正在加载视频...

视频加载失败

”ہمارے والد تقریباً 6 بائی 8 فٹ کے تنگ سیل میں قید ہیں، جہاں سیدھا کھڑا ہونا بھی مشکل ہے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ وہ گندا، مٹی والا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ کھانا انتہائی ناقص ہے، وہ کبھی شکایت نہیں کرتے، مگر جو ہمیں بتایا...

15,771 次观看 • 9 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی۔ مجھے ہدایت دی گئی کہ میں عمران خان سے ملاقات کروں ،میں القادر ٹرسٹ کیس میں میاں بیوی دونوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس فیصلے میں سزائے موت یا عمر قید شامل نہیں ہے۔ یہ 14 سال کی سزا ہے ایسے کیس میں جہاں ایک روپے کی بھی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔۔ سوال یہ ہے کہ جرم کیا ہے؟سابق وزیراعظم ہیں، اور ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ پڑھا ہے۔ ہم قانون سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 تنہائی قید کی اجازت دیتی ہے لیکن آپ حیران ہوں گے۔میرا 25 سال کا تجربہ ہے، میں نے ہزاروں قتل کے کیسز دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس طرح کی تنہائی قید نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے کیسز میں بھی نہیں۔جیلوں میں ایک نظام ہوتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو وقتی طور پر الگ رکھا جاتا ہے، چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے، لیکن ایسا سلوک 74 سالہ خاتون کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔اس ملاقات میں عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ یہ تنہائی قید ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے اذیت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وکلاء تک رسائی نہیں، خاندان سے ملاقات نہیں، ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں، پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ دیواریں دیکھنے تک کی آزادی نہیں۔وہ بار بار یہی بات دہراتے رہے کہ یہ قید کتنی تکلیف دہ ہے اور کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔جب میں نے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھا تو جیل سپرنٹنڈنٹ جو سزا دے رہا ہے وہ فیصلے میں درج ہی نہیں۔ کیا یہ حیران کن اور تشویشناک نہیں؟یہ انتہائی سخت سزا ہے، جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر منصفانہ اور قابل مذمت ہے۔مزید یہ کہ ان کی ضمانت بھی نہیں سنی جا رہی۔ ہم بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی تنہائی قید کو فوری طور پر ختم کیا جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عمران خان اپنے کیسز لڑ رہے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔ہم آئین کے آرٹیکل 10A اور منصفانہ ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے حالات میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے بایومیٹرک روم سے گرفتار کیا گیا۔ اور اب انہیں مسلسل مختلف کیسز میں قید رکھا جا رہا ہے، نہ اپیل سنی جا رہی ہے نہ ضمانت، اور انہیں تنہائی قید میں رکھا گیا ہے۔عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ قید اذیت ناک ہے اور بار بار اس پر زور دیا۔سلمان صفدر

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

48,325 次观看 • 5 个月前

یہ جو عمران خان کی AI تصویریں بنا بنا کر نکالی جاتی ہیں، لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی عمران خان کی یہ تصویر ہے؟ کبھی انہیں ویل چیئر پر دکھایا جاتا ہے، کبھی بستر پر لیٹا ہوا، سفید بالوں اور ایک انتہائی بوڑھے انسان کے روپ میں۔ جن لوگوں نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی ہے، وہ بھی آپ کو بتائیں گے، اور جن ڈاکٹروں نے انہیں دیکھا ہےوہ بھی گواہی دیں گے کہ ماشاءاللہ عمران خان جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ وہ روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے ورزش کرتے ہیں، ایسی ورزش جو شاید آپ میں سے بہت سے نوجوان بھی نہ کر سکیں۔ ان کا اپنا ایک ڈسپلن ہے اور وہ ماشاءاللہ جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ اکتوبر تک عمران خان کوئی دوا استعمال نہیں کر رہے تھے، سوائے ایک معمولی دوا کے اس کے علاوہ آج تک انہوں نے کوئی باقاعدہ دوا استعمال نہیں کی۔ ہم یہی سوال حکومت سے کرنا چاہتے ہیں کہ ایک جسمانی طور پر فٹ انسان، جو ایمان رکھنے والا ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے، جب آپ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر توڑ نہیں سکے تو یہ حرکتیں کر رہے ہیں؟ کیا آپ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں؟یہ سب کس لیے کیا جا رہا ہے؟کیا اس لیے کہ آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران خان ٹوٹ کیوں نہیں رہا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سب کچھ چھپا کر کیوں کیا جا رہا ہے؟ آزاد اور غیر جانب دار ڈاکٹروں کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟۔ علیمہ خان Aleema Khanum #عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو

PTI

101,733 次观看 • 1 个月前

”میرے کزنز اور خالاؤں کو رات کے اندھیرے میں، نقاب پوش مسلح افراد نے ان کے گھروں سے اُٹھا کر نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا، حالانکہ ان پر کوئی الزام یا مقدمہ نہیں۔“ ”یہ لوگ میرے والد کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ کسی بھی قسم کا احتجاج ان کے اقتدار کیلئے خطرہ بن جاتا ہے۔“ ”ان میں ذرا بھی انسانیت نہیں، نہ ہی ان میں کوئی شرافت یا عزتِ نفس باقی ہے۔ یہ مردوں، عورتوں، حتیٰ کہ بچوں کو، چاہے کوئی بھی ہو، اٹھا لے جاتے ہیں۔“ ”میرے والد کو روزانہ 23 گھنٹے سے بھی زیادہ قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا انسانی سلوک نہیں کیا جا رہا۔“ ”یہ میرے والد کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی انہیں قتل کرنے کی کوشش کی اور اب ایک کوٹھڑی میں انہیں آہستہ آہستہ گھٹنے پر مجبور کرنے اور ذہنی اذیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتقامی مہم ہے، جس کا مقصد انکی جان لینا اور ان کے اردگرد موجود ہر آواز کو خاموش کرنا ہے۔“ ”ہم نے جنوری میں اپنے ویزوں کیلئے درخواست دی تھی، لیکن حکومت اس کا جواب دینے سے انکاری ہے۔ وہ واضح طور پر چاہتے ہیں کہ ہم NICOP کیلئے درخواست دیں تاکہ ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے وہاں جائیں اور پھر وہ ہمیں گرفتار کر سکیں۔“ ”حکومت کو لگتا ہے کہ ان کے پاس مکمل اختیار ہے۔ اگر ہم NICOP پر پاکستان جائیں تو وہ بہت آسانی سے ہمیں قتل کر سکتے ہیں یا جیل میں ڈال سکتے ہیں۔“ ”میں اپنے والد سے ملنا چاہتا ہوں، یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ اس وقت میں انہیں دیکھنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔“ قاسم خان #PakistanUnderFascism

PTI Islamabad

13,727 次观看 • 10 天前