正在加载视频...

视频加载失败

🖤﷽𝐀𝐬𝐬𝐚𝐥𝐚𝐦𝐮𝐥𝐚𝐢𝐤𝐮𝐦﷽🖤 لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ صبر" اگر تھک رہے ہو تو یا درکھو بڑی آزمائشوں پر صبر کے بڑے اجر ہوتے ہیں۔ التجائیں" اگر التجائیں رد ہوئی ہوتیں، تو اللہ یہ کبھی نہ فرماتا کہ مجھ سے...

218,336 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 次观看 • 11 个月前

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,385 次观看 • 1 个月前

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 次观看 • 1 年前

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 次观看 • 8 个月前

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Saeed Ullah Khan

67,924 次观看 • 1 个月前

سہیل آفریدی صاحب میرٹ کو اینشور کرے🚨 اسکا نام سعود گنڈاپور ہے اسکی پوسٹنگ اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر کے طور پر صوبائی اسمبلی میں ہوئی گریڈ 14 پر اے ٹی ایس ٹیسٹنگ کے ذریعے جس میں اتنے بے ضابطگیاں ہوئی ہے کہ ابھی تک انکوائریاں شروع ہے !! یہ حزب اللہ گنڈاپور کا بیٹا ہے جو ایک ٹھیکدار ہے جس نے ڈی آئی خان نکاسی پراجیکٹ ، سیورج لائن ڈی آئی خان جیسے بڑے منصوبے کئے اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کا صدر بھی ہے ذرائع کہتے ہے کہ ٹینڈر اسکے بغیر پاس نہیں ہوتا ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2012 میں حزب اللہ گنڈاپور موٹر سائیکل پر گھومتا تھا آج گلشن کالونی میں 4 کنال کے بنگلے میں رہ رہا ہے جس پر 1 ارب سے زائد خرچہ آیا ہوا ہے،،، کیا اس پر انکوئری ہوسکتی ؟ یہ 14 سکیل کا ملازم ہے اسکو پورے صوبے کا ایکسائز اینٹیلجنس کا سربراہ تعینات کیا ہے مجھے کوئی ایسا قانون بتائے وزیر اعلی صاحب جس کے بدولت یہ تعیناتی آپ جسٹیفائی کرسکتے ہو؟؟ پلیز تاکہ میرے علم میں بھی اضافہ ہو جائے !! اور اگر آپ نے یہ گیم کھیلنا ہے کہ مریم نواز کا کرپشن حرام اور ہمارے والے کرے تو وہ حلال تو پھر مجھ سے گلہ نا کرے کرپشن کرپشن ہوتی ہے اس میں حلال اور حرام نہیں ہوتا ،،، آپکو عمران خان نے میرٹ پر سیلکٹ کیا ہے تاکہ آپ میرے اینشور کرے لیکن بدقسمتی سے کابینہ بھی وہی اور پالسی بھی وہی ہے آپکی !! ناراضگی نا کرے اپنے اردگرد کے تیتر بٹھیروں سے کنارہ کشی اختیار کرے اور صوبے میں میرٹ کو عملی طور پر اینشور کرے شکریہ 🙏

Mohammad Shehzad Khan

85,431 次观看 • 7 个月前

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔
0:19

Sensitive content

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔

Saleem Speaks

52,831 次观看 • 4 个月前

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 次观看 • 1 个月前

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

659,634 次观看 • 2 年前

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

Khadim Ali khan Yousaf zai

16,301 次观看 • 7 个月前

عطا آباد جھیل کے عین درمیان تعمیر ہونے والے ہوٹل کا سیوریج کہاں جا رہا ہے؟ ⚠️ مسئلہ یہ ہے کہ: جب تک کوئی “گورا” سیاح یا ویلاگر کسی چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا، نہ میڈیا توجہ دیتا ہے، نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ ہی عوامی شعور بیدار ہوتا ہے لیکسس Lexus Hotel ہنزہ کے بعد اب Dolphin Floating Resort کا سیوریج بھی براہ راست جھیل میں چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب تک کوئی گورا سیاح یا ویلاگر کسی مسئلے کو ہائی لائٹ نہ کرے، وہ بات وائرل نہیں ہوتی، اور نہ ہی حکومت کوئی ایکشن لیتی ہے عطاء آباد جھیل کے درمیان بنے اس ہوٹل کے بارے میں سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اس کا سیوریج براہِ راست جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے۔ ہم نے پہلے بھی لیکسس ہوٹل کے بارے میں نشاندہی کی تھی، لیکن تب بھی حکومت نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک ایک غیر ملکی سیاح نے ویڈیو وائرل نہیں کی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مقامی لوگوں کی آواز کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ اصل زمینی حقائق سے ہم ہی واقف ہوتے ہیں۔ اب دوبارہ ہم سوال اٹھا رہے ہیں: ❓ کیا واقعی اس ہوٹل کا گندہ پانی جھیل میں جا رہا ہے؟ ❓ کیا کسی ادارے نے اس کی منظوری سے پہلے سیوریج اور ماحولیاتی نظام کا معائنہ کیا تھا؟ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: •فوری طور پر اس ہوٹل کی تحقیقات کی جائیں۔ •اگر الزامات درست ہوں تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے — چاہے جرمانہ ہو یا عارضی بندش۔ یہ صرف ایک ہوٹل کا معاملہ نہیں، پورے عطاء آباد جھیل کے قدرتی ماحول، پانی کے معیار اور سیاحتی ساکھ کا سوال ہے۔ تمام مقامی لوگ، ماہرین، اور باخبر شہری اس پر ایک آواز ہو کر اپیل کر رہے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے ایکشن لے۔

Gilgit Baltistan Tourism.

38,837 次观看 • 1 年前

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 次观看 • 7 个月前

میرے خلاف جس انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ دراصل اسی سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے برسوں سے چند نام نہاد سوشل میڈیا ٹرولز نے پروان چڑھایا۔ مسلسل گالم گلوچ، بہتان تراشی، تضحیک اور دھونس کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، اور یہی رویّہ بالآخر مجھے اس مقام تک لے آیا جہاں آج میں کھڑا ہوں۔ میں اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں ہوں، اس لیے مجھ پر کسی جماعتی ڈسپلن کی اخلاقی یا سیاسی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت قرار دینا دراصل سیاسی عدم برداشت کی بدترین شکل ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ عمران خان صاحب کی غیر منصفانہ سزا کا حوالہ دینے کا مقصد ہرگز کسی کی توہین نہیں تھا بلکہ صرف اُس قانونی اصول کی نشاندہی کرنا تھا جو خود عمران خان صاحب کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 2018 میں میاں نواز شریف کے خلاف طے کیا تھا۔ اصول اگر ایک کے لیے قانون بنے تو دوسرے کے لیے بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ قانون شخصیات کے تابع نہیں بلکہ شخصیات قانون کے تابع ہوتی ہیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے گزشتہ برسوں میں جو طرزِ سیاست اپنایا، وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دینا، ان کی کردار کشی کرنا، جعلی مہمات چلانا اور خاندانوں تک کو نشانہ بنانا ایک کھلا راز بن چکا ہے۔ تمام تر ٹرولنگ، خصوصاً علیمہ خان کے زیرِاثر چلنے والی مہمات کے باوجود، میں نے ہمیشہ خان صاحب کا احترام کیا، ان کا دفاع کیا اور مشکل ترین وقت میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا رہا۔ مگر افسوس کہ پارٹی قیادت یا ذمہ دار حلقے میری بات سننے، وجوہات معلوم کرنے یا آئینی عدالت میں دائر مؤقف پر مجھ سے مکالمہ کرنے کے بجائے سیدھا ٹرولز کو چھوڑنے میں مصروف ہوگئے۔ اگر اختلاف تھا تو دلیل سے جواب دیتے، گفتگو کرتے، نظرِ ثانی کی درخواست کرتے، مگر یہاں تو ہر سمت سے صرف بھونکنے کی آوازیں آئیں۔ یاد رکھیں، پی ٹی آئی کے ہر اُس کارکن کی فطرت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ جتنا اسے دباؤ، جتنا اسے دیوار سے لگاؤ، وہ اتنا ہی زیادہ خطرناک ردِعمل دیتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں، ٹرولنگ اور کردار کشی سے مجھے خاموش کرا لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ میں نے نہ پہلے کبھی کسی کے شور کی پرواہ کی، نہ آج کرتا ہوں۔ البتہ میرا ردِعمل ایسا ضرور ہوگا جو آپ کو بے چین بھی کرے گا، تڑپائے گا بھی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے گا۔ سیاست دلیل، برداشت اور کردار سے چلتی ہے، ٹرولز، گالیوں اور ہجوم کے شور سے نہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

19,517 次观看 • 2 个月前

ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔ ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔ لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔ بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔ معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟ یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ ہے: سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟ کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔ سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔ یہ نظام کب بدلے گا؟ کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟ یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ @@KarachiPolice_@SouthDig

Fahmidah Yousfi

123,710 次观看 • 1 年前

اس شخص کا نام تہران طوری ہے یہ زینبیون کا کمانڈر ہے یہ یاعلی مدد کے نعرے مار کر کیا کہہ رہا کسی بھی پٹھان سے ترجمہ کراکر سن لیں۔۔۔۔ 2007 سے اہلنست کے گاؤں کے گاؤں جلاتے جارہے آج رات بھی اتنی دلخراش اور دردناک ویڈیوز آئ ہیں کہ اگر وہ پوسٹ ہوئیں تو ملک کا امن و امان تہس نہس ہوجانا لیکن انکے قتل پر BBCسے لیکر بڑے بڑے میڈیا چینلز تک کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور تو اورغزہ کے فلسطینی بچے کی فیڈر کی تصویروں کو دردناک کیپشن دے دے کر پاڑہ چناری چھ ماہ کے شہید کی پوسٹیں کرنے والے ہمارے بڑے بڑے ٹوئیپس بھی آج بگن کی خواتین اور بچوں کے اذیت ناک قتل کی ویڈیوز اور لوگوں کے باہر پڑے بھیجوں کی کلپس دیکھنے کے باوجود ایسے خاموش ہیں کہ جیسے یہ مرنے والے تو انسان کے بچے ہی نا ہوں منافقت کے سینگ نہیں ہوتے،کچھ لوگ بیلنس کرنے کے لئیے کہہ دیتے کہ دونوں طرف سے ایسا ہوتا،سو دفعہ کریں!!! جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں! ہمیشہ اہلسنت مارے جاتے، کل اہل تشیع کی گاڑی ٹارگٹ ہوئ، کس نے کی؟ یہ اب تک کنفرم نہیں ہوپارہا، ذرائع کیمطابق ٹ ٹ پ امیر کاظم گروپ ہے یہ کس کا گروپ ہے؟ کوئ نہیں جانتا انہوں نے کیوں خواتین اور بچوں کو ایک اتنے حساس اہل سنت کے گاؤں میں مارا کہ جسکے نتیجے کا پکا یقین تھا کیا نکلنا؟ اس کاروائی کا تو (سو) 100 فیصد اہل سنت کو نقصان ہی ہونا تھا جو کہ ہوا تو پھر کیوں نہیں تحقیقات کیں جاتیں کہ سازش کے پیچھے کون؟؟ جس بگن کے لوگوں نے کل 27 مسافروں کو حملہ آوروں سے بچا کر بحفاظت انکے گھروں تک پہنچایا انہیں آج اس نیکی کا صلہ مل گیا!!! مجھے نہیں پتہ کہ اب آگے کیا ہوگا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میڈیا پر ایران نواز لابی اتنی چھائ کوئ ہیکہ انکی بنائ ISPR کی جھوٹی ٹوئیٹ بھی مین اسٹریم کی خبر بن جاتی اور ہماری سامنے پڑی لاشیں بھی ان اندھوں کو نظر نہیں آتیں!!! میڈیا انڈسٹری پر اس لابی کا اتنا انفلونس ہیکہ چیف رپورٹر سے لیکر بیورو چیفس تک تقریبا ہر چینل میں اسی طبقے کے ہیں آج مجھے PTV کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری ٹی ویژن پورا اس لابی کے نرغے میں ہے،پورے پاکستان کے رن ڈاؤن مینجرز ہوں یا NLE اور آرکائیو والے، فیلڈ رپورٹر ہوں یا اینکر پرسنز وہ دنیا میں کچھ بھی بعد میں ہوتے پہلے مومن ہوتے اور پھر اپنے "مومن پنے" کا حق ادا کرکے ہی رہتے!!!! آفتاب نذیر #پاراچنار #ParachinarBleeds

Aftab Nazir

83,895 次观看 • 1 年前