Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بجلی گھروں کا سرکلر ڈیٹ تو سنا تھا مگر حیران کن طور پر گیس اور پٹرولیم میں سیکٹر میں بھی 36سو ارب سرکلر ڈیٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ مزے کی بات ہے اس میں 1900 ارب اصل رقم اور 1700 ارب اس پر وقت پر ادائیگی نہ کرنے کا...

46,370 views • 2 months ago •via X (Twitter)

26 Comments

Ali Hasnain khan's profile picture
Ali Hasnain khan2 months ago

بھائی کلاسرا صاحب، بالکل درست فرمایا۔ ۳۶۰۰ ارب کا سرکلر ڈیٹ گیس اور پٹرولیم سیکٹر میں بھی نکل آیا ہے — ۱۹۰۰ ارب اصل اور ۱۷۰۰ ارب جرمانہ۔ یہ صرف کرپشن اور نااہلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی لوٹ کی نظام ہے۔ عوام مہنگا پٹرول، گیس بل اور لیوی دے رہا ہے، پھر بھی کمپنیوں کے بل ادا نہیں ہوتے۔ پیسہ کہاں جاتا ہے؟ کس کی جیب میں؟ اور پھر وہی عوام سے نکلوا کر کمپنیوں کو دیا جاتا ہے۔ حکمران اور بیوروکریٹس کے لیے ۱۷۰۰ ارب “صرف ۱۷۰۰ روپے” جیسا ہے، کیونکہ ان کا حساب ہی الگ ہے۔ عوام کا حساب الگ۔ اس نظام کو بدلے بغیر کوئی وزیراعظم، وفاقی بجٹ یا “ریلیف پیکج” کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ سرکلر ڈیٹ پاکستان کی معیشت کا کینسر ہے جو ہر حکومت بڑھا رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کب تک عوام اس لوٹ مار کا شکار بنتا رہے گا

Mohammad Azam's profile picture
Mohammad Azam2 months ago

تھوڑا اور رہ گیا یا چھوڑ دیا؟ کیوں جناب کلاسرا؟ کلاس لینا تو مزہ کرتا ہے پر دینے کا بھی لطف آنا چاہیے، نا کہ ادھوری بات کینیڈا، پھر تو وہی! چلیں ابھی اچھے بچے بن کر بتائیں: 1۔ کہ کیوں نہیں ادا کیا گیا؟ 2۔ کہاں گئے جو ادا نہیں کیا گیا؟ 3۔ اور ایک یہ تیسرا ہمارا کہ کمی کیوں تھی؟ 😳

ZAki 💫 🇵🇰's profile picture
ZAki 💫 🇵🇰2 months ago

نااہل حکومت ان سے کچھ ٹھیک نہیں ہوگا عوام کو صرف پریشان رکھیں گے اشرافیہ کو مراعات ملیں گی اور ملٹی بڑھتی رہیں گی عوام مرتی بلکتی رہے گی

Ali Malik's profile picture
Ali Malik2 months ago

Nawaz Sharef & Company on FIRE

Shabnam Syed Khan's profile picture
Shabnam Syed Khan2 months ago

بہت عُمدہ beyond sensationalism, you @KlasraRauf pick up useful and constructive topics… also instructive — “circular debt,” the enigma is now slightly comprehensible!

M Aslam Nadeem Rana's profile picture
M Aslam Nadeem Rana2 months ago

یہ سرکلر ڈیٹ پاور سیکٹر اور کھاد سیکٹر کا ہو سکتا ہے

Naser Hamdani's profile picture
Naser Hamdani2 months ago

I think it was brought up in IK time also. But media at that time was only interested in his weaknesses

Danial NG's profile picture
Danial NG2 months ago

Bhai accumulating 1.7 trillion rupees in late fees is impressive corporate incompetence. While the average citizen struggles with basic bills, the elites treat trillion rupee damages like minor rounding errors. Play elite policy games, pass the bill to the public. @KlasraRauf

Sirjee's profile picture
Sirjee2 months ago

سرکلر ڈیٹ حکومتی اداروں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہی ہے. بجلی بنانے والے کارخانوں کو گیس دی جاتی ہے مگر وہ مکمل ادائیگی نہیں کرتے کیونکہ ان کو بجلی کی قیمت نہیں ملتی. بجلی اور گیس دونوں سیکٹرز میں اربوں روپے کی سالانہ چوری ہو رہی ہے. پٹرول کی امپورٹ بھی شیفرڈ پیمنٹ پر ہو رہی ہے

Khan's profile picture
Khan2 months ago

i am receiving two bills for one meter of gas and not only one match with meter reading then why they are in circular debt

کپتان کا شیر 🦁's profile picture
کپتان کا شیر 🦁2 months ago

سارے منافق ایک ہی تصویر میں

mujtaba badshah's profile picture
mujtaba badshah2 months ago

ان سب لعنتی چیئرمین کو پکڑ کر جیل میں ڈالیں تاکہ ان اداروں کو منافع بخش بنانے کی بجائے اپنی نسلوں کو سنوارنے میں لگے رہنے کی بجائے اس ملک کو سنوارنے پر زور دیتے

MrsTrippleMA's profile picture
MrsTrippleMA2 months ago

کل سوئی گیس کا بل آیا جو کہ ڈھائی ہزار کا تھا جس میں پندرہ سو فکس چارجز اور مختلف ٹیکس اور اصل بل چار سو کچھ کا تھا اوپر والے حصے میں میرے جیٹھ رہتے ہیں انکا بل بارہ سو کا اور فکس چارجز چھ سو پینسٹھ انہوں نے تو فکس چارجز بھ اپنی مرضی کے رکھے ہوئے ہیں

Younas Khan's profile picture
Younas Khan2 months ago

گیس کی سرکاری قیمت سے دگنی قیمت گیس عوام سے لے رہیے نہ مریم کی اور میاں شہباز شریف کی کوئی فورسز اسکو کنٹرول کر رہی ہے؟

Faisal's profile picture
Faisal2 months ago

isi tarha i jarkaton ki wja se ghaliban levies or mukhtalif tarha kntax laganay parrtay hain. shah kharchiaan bnd mahin karni or "mulk theek hoga" k khwaab

Shahzad aslam's profile picture
Shahzad aslam2 months ago

نقصان آئ پی پیز کی وجہ سے ہو رہے ہیں اور بیچی تقسیم کار کمپنیاں جارہی ہیں ‼️

Sanaullah Nasir's profile picture
Sanaullah Nasir2 months ago

عوام سے پٹرول پر لیوی، گیس پر جی ایس ٹی اور بلوں پر گیس انفراسٹرکچر ٹیکس تک ایک ایک روپیہ نچوڑ لیا جاتا ہے، لیکن بیوروکریٹس اور حکمرانوں کی نااہلی کا جرمانہ 1700 ارب روپے بن جاتا ہے! یہ رقم ان کی جیبوں یا جائیدادیں ضبط کر کے وصول ہونی چاہیے، نہ کہ غریب کے چولہے اور موٹرسائیکل کا پٹرول مزید مہنگا کر کے۔ یہ معاشی دہشت گردی ہے

Sabz Ali's profile picture
Sabz Ali2 months ago

Lol

Hassan73's profile picture
Hassan732 months ago

پاکستانی عوام بے غیرتی کے اس لیول تک گر چکے ہیں کہ اگر ریاست اشرافیہ کی عیاشی کیلئے ان کا ایک گردہ ایک انکھ یا ایک کپورا بھی نکال دے تو یہ ٹس سے مس نہیں ہوگی بلکہ شکر کرے گی کہ جان ہے تو جہان ہے

Ejaz Khurshid Sheikh's profile picture
Ejaz Khurshid Sheikh2 months ago

Circular debt (show’s efficiency/proficiency of the present Govt. Thanks for more Petrol levy

Arif Mehmood's profile picture
Arif Mehmood2 months ago

گردشی قرضہ = زنجیر میں پھنسی ہوئی ادائیگیاں۔ ایک ادارہ دوسرے کا مقروض، وہ تیسرے کا، اور آخر میں سب حکومت کے مقروض۔

Chauhdary Muhammad Usman's profile picture
Chauhdary Muhammad Usman2 months ago

Please check how much of it (2%) beaurocracy uses for themselves. That's Y they don't want it to cut.

Bilal Nasir's profile picture
Bilal Nasir2 months ago

اِن کمالات کی وجہ سے ہی تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ (وردی اور بغیر وردی) شریف اور زرداری گروپس کو سپورٹ کرتی ہے ۔ پچیس کروڑ افراد میں اسٹیبلشمنٹ کو اِن سے کوئی قابل شخص نظر نہیں آیا ۔

Ali Aoun ( کھوکھر صاحب )'s profile picture
Ali Aoun ( کھوکھر صاحب )2 months ago

تینوں پینلسٹ کون 😂😂

Dark knight's profile picture
Dark knight2 months ago

Askrandooo no one gives a F to your analysis

Concerned Citizen's profile picture
Concerned Citizen2 months ago

شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے

Related Videos

اب IMF نے نئی گیارہ شرائط بھیجی ہیں اگر ایک ارب ڈالر کی قسط لینی ہے۔اب تک 75 شرائط بھیج چکے ہیں۔ان میں ایک شرط بھی ایسی نہیں کہ وزیروں مشیروں اور خوشامدی دوستوں کی تعداد کم کرو،جہاز نہ خریدو،لگژری گاڑیاں مت لو،وزیروں /ارکان کی تنخواہیں راتوں رات پانچ سو گنا نہ بڑھا دو، سیکورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان نے جو سترہ ماہ پرانی تاریخ سے سوا ارب روپے ہتھیا لیے وہ ریکور کرائیں، یہ سیکورٹی ایکسچینج کمشن اب سات ارب روپے کا دفتر بنا رہا ہے وہ نہ بنائیں، پانچ سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے نام پر جو ارکان اسمبلی کو رشوت دی جاتی ہے جس میں بقول شاہد خاقان عباسی تیس فیصد کمشن ہے اسے بند کریں،اپنے اللے تللے روکیں، وزارتوں اور وزیروں کی تعداد دس تک لائیں۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ملے گی۔شرائط ہیں تو وہ یہ ہیں اگلے چھ ماہ میں بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں بڑھانی ہیں۔ ائی ایم ایف بھی پاکستان سیاسی اور بیوروکریٹ ایلیٹ سے ڈرتی ہے اس کا ڈنڈہ بھی پاکستانی عوام پر چلتا ہے۔ 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Rabeea

Rauf Klasra

40,571 views • 5 months ago

یہ ہوتا ہے پروپگینڈہ۔۔ یہ ایک صوبے کا وزیراعلی ہے اور کتنے کانفیڈنس کے ساتھ اس نے کہا ہے کہ جو قرضہ 2022 میں صرف "43 ارب روپے" تھا وہ اب "80 ہزار ارب روپے" ہے۔ اب یوتھئیے۔۔اسی بات کو سنیں گے،سچ مانیں گے اور پھیلائیں گے۔ حالانکہ 2022 میں پاکستان کا کل قرضہ 50 ہزار ارب تھا، عمران خان کے اپنے وزیرخزانہ شوکت ترین نے مانا تھا کہ ہم نے ساڑھے 3 سال میں پاکستان کے کل قرضوں کو 78% بڑھایا ہے (تقریبا ڈبل کر دیا تھا) اب 50 ہزار ارب کو وہ اپنی طرف سے 43 ہزار ارب سمجھ رہا تھا لیکن اس نے بڑے کانفیڈنس کے ساتھ اسے صرف "43 ارب"بول دیا۔مگر باقی فگر اس نے بغیر غلطی کے 80 ہزار ارب بولا۔ اس طرح کی اینگلنگ سے جھوٹ بولا اور پھر پھیلایا جاتا ہے۔ ایسی چیزوں پر PTI کی حمایت کرنے والے اینکرز/دانشوڑ بدترین/مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اور ہماری سائیڈ سے بھی اس پر کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا اس طرح جھوٹ کا یہ بازار گرم رہتا ہے اور جھوٹ پھیلتا رہتا ہے۔ صرف اگر اس بیان پر اس وزیراعلی کو"عدالت"میں لے جائیں،میڈیا میں ڈسکس کریں تو ان کی اس طرح کی"دانستہ"زبان پھسلنے والی گندی حرکتوں اور جھوٹ کا تدارک کافی حد تک کیا جا سکتا ہے۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

14,727 views • 9 months ago

پلاننگ کے وزیر احسن اقبال اور سرکاری بابوز 213 ارب روپے کا میونسپل ٹیکس اسلام آباد کے شہریوں پر لگا کر میڈیکل کمپلیکس کا منصوبہ سامنے لائے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے پوچھنا ہے کسی دن وہ سپر مارکیٹ اور جناح سپر میں گاڑی پارک کر کے دکھائیں کہ آپ سے چوبیس کلومیٹر شہر کی منصوبہ بندی نہ ہوسکی اور آپ تیسری یا چوتھی دفعہ وزیر پلاننگ ہیں۔ پورا شہر بدترین حالت میں ہے۔ سانس تک کی گنجائش آپ لوگوں نے ختم کر دی ہے۔ اسلام آباد اور اس کی خوبصوری مررہی ہے اور کسی کو ٹکے کی پرواہ نہیں۔ آپ تمام حکمرانوں نے 2010 سے پاکستانیوں سے 700 ارب روپے GIDC کا ٹیکس بجلی گیس سی این جی پمپوں سے وصول کیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانی ہے۔ پائپ لائن تو نہیں بچھی۔ وہ سات سو ارب کہاں ہے جو عوام سے ٹیکس اکٹھا کیا تھا؟ اس طرح چند ماہ پہلے بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کے نام پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرول ڈیزل پرائس میں بڑا ریلیف عوام کو یہ کہہ کر نہ دیا گیا کہ وہاں سڑکیں بننی ہیں۔ وہ اربوں روپے کدھر ہیں۔ اب آپ 213 ارب کا نیا ٹیکس اسلام آباد کے شہریوں پر لگا رہے ہیں کہ میڈیکل کمپلیکس بنا رہے ہیں۔ آپ اپنے ناروال اور سیالکوٹ کی منصوبہ بندی تو کر نہ سکے اب اسلام آباد کی خاک کریں گے۔ پہلے زرا 700ارب روپے جی آئی ڈی سی /ایران پاک پائپ لائن اور بلوچستان پٹرول لیوی کا حساب تو اس قوم کو دیں بعد میں یہ نیا 213 ارب روپے کا ٹیکس کے نام پر ہماری جیبوں سے نکالیے گا۔ Shehbaz Sharif Capital Development Authority - CDA, Islamabad Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Prime Minister's Office Khawaja M. Asif Ministry of Finance, Government of Pakistan FBR

Rauf Klasra

37,841 views • 1 year ago

وفاق کہتا ہے سارا کچھ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہمارے پاس بچتا کچھ نہیں ، 14131 ارب ریوینیو میں 57 فیصد صوبوں جبکہ 42.50 فیصد وفاق کو جاتا ہے اس کے علاوہ نان ٹیکس ریوینیو ایک بڑی رقم 5141ارب روپے جو سو فیصد وفاق اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس سال وفاق کی آمدنی کا تخمینہ 19278 ارب روپے ہے۔ جس میں صوبوں کو 8200 ارب دینے ہیں وفاق کے پاس 11072 ارب روپے بچیں گے اس میں وفاق جو کہتا کہ ہمیں ساڑھے 41 فیصد ملتا یہ سراسر بے ایمانی ہے۔ وفاق کے خرچ کا تخمینہ 17593 ارب ہے اصولاً اس میں ترقیاتی اخراجات 20 فیصد ہونے چاہئیں تھے لیکن انہوں نے صرف 1000 ارب رکھے، اس کو بھی اب یہ کہہ کر 700 ارب تک محدود کررہے کہ پیسے نہیں ہیں تو کہاں گئے پھر معیشت کی درست سمت کے دعوے؟ پیسے کدھر جارہے ہیں؟ 8260 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جارہے ہیں جب سود کی شرح 22 فیصد تھی تب بھی 8900 ارب تھے شرح سود نصف پہ آگئی لیکن ادائیگی اتنی ہو رہی۔ تمام صوبوں کو ملا کر اتنی رقم دی جاتی ہے جتنی سود میں ادا کرتے۔ مزمل اسلم

Shakir Mehmood Awan

21,023 views • 10 months ago

عوام سن کر کہے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر۔۔۔۔۔۔ 🚨🚨اسد عمر صاحب نے عامر متین صاحب کے پروگرام میں بتایا ہے کہ ساری کہانی یہ سنائی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے بہت سختی کی ہوئی ہے ، ہم نے کسی نہ کسی طرح وہ خسارہ کم کرنا ہے اور دیکھیں ہم نے کمال کردیا ہے بلکہ ہم نے پرائمری سر پلس create کر دیا ہے، کیا واقعی پرائمری سرپلس نظر آرہا ہے؟ جی ڈی پی کے لحاظ سے دو فیصد پرائمری سر پلس ہے،یعنی تقریبا! 28 سو ارب کا پرائمری سرپلس۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ دو فیصد پرائمری سرپلس کہاں سے اور کیسے آیا؟ یہ تمام کا تمام وہ پیسہ ہے جو صوبوں سے روکا گیا ہے اس میں سے ایک ہزار ارب سے زائد تو وہ پیسہ ہے جو صوبوں نے کہا ہے کہ ہم مالا مال ہو گئے ہیں تو ہم ایک ہزار ارب وفاق کو تحفے میں دینا چاہتے ہیں، اسی طرح سے صوبوں کو کہا گیا ہے کہ آپ جو ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں،اس میں سے 17 سو 80 ارب روپے آپ نے بینک میں رکھنا ہے، خرچ نہیں کرنا، کیونکہ ہم نے آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس دکھانا ہے، این ایف سی میں تبدیلی کا ہدف بغیر کسی آئینی ترمیم کے حاصل کر لیا گیا ہے، صوبوں کے بازو مروڑ کر نہ صرف ان سے ایک ہزار ارب سے زائد کی گرانٹ لے لی گئی ہے بلکہ وہ اپنی آمدن کا 1780 ارب خرچ ہی نہیں کر سکیں گے، پہلے ساڑھے 57 فیصد صوبوں کو جاتا تھا اور 42 فیصد وفاق رکھتا تھا، اب عملی طور پر 61 فیصد وفاق کا ہے اور صرف 39 فیصد صوبوں کا ہے، اب عوام یہ سن کر سوچے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟صوبوں کے پاس 57 فیصد رہے یا 39 فیصد، عوام کو ضرور فرق پڑے گا کیونکہ عوام کی ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً صحت ، تعلیم، پینے کا صاف پانی، آبپاشی، گلیاں، سڑکیں سمیت دیگر چیزیں صوبوں نے کرنی ہوتی ہیں، اب جب صوبوں کے پاس 28 سو ارب کم آئے گا تو متاثر عوام ہی ہوں گے۔ ہم پہلے ہی گلہ کرتے تھے کہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان صحت اور تعلیم پر بہت کم خرچ کرتا ہے، اب اس میں سے بھی 28 سو ارب نکال لیا گیا ہے،کیونکہ وفاق نہ اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی طاقتور سے ٹیکس لینے کو تیار ہے،نہ سمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کو تیار ہے

Siddique Jan

25,769 views • 3 months ago

ایک عالمی ماہر معیشت نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان نے ایران امریکہ کی سیز فائر کرا کے دنیا کی اکانومی کا تین ہزار ارب ڈالرز کا فائدہ/منافع کیا ہے۔ آج ہی اس دنیا کی IMF نے پاکستان کو ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی قسط کے لیے گیارہ سخت شرائط بھیجی ہیں جو عوام کو ہی ٹائٹ کرنے والی ہیں جس میں بجلی گیس تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اس وقت ہی سیز فائر میں دوبئی نے کہا ہے ہمارا دو ارب ڈالرز واپس کرو جس کو اس جنگ رکنے سے براہ راست فائدہ ہوا ہے۔ ہم نے دو ارب ڈالرز کسی اور سے ادھار مانگ کر واپس کیے ہیں اس پر الگ سود دیں گے۔ آن اے لائٹر نوٹ ہمیں سیز فائر کے زریعے دنیا کو تین ہزار ارب ڈالرز کا فائدہ، دوبئی کو قرضے کی واپسی کے بعد آئی ایم ایف کی ان نئی شرائط کا پلندہ ملا ہے۔ دونوں کچھ دن انتظار بھی نہ کرسکے نہ آئی ایم ایف نہ دوبئی۔ اگر امریکہ اور ایران ہرموز پر اب فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس کا سوچ رہے ہیں تو جنگ رکوانے اور اس پر تین ہزار ارب ڈالرز عالمی فائدے پر ہمارا حصہ ایک فیصد بھی نہیں بنتا کہ ہم نے سیز فائر کرائی ؟ 😬 مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Rabeea

Rauf Klasra

64,899 views • 5 months ago

کیا تنخوا دار طبقہ کو ریلیف دیا گیا ہے؟ "تنخوا دار طبقے نے اس سال 600 ارب روپے ٹیکس دیا ہے تو اگلے سال وہ 550 ارب دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال وہ تقریباً 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرے گا۔ حکومت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہ ریلیف نہ دی جاتی تو یہ رقم 750 ارب روپے تک پہنچ جاتی، اس لیے ہم آپ سے 750 کے بجائے 700 ارب لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ اس آمدنی پر اس وقت تقریباً 23 فیصد تک ٹیکس لگ رہا تھا۔ حکومت نے اسے کم کرکے 20 فیصد کر دیا، جو بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ لیکن اگر مہنگائی کی وجہ سے اس شخص کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کی آمدنی ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار روپے ہو جائے گی۔ نتیجتاً وہ اگلے ٹیکس سلیب میں چلا جائے گا، جہاں اس پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس لیے عملی طور پر حکومت تنخواہ دار طبقے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ٹیکس وصول کرے گی۔ یعنی اگر اس سال اس طبقے سے 600 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں تو اگلے مالی سال میں یہی رقم بڑھ کر تقریباً 700 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔" مفتاح اسماعیل Miftah Ismail Absar Alam

Arbaz Raza Bhutta

22,754 views • 3 months ago