Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

''یار جب ایم کیو ایم کا دور تھا، جب یونٹ اور سیکٹر انچارج ہمارا ہوتا تھا تو کوئی ہمت نہیں کر سکتا تھا کہ ہمارے علاقے میں بدمعاشی کرے۔ یہ کراچی کے ساتھ سارے مسائل زبان کی وجہ سے ہیں، اردو بولنے والوں کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے،...

24,672 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 views • 9 months ago

ہم نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں زرداری کنگڈم پر ایک ڈاکیومنٹری اپلوڈ کی تھی ۔۔ جس پر لوگوں نے ہمیں بہت سراہا اور ہمت کی داد دی کہ سمجھ نہیں آتا پاکستان میں اتنی ہمت کا مظاہرہ کوئی کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔ اور لوگوں نے ہمیں بہت پوچھا بھی کہ ڈر نہیں لگتا؟ جس پر ہم نے پمیشہ ایک ہی بات کی کہ اللہ کا حکم ہے کہ 'اے ایمان والوں حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائے' تو ہم کچھ خاص نہیں کر رہے بس وہی کر رہے ہیں جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ۔۔۔ لیکن آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس ویڈیو کے صرف یوٹیوب پر ہی دو ملین سے زائد ویوز ہیں جبکہ دیگر پلیٹ فارمز ملا کر تو 10 ملین سے زائد بنتے ہیں ۔۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں کیا خاص بات ہے، تو جناب ہمارے لیے یہ نمبر اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں اس مشکل دور میں ان لوگوں کی تعداد ہے جو نہ صرف حق اور سچ کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں بلکہ اُس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ ڈاکیومنٹری نہیں دیکھی تو کمنٹس میں لنک موجود ہے لازمی دیکھیں

Raftar

42,913 views • 11 months ago

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 views • 3 months ago

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 views • 18 days ago

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

64,460 views • 1 month ago

میں اتنا بڑا فیصلہ تنہا نہیں لے سکتا۔ بحیثیت سہیل آفریدی، بحیثیت بیرسٹر گوہر، یا بحیثیت سلمان اکرم راجہ، ہم یہ نہیں کر سکتے۔ ہم نے ان سے یہاں تک کہا تھا کہ بسم اللہ، ہم آپ سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اسے ایک مجرمانہ عمل (criminal) سمجھتا ہوں کہ آپ ایک قیدی کو مجبور کریں کہ آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں یا ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ ​اگر آپ کی ان سے بات ہوئی ہے اور آپ واقعی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو ایمانداری سے ہمیں بتائیں کہ آپ کا الجھاؤ کس بات پر آیا ہے؟ یہ الجھاؤ آپ نہیں ٹھیک کر سکتے، اس الجھاؤ کو صرف سچ ہی ٹھیک کر سکتا ہے، ہمیں سچ بات بتائیں۔ ہمیں ان سے ملنے دیں۔ تحریک انصاف کے لوگ ملیں گے تو ان کا لیڈر غصہ کرے گا، دیکھنا ہوگا کہ ذہنی طور پر وہ کس حال میں ہیں اور کتنے فرسٹریٹڈ ہیں۔ جب ہم ملیں گے تو ہم ان سے پوچھیں گے کہ آپ کے ساتھ جیل میں کیا مذاکرات ہوئے؟ ​اگر آپ نے، سرکارِ نامدار، واقعی معقول بات کی تھی اور عمران خان نہیں مان رہا تھا، تو میرا آپ سے وعدہ ہے میں عمران سے کہہ دوں گا کہ تم غلط کر رہے ہو۔ لیکن اگر آپ اسے تنگ کر رہے ہیں اور توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ ظلم اور زیادتی ہے۔ جہاں آپ کا الجھاؤ آیا ہے، یہ الجھاؤ ہم سیاسی لوگوں نے ہی درست کرنا ہے۔ ہم جب اس سیاسی آدمی سے ملیں گے اور پھر آپ کے سیاسی لوگوں سے ملیں گے، تو ہم ان مسائل کا حل نکال دیں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مارچ ختم ہو، تو ہمیں ملنے دیں۔ ​اور اگر آپ نے طاقت کے زور پر (by force) یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے انہیں توڑنا ہے، تو یہ مجرمانہ اور زیادتی ہے۔ ایک لیڈر نے الیکشن جیتا ہے، اس نے کون سا ایسا گناہ کیا ہے کہ آپ اسے پیٹیں گے؟ یا خدانخواستہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اسے مار دیں گے؟ آپ نے بھٹو کو مارا، اس کا کیا فائدہ ہوا آپ کو؟ ​قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

27,189 views • 7 days ago

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,105 views • 5 months ago

آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانیCount de Monet بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔ ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇

Javed Hashmi

66,609 views • 11 days ago