Altaf Hussain's banner
Altaf Hussain's profile picture

Altaf Hussain

@AltafHussain_90 • 116,478 subscribers

Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist

Shorts

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

32,224 次观看

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

42,342 次观看

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

84,230 次观看

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

11,172 次观看

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

28,609 次观看

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

33,068 次观看

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

28,338 次观看

ARRESTS OF INDEPENDENT CANDIDATES OF PTI AND MQM - A PROMISE OF VICTORY --------------- #ReleaseJoharAbidAdvocate #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar Last night, the houses of three independent candidates, namely Nisar Ahmed Panhwar, his son MohsinPanhwar and senior advocate Jauhar Abid, were raided and they were unjustly arrested. These arrests not only violate the constitution and the law but also serve as an indication of victory of Altaf Hussain's MQM. It is evident that state institutions, as well as the civil and military establishments, are deeply afraid. It is believed that arresting independent candidates is a tactic to instill fear, with the aim of ensuring victory for candidates supported by Altaf Hussain. Furthermore, the military establishment in #Pakistan is also targeting independent candidates from Tehreek-e Insaf PTI, which is the largest and most popular party in Pakistan. Therefore, I demand the immediate release of all independent candidates currently detained across the country, including those in #Karachi. I strongly appeal to Chief Justice Qazi Faiz Essa of the Supreme Court to intervene and put an end to these unlawful tactics employed by the state. The arrest process of independent candidates goes against the principles of justice and the constitution. I would also like to inform Chief Justice Qazi Faiz Essa that under my leadership, MQM represents not just Muhajirs, but all the pro-democracy people of Pakistan, and the MQM and I stand with the oppressed Punjabis, Pakhtuns, Balochs, and others nations in Pakistan who are victims of the outdated feudal system. Sindhis, Seraikis, Kashmiris, Gilgitis, Baltistanis, and Hazarewals are united and are on one page with us. I urge all supporters of Pakistan Tehreek-e Insaaf and MQM to not be intimidated by the prevailing state oppression. Just maintain your courage and spirit. Put an end to the tyranny of the state in Pakistan once and for all by casting your valuable votes in the upcoming general elections on February 8, 2024. ALTAF HUSSAIN LONDON January 9, 2024.

ARRESTS OF INDEPENDENT CANDIDATES OF PTI AND MQM - A PROMISE OF VICTORY --------------- #ReleaseJoharAbidAdvocate #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar Last night, the houses of three independent candidates, namely Nisar Ahmed Panhwar, his son MohsinPanhwar and senior advocate Jauhar Abid, were raided and they were unjustly arrested. These arrests not only violate the constitution and the law but also serve as an indication of victory of Altaf Hussain's MQM. It is evident that state institutions, as well as the civil and military establishments, are deeply afraid. It is believed that arresting independent candidates is a tactic to instill fear, with the aim of ensuring victory for candidates supported by Altaf Hussain. Furthermore, the military establishment in #Pakistan is also targeting independent candidates from Tehreek-e Insaf PTI, which is the largest and most popular party in Pakistan. Therefore, I demand the immediate release of all independent candidates currently detained across the country, including those in #Karachi. I strongly appeal to Chief Justice Qazi Faiz Essa of the Supreme Court to intervene and put an end to these unlawful tactics employed by the state. The arrest process of independent candidates goes against the principles of justice and the constitution. I would also like to inform Chief Justice Qazi Faiz Essa that under my leadership, MQM represents not just Muhajirs, but all the pro-democracy people of Pakistan, and the MQM and I stand with the oppressed Punjabis, Pakhtuns, Balochs, and others nations in Pakistan who are victims of the outdated feudal system. Sindhis, Seraikis, Kashmiris, Gilgitis, Baltistanis, and Hazarewals are united and are on one page with us. I urge all supporters of Pakistan Tehreek-e Insaaf and MQM to not be intimidated by the prevailing state oppression. Just maintain your courage and spirit. Put an end to the tyranny of the state in Pakistan once and for all by casting your valuable votes in the upcoming general elections on February 8, 2024. ALTAF HUSSAIN LONDON January 9, 2024.

19,331 次观看

Videos

AltafHussain_90's profile picture

خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کا نفاذکرکے پختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کا خون کیا گیا ہے، یہ آمرانہ اقدام جمہوریت کےلئے ایک سیاہ اقدام ثابت ہوگا۔ پاکستان میں گزشتہ 79برسوں سے جمہوریت کاخون ہوتاچلا آیاہے، منتخب جمہوری حکومتوں کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہے، ملک میں جمہوریت کے نام پر جوپارلیمانی سیاست ہورہی اس میں جمہوریت کےنام پر دو خاندانوں کی آمریت رائج ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو شروع دن سے قبول نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول اورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے لانگ مارچ نکالا تو ہر دور میں جمہوریت کا خون کرنے والی طاقتوں نے آج خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی منتخب حکومت اوراسمبلی کومعطل کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوران کے رفقا ء کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اوران کے بارے میں کچھ نہیں پتہ چل رہاہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کوبرطرف کرنے کی کیاوجہ ہے؟ اگر ہم ایک لمحےکے لئے یہ مان بھی لیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کررہی تھی، تو گزشتہ 20 برسوں سے آپ دہشت گردی کے خلاف مختلف ناموں سے ایک کے بعد دوسرااوردرجنوں آپریشن کرتے آئے ہیں، جس کے لئے پشتونوں کوان کے گھروں سے نکال کرآئی ڈی پیز بناکرخیموں میں رہنے پر مجبور کیاگیا، پھربھی آپ نے دہشت گردی کا صفایاکیوں نہیں کیا؟ بات یہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سہیل آفریدی جن مطالبات کے لئے لانگ مارچ کررہے تھے، جس کی حمایت میں لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اسی وجہ سے سہیل آفریدی کی حکومت کو برطرف کیا گیا ہے۔ وہاں گورنرراج اور ایمرجنسی ہی نافذ نہیں کی گئی بلکہ اب صوبے کوفوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے آمرانہ اقدامات کرکے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہاں امن قائم ہوگیا ہے، تویہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔ ان آمرانہ اورجابرانہ اقدامات کے نتیجے میں اب خیبرپختونخوا کا ہرپشتون یہ سوچنے پر مجبور ہےکہ کیا وہ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں؟ کیا یہ ملک ہمارانہیں ہے؟ آخرہماراکیا قصور ہےکہ ہماری دوتہائی اکثریت سےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے؟ ہم خیبر پختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کونہیں مانتے، میں فارم 47کی موجودہ حکومت اور اس کےسرپرستوں سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کرکے وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کاآمرانہ اقدام فی الفور واپس لیا جائے، خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، صوبائی حکومت بحال کی جائے اوروہاں بھیجی گئی فوج کو واپس بلایا جائے۔ غیور پشتون عوام گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ظالمانہ اقدام کوکسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے، پشتون عوام صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزامات کوبھی مستردکرتے ہیں۔ ٓصدرآصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت کوختم کرنے کے فرمان پر دستخط کرکے خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کاجوخون کیا ہے، پشتون عوام اس کونہیں بھولیں گے اوراس ظلم کاحساب لیں گے۔ پشتون عوام سمجھتے ہیں کہ تم ملک کے صدرنہیں بلکہ ایک ظالم وجابر ہواورظالموں کے بادشاہ ہو۔ گورنرراج اورایمرجنسی کےظالمانہ اقدام کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اورجولوگ اس جابرانہ اقدام کی حمایت میں آئین وقانون کی تشریح کررہے ہیں وہ ان درباری ملاؤں کی طرح ہیں جواپنے مطلب کےلئے قرآن کی آدھی آدھی آیات کی تشریح کرکے عوام کودھوکہ دیتے ہیں۔ایسے ہی ملاؤں نے سہیل آفریدی کوبھی دھوکہ دیا۔ اسی طرح آئین کی تشریح کرتے ہوئے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ اور دیگراعلیٰ عدالتوں کومفلوج کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ عمران خان کوشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن اس کے فیصلے کوبوٹوں تلے روند دیا گیا۔ میں خیبرپختونخوا کے پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں،اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اور اپنے اتحاد سے اس ظلم وجبر کامقابلہ کریں۔ الطاف حسین حقوق کی جدوجہد میں پشتون عوام کے ساتھ ہے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 484 ویں فکری نشست سے خطاب 11 اکتوبر 2026ء

Altaf Hussain

21,561 次观看 • 2 天前

AltafHussain_90's profile picture

حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنرراج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔ لانگ مارچ کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی توخدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان اب واقعتا ایک ایسے نازک موڑ پر آگیا ہے کہ یہاں ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا اور اس موڑ سے احتیاط سےنہ گزراگیا تویہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تحریک انصاف نےلانگ مارچ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین وقانون کی بالادستی، پارلیمنٹ اورعدلیہ کے احترام اور ملک میں انصاف کے حصول کے لئے شروع کیا ہے لیکن اس پرموجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوجس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، سہیل آفریدی، ان کی کابینہ کے ارکان کو افغانستان، انڈیااوراسرائیل سے جوڑ رہے ہیں، ان پر جس طرح ملک دشمنی کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں اورخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی جو دھمکیاں دی جارہی ہیں، دوسرے لفظوں میں پشتونوں کوملک دشمن قراردیا جارہا ہے، یہ صورتحال ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں اس پر حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اس وقت پاکستان جوسنگین صورتحال درپیش ہے اگرایسے میں لانگ مارچ کے جواب میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی اور لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو خدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت ہوگی،اس سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، لہٰذامیراحکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمراں خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا اورپشتونوں کے بارے جس طرح کی دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں اس سے خیبرپختونخوا کے پشتونوں میں جوجذبات پیدا ہورہے ہیں، اسی کی روشنی میں سہیل آفریدی نے یہ متنبہ کیاہے کہ اگر پشتونوں کے خلاف ایسا ہی عمل کیاجاتارہا تو ہماری نسلیں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائیں گی اورقومی ترانے کے احترام میں نہیں کھڑی ہوں گی۔لہٰذا حکمرانوں کوحالات کی اس نزاکت اور سنگینی کااحساس کرناچاہیے اوریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے انڈیا کے خلاف جنگ ہویاروس اورامریکہ کےدرمیان افغان جنگ ہو، پشتونوں نے ہردورمیں ہمیشہ پاکستان اور فوج کاساتھ دیاہے،آج جن طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، وہ طالبان قبائلی پشتونوں نے نہیں بنائے بلکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنائے تھے، پشتونوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ڈی پیز بنکر خود مشکلات سامنا کیا۔ پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور رہنماؤں کالانگ مارچ سے الگ تھلگ رہنا قابل غورہے،انہیں چاہیےکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بقا،عدالتی نظام کی بحالی اورانصاف کے نظام کے لئے اس میں بھرپورشرکت کریں اور اگرشامل نہیں ہوناچاہتے توپھر شرافت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔ خیبرپختونخوا کے جوعوام اس مقصد کے لئے گھروں سے نکلے ہیں میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کی کامیابی کے لئے دعاگوہوں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر ہنگامی 481ویں فکری نشست سے خطاب 5 اکتوبر 2026ء

Altaf Hussain

13,972 次观看 • 8 天前

AltafHussain_90's profile picture

اسٹیبلشمنٹ اورصدرآصف زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے سندھ کےامن پسند اورباشعور عوام پیپلزپارٹی کی ان گھناؤنی کوششوں کا حصہ نہ بنیں نئے صوبوں کی بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی لیکن سارا نزلہ مہاجروں پر گررہا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خدارا مہاجروں کا بھی سوچیں ………………………………… پاکستان ایک خطرناک ترین دور کی طرف تیزی سے گامزن ہے اورملک کے عوام کو ابھی خطرے کابالکل بھی اندازہ نہیں ہے۔ ملک میں ہرجگہ نئےصوبوں کے قیام کی بحث چل رہی ہےکہ صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے، اس بحث کو ہرگز ہلکا نہ لیا جائے۔ ماضی میں ن لیگ، پیپلزپارٹی اورمولانا فضل الرحمان نے مشترکہ سودے بازی کرکے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم منظور کیں اوراب ملک میں28 ویں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہےجس میں یہ بھی شامل ہےکہ پاکستان میں نئےصوبے بنائے جائیں، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کہہ رہےہیں کہ پاکستان کانظام تباہ ہوچکا ہے،لیکن صدرآصف زرداری پاکستان میں نہیں ہیں، ان حالات میں صدر کو ایوان صدر چھوڑنے کاخیال بھی نہیں آنا چاہیے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق صدرزرداری اپنےبیٹے بلاول زرداری کی شادی کے سلسلے میں آسٹریا گئے تھے اور اس وقت لندن میں ہیں۔میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق لندن میں صدر آصف زرداری سے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ایک گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں ون ٹوون بات چیت ہوئی اور محسن نقوی نے صدر زرداری کو اہم پیغام پہنچایا۔خبر کے مطابق اس ملاقات میں صدرزرداری نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہاکہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کسی بھی مسئلے کا پائیدارحل نہیں نکلے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نہیں رہتے بلکہ وہ وزیراعظم اوورسیز بن گئے ہیں اورمختلف ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ آخر 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں سے متعلق بات چیت لندن میں کیوں ہورہی ہے؟ صدر مملکت اوروفاقی وزیرداخلہ کی پاکستان میں صبح شام ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو پھر صدرمملکت کو پاکستان واپس آنے میں کیاتکلیف ہے؟ملک میں 28 ویں ترمیم آنے والی ہے، صوبے بننے یا نہ بننے کی بحث چل رہی ہے، ایسے وقت میں صدر زرداری کو دو تین ہفتے کیلئے ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ دنوں جب ہائیکورٹس کے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدرزرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی تھی تو صدر زرداری اپنی علالت کابہانہ کرکے ایوان صدرسے بلاول ہاؤس کراچی منتقل ہوگئےتھےلیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کچھ کہا تو انہیں ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے پڑے۔ پاکستان کے سیاستداں قوم سے جھوٹ بولتے رہے ہیں، انہیں عدالتیں سزا دیں اور وہ جیل میں قید ہونےکے باوجود پاکستان کے بااثرحلقوں سے اپنے معاملات طے کرکے علاج کےبہانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، میاں نوازشریف کی مثال سامنے ہے۔ اسی طرح موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری جب جیل میں قید تھے تو پورا ملک جانتا ہے کہ وہ جیل کے بجائے ایک نجی اسپتال میں رہتے تھے اور رات 8 بجے کےبعداسپتال سے کہیں اور منتقل ہوجاتے تھے اوروقت گزارکرصبح اسپتال آجاتے تھے، انہوں نے اپنی پوری اسیری اسی طرح اسپتال میں کاٹی ہے۔ پاکستان کی دوفیصد حکمراں اشرافیہ جب بیمار ہوتی ہے تو ان کا علاج ملک میں نہیں ہوتا بلکہ وہ علاج کیلئے امریکہ، برطانیہ، جرمنی یا فرانس میں جاتے ہیں، اگر صدرزرداری بیمارنہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لندن میں کسی اور وجہ سے قیام پذیر ہیں۔ پیپلزپارٹی والے اب کہیں گے کہ پارٹی کے چیئرمین اور کوچیئرمین ملک میں نہیں ہیں لہٰذا ہم 28 ویں ترمیم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی گئی ہے لیکن سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے خلاف قراردادپیش کی جارہی ہے یعنی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے، سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان اشتعال انگیز تقاریر کررہے ہیں، ا گر صدرآصف زرداری نے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان واپس نہیں جائیں گے توپھروہ بیرون ملک سے”پاکستان نہ کھپے“ کی تحریک چلائیں گے اور صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب 28 ویں ترمیم کافیصلہ پوری اسٹیبلشمنٹ نے کرلیا ہے مگرصرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تمام کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر فیلڈ مارشل ازخود کوئی فیصلہ کرلیں، یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کامتفقہ فیصلہ ہے، 1/2

Altaf Hussain

38,148 次观看 • 1 个月前

AltafHussain_90's profile picture

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف جو دھمکی آمیزبیان دیا ہے کہ اگرکسی نے لانگ مارچ کرنے اوراسلام آباد آنے کی کوشش کی تونتائج کی ذمہ داری آنے والوں پر ہوگی، یہ بیان افسوسناک ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ نے یہ واضح حکم دیاتھا کہ عمران خان کو شفااسپتال منتقل کیا جائے، توحکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟ لانگ مارچ ایک سیاسی عمل ہے، لیکن کیا اب کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرے گی یانہیں؟ سپریم کورٹ کے حکم پر دوسری عدالت کامعاملے میں مداخلت کاعمل عجیب ہے، عدالتوں کا وقارچور چور اورٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، عدالتوں کا سارانظام الٹ پلٹ ہوکررہ گیاہے۔ میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں،ارکان اسمبلی اورکارکنوں سے کہتا ہوں کہ آپ کوعمران خان کی عمر اورجیل میں قیدتنہائی میں جو ان کی حالت ہے اس کوپیش نظررکھناچاہیے اورانہیں ڈرنانہیں چاہیے اورکسی بھی قیمت پر بڑی تعدادمیں نکلناچاہیے اوریہ سمجھ لیناچاہیے کہ ”اگر اس مرتبہ نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 471 ویں فکری نشست سے خطاب 18 ستمبر 2026ء

Altaf Hussain

18,608 次观看 • 25 天前

AltafHussain_90's profile picture

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے ہفتہ شجرکاری کے سلسلے میں پودے لگائے #OnePlantForAltafBhai ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نے اپنی 73ویں سالگرہ کےموقع پر ایم کیوایم کی جانب سےمنائےجانے والے ہفتہ شجرکاری میں حصہ لیتے ہوئےآج لندن میں اپنی رہائش گاہ پر خود بھی پودے لگائے۔ جناب الطاف حسین نے زیتون اور ناشپاتی کے پودے لگائے۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے آلودگی کے خاتمے، ماحول کی بہتری، تحریک کی کامیابی، عوام کی مشکلات اورپریشانیوں کے خاتمے اورملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے دعا بھی کی۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان اوراوورسیز میں موجود تحریک کےتمام وفاپرست کارکنوں اورعوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ایک ایک پودا لگائیں، پاکستان کو گرین بنائیں، خوشحال بنائیں اور ماحول میں موجود آلودگی کوختم کریں۔ پاکستان میں ماحول کی آلودگی کے خاتمے کے لئے پودے لگانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی،ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے رکن افتخارقریشی اورایم کیوایم یوکے کارکنان بھی موجود تھے جنہوں نے پودے لگانے کے سلسلے میں بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین کی معاونت کی۔

Altaf Hussain

22,881 次观看 • 1 个月前

AltafHussain_90's profile picture

پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کوجیل میں محمد مرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئےباہر نکلیں۔ عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔الطاف حسین #ContemptOfCourt #FreeImranKhan #FreeImranKhanNow 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب کو دودن کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال منتقل کیاجائے لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ کیاPTI اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کررہی ہے؟پھر PTI کے ساتھ ایسا غیرمنصفانہ اور سفاکانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ پشتون تحفظ موومنٹ(PTM) کے سربراہ منظور پشتین کی جماعت کے جلسے جلوس پر پابندی لگادی گئی تو کیاپی ٹی ایم کے سربراہ منظورپشتین یا کسی اور رہنما نے اپنے عوامی جلسوں میں مسلح جدوجہد کی بات کی تھی؟ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نےاپنے کسی عوامی جلسے جلوس میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیاتھا؟ تازہ ترین مثال آزادکشمیر کی ہے، کشمیرکے نام پر پاکستان کے ارباب اقتدار واختیار، سیاسی ومذہبی جماعتوں خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قوم کوجھوٹے وعدہ اور تسلیاں دیں، آج کشمیری عوام آٹا، بجلی اور روزگارکیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات سننے والا کوئی نہیں تھا تو کشمیریGen Z نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناکر 38 مطالبات پیش کیے تھے، اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں کے جلوس پر فائرنگ کرکے سو سے زائد افراد کو شہید جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو زخمی کردیاگیا، ایکشن کمیٹی کے مرکزی صدر اوردیگر اراکین کو گرفتار کرکےجیل میں ڈال دیا گیا،کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کا کوئی اعلان کیاتھا؟ یقینا کسی نے بھی مسلح جدوجہد کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ایم کیوایم نے بھی کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا ان حقائق کے باوجودان تمام سیاسی وعوامی جماعتوں کے ساتھ حکومت، ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کاجو رویہ رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ فوج کیاکررہی ہے؟ عمران خان کوفوج نے کمرہ عدالت سے دروازے کھڑکیاں توڑکرگرفتارکیا، گریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے، اسے قید میں رکھا،ذہنی تشددکیا، آج سپریم کورٹ نے عمران خان کوعلاج کےلئے الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کاحکم دیا توحکومت نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ عمران خان کوحکومت نے قید کیا ہوا ہے، اگرسپریم کورٹ آرڈر کرتی توکیا حکومت کی یہ طاقت ہوسکتی ہے کہ وہ انہیں جیل میں بند رکھے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس پر کیا کررہی ہے؟ سوائے 26نومبر کے احتجاج کے جب فوج نے اس پر فائرنگ کی، کئی لوگ شہید ہوئے لیکن وزیراعلیٰ KPKعلی امین گنڈاپورکارکنوں کوچھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلے۔ اس کے بعد سے پی ٹی آئی نے کوئی احتجاج نہیں کیااوراب بھی کہتے ہیں کہ فوج ہماری ہے۔ کہنے کوتوپی ٹی آئی والے عمران خان کیلئے بڑے نعرے لگاتے ہیں لیکن تین سال کے دوران عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اورعمران خان کو انصاف دلانے کےلئے پی ٹی آئی کاکوئی لیڈر نہیں نکلا۔ عمران خان کی بہنوں کی تمام تر اپیلوں کے باوجود کوئی لیڈراورمنتخب نمائندے اڈیالہ جیل نہیں پہنچتے اور ان کی بہنیں اکیلی پولیس کی لاٹھیاں کھاتی رہیں۔ 18 اگست کوسپریم کورٹ کے آرڈرکے باجود جب حکومت نے عمران خان کوالشفااسپتال منتقل نہیں کیا توپی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے سپریم کورٹ میں کوئی ارجنٹ پٹیشن دائر کیوں نہیں کی؟حالانکہ عمران خان نے اپنی بہن کوبتایا کہ انہیں جیل میں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں، انہیں آئسولیشن میں رکھا جارہاہے، یہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح جیل میں ماردیناچاہتے ہیں، پی ٹی آئی کے لیڈراس پر کیاکررہے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کاکیااخلاقی فرض ہے؟ ان کی اسمبلیوں کی رکنیت ان کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی مرہون منت ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اپنے مصلحت پسند لیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، عمران خان کی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان نے روتے ہوئے عمران خان کو جیل میں دی جانے والی اذیتوں کاجوزکرکیا ہے،پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے آنسوؤں کوسمجھیں اور عمران خان کوجیل میں محمدمرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئے باہر نکلیں، عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 453 ویں فکری نشست سے خطاب 22، اگست2026ء

Altaf Hussain

27,010 次观看 • 1 个月前

AltafHussain_90's profile picture

کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟ آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر PTI کے رہنماؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کےباعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔ پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پرنہ صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی۔اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔ پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریا سے لندن پہنچ گئے جس کے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟ یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جو آج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھر کون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟ اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر صاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟ 1/2

Altaf Hussain

17,763 次观看 • 1 个月前

AltafHussain_90's profile picture

جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر سندھ میں کیوں نہ بنیں؟ اگر سندھ دھرتی ماں ہے،توکیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان دھرتی ماں نہیں؟ ………………………………… پاکستان انتہائی نازک صورتحال کی طرف تیزی سے گامزن ہے، پاکستان میں یہ بحث ومباحثہ چل رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کررہی ہے، وہ کہتی ہے کہ پنجاب، KPK اور بلوچستان میں نئے صوبے بنادئیے جائیں لیکن سندھ میں نئے صوبے نہ بنیں، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور کہتے ہیں کہ سندھ دھرتی ماں ہے، تو کیا پنجابیوں کے لئے پنجاب دھرتی ماں نہیں ہے؟کیاپشتونوں کے لئے خیبرپختونخوادھرتی ماں نہیں ہے؟ کیابلوچوں کے لئے بلوچستان دھرتی ماں نہیں ہے؟ جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر صوبہ سندھ میں کیوں نہ بنیں؟نئے صوبوں سے سندھ کی تقسیم تو نہیں ہورہی ہے۔ ایک ملک میں چار صوبے بنے تو نہ ملک کوکوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی چارصوبے بننے سے ملک ٹوٹا، نئے صوبوں کے قیام سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صوبائی حیثیت برقراررہے گی۔ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنا سندھی قوم پرست تنظیموں اوربطورسیاسی جماعت پیپلزپارٹی کاحق ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ صوبوں کی تقسیم تین صوبوں میں جائز ہو لیکن ایک صوبے میں ناجائز ہو۔ دنیا کاکوئی ایک ملک بتائیں جس کی تاریخ اور جغرافیہ آج 2026ء میں وہی ہو جوآج سے 1000 سال یا 500 سال پہلے تھا۔ پیپلزپارٹی اورسندھی قوم پرستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاق اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی توپوں کارخ مہاجروں کی جانب ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہے،اس نے ہمیشہ وفاق اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کیلئے سندھ میں نام نہادقوم پرستوں کو پال رکھا ہے۔ آزاد سندھودیش کانعرہ لگانے والے تمام قوم پرست نہ صرف عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوہی ووٹ دیکر کامیاب بناتے چلے آرہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کیلئے کام بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام اورفوج اس حقیقت کوجان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے قوم پرستوں کاٹولہ فوج کو ڈرانے کیلئے رکھا ہوا ہے اسی لئے نام نہاد قوم پرست اورپیپلزپارٹی ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو سندھو دیش بن جائے گا۔ آج بھی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی والوں کی جانب سے بلاواسطہ دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی گئی تو کشت وخون ہوجائے گا اورسندھو دیش کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیرانتظام کشمیر بھارت کے جغرافیے کا حصہ نہیں تھامگر اب وہ بھارت کی یونین میں شامل کیاجاچکا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو آزادکشمیر کہاجاتا ہے، لیکن اب کشمیری عوام خود کہہ رہے ہیں کہ کشمیرآزاد نہیں ہے بلکہ وفاق پاکستان کے تحت اس طرح چلایاجارہاہے جیسے وہ پاکستان کا ایک صوبہ ہو۔ کشمیری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ حقوق دو تو ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، پانی، بجلی، گیس، آٹے کے معاملات خودچلانے اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پرگولیاں چلائی گئی جارہی ہیں اوراب تک 100 زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکاہے۔ 1/2

Altaf Hussain

16,308 次观看 • 1 个月前