正在加载视频...

视频加载失败

یہ کس کھوتی چینل کا کھلا ہوا کھوتے کا پتر ہے؟ اسے رسی ڈال کر رکھنا چاہیے تھا۔ اس کھوتے کے پتر کو مائیک دے کر ٹیچر پر چھوڑ دیا گیا۔ ہر ایرا غیرا نتھو ٹیچرز اور ڈاکٹرز پر ایسے دوڑتا ہے جیسے اس ملک کے ٹیچرز اور ڈاکٹرز...

44,473 次观看 • 22 天前 •via X (Twitter)

25 条评论

Hussnain Ahmed 的头像
Hussnain Ahmed21 天前

جس کے پاس کوئی کام نہیں، وہ مائیک اور کیمرہ لیکر صحافت کے لیے نکل پڑتا ہے۔ کچھ تو چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔

MNAsif 的头像
MNAsif21 天前

قسمیں خدا کی اگر میں ھوتا تو اس مائک والے بندے پر اتنی زور سے تھپٹر مارتا کہ یہ اڑ کے دیوار سے لگتا۔ یہ خبیس لوگ مائک ہاتھ میں لیکر ہر کسی کی انسلٹ کرنا شروع ھو جاتے نہ بچے دیکھتےنہ جگہ دیکھتے

Màhàr Àlï 的头像
Màhàr Àlï21 天前

آئی ایم کمنگ ہیئر ھاھاھاھاھاھا، دھر فٹے تیری انگریزی دے... آج کل کے صحافی، چند ایک جو چھوڑ کر طوائفیں ہیں، آپ پیسہ دو، اور جن پر مرضی چھوڑ دو!!

Parinday 的头像
Parinday21 天前

علاج اسکا یہ تھا کہ اسکو دو لگائی جاتیں اور اس کی تربیت بھی ہو جاتی اور ساتھ طبیعت بھی صاف ہو جاتی۔

Adnan Nazar 的头像
Adnan Nazar22 天前

وہاں گودی میڈیا یہاں کھوتی میڈیا 😂😂

FZ 的头像
FZ21 天前

Iss ko chammat kyun nahin maar raha teacher?

N H KHICHI 的头像
N H KHICHI21 天前

صحافی کی انگلش جانو جرمن والے ڈرامے والی ہے

Sahib 的头像
Sahib21 天前

بلیک میلر جاہل صحافی

فوجی بابا 的头像
فوجی بابا21 天前

بندہ اس پین کے چوڈ سے پوچھے کہ تو کون ہے ماں کے جنے۔کھوتی کے بچے

Shunnu 的头像
Shunnu21 天前

Inferiority complex that is why

Dom 的头像
Dom21 天前

کتنا بے غیرت ہے یہ مائیک پکڑ کر اونچی بولنے کا لائسنس مل گیا اسے۔ تھپڑ مارنا چاہیے، تھا اس بےوقوف کے منہ پر۔ اس ٹیچر صاحب کی برداشت کو سلام جو اس جاہل کا منہ لال نہیں کیا

TR 🇵🇰 的头像
TR 🇵🇰21 天前

جس دن کوئی خر دماغ اسکو ٹکر گیا اس دن کے بعد زندگی بھر مائیک کو ہاتھ بھی نہیں لگائےگا، خبیث! 😡

Global Helping Hands 的头像
Global Helping Hands21 天前

Tarbiat nahye ha gadhye ki

Fahad Saeed 的头像
Fahad Saeed21 天前

I'm coming here.... چک کے رکھو انگریزی نوں ۔۔۔۔۔🤣🤣🤣🤪😂😂😂🤣

@AsifMak747 ipian 的头像
@AsifMak747 ipian22 天前

بڈھی کو چاہئے پٹواریوں کو انگریزی کی کلاس لگوانے اسی بہانے کچھ سیکھ جائیں گے @RashidNasrulah اپنے بھائی کو کچھ سکھا دے 😜

Sahib 的头像
Sahib21 天前

پرچہ دو اس کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کے خلاف

Arshad Iqbal 的头像
Arshad Iqbal21 天前

کھوتا اسے بھی صحافی کہتے ہیں حیرت ہے

🤣 的头像
🤣21 天前

اس کو داخل۔کر لو بھائی اس اسکول میں

sodgar 的头像
sodgar21 天前

As ko duo lag jati tuo set ho jata

Muhammad Tahir 的头像
Muhammad Tahir21 天前

Do char lagai hoteen to bhag jata

AWAN SB.019 的头像
AWAN SB.01921 天前

Koi chabl lagta hy

Hamza 的头像
Hamza21 天前

Ye tri CHOTI Bhan ka bra yr h ly ab pta chl gya nekl idhr se

umar hayat 的头像
umar hayat21 天前

@SAMAATV ye chotia apka reporter hai

Asad Khan 的头像
Asad Khan21 天前

Fuck the journalist

💚I M🇵🇰💚 的头像
💚I M🇵🇰💚21 天前

Bachon k samny es janwar ny itna drama lgya? Y kiya treeqa hy govt school m gus kr kisi b teacher ko bezat krny ka. Kis ny ijazat di hy enko k teachers pr charh doren. Esy logon ko hkumat fori lgaam daaly. Hr koi ustaad ki tzleel ko apna haq smjh rha hy..y kesi baat hy..?

相关视频

ریڑھی چھینی تو چھینی... غریب کا خون پیا تو پیا... پنجاب کے غریبوں پر مسلط یہ خودنمائی کے مرض میں مبتلا مریم کا کٹھ پتلی راج عوام پر ایک عذاب ہے، جو طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اب غریبوں کے چولہے بجھانے پر اتر آیا ہے۔ ریڑھی بانوں اور دیہاڑی داروں پر گرنے والی ہر لاٹھی اس فاشسٹ سوچ کا اشتہار ہے جو پورے صوبے کی معیشت کو نگلنے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہے۔ اس عمر میں اس لڑکے کو مستقبل کے سپنے سجائے کالج میں ہونا چاہیے تھا، مگر اس جبری مسلط شدہ نظام نے اسے سڑکوں پر رول دیا۔ اس قوم کا المیہ یہ ہے کہ جو لیڈر ان نوجوانوں کو کتاب اور شعور دینا چاہتا تھا، اسے انتقام کی آگ میں جھونک کر قیدِ تنہائی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اقتدار کے نشے میں دھت یہ ٹولہ یاد رکھے؛ یہ ظلم اس مظلوم نسل کے اندر ایک لاوا پکا رہا ہے۔ جس دن اس نوجوان نسل کا سیاسی شعور مکمل ہوا، اسی دن تمہارے اس جبر کے بت پاش پاش ہو جائیں گے اور تمہارے اس اقتدار کی سانسیں اکھڑ جائیں گی!

PTI

14,103 次观看 • 3 个月前

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

156,031 次观看 • 8 个月前

امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا ایک معروف نظریہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی نجات دہندہ، مسیح یا اوتار کے ظہور کا تصور موجود ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب اور مسالک نے اپنے اپنے ویٹنگ روم بنا رکھے ہیں، جہاں وہ کسی عظیم ہستی کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ آئے گا، ظالموں کو نیست و نابود کرے گا، مظلوموں کو سربلندی عطا ہوگی، اور انتظار کرنے والے اس کے لشکر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تصور کے تحت سب اس کی آمد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کسی امام مہدی یا اوتار کے منتظر ہیں۔ یہ ان کا فکری اور اعتقادی زاویہ ہے۔ لیکن دلچسپ اور المیہ پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص واقعی امام مہدی یا اوتار ہونے کا دعویٰ کر دے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی اسے قتل کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر گروہ اسے “جعلی” امام سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، اس نام نہاد “جعلی” امام کو بھی کچھ لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی: “انتظارِ مہدی و مسیح”۔ یہ علامہ محمد اقبال اور علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی کے درمیان خطوط کا مجموعہ تھا۔ اس کتاب میں علامہ تمنا عمادی کا موقف یہ تھا کہ مہدی اور مسیح کی دنیا میں آمد کے انتظار کا تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔ شکریہ سبوخ سید

Sabookh Syed | Journalist

56,959 次观看 • 8 个月前

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 次观看 • 4 个月前

افغان مہاجرین کی جبری انخلاء کا فیصلہ جذباتی قسم کا ہے،افغانستان سے ناراضگی کا زور ہم ان کے ہم مہاجرین پر نکال کر انہیں تکلیف دے رہے ہیں،یہ مسئلہ 2017 میں اٹھا تھا،اس وقت ہم نے تجویز دی تھی کہ آپ کیٹگریز طے کریں، اس میں ایک کیٹیگری گریجوئیٹ مہاجرین کی ہے، یہ لوگ پاکستان کا اسکل ہیں، ان کو دھکے دے کر نکالنے بجائے ملکی ترقی کے لئے انہیں کھپانا چاہئے۔ دوسری کیٹیگری افغان سرمایہ کار کی ہے جو پچھلے 35 برس سے اقتصادی ترقی میں حصہ ملا رہا ہے، ان کے سرمایہ کو تحفظ دیا جائے، اگر وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں گے تو اس کے اثرات معیشت پر ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری طلباء کی ہے، جن کی منتقلی سے ان کے نصاب میں فرق آئے گا ان کی تعلیم میں حرج ہوگا۔ ان تجاویز کو اس وقت کی کابینہ نے منظور کیا تھا ، اب کونسی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے اور کس نے منظوری دی ہے ؟ افغان مہاجرین یک طرفہ مسئلہ نہیں ہیں،افغانستان پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور ہم نے خوشی سے ان کو قبول کیا تھا اور پھر پشتون معاشرے میں جہاں مہمان نوازی ان کا ایک طرہ امتیاز ہے ان کی روایات کا ایک روشن حصہ ہے، آپ چالیس سال تک کسی کو مہمان رکھ کر جب گھر سے نکالے اور لات مار کر نکالیں گے تو آپ کی چالیس پینتالیس سال کی مہمانداری کا نفی ہوجائے گی۔ اس لئے مہاجرین کے انخلاء کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،ان کی واپسی کا شیڈول طے کیا جائے،یہ واپسی کا کیسا طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے،بین الاقوامی برادری کو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، تو یہ ساری چیزیں نیگوسئیشن سے طے ہو سکتی ہیں اور ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے، الیکشن سے قبل جے یو آئی کا وفد افغانستان گیا تھا،ہم وہاں پر ایک ہفتہ گذار کر کامیاب واپس آئے تو لیکن یہاں حکومت اتنی نااہل ہے کہ انہوں نے ان معاملات کی پاسداری نہیں کی،پاکستان اچھے کردار سے نیک نام ہوگا اس طرح کے کردار سے پاکستان کو آپ بیرونی دنیا میں کوئی اچھا نام نہیں دے رہے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,241 次观看 • 1 年前

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔
2:55

Sensitive content

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔

Saleem Speaks

217,291 次观看 • 6 个月前

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 次观看 • 2 年前