
Khadim Ali khan Yousaf zai
@Alikhanyzai • 96,118 subscribers
Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰
Shorts
Videos

لکی مروت میں صورتحال انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک ٹریفک اہلکار کی قیادت میں پولیس امن کمیٹی نے ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کو تالے لگانے کے بعد مرکزی شاہراہ بھی بند کر دی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ان اہلکاروں کی جانب سے طالبان طرز کی ایک متوازی حکومت، متوازی پولیس، اور متوازی انتظامی و عدالتی نظام قائم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری عوام کے ٹیکسوں سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات تو حاصل کر رہے ہیں، لیکن صوبائی پی ٹی آئی حکومت اس سارے معاملے سے مکمل لاتعلق نظر آتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت، گورنر اور وفاقی وزیر داخلہ کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے، جنہوں نے اس نازک صورتحال پر اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai67,066 Aufrufe • vor 2 Tagen

لکی سیمنٹ فیکٹری کے باہر وردی میں کھڑے یہ افراد لکی مروت پولیس کے وہ اہلکار ہیں جو ڈسپلن کی تمام حدیں عبور کر کے کھلم کھلا قانون ہاتھ میں لے چکے ہیں۔ پسماندہ ضلع میں قائم لکی سیمنٹ فیکٹری کو انہوں نے پشاور میں مبینہ طور پر گرفتار ایک اہلکار سمیع اللہ کی بازیابی جیسے غیر قانونی مطالبے پر بند کروا دیا ہے۔پہزو (لکی مروت) میں قائم یہ فیکٹری کوئی عام ادارہ نہیں ہے۔ سیف اللہ برادران، جو ٹیکسٹائل انڈسٹریز، جاز/موبائل لنک، اسلام آباد کے ماڈل ٹاؤن 18 اور کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال سمیت کئی بڑے پراجیکٹس کے مالکان ہیں، انہوں نے اپنے ہی علاقے کے نوجوانوں کو روزگار دینے اور قوم کی خدمت کی خاطر یہ انڈسٹری یہاں لگائی، جس سے آج ہزاروں گھرانوں کا چولہا جلتا ہے۔ مگر افسوس کہ پولیس ڈسپلن کو توڑنے والے ان عناصر نے غریب مزدوروں کا روزگار یرغمال بنا رکھا ہے۔ لکی مروت میں نام نہاد پولیس امن کمیٹی اب مکمل طور پر بے لگام ہو چکی ہے۔ پشاور کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کے مطابق یہ کمیٹی اب سنگین جرائم اور اغوا برائے تاوان جیسی کارروائیوں میں ملوث ہو چکی ہے۔ حال ہی میں قاری رشید کے اغوا اور قتل کا دردناک واقعہ پیش آیا جس میں مخالفین سے 90 لاکھ روپے وصول کیے گئے، اور اس طرح کے کئی دیگر واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جہاں یہ قانون کے محافظ کے بجائے خود بدمعاشوں کی طرح رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صوبائی حکومت اس تمام صورتِ حال سے نہ صرف لاتعلق ہے بلکہ ان باغی پولیس اہلکاروں کی سہولت کار بن چکی ہے۔ ہم وفاقی حکومت سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس سنگین صورتِ حال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ چونکہ آئی جی پی کی تعنیاتی وفاق کے پاس ہے، لہٰذا آئی جی خیبر پختونخوا کو فوری اور سخت احکامات جاری کیے جائیں کہ ان شرپسند اور ڈسپلن توڑنے والے اہلکاروں کو بلا تاخیر ملازمتوں سے فارغ کیا جائے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور لکی سیمنٹ فیکٹری سمیت علاقے میں قانون اور ریاست کی رٹ بحال کرائی جائے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai27,037 Aufrufe • vor 2 Tagen

یہ نجم الدین خان ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق صوبائی صدر اور سابق وفاقی وزیر، 75 برس کی عمر میں، جہاں لوگ آرام اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں دیر بالا کے اس غیور فرزند کا جذبہ اور ہمت دیکھئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں امن و امان کے قیام، فتنہ الخوارج کے فتنے کو روکنے اور سیکیورٹی فورسز کی پشتیبانی کے لیے خود اپنے ہاتھوں میں بندوق اٹھا کر مورچہ سنبھال لیا ہے۔ دیر کی دھرتی اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے اس عمر میں فرنٹ لائن پر ایستادگی اور جرات کی ایسی مثال قائم کرنے پر تمغہِ امتیاز واقعی ان کا حق ہے۔ ان کا یہ عملی کردار اور بے باک جذبہ ان تمام مقامی منتخب نمائندوں، ایم این اے اور ایم پی ایز کے لیے اک آئینہ ہے جو اس مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا چھوڑ کر میدان سے غائب ہو چکے ہیں۔ 75 سالہ نجم الدین خان کا یوں ہاتھ میں بندوق لیے اپنے قبائل اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ دیر کے حقیقی مشران کے لیے قوم اور ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور یہی وہ غیور قیادت ہے جو کسی بھی اعزاز اور تمغے کی واقعی حقدار ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai82,046 Aufrufe • vor 13 Tagen

لکی مروت میں کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں قائم نام نہاد امن کمیٹی کے حقیقی کردار کو خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی عبداللہ خان نے بے نقاب کیا ہے۔ ڈسپلن فورسز کے کچھ عناصر اس حد تک بے لگام ہوچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ روز سکیورٹی اداروں کے خلاف کھلم کھلا نعرے بازی کی، جو نہ صرف خطے کے امن اور شہدا کی عظیم قربانیوں کی نفی ہے بلکہ ایک سنگین سوال بھی کھڑا کرتی ہے کہ آخر کوئی نظم و ضبط کی پابند فورس کسطرح بغاوت پر اتر سکتی ہے؟ پولیس ایک منظم اور ڈسپلن فورس ہے جہاں کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک ایک باقاعدہ سلسلۂ کمان (Chain of Command) ہوتا ہے۔ کسی کانسٹیبل کا ڈسپلن اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود ساختہ کمیٹی بنانا، پولیس افسران و انتظامیہ کے سامنے غیر جواب دہ ہونا اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے وقت سکیورٹی جوانوں سے بدتمیزی اور ہوائی فائرنگ کرنا قانون کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے، جس پر آئی جی پی اور حکومت کو سخت ترین قانونی نوٹس لینا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے نام نہاد کمیٹی کے صدر حیدر خان نے پاک فوج کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سڑک کو عوام کے خلاف سازش اور قلعہ بندی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر ذاتی زمین، معاوضے یا معیار کے حوالے سے سوال اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن محض فوج کے استعمال کی وجہ سے سڑک کو عوام دشمن کہنا بالکل غیر منطقی اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔ سکیورٹی فورسز کی محفوظ آمد و رفت کے لیے بننے والی سڑکیں مقامی آبادی، بیماروں، طالب علموں اور کسانوں کے بھی کام آتی ہیں۔ سابق فاٹا میں ایف ڈبلیو او (FWO) کے زیر اہتمام 1,205 کلومیٹر طویل شاہراہوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ متاثرہ علاقوں کی بحالی ہمیشہ ریاست کی ترجیح رہی ہے۔ پاک فوج کوئی سیاسی جماعت نہیں جو جلسے جلوسوں میں نعرے بازی کا جواب دے؛ اس کا اصل کام دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہے۔ اصل تشویش اس سوچ سے ہے جو ہر سکیورٹی و ترقیاتی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ کر عوام اور ریاست کے درمیان بدگمانی پیدا کرتی ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai23,641 Aufrufe • vor 7 Tagen

کیا راولپنڈی کا تاریخی راجہ بازار تباہ ہوگیا؟ کروڑوں کا نقصان؟ حقیقت کیا ہے؟ راجہ بازار کا اصل حال کیا ہے؟ کیا واقعی کروڑوں کا نقصان ہوا؟ سیلاب یا صرف افواہیں؟ راجہ بازار میں تباہی؟ اصل حقیقت کیا؟ لوگ کیا کہتے ہیں؟ راجہ بازار سے براہِ راست! راجہ بازار ڈوب گیا؟ حقیقت سامنے آگئی
Khadim Ali khan Yousaf zai27,550 Aufrufe • vor 10 Tagen

یہ بندوق اٹھائے نوجوان اور بوڑھے دیر کے غیرت مند غیور عوام ہیں، جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دہشت گرد انہیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؛ وہ اپنی دھرتی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اک ناقابلِ تسخیر چٹان بن کر کھڑے ہیں۔ دیر اپر کے انہی غیرت مندوں، ان کے فولادی عزم اور ایکٹو ڈیفنس ماڈل کا نتیجہ ہے کہ پچھلے اکیس سالوں میں نہ کبھی اس خطے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند ہوئیں، نہ کسی تاجر کو بھتے کی کال آئی، نہ سیاحت و کاروبار کو کوئی نقصان پہنچا، اور نہ ہی یہاں کے غیرت مند عوام کو سوات یاقبائلی اضلاع کی طرح اپنا گھر بار چھوڑ کر آئی ڈی پیز بننا پڑا۔ شجاعت، قومی غیرت اور اپنی پاک سرزمین کے دفاع کا یہ شاندار جذبہ اپر دیر کے علاوہ سوات کے مٹہ، مدین، بحرین، کالام، باجوڑ کی تحصیل سالارزئی، خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل و راجگال، اور کرم کے علاقے پاڑہ چنار میں نظر آتا ہے، جہاں کے عوام نے اپنی جانیں قربان کر کے بھی دہشت گردوں کو پاؤں پھیلانے نہیں دیے۔ کاش! باقی تمام علاقوں کے پختون بھی دیر اور ان غیور خطوں کی طرح بیدار ہوتے، اپنے علاقوں کا تحرک خود سنبھالتے، فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اک ہی مورچے میں کھڑے ہو جاتے، تو آج پورے پشتون وطن میں اک بھی دہشت گرد کا وجود باقی نہ رہتا اور ہر طرف صرف اور صرف امن و ترقی کا دور دورہ ہوتا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai25,209 Aufrufe • vor 13 Tagen

چار دن پہلے دشمن کا میزائل لیفٹننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر گرا، اور اُن کا سات سالہ معصوم بیٹا ارتضاء شہید ہو گیا۔آج اُسی مٹی پر باپ جشنِ فتح میں مسکرا رہا ہے،فوجی جوانوں کے کندھوں پر ارتضاء کے چھوٹے بہن بھائی خوشی سے جھوم رہے ہیں،یہ ہے وہ قوم جو کبھی شکست نہیں کھا سکتی!
Khadim Ali khan Yousaf zai437,459 Aufrufe • vor 1 Jahr

اس وقت میں پشاور میں ہوں، ہر طرف جشن کا سماں ہے، اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر پاکستان کا جشن منا رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے غیرتمند پختونوں نے ان تمام منفی بیانیوں، انتشار پسند سوچ اور تقسیم کی سازشوں کا دندان شکن جواب ہے جو اس دھرتی کی وحدت کو تار تار کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔خیبر کی تاریخی گھاٹیوں سے لے کر وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے بلند و بالا پہاڑوں تک، پشتون قوم نے اپنے لہو، اپنی غیرت اور اپنے نسل در نسل مستقبل کا رشتہ ہمیشہ اس پاک دھرتی کے ساتھ جوڑا ہے۔ جو مٹھی بھر عناصر عسکریت پسندوں کے دباؤ یا مخصوص سیاسی بیانیوں کی آڑ میں پشتونوں کی ریاست سے وفاداری پر سوال اٹھاتے تھے، آج پشاور کی سڑکوں پر یہ تاریخی عوامی سمندر ان کے تمام نظریات کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔ جن قبائلی علاقوں، وزیرستان کے غیور عوام اور سوات کے عوام نے فتنے، بارود اور نقل مکانی کے ہولناک عذاب جھیلے، آج وہی غیور عوام ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے یہ حتمی فیصلہ سنا رہے ہیں کہ پشتون کا مان، شان، پہچان اور واحد وطن صرف اور صرف پاکستان ہے! یہ ملک ہمارا ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ ہماری ہے، اور اس کے آئین و بقا کی خاطر ہمارے آباؤ اجداد، مسلح افواج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہیں کہ پاکستان اور پشتون لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پختون قوم کا مقدر، عزت اور بقا صرف اور صرف پاکستان میں ہے! پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai21,987 Aufrufe • vor 17 Tagen

یہ نثار خان وردگ ہیں، مسلم لیگ (ن) ضلع اپر دیر کے صدر، سابق نائب ناظمِ اعلیٰ اور 2024 کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار برائے قومی اسمبلی، گزشتہ روز جب دیر بالا پولیس کے جوان دوبندو کے مقام پر خوارج اور طالبان کے محاصرے میں آئے، تو یہ وہ پہلا جرات مند شخص تھا جو بلا تاخیر اپنے ساتھیوں کو لے کر سیدھا میدانِ جنگ میں پہنچا۔ دہشت گردوں کے پاس جدید خودکار اسلحہ، ڈرون ٹیکنالوجی اور خود کش بمباروں کا خطرناک ہتھیار موجود تھا، لیکن اس نر کے بچے نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی، محاصرہ توڑ کر اپنے محصور پولیس افسران اور جوانوں کو بحفاظت نکال لایا اور دہشت گردوں کو دھول چٹا دی۔ آج جب وہ پولیس لائنز پہنچے تو دیر پولیس کے اعلیٰ افسران اور غیور جوانوں نے ان کا جس شاندار اور پرجوش انداز میں استقبال کیا، حقیقی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ نثار خان وردگ کا یہ کارنامہ اور لازوال جرات کسی بھی اعزاز سے بلند ہے؛ تمغہِ امتیاز اور تمغہِ شجاعت بالکل انہی جیسے بہادر اور غیرت مند سپوتوں کے سینے پرسجنے چاہیے ۔ ویلڈن میرے شیر نثار خان وردگ
Khadim Ali khan Yousaf zai14,416 Aufrufe • vor 13 Tagen

یہ ویڈیو 2009 کی ہے جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، اور دیر کے علاقے اسبنڑ میں طالبان نے راج قائم کیا تھا۔ پھر ایک دن لوگ ان کی ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم ان وحشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پولیس اور فوج موجود نہیں تھیں، تھانے خالی تھے؛ اور پھر جب عوام نے خود جواب دیا، تو علاقہ صاف ہو گیا۔ تب آرمی اور پولیس اس علاقے میں آ گئے۔ آج بھی وہاں امن قائم ہے کیونکہ دیر کے عوام نے پہلے دن سے پختہ یقین رکھا کہ اپنی مٹی پر کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو جگہ نہیں دینی۔ یہ کمیونٹی اونیڑشپ کا وہ تاریخی ماڈل ہے جو ثابت کرتا ہے کہ امن کا قیام کسی مادی وسائل کے مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے مزاج، سماجی رویے اور قومی مشران کے عزم سے ہوتا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں پختون دھرتی کا مستقبل دو متضاد ماڈلز کے سامنے کھڑا ہے: پہلا ماڈل: عوامی عزم اور قومی مشران کی جرات (امن کا راستہ) یہ دیر، سوات مردان چترال صوابی پشاور ، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ کی سلارزئی و اتمان خیل اقوام کا ماڈل ہے۔اپر دیر میں 2006 ہی سے عوام کا عزم تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑنا۔ مقامی مشران جیسے ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین نے روایتی لشکر کھڑے کیے، اجنبیوں کا بائیکاٹ کیا اور مٹی پاک کی۔ اسی طرح باجوڑ کی پانچ تحصیلوں (سلارزئی، اتمان خیل، خار وغیرہ) میں نامور قومی مشر شہاب الدین خان سلارزئی، بسم اللہ خان اور دیگر مشران نے ہزاروں کا قومی لشکر بنایا اور سہولت کاروں کے گھر مسمار کیے۔ سوات میں افضل خان لالا نے دھرتی چھوڑنے سے انکار کیا، بونیر میں فتح خان، اور خیبر تیراہ میں ملک خدو خیل نے لشکر سازی سے امن قائم کیا۔ مہمند میں ملک مصطفیٰ اور ملک یونس نے جانیں قربان کیں۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جہاں قوم مشران کے پیچھے متحد ہو، وہاں دہشت گردی ناامید ہو جاتی ہے۔ دوسرا ماڈل: مسلط کردہ بدامنی اور فکری انتشار (تباہی کا راستہ) یہ وزیرستان، بنوں ، ٹانک ، لکی مروت ، کرم کے تحصیل صدہ خیبر کے تحصیل تیراہ اور باجوڑ کی تحصیلوں لوئے ماموند و وڑکے ماموند کا ماڈل ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں تحریکِ طالبان نے منظم منصوبے کے تحت سب سے پہلے بااثر قبائلی مشران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ جب روایتی قبائلی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، تو سماجی خلا پیدا ہوا اور مقامی سطح پر ملنے والی خاموش یا اعلانیہ سہولت کاری (Facilitation) کی وجہ سے بدامنی کا یہ سلسلہ طول پکڑتا گیا۔ جہاں بھی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور ہمدردی میسر ہو، وہاں بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں، کیونکہ مستقل امن صرف مقامی برادری کے رویے اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ معدنیات کے جھوٹے بیانیے کی حقیقت اسی ہائبرڈ جنگ کے تحت یہ زہریلا پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ ریاست معدنیات پر قبضے کے لیے بدامنی پھیلاتی ہے، جبکہ معاشی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں زمرد، لعل اور گرینائٹ کے سب سے قیمتی ذخائر سوات، دیر، مانسہرہ اور چترال میں ہیں، جو مکمل پرامن اور سیاحت کے گڑھ ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ گیس اور تیل دینے والے اضلاع کوہاٹ اور کرک پرامن ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ کے ماموند یا خیبر کی وادی تیراہ میں معدنیات کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں، لیکن وہاں حالات کا خراب ہونا وسائل کی لوٹ مار نہیں بلکہ بیرونی پراکسیز (جیسے 'را'، صیہونی پشت پناہی اور افغان عبوری حکومت کے مہرے) کو ملنے والی مقامی سہولت کاری ہے۔ یہ دشمن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پختون کا خون بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے، پختونوں کو اب خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بیرونی پراکسیز کا تزویراتی اثاثہ بن کر تباہی کا وزیرستان ماڈل چاہتے ہیں، یا پھر بیداری، یکجہتی اور ترقی کا وہ دیر اور سلارزئی ماڈل اپنائیں گے جہاں عوام خود اٹھ کھڑے ہو کر بدامنی کے سوداگروں کا سماجی مقاطعہ کرتے ہیں اور اپنے امن کے خود ضامن بنتے ہیں۔ اب پختونوں کا فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے: دیر و سلارزئی کا غیور پختون ماڈل نہ کہ کسی کی مسلط کردہ پراکسی وار
Khadim Ali khan Yousaf zai40,044 Aufrufe • vor 1 Monat

کاش! یہی پختون ولی ، جذبہ، غیرت اور حبّ وطنی اس وقت افغان قوم اور ان کے رہنماؤں میں بھی جاگتی۔ کاش وہ بھی کابل کے ہوائی اڈے پر جہازوں کے پروں سے لٹک کر بھاگنے کے بجائے اپنے وطن، اپنی مٹی، اپنی جمہوری آزادیوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل کے لیے اپنی فورسز کے ساتھ مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے۔افغانستان کی 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد باقاعدہ فوج (اردو ملی) اور 90 ہزار سے زائد پولیس کی اتنی بڑی نفری کاش ایک گولی چلائے بغیر یوں بے دلی سے ہتھیار نہ ڈالتی! کاش ان کی فوج کی صفوں میں بھی میجر جنرل ثناء اللہ نیازی، کرنل حسن، کرنل گلفراز اور میجر حمزہ جیسے وطن پر قربان ہونے والے بہادر اور جری سپاہ سالار ہوتے، اور کاش ان کی پولیس کی قیادت کے پاس بھی ملک سعد شہید، عابد علی شہید، صفت غیور شہید، ، خان رازق شہید، کلام خان اور دلدار خان جیسے بے باک، غیور اور نڈر افسران ہوتے جو آخری سانس اور آخری کارتوس تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہتے اور اپنے خون سے تاریخ رقم کرتے، اگر اس وقت افغان قوم اور ان کے ادارے یوں ایک پیج پر آ کر اپنی مٹی کی حفاظت کے لیے ڈٹ جاتے، تو آج گزشتہ پانچ سالوں سے انہیں اپنے ہی ملک میں ظالمانہ پابندیاں، تاریکی، بے حسی اور معاشی جمود نہ دیکھنا پڑتا۔ نہ ان کے شہری پردیس کی کٹھن زندگی میں وطن کو یاد کر کے آہیں بھرتے، اور نہ ہی ان کی بیٹیاں، بہنیں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے محروم ہو کر گھروں میں قید ہوتیں۔ یہ ویڈیو اپر دیر کے ان غیور اور جرات مند پختونوں کا روشن آئینہ ہے جو اپنے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے علاقے کے امن اور وقار کی حفاظت کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں اور تمام غفلت زدہ قوموں کے لیے اس میں ایک واضح اور سچا سبق موجود ہے؛ امن محض نعروں، تقریروں یا خالی باتوں سے نہیں آتا، بلکہ امن اپنے اداروں کا ہاتھ تھام کر اور دشمن کے سامنے جرات کے ساتھ کھڑے ہونے سے قائم ہوتا ہے
Khadim Ali khan Yousaf zai17,272 Aufrufe • vor 17 Tagen

شہادت سے قبل مشن پر روانگی کی آخری ویڈیو دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر، بہادر کمانڈر ایس پی اسد زبیر تین نسلوں سے یہ خاندان وردی، وفا اور قربانی کا امین رہا دادا شہاب الدین آفریدی، والد اورنگزیب آفریدی شہید ، اور بیٹا اسد زبیر شہید 24 اکتوبر کو ایس پی اسد زبیر نے اپنے خون سے اس روایت کو امر کر دیا۔ اللّٰہ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai174,525 Aufrufe • vor 10 Monaten

افغانستان وطن تو ہے، لیکن سچ پوچھیں تو ہمارا حال اس وقت یوں ہے جیسے ایک چھوٹی سی بوری میں ایک کتے کو بند کر دیا جائے، پھر اس میں دوسرا، تیسرا اور چوتھا کتا بھی ٹھونس دیا جائے۔ ہمارا دل اب اس بوری سے بھی زیادہ تنگ اور گھٹا ہوا ہے، نہ یہاں کوئی کاروبار ہے، نہ روزگار کا وسیلہ، اور نہ ہی زندگی میں کوئی رمق باقی بچی ہے۔دل ٹوٹ چکا ہے اور سانسیں دم توڑ رہی ہیں۔ نہ کاروبار کا نام و نشان ہے، نہ روزگار کا کوئی ذریعہ، اور نہ ہی زندگی کا کوئی رنگ۔ ہم وطن تو واپس لوٹ آئے ہیں، لیکن زندگی وہیں پاکستان کی سرحد پر ہی کہیں چھوٹ گئی ہے۔ پاکستان سے حال ہی میں افغانستان منتقل ہونے والے ایک مہاجر کی دردناک داستان
Khadim Ali khan Yousaf zai18,536 Aufrufe • vor 27 Tagen

طلال چودھری کو اپنے بھائی بلال چودھری کی شاندار جیت بہت مبارک ہو ❤️
Khadim Ali khan Yousaf zai95,097 Aufrufe • vor 9 Monaten

یہ لائن آف کنٹرول سے چند سو میٹر دور ضلع حویلی حلقہ ایل اے-17 کا منظر ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے نوجوان امیدوار چوہدری محسن عزیز کے جلسے میں امڈتے ہوئے عوامی سمندر نے دن کے اجالے میں اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ حویلی کے غیور عوام نے اس عظیم الشان اجتماع سے واضح کر دیا ہے کہ پونچھ ڈویژن کی عوام کا فیصلہ انتشار، بدامنی نہیں بلکہ صرف اور صرف بیلٹ پیپر، امن اور ترقی ہے۔ سرحدی لکیر کے بالکل پاس ہزاروں کشمیریوں کا یہ جوش و جذبہ ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کا رشتہ پاکستان کے ساتھ دل اور ایمان کا رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔ پاکستان زندہ باد 🇵🇰 کشمیر پائندہ باد ❤️
Khadim Ali khan Yousaf zai10,980 Aufrufe • vor 23 Tagen

ریئلٹی آف جنریشن Z وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی، جنریشن زی کہلاتی ہے۔ آج ماشاءاللہ یہ نوجوان 24، 25 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل بنتی جا رہی ہے۔ یہ نسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی میں گھری ہوئی ہے۔ جسمانی طور پر لاغر، ذہنی طور پر منتشر، اور تربیت گھر کے بزرگوں کے بجائے سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے۔ ہر وقت موبائل، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک،جس کا نتیجہ گردن میں خم، آنکھوں کی کمزوری، جسم میں طاقت کی کمی اور رشتوں میں برداشت کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ نہ دھوپ برداشت ہوتی ہے، نہ آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کی سکت، نہ پانچ کلومیٹر پیدل چلنے کی ہمت۔ جسم کمزور، ذہن منتشر اور برداشت تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔جنریشن زی کی اصل حقیقت جاننے کے لیے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں۔
Khadim Ali khan Yousaf zai69,367 Aufrufe • vor 7 Monaten