Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

یہ ہے اس دور کی تلخ حقیقت کہ اسلامی جمہوریہ کا نعرہ لگا کر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دی جاتی ہیں ریاستِ مدینہ کا نظریہ صرف نعرہ نہیں، ایک مکمل نظامِ انصاف، امانت اور فلاحِ انسانیت ہوتا ہے۔ #SaveBalochWomen #BalochFightForHumanRights

36,156 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 просмотров • 1 месяц назад

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,908 просмотров • 1 год назад

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 просмотров • 3 месяцев назад

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat
13:25

Sensitive content

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat

Najiba Faiz

88,130 просмотров • 11 месяцев назад