
Agha Sheikh Sarwar
@Agha_Sarwar804 • 94,796 subscribers
Muslim Pakistani Journalist / Anchor Person / Youtuber / Columnist صحافت کا معنی غیر جانبدار ہونا نہیں مظلوم کا ساتھی اور ظالم کا دشمن بننا ہے
Shorts
Videos

سب سے پہلے میں تمام احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور میرے حق میں آواز بلند کی ہم دھمکیوں اور تشدد سے اپنی ہمت نہیں ہاریں گے اور اسی عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہ کر کوریج کا سلسلہ جاری رکھیں گے کوئی بھی شخص ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا سندھ تحریک کی کوریج کا آغاز ہم نے رحیم یار خان سے کیا تھا لاہور سے اپنی مدد آپ کے تحت مقامی سفری ذرائع استعمال کرتے ہوئے سندھ پہنچے اور کبھی کسی سے غیر ضروری سہولت یا مالی معاونت کا مطالبہ نہیں کیا ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق کام کیا اور ہماری کوشش رہی کہ کارکنوں کی آواز ان کے جذبات اور عوامی ردعمل کو براہ راست سامنے لایا جائے شکارپور میں بھی ہم سہیل آفریدی کے قافلے کی کوریج کر رہے تھے قافلہ آگے بڑھا تو میں نیچے اترا اور پیدل چلنے والے کارکنوں کے انٹرویوز شروع کر دیے بعد ازاں قافلے تک دوبارہ پہنچنے کے لیے ہم نے ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ طلب کی جس نے ہمیں اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا لیا شکارپور کے قریب ایک مقام پر ایک سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی نے ہماری موٹر سائیکل کو راستہ کاٹتے ہوئے روکا اور اوورٹیک کرکے سامنے سے گھیر لیا گاڑی سے چند افراد باہر نکلے اور اسی کارکن پر بھی تشدد شروع کر دیا گیا جس نے ہمیں لفٹ دی تھی جبکہ مجھ پر اور میرے چھوٹے بھائی پر بھی تشدد کیا گیا میں مسلسل انہیں بتاتا رہا کہ میں صحافی آغا شیخ سرور ہوں اور تشدد سے باز رہنے کی درخواست کرتا رہا وہاں موجود متعدد کارکن بھی انہیں آگاہ کرتے رہے کہ میں صحافتی کوریج کے لیے موجود ہوں اور واقعے کے عینی شاہد بن گئے کہ کس طرح مجھ پر تشدد کیا جا رہا تھا اسی دوران نادیہ خٹک صاحبہ کے شوہر جناب ہارون صاحب موقع پر پہنچے اور انہوں نے مداخلت کرتے ہوئے ہمیں بچانے کی کوشش کی تاہم ان کے ساتھ بھی تشدد کیا گیا اسی دوران ایک شخص جس کا نام وہاں موجود افراد کی جانب سے ایمان اللہ بتایا گیا اپنے ایک گارڈ کو مبینہ طور پر فائرنگ کا حکم دیتا ہے جب وہ شخص وہاں سے جانے لگا تو میں نے اسے روکنے کی کوشش کی اور اس سے سوال کیا کہ اپنے لوگوں سے تشدد کروانے کے بعد وہ کس طرح وہاں سے فرار ہو سکتا ہے شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی بھی موقع پر پہنچے جنہیں بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا میرے ساتھی صحافی شاکر محمود اعوان زعیم لغاری اور رائے غلام علی جب واقعے کی ویڈیو بنانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہاں موجود افراد کی جانب سے ویڈیو بنانے والے متعدد افراد کے موبائل فون چھین کر توڑے گئے اور زمین پر پھینکے گئے اسی دوران وہ شخص جو پورے واقعے کے احکامات دے رہا تھا مینا خان آفریدی کی جانب گاڑی چلاتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگیا تشدد کے نتیجے میں میری حالت انتہائی خراب ہوگئی جس کے بعد شاکر محمود اعوان اور دیگر صحافی ساتھیوں کے ہمراہ میں علاج کے لیے شکارپور کے ایک سرکاری ہسپتال پہنچا جہاں طبی معائنے کے دوران میرے دائیں ہاتھ کی انگلی میں شدید چوٹ کی نشاندہی ہوئی جبکہ شاکر محمود اعوان کے بازو پر بھی چوٹ آئی جس کا طبی معائنہ اور علاج کروایا گیا واقعے کے دوران ہماری صحافتی کوریج کا سامان بھی متاثر ہوا ہمارے مائیکروفونز اور موبائل فون توڑ دیے گئے میرا موبائل فون توڑا گیا جبکہ میرے بھائی کا موبائل فون بھی چھین کر توڑ دیا گیا شاکر محمود اعوان کا موبائل فون بھی پکڑ کر ان کے سامنے توڑا گیا زعیم لغاری صاحب کا گزشتہ روز موبائل فون چوری ہوگیا تھا اور انہوں نے آج کوریج کے لیے نیا موبائل خریدا تھا وہ موبائل بھی توڑ دیا گیا رائے غلام علی کا موبائل فون بھی توڑ دیا گیا جبکہ وہاں موجود دیگر کارکنوں کے موبائل فون بھی تشدد کے دوران توڑے گئے جو لوگ واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا میں نے ہمیشہ پی ٹی آئی کو اس وقت بھی کوریج دی ہے جب بیشتر لوگ کوریج سے گریز کر رہے تھے ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق ہمیشہ میدان میں رہ کر کارکنوں کی آواز عوام تک پہنچانے کی کوشش کی ہے اور آج بھی ہمارا مقصد یہی ہے کہ جو کچھ میدان میں ہو رہا ہے اسے عوام کے سامنے حقیقت کے ساتھ پیش کیا جائے پی ٹی ائی کی قیادت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کا احتساب کیا جائے اگر کسی مقام پر ہماری کوئی غلطی ثابت ہوتی ہے تو ہم اس کے جواب دہ ہونے کے لیے تیار ہیں اگر ہمارے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں ہم قانون اور دلیل کے دائرے میں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں ہم نے کل بھی میدان نہیں چھوڑا تھا آج بھی نہیں چھوڑیں گے اور آئندہ بھی اپنی صحافتی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے میدان میں موجود رہیں گے
Agha Sheikh Sarwar132,237 views • 19 days ago

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
Agha Sheikh Sarwar178,336 views • 29 days ago

سندھ میں برداشت احترام بقائے باہمی اور جمہوری اقدار کی بات کی جا رہی ہے جبکہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا معاملہ سامنے آ رہا ہے گزشتہ چند روز کے دوران کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ گرفتاریوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے
Agha Sheikh Sarwar100,488 views • 18 days ago

یہ سلیمان سہیل ہے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے مگر آج جب خود اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تو طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں ذرا ایک لمحے کے لیے اس ماں کا سوچیے جس کے گھر میں اس وقت نہ اس کا بیٹا موجود ہے نہ اس کا شوہر اپنے اختلافات بھول جائیے اور اگر سلیمان سہیل کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے آواز بلند کیجیے
Agha Sheikh Sarwar109,498 views • 22 days ago

میری خبر دینے کے بعد کہ عمران خان نے مشال یوسف زئی کو فارغ کرنے کا کہا تھا اس کے بعد میری پیاری بہن ذاتیات پر اتر آئیں اور مجھ پر الزامات لگانے لگیں اور کہا کہ تم پارٹی لیڈرشپ کے کہنے پر ٹویٹس کرتے ہو "قسم کھاؤ" میں نے قسم کھائی اور کلمہ پڑھ کر قسم کھائی کہ میں کسی پارٹی قیادت کے ایما پر نہیں ہوں پھر میں نے کہا کہ آپ بھی قسم کھائیں کہ آپ صحافیوں کے ساتھ مل کر آڈیو لیکس نہیں کرواتیں تو محترمہ پھر ادھر اودھر کی باتیں کرنے لگیں اور صاف جواب دینے سے گریز کرتی رہیں
Agha Sheikh Sarwar184,542 views • 1 month ago

بات اب محض نغموں سے کہیں آگے جا چکی ہے یہ طرز عمل وردی پوش اہلکاروں کے رویے کی عکاسی کرتا ہے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں ایک باوردی فوجی افسر کی مبینہ فائرنگ پولیس افسر کی جانب سے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر ڈنڈے مارے جانے پر طلبہ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے کرنل کو دھکے دیے کرنل نے طلبہ پر فائرنگ کی کوشش کی تاہم گولی نہ چل سکی بعد ازاں ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے بعد اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے
Agha Sheikh Sarwar121,179 views • 1 month ago

شفا انٹرنیشنل کے باہر سے عوام کو منتشر کرنا شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں کو بھی وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے اس وقت شفا انٹرنیشنل کے اطراف غیر معمولی سیکیورٹی موجود ہے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند لمحات میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جا سکتا ہے صحافی بلال احمد Bilal Ahmad
Agha Sheikh Sarwar110,429 views • 1 month ago

فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں جس پہ فلک جاوید کا جواب 1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
Agha Sheikh Sarwar154,810 views • 2 months ago

جب آئینہ دکھایا تو برا مان گئے میں نے سوال کیا کہ آپ کو انتخابات میں 80 ہزار ووٹ پڑے ہیں لیکن آپ یہاں دس لوگ بھی اپنے ساتھ جمع نہیں کر پاتے تو کہنے لگے کہ آپ پنجاب کور کرتے ہیں پنجاب میں تو کوئی فسطائیت نہیں ہوئی... میں نے بات کاٹتے ہوئے انہیں بتایا کہ پنجاب میں صنم جاوید صاحبہ, فلک جاوید صاحبہ , جن پر شاندانہ گلزار صاحبہ نے کہا اوہو بس کرو بس کرو وہیں پر میں نے اپنی بات مکمل کی اور کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد یہ وہ تمام خواتین ہیں جنہوں نے پنجاب میں فسطائیت کا سامنا کیا فضا عالم کو پنجاب پولیس کے مرد اہلکاروں نے دو مرتبہ گرفتار کیا اور آپ کہہ رہی ہیں کہ پنجاب میں فسطائیت نہیں تو پھر محترمہ نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں پنجاب میں فسطائیت تو ہے
Agha Sheikh Sarwar93,903 views • 1 month ago

یہ وہ مناظر ہیں جب ایک شیر کا بچہ 9 مئی کے بعد اسی نظام کے سامنے ڈٹ کر زمان پارک پہنچا تھا وہ وقت دور نہیں جب عمران خان دوبارہ زمان پارک یا بنی گالہ جائیں گے مگر کسی ڈیل کے نتیجے میں نہیں بلکہ حق اور سچ کا پرچم بلند کرتے ہوئے آج عمران خان کی قید کو 1111 دن ہو گئے ہیں تین سال سے زائد عرصہ گزر گیا مگر حوصلہ اور جدوجہد آج بھی قائم ہے یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا
Agha Sheikh Sarwar75,661 views • 1 month ago

مجھے رات 8 بجے کے قریب بلایا گیا اور مجھے ایک گاڑی میں لے جایا گیا میرے پاس موبائل فون نہیں تھا اور نہ ہی کوئی گھڑی وغیرہ تھی مجھے لے کر شفا انٹرنیشنل اسپتال جایا گیا میں بار بار پوچھتا رہا کہ خان صاحب کب آئیں گے لیکن وہ بھی ٹال مٹول سے کام لیتے رہے گویا انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ خان صاحب آئیں گے یا نہیں بعد میں انہوں نے مجھے کہا کہ اب لگتا ہے کہ وہ یہاں نہیں آئیں گے تو پھر اسی گاڑی میں جس میں مجھے لایا گیا تھا مجھے واپس چھوڑ دیا گیا جیسے ہی میں وہاں پہنچا تو میں نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کہاں ہیں میری عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل
Agha Sheikh Sarwar70,790 views • 1 month ago

الحمدللہ تمام تر معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ فریق نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنی جماعت کے اندر احتساب کا عمل مکمل کیا اور نہایت معتبر اور شفاف انداز میں اس معاملے کو دیکھا گیا میں اور تمام صحافی اپنا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اس پورے معاملے میں علیمہ خان سے لے کر سلمان اکرم راجہ تک اور سندھ کی قائم کردہ کمیٹی کے اراکین فروخ بھائی مولا بخش سومرو اور فہیم خان سمیت تمام افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اس موقع پر اپنی صحافی برادری کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا جن میں عمران ریاض خان سبی کاظمی رائے ثاقب منصور علی خان سہراب برکت طارق متین صدیق جان اور دیگر تمام صحافی شامل ہیں
Agha Sheikh Sarwar21,971 views • 13 days ago

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے
Agha Sheikh Sarwar41,790 views • 26 days ago

رات کے دو بجے عمرکوٹ کے عوامی مناظر سندھ نے واقعی میں کمال کر دیا ہیں ۔۔۔
Agha Sheikh Sarwar29,563 views • 18 days ago

مشال یوسف زئی صاحبہ کے بقول اگر واقعی عمران خان نے ایسا کہا ہے تو آپ مجھے ڈی نوٹیفائی کر دیں آخر ڈر کس بات کا لیکن اس پوری کنورسیشن میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی اس خبر کی تردید نہیں کی مشال یوسف زئی صاحبہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان نے مجھ سے معافی مانگنے کا کہا تھا اور پھر انہوں نے مجھ سے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ مشال میری چھوٹی بہن ہے اب جا کر ان سے پوچھیے کہ وہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں
Agha Sheikh Sarwar63,217 views • 1 month ago