
Altaf Hussain
@AltafHussain_90 • 116,478 subscribers
Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist
Shorts
Videos

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے #آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا آصف زرداری نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے فرمان پر دستخط کئے ہیں، مستقبل میں ان کےہاں بھی گورنر راج نافذ ہوگا، بھٹو dynasty یا خاندانی حکمرانی کا خاتمہ ہوگا، نوازشریف dynasty کا بھی خاتمہ ہوگا۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کو ختم کیا جائے
Altaf Hussain40,330 次观看 • 1 天前

خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کا نفاذکرکے پختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کا خون کیا گیا ہے، یہ آمرانہ اقدام جمہوریت کےلئے ایک سیاہ اقدام ثابت ہوگا۔ پاکستان میں گزشتہ 79برسوں سے جمہوریت کاخون ہوتاچلا آیاہے، منتخب جمہوری حکومتوں کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہے، ملک میں جمہوریت کے نام پر جوپارلیمانی سیاست ہورہی اس میں جمہوریت کےنام پر دو خاندانوں کی آمریت رائج ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو شروع دن سے قبول نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول اورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے لانگ مارچ نکالا تو ہر دور میں جمہوریت کا خون کرنے والی طاقتوں نے آج خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی منتخب حکومت اوراسمبلی کومعطل کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوران کے رفقا ء کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اوران کے بارے میں کچھ نہیں پتہ چل رہاہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کوبرطرف کرنے کی کیاوجہ ہے؟ اگر ہم ایک لمحےکے لئے یہ مان بھی لیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کررہی تھی، تو گزشتہ 20 برسوں سے آپ دہشت گردی کے خلاف مختلف ناموں سے ایک کے بعد دوسرااوردرجنوں آپریشن کرتے آئے ہیں، جس کے لئے پشتونوں کوان کے گھروں سے نکال کرآئی ڈی پیز بناکرخیموں میں رہنے پر مجبور کیاگیا، پھربھی آپ نے دہشت گردی کا صفایاکیوں نہیں کیا؟ بات یہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سہیل آفریدی جن مطالبات کے لئے لانگ مارچ کررہے تھے، جس کی حمایت میں لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اسی وجہ سے سہیل آفریدی کی حکومت کو برطرف کیا گیا ہے۔ وہاں گورنرراج اور ایمرجنسی ہی نافذ نہیں کی گئی بلکہ اب صوبے کوفوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے آمرانہ اقدامات کرکے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہاں امن قائم ہوگیا ہے، تویہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔ ان آمرانہ اورجابرانہ اقدامات کے نتیجے میں اب خیبرپختونخوا کا ہرپشتون یہ سوچنے پر مجبور ہےکہ کیا وہ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں؟ کیا یہ ملک ہمارانہیں ہے؟ آخرہماراکیا قصور ہےکہ ہماری دوتہائی اکثریت سےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے؟ ہم خیبر پختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کونہیں مانتے، میں فارم 47کی موجودہ حکومت اور اس کےسرپرستوں سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کرکے وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کاآمرانہ اقدام فی الفور واپس لیا جائے، خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، صوبائی حکومت بحال کی جائے اوروہاں بھیجی گئی فوج کو واپس بلایا جائے۔ غیور پشتون عوام گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ظالمانہ اقدام کوکسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے، پشتون عوام صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزامات کوبھی مستردکرتے ہیں۔ ٓصدرآصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت کوختم کرنے کے فرمان پر دستخط کرکے خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کاجوخون کیا ہے، پشتون عوام اس کونہیں بھولیں گے اوراس ظلم کاحساب لیں گے۔ پشتون عوام سمجھتے ہیں کہ تم ملک کے صدرنہیں بلکہ ایک ظالم وجابر ہواورظالموں کے بادشاہ ہو۔ گورنرراج اورایمرجنسی کےظالمانہ اقدام کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اورجولوگ اس جابرانہ اقدام کی حمایت میں آئین وقانون کی تشریح کررہے ہیں وہ ان درباری ملاؤں کی طرح ہیں جواپنے مطلب کےلئے قرآن کی آدھی آدھی آیات کی تشریح کرکے عوام کودھوکہ دیتے ہیں۔ایسے ہی ملاؤں نے سہیل آفریدی کوبھی دھوکہ دیا۔ اسی طرح آئین کی تشریح کرتے ہوئے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ اور دیگراعلیٰ عدالتوں کومفلوج کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ عمران خان کوشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن اس کے فیصلے کوبوٹوں تلے روند دیا گیا۔ میں خیبرپختونخوا کے پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں،اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اور اپنے اتحاد سے اس ظلم وجبر کامقابلہ کریں۔ الطاف حسین حقوق کی جدوجہد میں پشتون عوام کے ساتھ ہے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 484 ویں فکری نشست سے خطاب 11 اکتوبر 2026ء
Altaf Hussain21,561 次观看 • 2 天前

حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنرراج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔ لانگ مارچ کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی توخدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان اب واقعتا ایک ایسے نازک موڑ پر آگیا ہے کہ یہاں ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا اور اس موڑ سے احتیاط سےنہ گزراگیا تویہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تحریک انصاف نےلانگ مارچ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین وقانون کی بالادستی، پارلیمنٹ اورعدلیہ کے احترام اور ملک میں انصاف کے حصول کے لئے شروع کیا ہے لیکن اس پرموجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوجس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، سہیل آفریدی، ان کی کابینہ کے ارکان کو افغانستان، انڈیااوراسرائیل سے جوڑ رہے ہیں، ان پر جس طرح ملک دشمنی کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں اورخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی جو دھمکیاں دی جارہی ہیں، دوسرے لفظوں میں پشتونوں کوملک دشمن قراردیا جارہا ہے، یہ صورتحال ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں اس پر حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اس وقت پاکستان جوسنگین صورتحال درپیش ہے اگرایسے میں لانگ مارچ کے جواب میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی اور لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو خدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت ہوگی،اس سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، لہٰذامیراحکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمراں خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا اورپشتونوں کے بارے جس طرح کی دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں اس سے خیبرپختونخوا کے پشتونوں میں جوجذبات پیدا ہورہے ہیں، اسی کی روشنی میں سہیل آفریدی نے یہ متنبہ کیاہے کہ اگر پشتونوں کے خلاف ایسا ہی عمل کیاجاتارہا تو ہماری نسلیں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائیں گی اورقومی ترانے کے احترام میں نہیں کھڑی ہوں گی۔لہٰذا حکمرانوں کوحالات کی اس نزاکت اور سنگینی کااحساس کرناچاہیے اوریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے انڈیا کے خلاف جنگ ہویاروس اورامریکہ کےدرمیان افغان جنگ ہو، پشتونوں نے ہردورمیں ہمیشہ پاکستان اور فوج کاساتھ دیاہے،آج جن طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، وہ طالبان قبائلی پشتونوں نے نہیں بنائے بلکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنائے تھے، پشتونوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ڈی پیز بنکر خود مشکلات سامنا کیا۔ پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور رہنماؤں کالانگ مارچ سے الگ تھلگ رہنا قابل غورہے،انہیں چاہیےکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بقا،عدالتی نظام کی بحالی اورانصاف کے نظام کے لئے اس میں بھرپورشرکت کریں اور اگرشامل نہیں ہوناچاہتے توپھر شرافت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔ خیبرپختونخوا کے جوعوام اس مقصد کے لئے گھروں سے نکلے ہیں میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کی کامیابی کے لئے دعاگوہوں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر ہنگامی 481ویں فکری نشست سے خطاب 5 اکتوبر 2026ء
Altaf Hussain13,972 次观看 • 8 天前

اسٹیبلشمنٹ اورصدرآصف زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے سندھ کےامن پسند اورباشعور عوام پیپلزپارٹی کی ان گھناؤنی کوششوں کا حصہ نہ بنیں نئے صوبوں کی بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی لیکن سارا نزلہ مہاجروں پر گررہا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خدارا مہاجروں کا بھی سوچیں ………………………………… پاکستان ایک خطرناک ترین دور کی طرف تیزی سے گامزن ہے اورملک کے عوام کو ابھی خطرے کابالکل بھی اندازہ نہیں ہے۔ ملک میں ہرجگہ نئےصوبوں کے قیام کی بحث چل رہی ہےکہ صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے، اس بحث کو ہرگز ہلکا نہ لیا جائے۔ ماضی میں ن لیگ، پیپلزپارٹی اورمولانا فضل الرحمان نے مشترکہ سودے بازی کرکے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم منظور کیں اوراب ملک میں28 ویں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہےجس میں یہ بھی شامل ہےکہ پاکستان میں نئےصوبے بنائے جائیں، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کہہ رہےہیں کہ پاکستان کانظام تباہ ہوچکا ہے،لیکن صدرآصف زرداری پاکستان میں نہیں ہیں، ان حالات میں صدر کو ایوان صدر چھوڑنے کاخیال بھی نہیں آنا چاہیے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق صدرزرداری اپنےبیٹے بلاول زرداری کی شادی کے سلسلے میں آسٹریا گئے تھے اور اس وقت لندن میں ہیں۔میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق لندن میں صدر آصف زرداری سے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ایک گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں ون ٹوون بات چیت ہوئی اور محسن نقوی نے صدر زرداری کو اہم پیغام پہنچایا۔خبر کے مطابق اس ملاقات میں صدرزرداری نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہاکہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کسی بھی مسئلے کا پائیدارحل نہیں نکلے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نہیں رہتے بلکہ وہ وزیراعظم اوورسیز بن گئے ہیں اورمختلف ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ آخر 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں سے متعلق بات چیت لندن میں کیوں ہورہی ہے؟ صدر مملکت اوروفاقی وزیرداخلہ کی پاکستان میں صبح شام ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو پھر صدرمملکت کو پاکستان واپس آنے میں کیاتکلیف ہے؟ملک میں 28 ویں ترمیم آنے والی ہے، صوبے بننے یا نہ بننے کی بحث چل رہی ہے، ایسے وقت میں صدر زرداری کو دو تین ہفتے کیلئے ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ دنوں جب ہائیکورٹس کے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدرزرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی تھی تو صدر زرداری اپنی علالت کابہانہ کرکے ایوان صدرسے بلاول ہاؤس کراچی منتقل ہوگئےتھےلیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کچھ کہا تو انہیں ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے پڑے۔ پاکستان کے سیاستداں قوم سے جھوٹ بولتے رہے ہیں، انہیں عدالتیں سزا دیں اور وہ جیل میں قید ہونےکے باوجود پاکستان کے بااثرحلقوں سے اپنے معاملات طے کرکے علاج کےبہانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، میاں نوازشریف کی مثال سامنے ہے۔ اسی طرح موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری جب جیل میں قید تھے تو پورا ملک جانتا ہے کہ وہ جیل کے بجائے ایک نجی اسپتال میں رہتے تھے اور رات 8 بجے کےبعداسپتال سے کہیں اور منتقل ہوجاتے تھے اوروقت گزارکرصبح اسپتال آجاتے تھے، انہوں نے اپنی پوری اسیری اسی طرح اسپتال میں کاٹی ہے۔ پاکستان کی دوفیصد حکمراں اشرافیہ جب بیمار ہوتی ہے تو ان کا علاج ملک میں نہیں ہوتا بلکہ وہ علاج کیلئے امریکہ، برطانیہ، جرمنی یا فرانس میں جاتے ہیں، اگر صدرزرداری بیمارنہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لندن میں کسی اور وجہ سے قیام پذیر ہیں۔ پیپلزپارٹی والے اب کہیں گے کہ پارٹی کے چیئرمین اور کوچیئرمین ملک میں نہیں ہیں لہٰذا ہم 28 ویں ترمیم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی گئی ہے لیکن سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے خلاف قراردادپیش کی جارہی ہے یعنی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے، سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان اشتعال انگیز تقاریر کررہے ہیں، ا گر صدرآصف زرداری نے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان واپس نہیں جائیں گے توپھروہ بیرون ملک سے”پاکستان نہ کھپے“ کی تحریک چلائیں گے اور صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب 28 ویں ترمیم کافیصلہ پوری اسٹیبلشمنٹ نے کرلیا ہے مگرصرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تمام کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر فیلڈ مارشل ازخود کوئی فیصلہ کرلیں، یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کامتفقہ فیصلہ ہے، 1/2
Altaf Hussain38,148 次观看 • 1 个月前

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف جو دھمکی آمیزبیان دیا ہے کہ اگرکسی نے لانگ مارچ کرنے اوراسلام آباد آنے کی کوشش کی تونتائج کی ذمہ داری آنے والوں پر ہوگی، یہ بیان افسوسناک ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ نے یہ واضح حکم دیاتھا کہ عمران خان کو شفااسپتال منتقل کیا جائے، توحکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟ لانگ مارچ ایک سیاسی عمل ہے، لیکن کیا اب کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرے گی یانہیں؟ سپریم کورٹ کے حکم پر دوسری عدالت کامعاملے میں مداخلت کاعمل عجیب ہے، عدالتوں کا وقارچور چور اورٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، عدالتوں کا سارانظام الٹ پلٹ ہوکررہ گیاہے۔ میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں،ارکان اسمبلی اورکارکنوں سے کہتا ہوں کہ آپ کوعمران خان کی عمر اورجیل میں قیدتنہائی میں جو ان کی حالت ہے اس کوپیش نظررکھناچاہیے اورانہیں ڈرنانہیں چاہیے اورکسی بھی قیمت پر بڑی تعدادمیں نکلناچاہیے اوریہ سمجھ لیناچاہیے کہ ”اگر اس مرتبہ نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 471 ویں فکری نشست سے خطاب 18 ستمبر 2026ء
Altaf Hussain18,608 次观看 • 25 天前

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے ہفتہ شجرکاری کے سلسلے میں پودے لگائے #OnePlantForAltafBhai ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نے اپنی 73ویں سالگرہ کےموقع پر ایم کیوایم کی جانب سےمنائےجانے والے ہفتہ شجرکاری میں حصہ لیتے ہوئےآج لندن میں اپنی رہائش گاہ پر خود بھی پودے لگائے۔ جناب الطاف حسین نے زیتون اور ناشپاتی کے پودے لگائے۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے آلودگی کے خاتمے، ماحول کی بہتری، تحریک کی کامیابی، عوام کی مشکلات اورپریشانیوں کے خاتمے اورملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے دعا بھی کی۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان اوراوورسیز میں موجود تحریک کےتمام وفاپرست کارکنوں اورعوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ایک ایک پودا لگائیں، پاکستان کو گرین بنائیں، خوشحال بنائیں اور ماحول میں موجود آلودگی کوختم کریں۔ پاکستان میں ماحول کی آلودگی کے خاتمے کے لئے پودے لگانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی،ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے رکن افتخارقریشی اورایم کیوایم یوکے کارکنان بھی موجود تھے جنہوں نے پودے لگانے کے سلسلے میں بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین کی معاونت کی۔
Altaf Hussain22,881 次观看 • 1 个月前

پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کوجیل میں محمد مرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئےباہر نکلیں۔ عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔الطاف حسین #ContemptOfCourt #FreeImranKhan #FreeImranKhanNow 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب کو دودن کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال منتقل کیاجائے لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ کیاPTI اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کررہی ہے؟پھر PTI کے ساتھ ایسا غیرمنصفانہ اور سفاکانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ پشتون تحفظ موومنٹ(PTM) کے سربراہ منظور پشتین کی جماعت کے جلسے جلوس پر پابندی لگادی گئی تو کیاپی ٹی ایم کے سربراہ منظورپشتین یا کسی اور رہنما نے اپنے عوامی جلسوں میں مسلح جدوجہد کی بات کی تھی؟ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نےاپنے کسی عوامی جلسے جلوس میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیاتھا؟ تازہ ترین مثال آزادکشمیر کی ہے، کشمیرکے نام پر پاکستان کے ارباب اقتدار واختیار، سیاسی ومذہبی جماعتوں خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قوم کوجھوٹے وعدہ اور تسلیاں دیں، آج کشمیری عوام آٹا، بجلی اور روزگارکیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات سننے والا کوئی نہیں تھا تو کشمیریGen Z نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناکر 38 مطالبات پیش کیے تھے، اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں کے جلوس پر فائرنگ کرکے سو سے زائد افراد کو شہید جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو زخمی کردیاگیا، ایکشن کمیٹی کے مرکزی صدر اوردیگر اراکین کو گرفتار کرکےجیل میں ڈال دیا گیا،کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کا کوئی اعلان کیاتھا؟ یقینا کسی نے بھی مسلح جدوجہد کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ایم کیوایم نے بھی کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا ان حقائق کے باوجودان تمام سیاسی وعوامی جماعتوں کے ساتھ حکومت، ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کاجو رویہ رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ فوج کیاکررہی ہے؟ عمران خان کوفوج نے کمرہ عدالت سے دروازے کھڑکیاں توڑکرگرفتارکیا، گریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے، اسے قید میں رکھا،ذہنی تشددکیا، آج سپریم کورٹ نے عمران خان کوعلاج کےلئے الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کاحکم دیا توحکومت نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ عمران خان کوحکومت نے قید کیا ہوا ہے، اگرسپریم کورٹ آرڈر کرتی توکیا حکومت کی یہ طاقت ہوسکتی ہے کہ وہ انہیں جیل میں بند رکھے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس پر کیا کررہی ہے؟ سوائے 26نومبر کے احتجاج کے جب فوج نے اس پر فائرنگ کی، کئی لوگ شہید ہوئے لیکن وزیراعلیٰ KPKعلی امین گنڈاپورکارکنوں کوچھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلے۔ اس کے بعد سے پی ٹی آئی نے کوئی احتجاج نہیں کیااوراب بھی کہتے ہیں کہ فوج ہماری ہے۔ کہنے کوتوپی ٹی آئی والے عمران خان کیلئے بڑے نعرے لگاتے ہیں لیکن تین سال کے دوران عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اورعمران خان کو انصاف دلانے کےلئے پی ٹی آئی کاکوئی لیڈر نہیں نکلا۔ عمران خان کی بہنوں کی تمام تر اپیلوں کے باوجود کوئی لیڈراورمنتخب نمائندے اڈیالہ جیل نہیں پہنچتے اور ان کی بہنیں اکیلی پولیس کی لاٹھیاں کھاتی رہیں۔ 18 اگست کوسپریم کورٹ کے آرڈرکے باجود جب حکومت نے عمران خان کوالشفااسپتال منتقل نہیں کیا توپی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے سپریم کورٹ میں کوئی ارجنٹ پٹیشن دائر کیوں نہیں کی؟حالانکہ عمران خان نے اپنی بہن کوبتایا کہ انہیں جیل میں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں، انہیں آئسولیشن میں رکھا جارہاہے، یہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح جیل میں ماردیناچاہتے ہیں، پی ٹی آئی کے لیڈراس پر کیاکررہے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کاکیااخلاقی فرض ہے؟ ان کی اسمبلیوں کی رکنیت ان کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی مرہون منت ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اپنے مصلحت پسند لیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، عمران خان کی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان نے روتے ہوئے عمران خان کو جیل میں دی جانے والی اذیتوں کاجوزکرکیا ہے،پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے آنسوؤں کوسمجھیں اور عمران خان کوجیل میں محمدمرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئے باہر نکلیں، عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 453 ویں فکری نشست سے خطاب 22، اگست2026ء
Altaf Hussain27,010 次观看 • 1 个月前

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کےخلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو نہ جھونکیں۔افغان جنگ کی طرح ایک بار پھر بیرونی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ اگرفوج کی قیادت کی جانب سےایسا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو پاکستان کے عوام کو اس فیصلےکےخلاف کھل کر احتجاج کرنا چاہیے #IsraeliranWar #IsraelIranConflict
Altaf Hussain166,745 次观看 • 1 年前

کشمیر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں، بلوچستان میں لوگ میتیں لیکر دھرنا دیے ہوئے ہیں، پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، انڈیا نے ایٹمی آبدوزیں کھڑی کردی ہیں، پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہےلیکن حکمراں باہر کے مسائل میں مصروف ہیں۔کیا حکمرانوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے؟ الطاف حسین
Altaf Hussain39,251 次观看 • 3 个月前

میں گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے کہتا رہا کہ طالبان نہ بنائیں، انکی سرپرستی نہ کریں، کل یہی آپ کےلئے مونسٹر بن جائیں گے، کاش کہ میری بات سن لی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خودکش حملے پر لندن کے اسپتال سے وڈیو لاگ
Altaf Hussain84,388 次观看 • 8 个月前

اگر آپ جانناچاہتے ہیں کہ فوج ملک کی سیاست میں کیسے مداخلت کرتی ہے، وڈیرے جاگیردار کیا کرتے ہیں، ملک کی معاشی تباہی اورعوام کی پسماندگی کا سبب کیاہے، ملک اورقوم کے مسائل کیا ہیں، ان مسائل کا ذمہ دار کون ہے، مسائل کاحل کیا ہے، یہ سب کچھ اور اسکے علاوہ اوربھی بہت کچھ جاننے کےلئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے فیس بک اوریوٹیوب چینل Revelations with Altaf Hussain اورٹک ٹاک اکاؤنٹ altafhussain_90 کوفالو کیجئے، اسے سبسکرائب کیجئےاورآگہی حاصل کیجئے
Altaf Hussain235,126 次观看 • 2 年前

کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟ آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر PTI کے رہنماؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کےباعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔ پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پرنہ صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی۔اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔ پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریا سے لندن پہنچ گئے جس کے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟ یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جو آج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھر کون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟ اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر صاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟ 1/2
Altaf Hussain17,763 次观看 • 1 个月前

جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر سندھ میں کیوں نہ بنیں؟ اگر سندھ دھرتی ماں ہے،توکیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان دھرتی ماں نہیں؟ ………………………………… پاکستان انتہائی نازک صورتحال کی طرف تیزی سے گامزن ہے، پاکستان میں یہ بحث ومباحثہ چل رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کررہی ہے، وہ کہتی ہے کہ پنجاب، KPK اور بلوچستان میں نئے صوبے بنادئیے جائیں لیکن سندھ میں نئے صوبے نہ بنیں، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور کہتے ہیں کہ سندھ دھرتی ماں ہے، تو کیا پنجابیوں کے لئے پنجاب دھرتی ماں نہیں ہے؟کیاپشتونوں کے لئے خیبرپختونخوادھرتی ماں نہیں ہے؟ کیابلوچوں کے لئے بلوچستان دھرتی ماں نہیں ہے؟ جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر صوبہ سندھ میں کیوں نہ بنیں؟نئے صوبوں سے سندھ کی تقسیم تو نہیں ہورہی ہے۔ ایک ملک میں چار صوبے بنے تو نہ ملک کوکوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی چارصوبے بننے سے ملک ٹوٹا، نئے صوبوں کے قیام سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صوبائی حیثیت برقراررہے گی۔ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنا سندھی قوم پرست تنظیموں اوربطورسیاسی جماعت پیپلزپارٹی کاحق ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ صوبوں کی تقسیم تین صوبوں میں جائز ہو لیکن ایک صوبے میں ناجائز ہو۔ دنیا کاکوئی ایک ملک بتائیں جس کی تاریخ اور جغرافیہ آج 2026ء میں وہی ہو جوآج سے 1000 سال یا 500 سال پہلے تھا۔ پیپلزپارٹی اورسندھی قوم پرستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاق اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی توپوں کارخ مہاجروں کی جانب ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہے،اس نے ہمیشہ وفاق اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کیلئے سندھ میں نام نہادقوم پرستوں کو پال رکھا ہے۔ آزاد سندھودیش کانعرہ لگانے والے تمام قوم پرست نہ صرف عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوہی ووٹ دیکر کامیاب بناتے چلے آرہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کیلئے کام بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام اورفوج اس حقیقت کوجان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے قوم پرستوں کاٹولہ فوج کو ڈرانے کیلئے رکھا ہوا ہے اسی لئے نام نہاد قوم پرست اورپیپلزپارٹی ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو سندھو دیش بن جائے گا۔ آج بھی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی والوں کی جانب سے بلاواسطہ دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی گئی تو کشت وخون ہوجائے گا اورسندھو دیش کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیرانتظام کشمیر بھارت کے جغرافیے کا حصہ نہیں تھامگر اب وہ بھارت کی یونین میں شامل کیاجاچکا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو آزادکشمیر کہاجاتا ہے، لیکن اب کشمیری عوام خود کہہ رہے ہیں کہ کشمیرآزاد نہیں ہے بلکہ وفاق پاکستان کے تحت اس طرح چلایاجارہاہے جیسے وہ پاکستان کا ایک صوبہ ہو۔ کشمیری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ حقوق دو تو ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، پانی، بجلی، گیس، آٹے کے معاملات خودچلانے اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پرگولیاں چلائی گئی جارہی ہیں اوراب تک 100 زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکاہے۔ 1/2
Altaf Hussain16,308 次观看 • 1 个月前