Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ہمارا کوئی بندہ گرفتار ہوا ہم اُس تھانے کو آگ لگائیں گے لبیک یا حسین لبیک یا حسین ایتھے میزائیل نہیں سُٹے ایتھے پراکسی جتھے سُٹ دتے اتنا جلاؤ گھیراو کرنے کے بعد زندہ فوجی جوان جلانے کے بعد ان پلیدوں کو پاک ہستی کا نام لیتے شرم آنی...

63,268 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

کبھی کبھی منظر آنکھوں سے نہیں، سیدھا دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ آج اڈیالہ کے باہر ان تینوں بہنوں کو پریشان دیکھ کر جو کیفیت بنی، وہ لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ چہروں پر تھکن، آنکھوں میں انتظار، اور دل میں ایک ہی دعا… کہ سب خیر ہو جائے۔ ڈھائی ماہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ہر دن ایک سال جیسا لگتا ہے جب کوئی اپنا کوئی دور ہو۔ ایسے لمحوں میں سیاست، بحث یا اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی بس انسانیت رہ جاتی ہے۔ دکھ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے، آنسو سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، اور انتظار سب کو ایک سا تڑپاتا ہے لیکن جس کا اپنا بھائی ، بیٹا ، والد یا والدہ جس مشکل سے گزر رہے ہوں اس کی تکلیف صرف اسی کا خاندان محسوس کر رہا ہوتا ہے اور یہ ہم نے 9 مئی کے بعد ہر احتجاج میں گرفتار بے گناہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی انکھوں سے یہ تکلیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔ اللہ سب کے دلوں کو سکون دے اور آسانی پیدا کرے اور عمران خان سمیت تمام بے گناہ قیدیوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین

Ch Awais Younas

12,602 views • 7 months ago

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

62,894 views • 28 days ago

شکریہ کرک۔ میرے پاکستانیو! کرک کی عوام اپنے امن کے لئے نکل آئے ہیں اب آپکا کام ہے ان کی آواز ہر جگہ پہنچانا۔جب سیکورٹی کے ذمہ داران پارلیمان ،عدلیہ ،میڈیا، الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے فتح کرنے کے بعد چلغوزے کی کاشت اور کھیتی باڑی میں مصروف ہوں۔جب ان کی تمام توانائیاں ملک کے مقبول ترین لیڈر اور ان کی پارٹی کو کچلنے اور ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں صرف ہورہی ہوں۔ جب حفاظت کرنے والو سے ہی آپ کو خطرہ ہو تب آپ کو اپنا امن خود بحال کرنا پڑتا ہے۔جب آگ گھر کی دہلیز پر ہو اور آگ بجھانے والے آگ بھڑکا رہے ہوں تو اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو خود بچانا پڑتا ہے۔ میرے پاکستانیو! یہ ملک ہمارا ہے، یہ گھر ہمارا ہے اور ہم نے مل کر تمام سیاسی وابستگیوں ذات پات قومیت سے بالاتر ہوکر اس کو بچانا ہے۔ ۲۰۲۲ میں جب مالاکنڈ سوات دیر بونیر میں یہ جنگ لائی گئی تو دو مرتبہ ہم نے اپنے زور بازو سے ان کو نکالا تھا، اب سابقہ فاٹا اور جنوبی اضلاع سے انکو نکالنے کا عزم کرنا ہے۔کرک آغاز ہے میرے مہمند، باجوڑ،لکی مروت، وزیرستان، ٹانک، ڈی آئی خان اور خیبر کے غیرت مندوں تیار رہو انشاءاللہ جلد مل کر وہاں بھی امن کے پرچم کے سائے تلے نکلیں گے۔اور پھر دیر باجوڑ سے لیکر بلوچستان تک سب کو متحد کرکے پنڈی اسلام آباد کا رخ کرینگے۔آپ نے چوکیداری چھوڑ کر سیاست شروع کر دی ہے ہم نے فی الحال امن کا پرچم تھاما ہے اس سے قبل کے آپ کا کام قوم سنبھال لے اپنے مورچوں پر واپس جاؤ۔ اپنے ڈالروں کے لیے ہمیں آگ میں مت دھکیلو۔ ہمارے گھر، ہماری جانیں، ہمارے بچے، ہمارا مستقبل برائے فروخت نہیں ہے!

Murad Saeed

153,701 views • 1 year ago

پراپوگنڈہ اور جھوٹ مت پھیلائیں، بہت ہی تکلیف دہ چیز کوئی بھی تھوڑا سا بھی دل رکھنے والا تکلیف محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا اللہ پاک اس بچے کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائیں، آمین۔۔ بچے کے باپ کے پاس فتنہ خان نیازی کو ٹکٹ کی رشوت دینے کے لئے ایک کروڑ روپیہ تھا۔ لیکن شوکت خانم ہسپتال میں بچے کی پیدائشی بیماری کے علاج کے لیے ٹکا نہیں تھا؟ اب آتے ہیں آگے جو پروپوگنڈہ کیا جا رہا ہے عباد فارقق کو 9 مئی کے واقعات کا سہارا لے کر پولیس یا اداروں نے جان بوجھ کے اٹھایا ہوا ہے تو ایسا کہنا بلکل غط ہے میں 9 مئی کی 2 ویڈیو اسی پوسٹ پر اپلوڈ کی ہیں جس میں عباد فاروق تور پھوڑ جلاو گھراو کرتا صاف نظر ا رہا ہے اپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں، مطلب کے اسے اداروں نے یا پولیس نے جرم کرنے کے تناظر میں اریسٹ کر رکھا کے نا کے پریس کانفرنس کے لئے اس کی پریس کانفرنس کی کیا اہمیت یہ صرف ٹکٹ ہولڈر ہے نا کے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے۔۔ اب آگے آتے ہیں کے بچہ اتنا بیمار تھا والد کو یاد کرتا تھا تو ملنے نہیں دیا گیا پہلے نمبر پر تو یہ بات سرا سر جھوٹ ہے، عباد فاروق کی 2 بار اس کے بیٹے سے ہاسپٹل میں ملاقات کروائی گئی اس کا ثبوت ساتھ اٹیچ کر رہا ہوں پوسٹ پر تو بات کا مقصد یہ ہے کے خدارا لاشوں پر سیاست نہیں کریں گندے مقصد کے لئے مت استعمال کریں، پہلے ارشد شریف پر سیاست کی پھر ظلے شاہ کی لاش پر اور اب عباد فاروق کے بیٹے پر خدارا گریز کریں ان حرکتوں سے کیا ملے گا پراپوگنڈہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہونا ہاں لیکن مرنے والوں کے گھر والوں کو ضرور تکلیف ہوتی کیوں ان کی تکلیف کی وجہ بنتے ہو جھوٹ بول کر ؟

چوہدری شاہد محمود

115,408 views • 3 years ago

میں قسمً یہ ٹویٹ کر رہا ہوں اس میں 1% بھی جھوٹ نہیں 🚨 شیر افضل مروت پر سب سے پہلا منظم حملہ عادل راجہ نے کیا، اس کے بعد مخصوص یوٹیوبرز کو لگایا گیا، تاکہ ایک بہادر آواز کو آہستہ آہستہ متنازع بنا کر خاموش کیا جا سکے۔ 🚨 جب مروت صاحب پارٹی میں تھے تو وہ ہر احتجاج کی کھل کر حمایت کرتے تھے، بلکہ خود آگے بڑھ کر کہتے تھے کہ میں ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہوں۔ 🚨 شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنا کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا، یہ ایک گہری سازش تھی، جس کا مقصد احتجاجی سیاست کو دفن کرنا تھا۔ 🚨 مروت صاحب جب عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر آتے تھے تو عوام کو ایک ایک لفظ سچ بتاتے تھے، بغیر ڈر کے، بغیر فلٹر کے، اور یہی بات سلمان اکرم راجہ اور چند دیگر ممبرز کو سب سے زیادہ چبھتی تھی، کیونکہ اس کا مؤقف سخت اور دو ٹوک ہوتا تھا۔ 🚨 شیر افضل مروت کو ہٹانے کے بعد احتجاجی تحریک واضح طور پر کمزور پڑ گئی، نہ پنڈی میں کوئی مؤثر احتجاج ہوا اور نہ ہی اسلام آباد میں کوئی طاقتور آواز اٹھی۔ 🚨 عمران خان کی ہر پیشی پر سلمان اکرم راجہ مروت صاحب کے حوالے سے خان صاحب کو گمراہ کرتے رہے اور حقائق کے برعکس باتیں پہنچاتے رہے۔ 🚨 جب مروت صاحب ملاقات کے لیے جاتے تھے تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان کا نام لسٹ سے نکلوایا جاتا تھا، تاکہ وہ خان صاحب تک سچ نہ پہنچا سکیں۔ 🚨 سوال بہت سادہ ہے: آج اگر شیر افضل مروت غدار تھا تو آپ سب وفادار ہو، پھر آپ اسلام آباد میں احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ 🚨 آپ پنڈی میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟ وہ تو اکیلا تھا، پھر بھی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ 🚨 آج آپ سب موجود ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں — فیصلہ آپ خود کریں، نقصان کس کا ہوا اور فائدہ کس کا۔ Sher Afzal Khan Marwat Mohammad Shehzad Khan Shams Khattak EliteSocialClub Zahid Khan Marwat Ali Muhammad Khan

Arman Khanx

75,413 views • 9 months ago

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 views • 4 months ago

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 views • 2 months ago

ترجیحات کا اندازہ اس سے لگالیں!! نوٹ خواں اور انکے مداح نے محافل نعت کے نام پر جو مسلک حق اہلسنت کو نقصان پہنچایا ہے اسکا ازالہ دہائیوں تک نہیں ہوسکے گا مدارس ویران ہیں قرآن کریم سے درس قرآن سے دوری تین کاموں نے اہلسنت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا درباروں کے مجاور جنہوں نے مریدین کو دین سے جوڑے کی بجاے اپنی ذات کو پیش رکھا محافل نعت کے نام پر مدارس کی ویرانی اور آجکل عمرہ کا ٹرینڈ جی حاضری کا وقت ہو گیا مدینہ پاک سے بلاوا آگیا جبکہ یہاں مریدین کو جس اصلاح کی ضرورت تھی وہ ناپید ہو گئی مدارس کے طلباء کو جس تربیت کی ضرورت تھی وہ خواب بن گئی افراد کی تربیت کے بجاے ہم اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے عمرے پر عمرہ کیے جارہے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر مبارک میں کتنے عمرے اور حج ادا فرماے علماء کو سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر حرمیں شریفین کی طرف تو نہیں بھاگ رہے؟ مجھے پتہ ہے اس پر بھی گالیاں ہی سننے کو ملنی ہیں لیکن درد دل رکھنے والے لوگ میری بات کو ضرور سمجھیں گے۔۔ کیا دیا ان نعت خوانوں نے مسلک کو؟ سواے بے عملی ،جنت کے ٹکٹس بازو ہلانے پر جنت محفل میں رات جاگنے پر جنت بھلے نماز نہ پڑھو مجھے بچوں کو پڑھانے کے لیے قاری صاحب کی ضرورت تھی مگر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا وہ بندہ جو تجوید و قرات سے بچوں کو قرآن پڑھا سکے باوجودیکہ منہ مانگی فیس دینے پر بھی تیار تھا خدا را اپنی ترجیحات بدل لو!!

Mohammad Hayat

33,472 views • 5 months ago

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 views • 1 year ago

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 views • 1 year ago

یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔

Matiullah Jan

255,843 views • 2 years ago

کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہ پہلے منظور تھی نہ آئندہ منظور ہے ،یہ بات کور کمانڈر اجلاس میں واضع طور پر بیان کردی گی تھی ،نہ ہی تو کوئی اس وقت ایسا موقع تھا نہ موقع ہے ۔اپ دوسروں کو اپنے وطن بلا کر پریشر ڈالیں ۔آزادی یا موت نعرہ آج بھی قائم ہے انشاللہ قائم رہے گا ۔اگر مسٹر خان نے ڈیلیں کرنی ہوتی تو تین سال اپنی زندگی ،لوگوں کی زندگیاں ،اپنا خون بہانے کی کسی کو کیا ضرورت تھی ،آپ باز رہیے ۔ الو کا پھٹہ سہیل آفریدی اسی طرح کور کمانڈروں کی باتوں میں ا کر اُدھر اُدھر بھاگتا رہا تو اس کا حال بھی مسٹر غنڈا پورا جیسا ہی ہو گا ۔ادارے کے چیف اس وقت امارات کے صدر کو بتا رہے کہ سہیل آفریدی کو ملک بھی کہیں بھی انے جانے کی اجازت ہے کوئی رکاوٹ نہیں ،جبکہ سہیل آفریدی کو کہا گیا تھاآج کے دن مسٹر خان کی رہائی کے لیے احتجاج کال کرے ،تاکہ انے والے مین رجیم کردار کے ساتھیوں کو پتہ چل سکے قوم مسٹر خان کی رہائی ہر صورت چاہتی ہے ۔پنجاب کے دورے بعد میں بھی کیے جا سکتے تھے ۔ اسی طرح بے مقصد ،باتوں میں ا کر اہم دن بے مقصد دورے کے کوئی نتائج نہیں ملنے والے سوائے ،آپ شوشل میڈیا پر واہ واہ کرانے کے ،یہی وجہ ہے جب بھی اسلامی ممالک جو رجیم چینج کرانے میں اہم رہے ہیں ان کے سربراہ مملکت کے وقت پی ٹی آئی کوئی احتجاجی کال نہیں دیتی تاکہ ریکارڈ رہے ،لیکن جیسے ہی چین کی کوئی اہم شخصیت کسی دورے کا اعلان ہوتا ہے ،پی ٹی آئی کو دیے ہوئے کمپرومائز وکیل اور آزاد سیاسی لیڈر جو ادارے کے لوگ ہین ،ایکٹو ہو کر احتجاج کرنے ا جاتے ہیں جبکہ وہ سب ادارے کے لوگ ہوتے ہیں ،اصل پی ٹی آئی نہیں ہوتی ۔دونوں صورت میں ادارے کو بیچنے کے مواد پی ٹی آئی کے خلاف مل جاتا ہے ۔چین کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ملک دشمن عناصر اسلامی ریاست کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ارد گرد مصروف کیوں رہتی ہے ؟ مسٹر آفریدی اپنی سوچ کو پختہ کریں ،عمل نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کسی اور کو انے دیں ،آپ کا پہلا مقصد مسٹر خان کی رہائی ،اسٹریٹ موومنٹ کے لیے پنجاب کی قیادت کی زیادہ زمہ داری تھی کہ آپ لاؤ لشکر کے کر آج ہی لاہور جاتے ،پی ٹی آئی کو اپنی اسمبلی اور اسلام آباد پرامن احتجاج کی کال دینی چاہیے تھی تاکہ جو پیغامات لے کر اتے ہیں ان کو پتہ رہے قوم مسٹر خان کے ساتھ پہلے دن کی طرح کھڑی ہے ،کچھ بھی نارمل نہیں ہے ۔ 🥷🏼🪐🥷🏼✍️🥷🏼🪐👁️۵۲۸۱/۸۲۷۲🥷🏼🪐🥷🏼🪐🥷🏼👀👀👀👁️۲۵۱۷۱)۷۲۸۱🪐🥷🏼🪐✍️✍️🪐🥷🏼🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️👁️👁️🥷🏼🪐۲۶۱۸۲۹۲۶/۶۱۷۱🪐🪐۶۲۷۱۸۲۶۲/۶۲۷۲۸ آپ ہارے ہیں آپ ہار چکے ہیں ،چاہیے آپ شیشے کے پیچھے بیٹھ کر بھی ہار چکے ہیں ،آخری دم تک آزادی یا موت کا نعرہ جاری ہے ۔علیمہ خان کی بات کو حتمی سمجھا جائے ،کسی قسم کے کوئی مزاکرات نہیں ہوں گے ،پہل آپ نے کی تھی معافی بھی آپ کی پہل سے ہوگی ورنہ بھول جائیے جو کہتے ہیں پھر حل کیا ہے ؟ حل ایک ہی ہے عدالتیں آزاد ہو کر آزادی دیں ،سیٹیں 201واپس کی جائیں ،جیلوں میں قید فوجیوں سمعت پی ٹی آئی کے لوگ رہا کی جائیں ،ساری دنیا ملا کر بھی آپ ہاریں گے انشاللہ اللہ آپ حق ہے ،حق کی فتح دیر سے چاہیے ہو لیکن ہو گی ۔ قوم پر امید رکھے انشاللہ اللہ آسانی بھی لائے گا ۔

SAGA in Field

61,188 views • 9 months ago