
Altaf Hussain
@AltafHussain_90 • 115,302 subscribers
Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist
Shorts
Videos

پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کوجیل میں محمد مرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئےباہر نکلیں۔ عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔الطاف حسین #ContemptOfCourt #FreeImranKhan #FreeImranKhanNow 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب کو دودن کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال منتقل کیاجائے لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ کیاPTI اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کررہی ہے؟پھر PTI کے ساتھ ایسا غیرمنصفانہ اور سفاکانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ پشتون تحفظ موومنٹ(PTM) کے سربراہ منظور پشتین کی جماعت کے جلسے جلوس پر پابندی لگادی گئی تو کیاپی ٹی ایم کے سربراہ منظورپشتین یا کسی اور رہنما نے اپنے عوامی جلسوں میں مسلح جدوجہد کی بات کی تھی؟ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نےاپنے کسی عوامی جلسے جلوس میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیاتھا؟ تازہ ترین مثال آزادکشمیر کی ہے، کشمیرکے نام پر پاکستان کے ارباب اقتدار واختیار، سیاسی ومذہبی جماعتوں خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قوم کوجھوٹے وعدہ اور تسلیاں دیں، آج کشمیری عوام آٹا، بجلی اور روزگارکیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات سننے والا کوئی نہیں تھا تو کشمیریGen Z نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناکر 38 مطالبات پیش کیے تھے، اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں کے جلوس پر فائرنگ کرکے سو سے زائد افراد کو شہید جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو زخمی کردیاگیا، ایکشن کمیٹی کے مرکزی صدر اوردیگر اراکین کو گرفتار کرکےجیل میں ڈال دیا گیا،کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کا کوئی اعلان کیاتھا؟ یقینا کسی نے بھی مسلح جدوجہد کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ایم کیوایم نے بھی کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا ان حقائق کے باوجودان تمام سیاسی وعوامی جماعتوں کے ساتھ حکومت، ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کاجو رویہ رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ فوج کیاکررہی ہے؟ عمران خان کوفوج نے کمرہ عدالت سے دروازے کھڑکیاں توڑکرگرفتارکیا، گریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے، اسے قید میں رکھا،ذہنی تشددکیا، آج سپریم کورٹ نے عمران خان کوعلاج کےلئے الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کاحکم دیا توحکومت نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ عمران خان کوحکومت نے قید کیا ہوا ہے، اگرسپریم کورٹ آرڈر کرتی توکیا حکومت کی یہ طاقت ہوسکتی ہے کہ وہ انہیں جیل میں بند رکھے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس پر کیا کررہی ہے؟ سوائے 26نومبر کے احتجاج کے جب فوج نے اس پر فائرنگ کی، کئی لوگ شہید ہوئے لیکن وزیراعلیٰ KPKعلی امین گنڈاپورکارکنوں کوچھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلے۔ اس کے بعد سے پی ٹی آئی نے کوئی احتجاج نہیں کیااوراب بھی کہتے ہیں کہ فوج ہماری ہے۔ کہنے کوتوپی ٹی آئی والے عمران خان کیلئے بڑے نعرے لگاتے ہیں لیکن تین سال کے دوران عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اورعمران خان کو انصاف دلانے کےلئے پی ٹی آئی کاکوئی لیڈر نہیں نکلا۔ عمران خان کی بہنوں کی تمام تر اپیلوں کے باوجود کوئی لیڈراورمنتخب نمائندے اڈیالہ جیل نہیں پہنچتے اور ان کی بہنیں اکیلی پولیس کی لاٹھیاں کھاتی رہیں۔ 18 اگست کوسپریم کورٹ کے آرڈرکے باجود جب حکومت نے عمران خان کوالشفااسپتال منتقل نہیں کیا توپی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے سپریم کورٹ میں کوئی ارجنٹ پٹیشن دائر کیوں نہیں کی؟حالانکہ عمران خان نے اپنی بہن کوبتایا کہ انہیں جیل میں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں، انہیں آئسولیشن میں رکھا جارہاہے، یہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح جیل میں ماردیناچاہتے ہیں، پی ٹی آئی کے لیڈراس پر کیاکررہے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کاکیااخلاقی فرض ہے؟ ان کی اسمبلیوں کی رکنیت ان کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی مرہون منت ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اپنے مصلحت پسند لیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، عمران خان کی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان نے روتے ہوئے عمران خان کو جیل میں دی جانے والی اذیتوں کاجوزکرکیا ہے،پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے آنسوؤں کوسمجھیں اور عمران خان کوجیل میں محمدمرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئے باہر نکلیں، عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 453 ویں فکری نشست سے خطاب 22، اگست2026ء
Altaf Hussain26,673 次观看 • 4 天前

جوسلوک محمد مرسی کے ساتھ ہوا ا نشااللہ وہ عمران خان کے ساتھ نہیں ہوگا مجھے یقین ہے کہ27 ستمبر سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کواسپتال اورموجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنماؤں اوروکلاء کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے 18، اگست2026ء کو بانی PTI عمران خان صاحب کو شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی معائنے کے حوالے سے جو واضح ہدایات دی تھیں ان کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایاگیا، ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ نہیں کرایاگیااورمختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا۔ حکومت کا یہ فعل انتہائی سفاکانہ، ظالمانہ، غیرمنصفانہ اورمتعصبانہ ہے، عدالت سے سزایافتہ ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف کوعلاج ومعالجے کیلئے شاہانہ انداز میں بیرون ملک بھیجاگیا، نواز شریف باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے لندن گئے تھے کہ وہ اپناعلاج کراکر چارہفتے میں وطن واپس آجائیں گے لیکن انہیں وطن واپس آنے میں چارسال کاعرصہ لگ گیا۔ جب وہ وطن واپس آئے تو اصولی طورپر ایک سزایافتہ قیدی کو مقررہ وقت پر عدالت میں پیش نہ ہونے اورتوہین عدالت کاارتکاب کرنے پر گرفتارکرکے جیل بھیجنا چاہیے تھا مگر نوازشریف کیلئے ریڈکارپیٹ بچھاکر بادشاہ سلامت کی طرح ان کااستقبال کیاگیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا یہی نظام ہے کہ نوازشریف کو دی گئی سزائیں قصہ پارینہ بنادی گئیں۔ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کے بانی اور سربراہ ہیں، سپریم کورٹ نے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں شفٹ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد نہ کرکے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے توہین عدالت کاارتکاب کیاہے، بہت جلد موجودہ حکومت کے اراکین کواپنے اس عمل کاجواب دیناپڑے گا۔اس سلسلے میں عمران خان کے وکلاء کی پٹیشن عدالت میں ہے اورمجھے یقین ہے کہ27 ستمبر2026 ء سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اسپتال منتقل کیاجائے گا اور موجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گااورجوالمناک سلوک مصر کے صدر محمد مرسی کے ساتھ ہوا انشااللہ ایسا عمل عمران خان صاحب کے ساتھ نہیں ہوگا۔ حقوق کامطالبہ کرنے پر پہلے ایم کیوایم کو غدارکہاگیا اب پی ٹی آئی، پی ٹی ایم، بی وائی سی اور کشمیرکی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی غدارقراردی جارہی ہے یعنی جو حق اورسچ بات کرے اسے غدارکہاجارہاہے۔ میں نے فوجی جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اورناجائز اقدامات پر تنقید کی تو ستمبر2015ء میں میری تحریر، تقریر پر 6 ماہ کیلئے پابندی لگادی گئی جوکہ 11 سال گزرنے کے باوجو دآج تک لگی ہوئی ہے۔ 22 اگست2016ء کی رات فوج نے میرے گھر نائن زیرو کو seal کیا،پھرستمبر2022ء میں نائن زیروکوآگ لگانے کے بعد بلڈوز کردیاگیا، سیاسی ومذہبی جماعتیں،بعض اینکرپرسنزاوریوٹیوبرز مجھ پر من گھڑت اورجھوٹے الزامات لگاتے ہیں مگرصوبہ پنجاب اور KPK کے لوگوں کو یہ نہیں بتایاگیا کہ ملک کے فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین کے پورے خاندان کو دربدرکردیاگیا، میرے بڑے بھائی ناصرحسین، بھتیجے عارف حسین، بہنوئی اسلم ابراہانی اور ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، شہداء کی قبریں یاسین آباد کے شہداء قبرستان میں ہیں، اہل پنجا ب اورKPK کے لوگ وفد بناکرکراچی آئیں تو ہمارے ذمہ دار انہیں ان متاثرہ خاندانوں سے ملواسکتے ہیں جن کے بچوں کو ان کے سامنے گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا یا ماورائے عدالت قتل کردیاگیاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ قانون سب کیلئے برابر ہوناچاہیے یہ نہیں کہ کوئی امیرجرم کرے تو اس کا گناہ معاف کردیا جائے اوراگر کوئی غریب جرم کرے تو اس کیلئے سزا ہو، یہ سراسرناانصافی اورظلم ہے۔ جب تک ملک میں جزا اورسزا کا نظام قائم نہیں ہوگا ملک صحیح ڈگر پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 454ویں فکری نشست سے خطاب 23، اگست2026
Altaf Hussain10,457 次观看 • 3 天前

کشمیر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں، بلوچستان میں لوگ میتیں لیکر دھرنا دیے ہوئے ہیں، پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، انڈیا نے ایٹمی آبدوزیں کھڑی کردی ہیں، پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہےلیکن حکمراں باہر کے مسائل میں مصروف ہیں۔کیا حکمرانوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے؟ الطاف حسین
Altaf Hussain39,206 次观看 • 1 个月前

نئے صوبوں کے معاملے پر مہاجروں کو دھمکیاں نہ دی جائیں۔ الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ چندروزقبل وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےاپنےخطاب میں پاکستان کے سسٹم کوتباہ قراردیتےہوئےملک میں نئے صوبے اورانتظامی یونٹس بنانےکی تجویز پیش کی تھی جس پرملک بھر میں بحث ہورہی ہے،کوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں 20 صوبے بنائےجائیں،کوئی کہتا ہے 33 صوبے بنائے جائیں۔اس معاملے پر صدر آصف زرداری توخاموش ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے نچلی سطح کےلوگوں اور سندھ کے بعض قوم پرستوں نےمہاجروں کو بلواسطہ یابلاواسطہ دھمکیاں دیناشروع کردی ہیں کہ اگر سندھ تقسیم ہوا تو سندھ میں خون کی ندیاں بہیں گی۔میں دھمکیاں دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس کوماریں گے؟ کس کےخون کی ندیاں بہائیں گے؟ آخرانہوں نے مہاجروں کوکیا سمجھ لیا ہے؟ صوبوں کی بات نہ ایم کیوایم نے کی، نہ ہی الطاف حسین نے کی، یہ تو وزیرداخلہ محسن نقوی نے کی ہے اورآج بلاول زرداری نےکشمیرمیں اپنے خطاب میں صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگرعوام کی اکثریت نئے صوبے چاہتی ہےتوہم بھی حمایت کریں گے۔بلاول صوبوں کےقیام کی حمایت کرے توجائز لیکن اگر الطاف حسین حمایت کرے تو سندھ دشمن قرار دیا جائے،یہ کیادوعملی ہے؟ مہاجروں کو دھمکیاں دینے والے قوم پرستوں نے صوبوں کی حمایت کرنے پر بلاول کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یہ آصف زرداری کےخلاف کیوں نہیں بولے جو اس معاملے پرخاموش ہیں؟ یہ بلاول سےکیوں نہیں کہتےکہ وہ صوبوں کے قیام کے خلاف اسلام آباد میں جلوس نکالیں؟ مہاجروں کے خلاف بلاوجہ نفرت کیوں پھیلائی جارہی ہے؟ انہیں دھمکیاں کیوں دی جارہی ہیں؟ میں MQM اور مہاجروں کے خلاف یہ نفرت گزشتہ کئی دنوں سےدیکھ رہا ہوں، کچھ متعصب پوسٹ کاسٹراپنے پروگراموں میں مہاجروں کے خلاف بلاجوازنفرت پھیلارہے ہیں،شاید انہیں زداری صاحب کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہےکہ وہ شروع ہوجائیں کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔اب صوبوں کے قیام کا بہانہ بنا کر بعض قوم پرست مہاجروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میں متنبہ کرتا ہوں کہ اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ مہاجروں کوکاٹ کر دریائے سندھ میں پانی کی جگہ ان کا خون بہائے گاتو وہ یادرکھے کہ جن کاخون بہایاجائے گا، ان کے بھی دوہاتھ ہیں، ان کی بھی آنکھیں ہیں، لہٰذا خون خرابے کی باتیں کیوں کررہے ہو؟ مہاجروں کوبلاوجہ برابھلا کہنا اورانہیں دھمکیاں دینا بند کرو، مہاجر مار کھا کھا کراتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ وہ مارنے والوں کے ہاتھ روک سکتے ہیں، لہٰذامرنے مارنے اور خون خرابے کی باتیں نہیں کرو، جوبات کرنی ہے حکومت سے کرو، جو نیا سسٹم لارہے ہیں ان سے کرو۔فیلڈ مارشل عاصم منیراوروزیرداخلہ محسن نقوی کو مہاجروں کوبلواسطہ یابلاواسطہ دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ جولوگ کہتے ہیں کہ لسانی بنیاد پر کوئی صوبہ نہیں ہونا چاہیے،میں ان سے سوال کرتاہوں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سےکس صوبےکا نام لسانی بنیاد پر نہیں ہے؟ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا کیا ہے؟ کیا سندھیوں کا سندھ، پنجابیوں کا پنجاب، بلوچوں کا بلوچستان، پشتونوں کاخیبرپختونخوا نہیں ہے؟ پختونخواہ صوبےکا نام پہلے صوبہ سرحد NWFP یعنی نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس تھا، پشتونوں نے مطالبہ کیاکہ اس کانام پشتونستان رکھاجائے، ان کامطالبہ درست تھالہٰذا آج صوبہ سرحد خیبر پختونخوا ہے۔ نفرت اور تعصب کی وجہ سےکہا جاتا ہےکہ مہاجر کوئی قوم نہیں ہے۔ میں سوال کرتاہوں کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جو مہاجر یوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات یا ہندوستان کے دیگرعلاقوں سے پاکستان آئے، کیاان کی مادری زبان سندھی، پنجابی، بلوچی یا پشتو تھی؟ کیا ان کی مادری زبان اردو نہیں ہے؟ اگرکوئی کہتا ہے کہ اردوتوقومی زبان ہے، تواردوکوقومی زبان الطاف حسین یاایم کیوایم نے نہیں بنایا تھا، آپ اردوکوقومی زبان سے ہٹادیجئے لیکن آپ ہم سے ہماری زبان، ہماری پہچان نہیں چھین سکتے، آپ یہ نہ بھولیں کہ یوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات جہاں تحریک پاکستان چلی مگر پاکستان ان علاقوں میں نہیں بنا، انہوں نے قیام پاکستان کےلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جب وہ پاکستان کی خاطراپناسب کچھ لٹا کر یہاں آئے تووہ کوئی روبوٹ نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان تھے، وہ اپنے ساتھ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے، جب انہوں نے ہجرت کی تووہ خالی جسموں کی ہجرت نہیں تھی، بلکہ وہ لباس کی بھی ہجرت تھی، وہ زبان کی بھی ہجرت تھی، تہذیب وثقافت کی بھی ہجرت تھی۔اگرموجودہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی پانچ ہزار سالہ تہذیب ہے تو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بھی تہذیب پانچ ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ وہ آج سندھ میں بس رہے ہیں توانہیں ان کی زبان، ان کی تہذیب اورثقافت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ 1/2
Altaf Hussain13,895 次观看 • 19 天前

ملک میں نئے صوبوں کےقیام کے لئے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے، انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتا رہا کہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتالیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی،آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کےلئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔آج ڈی جی ISPR کہہ رہے ہیں کہ1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اُس وقت چار صوبےتھے،آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سےزائد ہوچکی ہے، پھر بھی چار صوبے ہیں ،لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف کی تقریر کےجواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کےقیام کو قطعی ناممکن اور out of question قراردیا ہے، پیپلزپارٹی کےبعض رہنماؤں نے تو اسے سندھ کی تقسیم قرار دیکر یہاں تک کہہ دیاہےکہ”نئے صوبے بناکر دیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیاہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے تو صوبے بناکر دکھائے۔اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی ان دھمکیوں کانوٹس لیں گےیانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کےلئے یہ دلیل دیتاہےکہ آپ تویہ کہیں گےکہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈگورننس اورملک کی ترقی کےلئےمزید صوبے بنارہے ہیں،جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم دس سال کےلئےنافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزر جانےکےباوجود بھی کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔ اور پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کےنام پر سندھ کی تقسیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہےکہ کوٹہ سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنافذ کیا تھا، اگردیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی اور جائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی یہ تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سےتعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔ سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کےلئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کےلئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کےلئےنافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کےوڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہےجنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقابلوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہےاور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔وڈیروں نے سندھ کےنام پر بہت کمایا ہےجبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کےلئے روٹی تک نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی سسٹم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسر آئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔ میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گا کہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 440 ویں فکری نشست سے خطاب یکم اگست 2026
Altaf Hussain15,943 次观看 • 25 天前

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کےخلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو نہ جھونکیں۔افغان جنگ کی طرح ایک بار پھر بیرونی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ اگرفوج کی قیادت کی جانب سےایسا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو پاکستان کے عوام کو اس فیصلےکےخلاف کھل کر احتجاج کرنا چاہیے #IsraeliranWar #IsraelIranConflict
Altaf Hussain166,707 次观看 • 1 年前

پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے شہید میررضا کے قاتلوں کوبیرون ملک فرارکرادیا ہے۔ #JusticeForMirRazaAli #MirRaza شہید میررضا کا بڑھتا ہوا کاروبار کسی وڈیرے کے بیٹے کوپسند نہیں آیا کراچی کو پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنی لوٹ ماراورغنڈہ گردی کا اڈہ بنالیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کرارہے ہیں، اپنے ملک میں معصوم شہریوں پر ظالم وڈیروں کی جانب سے جوظلم ہورہا ہے اس کا حل بھی نکالیں۔ الطاف حسین ……………………………………………… سندھ خصوصاًکراچی کو پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنی لوٹ ماراورغنڈہ گردی کا اڈہ بنالیاہے،کراچی کے شہریوں خصوصاً نوجوانوں کوتعلیم، روزگار، کاروبار، سماجی ومعاشی ترقی اور ہرمیدان میں حق تلفیوں اورزیادتیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔کراچی کے وہ نوجوان جواپنی تعلیمی قابلیت، صلاحیت اوردن رات کی محنت کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوششیں کررہے، کسی قسم کا کاروبارشروع کررہے ہیں، وہ خاص طورپر پیپلزپارٹی کے وڈیروں، ان کی اولادوں اوران کی حکومت کے کارندوں کی غنڈہ گردی کا نشانہ بنائے جارہے ہیں، ان کی جانیں لی جارہی ہیں۔ غنڈہ گردی کا یہ سارا عمل پیپلزپارٹی کی حکومت، پولیس اورحکومتی مشینری کی سرپرستی اور معاونت سے کیا جارہا ہے۔ کراچی کے نوجوان میر رضا کا سفاکانہ قتل اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ شہید سید میررضاعلی ایک نہایت قابل اور پڑھا لکھا نوجوان تھا،اس نے اپنی قابلیت سے Wafflix نامی فوڈشاپ کھولی اورپھر رات دن محنت ومشقت کے ذریعے ایک شاپ سے دوسری اوردوسری سے تیسری شاپ کھولی اوراپنے کاروبار کوترقی دی۔ لیکن وڈیروں اوران کی اولادوں کوشہید میررضا کی یہ ترقی برداشت نہ ہوئی، اسے پہلے دھمکیاں دی گئیں پھر28 جولائی کوشہید میررضا کواغوا کرنے کے بعد سفاکانہ تشدد کرکے قتل کردیا گیا، میررضاشہید کی آخری لوکیشن گلستان جوہر میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کی آئی ہے،اطلاعات کے مطابق یہ گیسٹ ہاؤس پیپلزپارٹی کے کسی وڈیرے کا بتایا جا رہا ہے۔ 29جولائی کواسی گیسٹ ہاؤس کے قریب شہید میررضاکی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنا حکومتی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بنوائی تاکہ اس قتل کارخ موڑاجاسکے۔ شہید میررضا کے اہل خانہ کاشروع سے یہی کہنا تھا کہ شہید میررضاکو قتل کیا گیا ہے لیکن پولیس وڈیروں کی ایما پر شہید سید میررضاعلی کے سفاکانہ قتل کو خودکشی کا نتیجہ قراردیتی رہی اور عوام کوگمراہ کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے مختلف دعوے کرتی رہی۔ شہید میررضا کے والدمیرحسین علی نے بیٹے کی شہادت کاغم ایک طرف رکھ کراپنے مقتول بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرسچ بولناشروع کیا، شہید کے دوستوں اورجین زی نے انصاف کے لئے پر امن احتجاج بھی شروع کردیا۔ شہید کے والد نے بیٹے کی لاش کادوبارہ معائنہ کرانے کے لئے قبرکشائی کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا، عدالت کے حکم کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت نے میڈیکل بورڈ کوبھی تبدیل کیا لیکن شہید کے اہل خانہ کے احتجاج پر پرانے میڈیکل بورڈ بحال کرکے قبرکشائی کی گئی۔ قبرکشائی کے بعد جب لاش کا دوبارہ معائنہ کیا گیا تو ڈاکٹر حیران رہ جاتے ہیں، اس حوالے سے کیمیکل رپورٹ میں جوحقائق سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ شہید سید میررضاعلی کو کمرسے گولی کانشانہ بنایا گیا تھا،شہید میررضا کاچہرہ ناقابل شناخت تھا، شکل کوچھپانے کے لئے چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا، ہاتھوں کوکیمیکل سے جلایا گیا تاکہ فنگرپرنٹ نہ آسکیں اورشناخت مٹادی جائے، شرٹ پر بھی تیزاب کے نشانات، جسم پر جگہ جگہ بدترین تشدد کے نشانات واضح تھے۔ آخر شہید میررضا کا قصورکیا تھا؟ اس کا جرم کیا تھا؟ اس کا بڑھتا ہوا کاروبارکسی وڈیرے کے بیٹے کوپسند نہیں آیا،وہ اسے پھیلنے سے روکنے میں ناکام ہوئے توانہوں نے یہ سوچاکہ اس کا کام ہی اتاردو اور اسے سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ سننے میں آرہا ہےکہ شہیدمیررضا کے قاتلوں کو بیرون ملک فرارکرادیا گیا ہے اورفرارکرانے میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے وڈیرے ملوث ہیں اورایئرپورٹ پر ایجنسیوں کےحکام نے اس میں معاونت کی۔ میں شہید میررضا کے والد سید میر حسین علی اورتمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتاہوں، میں اورمیرے وفاپرست کارکنان اور لاکھوں کروڑوں چاہنے والے آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم شہید میررضا کوانصاف دلانےکے لئے آواز اٹھارہے ہیں اورجب تک درندہ صفت قاتلوں کوکیفرکردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، ہم آوازاٹھاتے رہیں گے۔ ظالم وڈیرے کراچی میں معصوم نوجوانوں کوقتل کرارہے ہیں، اندرون سندھ کاروکاری اورغیرت کےنام پر چھوٹی بچیوں کوماررہے ہیں، غریب ہاریوں پر ظلم کررہے ہیں، لیکن انہیں روکنے والاکوئی نہیں۔ 1/2
Altaf Hussain10,387 次观看 • 15 天前

میں گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے کہتا رہا کہ طالبان نہ بنائیں، انکی سرپرستی نہ کریں، کل یہی آپ کےلئے مونسٹر بن جائیں گے، کاش کہ میری بات سن لی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خودکش حملے پر لندن کے اسپتال سے وڈیو لاگ
Altaf Hussain84,388 次观看 • 6 个月前

اگر آپ جانناچاہتے ہیں کہ فوج ملک کی سیاست میں کیسے مداخلت کرتی ہے، وڈیرے جاگیردار کیا کرتے ہیں، ملک کی معاشی تباہی اورعوام کی پسماندگی کا سبب کیاہے، ملک اورقوم کے مسائل کیا ہیں، ان مسائل کا ذمہ دار کون ہے، مسائل کاحل کیا ہے، یہ سب کچھ اور اسکے علاوہ اوربھی بہت کچھ جاننے کےلئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے فیس بک اوریوٹیوب چینل Revelations with Altaf Hussain اورٹک ٹاک اکاؤنٹ altafhussain_90 کوفالو کیجئے، اسے سبسکرائب کیجئےاورآگہی حاصل کیجئے
Altaf Hussain227,644 次观看 • 2 年前

اپ ڈیٹ: 15 فروری 2026ء : ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کی طبیعت میں مزید بہتری آئی ہے۔آج انہوں نے اسپتال کے وارڈ میں واکر کے ذریعے کچھ دیرچہل قدمی کی۔ #GetWellSoonAltafBhai جناب الطاف حسین نے اس موقع پر کارکنوں اورعوام کے نام اپنے مختصر پیغام میں کہاکہ میں اللہ کے فضل وکرم اورسب کی دعاؤں کے طفیل بہتر ہورہا ہوں، انشاء اللہ میں بہت جلد اسی عزم وحوصلے اور پوری قوت کے ساتھ اپناسفر جاری رکھوں گا۔ انہوں نے کارکنوں اورعوام سے اپیل کی کہ وہ میرے لئے اپنی دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ یادرہے کہ جناب الطاف حسین اپنی طبیعت کی ناسازی کے سبب گزشتہ 16دنوں سے اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
Altaf Hussain66,130 次观看 • 6 个月前

میں فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، کورکمانڈرز اور آپریشنل کمانڈرز سے بڑے ادب کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا افغانستان کے ساتھ دوروزہ جنگ بند ی نہیں بلکہ بات چیت کرکےمستقل جنگ بندی کامعاہد ہ کریں۔ میرے یہ الفاظ لکھ کر رکھ لیجئےکہ پاکستان کا افغانستان کےساتھ ٹکراؤ اور تواتر کے ساتھ ہونے والا ٹکراؤ کسی بھی طرح دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس ٹکراؤ سے افغانستان کوکوئی نقصان پہنچے یا نہ پہنچے لیکن اس لڑائی سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ لہٰذا افغانستان کے ساتھ جنگ کے بجائے مستقل جنگ بندی اور بہتر تعلقات کی کوشش کی جائے۔ میں افغانستان کے رہنماؤں سے بھی کہتا ہوں کہ آپ بھی اپنے لوگوں کوسمجھائیں کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی ایساعمل نہ کریں جس کا جواب دینا پاکستان کے لئے ضروری ہوجائے۔ الطاف حسین فکری نشست نمبر 331 سے خطاب 16 اکتوبر 2025
Altaf Hussain95,634 次观看 • 10 个月前

پاکستان میں جمہوریت کی بقا، انصاف کے نظام اور عدلیہ کی آزادی کے لئے عمران خان Imran Khan کی 24 نومبر کے احتجاج کی کال کی حمایت کرتا ہوں۔ پاکستان کے طلبہ ، وکلا ، مزدوروں، کسانوں اور تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ 24 نومبر کے پرامن احتجاج کو کامیاب بنائیں PTI
Altaf Hussain163,002 次观看 • 1 年前

ویلکم ، ویلکم ۔ سہیل آفریدی ویلکم ٹو کراچی خیبر پختونخوا کے نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کراچی تشریف لانے پر اپنی جانب سے ، اپنی رابطہ کمیٹی ، CEC کی جانب سے، اپنے تمام وفاپرست ساتھیوں اور اہلیانِ کراچی کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں #SohailAfridiWelcome
Altaf Hussain55,731 次观看 • 7 个月前

پشتون عوام 11 اکتوبر 2024 کو پشتون تحفظ موومنٹ کے زیراہتمام ہونیوالےگرینڈ پشتون قومی جرگے کو کامیاب بنائیں۔ خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے تمام علاقوں اور دنیا بھر میں رہنے والے تمام پشتون عوام سے اپیل Manzoor Pashteen Pashtun Tahafuz Movement #PashtunNationalCourt11October
Altaf Hussain136,716 次观看 • 1 年前