Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ہُن توانوں تھانے جاون دی لوڑ نئیں، تھانہ تواڈے کول آوے گا ‼️

189,237 Aufrufe • vor 10 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

راولپنڈی تھانہ وارث خان کا سب انسپکٹر موٹر سائیکل مکینک کے مزدوری مانگنے پر طیش میں آ گیا دکاندار کو چھوٹے مقدمہ میں دھر لینے کی دھمکی لگا دی راولپنڈی کے علاقہ کمیٹی چوک میں واقع خرادیہ کی دکان پر موٹر سائیکل کا کام کرانے کے بعد بارہ سو روپے مزدوری مانگنے پر تھانہ وارث خان کے سب انسپکٹر نے طیش میں آگیامتاثرہ محنت کش وسیم کا کہنا ہے کہ کمیٹی چوک میں میری خراد کی دکان ہے۔ 23 فروری 2025ء کو تھانہ وارث خان میں تعینات سب انسپکٹر نے مجھ سے اپنے موٹر سائیکل کا کام کروایا ۔ جس کی مزدوری جب میں نے بارہ سو روپے مانگی تو پولیس آفیسر نے ڈسکاؤنٹ کرنے کا کہا۔ میں نے دو سو روپے چھوڑا اور ایک ہزار روپے دینے کا کہا تو وہ غصّے میں آگیا۔ میری دکان پر ایک موٹر سائیکل کا فریم کام کے سلسلے میں آیا ہوا تھا۔ جس کے کاغذات بھی موجود ہیں۔ سب انسپکٹر کی نظر اس فریم پر پڑی تو وہ مجھ سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے فریم کی تصاویر بنانے لگا اور مجھے دھمکی دی کہ تمہیں چوری کے کیس میں پھنسا دوں گا۔ متاثرہ دکاندار وسیم نے آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Eigensinn

25,540 Aufrufe • vor 1 Jahr

نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔ ​تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔ ​ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔ ​پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔ ​بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ​آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔ ​میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

PTI

13,532 Aufrufe • vor 2 Monaten