ کرنا پرافٹ آدھا آدھا🫲

Фото профиля Nazir Ahmed
Nazir Ahmed8 дней назад

😂😂😂 یہ بندہ کراچی سے آکر اپنا منجن پشاور میں بیچ رہا ہے

Фото профиля Ehsan
Ehsan8 дней назад

نوکری لگی ہوئی

Фото профиля Ziaul Haq
Ziaul Haq8 дней назад

He was a good financial analyst but has lost his way since he joined PTI

Фото профиля Scorpius
Scorpius8 дней назад

😂

Фото профиля Faria
Faria8 дней назад

😂😂

Фото профиля شبانہ شوکت
شبانہ شوکت8 дней назад

😂😂

Фото профиля Gajab!!!
Gajab!!!8 дней назад

@MuzzammilAslam3 has broken the records of @Asad_Umar The most stupid in charge of Finance Ministry (Federal or Provincial)

Фото профиля Haris
Haris8 дней назад

یہ جناب مشیر خزانہ ہے کے پی کے ۔ ۔ مطلب انکا لیول چیک کریں ۔ ۔

Фото профиля Sarfraz Qamar
Sarfraz Qamar8 дней назад

کیسے یوتھیوں کو مزید چوتیا بنا رہا ہے۔۔۔🤣🤣🤣

Фото профиля Guy Pakistani
Guy Pakistani8 дней назад

😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂

Фото профиля 🌺💕عظمی پیرزادہ💕
🌺💕عظمی پیرزادہ💕8 дней назад

اس بات کو سیریس لیاجائے۔ یوتھیوں نے چند ارب ڈالر بھی جمع کرکے، بطور قرض واپس کرنےکا کام کیا تو قوم کی ہمدردی انکی طرف ہوجائےگی۔ یہ نیا سٹنٹ ہے۔

Фото профиля Muhammad Tareen
Muhammad Tareen8 дней назад

ہر ماہ سود بھی آے گا

Фото профиля Wå§ëêM
Wå§ëêM8 дней назад

یہ بندہ نمبروں کو اِدھر اُدھر کر کے لوگوں کو پاگل بنانے میں ماہر ھے۔ پنجاب سندھ میں اس نے کوشش کی، شروع میں کامیاب ھوا، بعد میں اس کو کسی نے مُنہ نہیں لگایا، تو یہ پھر خیبر پی کے پہنچ گیا، اب وہاں گدھوں کو مزید گدھا بنا رہا ھے ۔

Фото профиля Naveed Babar  با بر
Naveed Babar با بر8 дней назад

خیبرپختونخوا مدینہ منورہ کے نام پر جعل سازوں کے ہاتھ چڑھا ہوا ہے اللہ ہی حفاظت فرمائے

Похожие видео

"پاکستان میں 2022 میں جب پی ڈی ایم ون کی حکومت آئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو پاکستان کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا۔ 30 جون 2026 تک یہ قرضہ بڑھ کر 99 ہزار 500 ارب روپے ہو چکا ہے۔ میرے خیال میں اب تک قرضے کی 100 ٹریلین روپے کی سینچری بھی مکمل ہو چکی ہوگی، کیونکہ یہ اعداد و شمار 30 جون 2026 کے ہیں۔ یعنی تقریباً چار سال میں مجموعی طور پر 56 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر 2022 تک ملک کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا، جبکہ اس کے بعد اس میں مزید 56 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ جب خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ خیبرپختونخوا قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، صوبے پر 3 ہزار ارب روپے اور 2 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔ یہ تمام باتیں ڈس انفارمیشن پر مبنی تھیں۔ 2024 میں خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا، جو گزشتہ دو سال میں بڑھ کر تقریباً 800 ارب روپے ہوا ہے۔ لیکن اس میں ایک اہم اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ہم نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک الگ اکاؤنٹ قائم کیا ہے، جس میں آج، جب ہم یہ بات کر رہے ہیں، تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔ اگر اس رقم کو بھی مدنظر رکھا جائے تو 2024 کے مقابلے میں ہم نے اپنے قرضے کو الٹا تقریباً 62 ارب روپے کم کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ یہ کہتے تھے کہ خیبرپختونخوا تاریخی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور صوبائی حکومت مسلسل قرضے لے رہی ہے، ان کے سامنے اصل صورتحال اور اعداد و شمار موجود ہیں" مشیر خزانہ مزمل اسلم Muzzammil Aslam

PTI

18,810 просмотров • 9 дней назад

کیا تنخوا دار طبقہ کو ریلیف دیا گیا ہے؟ "تنخوا دار طبقے نے اس سال 600 ارب روپے ٹیکس دیا ہے تو اگلے سال وہ 550 ارب دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال وہ تقریباً 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرے گا۔ حکومت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہ ریلیف نہ دی جاتی تو یہ رقم 750 ارب روپے تک پہنچ جاتی، اس لیے ہم آپ سے 750 کے بجائے 700 ارب لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ اس آمدنی پر اس وقت تقریباً 23 فیصد تک ٹیکس لگ رہا تھا۔ حکومت نے اسے کم کرکے 20 فیصد کر دیا، جو بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ لیکن اگر مہنگائی کی وجہ سے اس شخص کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کی آمدنی ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار روپے ہو جائے گی۔ نتیجتاً وہ اگلے ٹیکس سلیب میں چلا جائے گا، جہاں اس پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس لیے عملی طور پر حکومت تنخواہ دار طبقے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ٹیکس وصول کرے گی۔ یعنی اگر اس سال اس طبقے سے 600 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں تو اگلے مالی سال میں یہی رقم بڑھ کر تقریباً 700 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔" مفتاح اسماعیل Miftah Ismail Absar Alam

Arbaz Raza Bhutta

22,754 просмотров • 3 месяцев назад

وفاق کہتا ہے سارا کچھ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہمارے پاس بچتا کچھ نہیں ، 14131 ارب ریوینیو میں 57 فیصد صوبوں جبکہ 42.50 فیصد وفاق کو جاتا ہے اس کے علاوہ نان ٹیکس ریوینیو ایک بڑی رقم 5141ارب روپے جو سو فیصد وفاق اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس سال وفاق کی آمدنی کا تخمینہ 19278 ارب روپے ہے۔ جس میں صوبوں کو 8200 ارب دینے ہیں وفاق کے پاس 11072 ارب روپے بچیں گے اس میں وفاق جو کہتا کہ ہمیں ساڑھے 41 فیصد ملتا یہ سراسر بے ایمانی ہے۔ وفاق کے خرچ کا تخمینہ 17593 ارب ہے اصولاً اس میں ترقیاتی اخراجات 20 فیصد ہونے چاہئیں تھے لیکن انہوں نے صرف 1000 ارب رکھے، اس کو بھی اب یہ کہہ کر 700 ارب تک محدود کررہے کہ پیسے نہیں ہیں تو کہاں گئے پھر معیشت کی درست سمت کے دعوے؟ پیسے کدھر جارہے ہیں؟ 8260 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جارہے ہیں جب سود کی شرح 22 فیصد تھی تب بھی 8900 ارب تھے شرح سود نصف پہ آگئی لیکن ادائیگی اتنی ہو رہی۔ تمام صوبوں کو ملا کر اتنی رقم دی جاتی ہے جتنی سود میں ادا کرتے۔ مزمل اسلم

Shakir Mehmood Awan

21,023 просмотров • 11 месяцев назад

پنجاب کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ مجھے ہندوستان سے خطرہ نہیں ہے۔ جب وہ ایک وزیراعلیٰ کہہ سکتی ہے کہ مجھے ان صوبوں سے خطرہ ہے بلوچستان، سندھ یا خیبر پختونخوا ہے۔ اس سے کوئی یہ گلہ نہیں کر سکتا۔ اچھا یہ سرفراز جو ان کا اپنا ہوا ہے. اگر وہ یہ کہتا کہ مجھے پنجاب سے خطرہ ہے. تو آج شاید وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ کہیں پہ بھی کسی بھی معصوم کا خون بہایا جاتا ہے، ہم نے اس کی مذمت کی ہے۔ ہم تو بلوچستان کے وہ لوگ جن کو کہا جاتا ہے نہ کہ قبائلی ہیں جاہل ہیں۔ دو بجٹ ہمارے دورِ حکومت میں پاس ہوئے ایک تھا ۱۴ ارب کا۔ اس ۱۴ ارب میں۱۲ ارب نان ڈیولپمنٹ کے تھے۔ قلات کالج ہمارے دورِ حکومت میں بنا۔ خاران میں کالج بنایا گیا، سوراب میں ہم نے کالج بنیاد رکھی۔ ہم اس دوران تو اس میں آپ تو بنیاد ہی رکھ سکتے ہیں نہ۔ پٹفڈر میں۔ ہم اسکول میں پڑھتے تھے، ہیڈ ماسٹر ہمارا پنجابی تھا۔ لوگوں کی یادداشت کمزور ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ عمران خان اس وقت تو زیرِ عتاب ہیں، ہمیں یہ باتیں کرنی نہیں چاہئیں۔ افسوس ہوتا ہے جس انداز میں اس کو ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ایک معاہدے کے تحت ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔الحمدللہ مولانا سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سردار اختر مینگل Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

155,885 просмотров • 19 дней назад

یہ ہوتا ہے پروپگینڈہ۔۔ یہ ایک صوبے کا وزیراعلی ہے اور کتنے کانفیڈنس کے ساتھ اس نے کہا ہے کہ جو قرضہ 2022 میں صرف "43 ارب روپے" تھا وہ اب "80 ہزار ارب روپے" ہے۔ اب یوتھئیے۔۔اسی بات کو سنیں گے،سچ مانیں گے اور پھیلائیں گے۔ حالانکہ 2022 میں پاکستان کا کل قرضہ 50 ہزار ارب تھا، عمران خان کے اپنے وزیرخزانہ شوکت ترین نے مانا تھا کہ ہم نے ساڑھے 3 سال میں پاکستان کے کل قرضوں کو 78% بڑھایا ہے (تقریبا ڈبل کر دیا تھا) اب 50 ہزار ارب کو وہ اپنی طرف سے 43 ہزار ارب سمجھ رہا تھا لیکن اس نے بڑے کانفیڈنس کے ساتھ اسے صرف "43 ارب"بول دیا۔مگر باقی فگر اس نے بغیر غلطی کے 80 ہزار ارب بولا۔ اس طرح کی اینگلنگ سے جھوٹ بولا اور پھر پھیلایا جاتا ہے۔ ایسی چیزوں پر PTI کی حمایت کرنے والے اینکرز/دانشوڑ بدترین/مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اور ہماری سائیڈ سے بھی اس پر کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا اس طرح جھوٹ کا یہ بازار گرم رہتا ہے اور جھوٹ پھیلتا رہتا ہے۔ صرف اگر اس بیان پر اس وزیراعلی کو"عدالت"میں لے جائیں،میڈیا میں ڈسکس کریں تو ان کی اس طرح کی"دانستہ"زبان پھسلنے والی گندی حرکتوں اور جھوٹ کا تدارک کافی حد تک کیا جا سکتا ہے۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

14,727 просмотров • 9 месяцев назад