Kashif Aslam's banner
Kashif Aslam's profile picture

Kashif Aslam

@Kaashif99938,612 subscribers

Blogger & satirist * Fortis Fortuna Adiuvat *

Shorts

ایک اور پاکستانی مسلم خاتون اپنے عمیری پہلوان سے ملاقات کے لیے، اپنے بابل کے چھت کی دیوار ٹاپ رہی ہیں ۔۔۔ اگر چھاپہ پڑ گیا تو قصور وار مرد ہی ٹھہرے گا۔ پاکستانی مسلم خواتین فرشتہ ہوتی ہیں ناں 😎

ایک اور پاکستانی مسلم خاتون اپنے عمیری پہلوان سے ملاقات کے لیے، اپنے بابل کے چھت کی دیوار ٹاپ رہی ہیں ۔۔۔ اگر چھاپہ پڑ گیا تو قصور وار مرد ہی ٹھہرے گا۔ پاکستانی مسلم خواتین فرشتہ ہوتی ہیں ناں 😎

629,632 Aufrufe

بڑی غلطی ہو گئی !! جب گھونگھٹ اٹھایا تھا، تبھی بتا دینا چاہیے تھا 😊

بڑی غلطی ہو گئی !! جب گھونگھٹ اٹھایا تھا، تبھی بتا دینا چاہیے تھا 😊

298,462 Aufrufe

مان گئے جناب۔ چنانچہ اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے !! خواتین اب آزاد ہیں۔ مستقبل بھی انہی کا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم سب فیمنسٹ ہو جائیں، بڑھاپے میں سمجھنے کا کیا فائدہ؟ 🤔

مان گئے جناب۔ چنانچہ اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے !! خواتین اب آزاد ہیں۔ مستقبل بھی انہی کا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم سب فیمنسٹ ہو جائیں، بڑھاپے میں سمجھنے کا کیا فائدہ؟ 🤔

119,259 Aufrufe

یہ محترمہ بے روزگار تھیں 😊 اس ویڈیو کی وجہ سے انہیں نیسلے ملک پیک میں اچھی نوکری مل گئی ہے 😎

یہ محترمہ بے روزگار تھیں 😊 اس ویڈیو کی وجہ سے انہیں نیسلے ملک پیک میں اچھی نوکری مل گئی ہے 😎

148,489 Aufrufe

آج کا سوال اب کیا بندروں کو بھی فتنہ خوارج اور انتشاری کہا جائے گا ؟ 🤔

آج کا سوال اب کیا بندروں کو بھی فتنہ خوارج اور انتشاری کہا جائے گا ؟ 🤔

56,016 Aufrufe

مشرقی عورت حیا کا پتلا ہوتی ہے اپنے اثاثے دکھا بھی دے تو کم ازکم چہرہ نہیں دکھاتی 😎

Sensitive content

مشرقی عورت حیا کا پتلا ہوتی ہے اپنے اثاثے دکھا بھی دے تو کم ازکم چہرہ نہیں دکھاتی 😎

104,091 Aufrufe

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂

Sensitive content

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂

61,401 Aufrufe

Videos

محترمہ مریم نواز صاحبہ ناڑے کی اتنی کچی ہوں گی، کبھی سوچا نہ تھا۔ لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ محترمہ شائد "نسوانی نوابی شوق" بھی رکھتی ہیں !! جنرل فیض حمید پر غصے کی وجہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ ایبٹ اباد والے ڈاکٹر کو انہوں نے لانچ کر کے محترمہ کی ویڈیوز بنوائیں۔ اپنے وی لاگ کے ابتدائیے میں، عادل راجہ نے مریم صاحبہ کا چلتر کھول کر رکھ دیا تو بعد ازاں سبین کیانی نے اخلاقی اعتبار سے اس موضوع کا پوسٹ مارٹم کیا۔ عادل راجہ تو شاید چار باتیں اور بھی کہہ جاتے، لیکن سبین کیانی بار بار روک رہی تھیں ! اور تو اور، یہ بھی پتہ چلا کہ لوگ شرطیں لگا کر مریم صاحبہ کے ساتھ دوستیاں کرتے تھے۔ کبھی مریم صاحبہ بتایا کرتی تھیں کہ ان کے پاس ویڈیوز ہیں۔ ان کو مبارک ہو، اب ان کی ویڈیوز بھی لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ وی لاگ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے مجھے ایبٹ اباد والے ڈاکٹر پر بڑا ترس آتا ہے۔ بار بار ان کا ذکر چھڑتا ہے۔ خود ہی سوچیے ان کے دل پر کیا نہ گزرتی ہوگی 🤔
2:33

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Kaashif999's profile picture

محترمہ مریم نواز صاحبہ ناڑے کی اتنی کچی ہوں گی، کبھی سوچا نہ تھا۔ لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ محترمہ شائد "نسوانی نوابی شوق" بھی رکھتی ہیں !! جنرل فیض حمید پر غصے کی وجہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ ایبٹ اباد والے ڈاکٹر کو انہوں نے لانچ کر کے محترمہ کی ویڈیوز بنوائیں۔ اپنے وی لاگ کے ابتدائیے میں، عادل راجہ نے مریم صاحبہ کا چلتر کھول کر رکھ دیا تو بعد ازاں سبین کیانی نے اخلاقی اعتبار سے اس موضوع کا پوسٹ مارٹم کیا۔ عادل راجہ تو شاید چار باتیں اور بھی کہہ جاتے، لیکن سبین کیانی بار بار روک رہی تھیں ! اور تو اور، یہ بھی پتہ چلا کہ لوگ شرطیں لگا کر مریم صاحبہ کے ساتھ دوستیاں کرتے تھے۔ کبھی مریم صاحبہ بتایا کرتی تھیں کہ ان کے پاس ویڈیوز ہیں۔ ان کو مبارک ہو، اب ان کی ویڈیوز بھی لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ وی لاگ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے مجھے ایبٹ اباد والے ڈاکٹر پر بڑا ترس آتا ہے۔ بار بار ان کا ذکر چھڑتا ہے۔ خود ہی سوچیے ان کے دل پر کیا نہ گزرتی ہوگی 🤔

Kashif Aslam

152,877 Aufrufe • vor 8 Monaten

Kaashif999's profile picture

کیا عمران ریاض کی روپوشی کا موازنہ مراد سعید کی روپوشی سے کیا جا سکتا ہے؟ عمران ریاض پریگیڈیئر کے خلاف گواہی دینے سے بھاگ چکے، یہ والا باب بند ہوا، چنانچہ میں اس حوالے سے لکھنا نہیں چاہتا تھا، لیکن ان کے پرستار ہیں کہ بار بار مراد سعید کی رو پوشی سے ان کا موازنہ کرتے ہیں، چنانچہ سوچا کہ اس حوالے سے بھی کچھ لکھ ہی دوں۔ کیا اج کی تاریخ میں روپوش ہوا جا سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں۔ اگر اپ Jack Reacher Mode پر چلے جائیں۔ اپ اے ٹی ایم کارڈ استعمال کریں نہ ٹیلی فون۔ آپ اکیلے ہوں، اپ کے پاس کیش ہو، اپ کسی جگہ پر چھپ کر بیٹھ جائیں جہاں اپ کی ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، تو اپ روپوش رہ سکتے ہیں۔ ملا عمر کافی عرصہ اسی طرح روپوش رہے۔ لیکن عمران ریاض کا کیس بہت مختلف ہے۔ بہت ہی زیادہ۔ اس حوالے سے ان کا ثمینہ پاشا کو دیا ہوا انٹرویو، بہت ساری چیزیں واضح کر دیتا ہے۔ اس کے کچھ حصے نیچے والی ویڈیو میں موجود ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ عمران ریاض کہتے ہیں کہ جب وہ خیبر پختون خواہ میں تھے تو ان کے ساتھ 10 لوگ ہوا کرتے تھے۔ اتنے زیادہ لوگ بڑی آسانی سے ٹریس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی گاڑی کے ساتھ ٹریکر لگا ہوا ملا۔ دوسرے الفاظ میں، عمران ریاض خود مانتے ہیں کہ وہ مسلسل نگاہوں میں تھے۔ پھر عمران ریاض کہتے ہیں کہ بعد میں ان کے ساتھ صرف ایک ہی بندہ رہا۔ مان لیا۔ پھر اگے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایجنسیاں اتنی نکمی ہیں کہ وہ پورا پاکستان گھومتے رہے، خیبر پختون خواہ سے بلوچستان گئے تو سندھ بھی۔ اور تو اور، شاید کسی شادی پر بھی گئے۔ ہسپتال میں بھی گئے جہاں میلہ لگ گیا۔ سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ائی بی، ائی ایس ائی، ایم ائی، اور سپیشل برانچ اتنی نکمی ہیں کہ ان کو ان حرکات کی خبر تک نہ ہو سکی؟ کوٹلیہ چانکیہ کے دور میں جاسوسی کا فن اس کمال پر تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم بھی اس سے خائف رہا۔ اکاؤنٹنگ کی طرح، اس شعبے میں بھی کم ازکم ڈبل چیک تو ضرور ہوتا ہے، مخبر کے پیچھے بھی کوئی مخبر ہوتا ہے، تہہ در تہہ ایک پیچیدہ نظام، جو خاموشی سے بہت کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن، ٹارزن بھیا ہیں کہ اس سارے نظام کو واڑتے ہوئے پورے پاکستان میں پھر رہے ہیں۔ چلیے ان کی یہ بات مان لیتے ہیں۔ یہ ایجنسیاں واقعی اتنی ہی نکمی ہیں۔ مگر جب یہ عمان پہنچتے ہیں، تو دوسرے تیسرے دن، بقول عمران ریاض کے، ایجنسیوں کو خبر ہو جاتی ہے اور یہ عمان سے بھی بھاگ نکلتے ہیں۔ خود کہتے ہیں کہ تین ملکوں کا ویزہ تھا میرے پاس، لیکن بھاگتے بھاگتے یہ سات ملکوں کی سیر کر جاتے ہیں۔ یہ پاکستان میں تو ہر جگہ گھومے، کسی کو خبر تک نہ ہوئی، لیکن جونہی عمان پہنچے، ایجنسیوں کے کن ٹٹے طمنچہ لیے ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ یہ جس جگہ بھی جاتے، انہیں دو تین دن میں وہ جگہ چھوڑنی پڑتی۔ بقول انہی کے، ان کی فیملی سال بھر پہلے، اس ملک میں منتقل ہوئی۔ انہوں نے ویزہ لیا، ایئرپورٹ سے سفر کیا ہو گا، ایجنسیاں اتنی نکمی تھیں کہ انہیں پھر بھی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس ملک میں گئے ہیں ! لیکن جب عادل راجہ نے پوسٹ کر کے بتایا کہ اپ کے ویزے کا انتظام ہو گیا ہے، تو انہوں نے دہائی ڈال دی کہ میری فیملی کی لوکیشن یعنی موجودہ ملک بتا کر ان کی جان خطرہ میں ڈالی۔ اس کے بعد یہ لٹھ لے کر چڑھ دوڑے، نتھنے پھول گئے اور سانسیں چڑھ گئیں۔ اگر ایجنسیوں کو پہلے ہی پتہ چل چکا تھا کہ عمران ریاض کہاں پہنچ چکے ہیں، ان کی فیملی کہاں ہے، تو پھر عادل راجہ پر غصہ کس لیے؟ سلمان احمد سے شکایتیں کیوں؟ انہوں نے تو بہت بعد میں یہ پوسٹ کی ! اگر صرف عمان کا نام لینے سے ہی آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں پڑتی ہے، تو اپنی فیملی کی جان تو آپ نے خود خطرہ میں ڈالی۔ آپ عمان پہنچے، دوسرے تیسرے دن نکمی ایجنسی کو پتہ چل گیا کہ آپ کہاں ہیں۔ اور جب آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں آئی تو آپ نے کیا کیا؟؟ بہت ہی بہادری کا کام۔ آپ نے دم دبائی اور اپنی فیملی کو اللہ کے حوالے کر کے بھاگ نکلے ! آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ایجنسی کے کن ٹٹے آپ کی فیملی کے ساتھ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اپنی جان کی پڑی تھی، آپ نے اپنے بچوں کو چھوڑا، بیوی کی پروا نہیں کی، والدین کا نہیں سوچا، بس بھاگ نکلے۔ سوری، یہ میں الزام نہیں لگا رہا، آپ بلواسطہ کہہ رہے ہیں، جب آپ کہتے ہیں کہ جب مجھے کچھ اشارے ملے تو میں بھاگ گیا۔ آپ نے کبھی کہیں نہیں کہا کہ آپ اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے کچھ کر کے گئے !! سوال پھر وہی کہ فیملی کو ایکسپوز آپ نے خود کیا، ان کی جان آپ نے خود خطرہ میں ڈالی، اور پھر بھاگے بھی خود، تو عادل راجہ اور سلمان احمد پر غصہ کیوں؟ ان کے خلاف مہم کیوں چلائی؟ عمران ریاض کہتے ہیں کہ افغانستان پہنچے تو ان کے پاسپورٹ پر اینٹری کی مہر نہ تھی۔ مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میرے زخموں میں انفیکشن ہو گیا تھا ان سے خون بہتا تھا۔ یہ بھی مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں انٹری کی مہر لگوانے کے لیے کسی کو پاسپورٹ نہیں دیتا تھا، یہ بھی مان لیا۔ اب یہ بات سمجھ نہیں اتی کہ کیا ایجنسی کو پتہ نہیں چلا کہ عمران ریاض کہاں ہیں؟ عمان پہنچے تو دوسرے تیسرے دن پتہ چل گیا، پڑوس میں افغانستان ہے، آپ اس کے کسی سرحدی مقام پر ہی ہوں گے، سرحدی علاقوں میں عام طور پر ایجنسیوں اور مخبروں کا بہت مضبوط نیٹ ورک ہوتا ہے، آئی ایس آئی تو 45 سال سے مسلسل ایکٹو ہے افغانستان میں، وہاں تو پنجابی ٹرک ڈرائیور کو بھی ایجنسی کا ایجنٹ سمجھ لیا جاتا یے، لیکن ایجنسی اتنی نکمی تھی کہ اس کو خبر ہی نہ ہو سکی۔ مقامی لوگوں نے بھی نوٹ نہیں کیا۔ نہ مخبروں کو پتہ چل سکا۔ لیکن جونہی عمران ریاض عمان پہنچتے ہیں، پاکستان کی ایجنسیاں اچانک بہت پروفیشنل ہو جاتی ہیں۔ کون سی بات مانیں اور کون سی نہیں؟ آپ ہی بتا دیں۔ عمران ریاض ایک جگہ پر کہتے ہیں کہ میرے دوستوں نے موبائل پر ایسی سیٹنگ کر کے دی ہوئی ہے کہ ایجنسیاں ٹریس ہی نہیں کر سکتیں۔ مان لیا۔ مگر دوسری جگہ پر کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ بتایا کہ میں نے کہاں سے بارڈر کراس کیا، تو فون ریکارڈز سے ایجنسیاں ان لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں جن سے میں رابطے میں تھا۔ اگر پہلی بات مان لیں تو یہ کیسے مان لیں؟ اپ کا تو فون ٹریس ہی نہیں ہو سکتا تھا !! ثمینہ پاشاہ کے انٹرویو میں اپ کہتے ہیں کہ بارڈر کراس کرتے ہوئے اپ کو چوٹ لگی۔ دو زخم ائے۔ آفتاب اقبال کے پروگرام میں مگر آپ کہتے ہیں کہ بھیڑیے نے حملہ کیا تھا۔ کہیں اپ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اپ کا کاروبار تباہ ہو گیا۔ دوسری طرف اپ یہ کہتے ہیں کہ میں صحافی ہوں میرا کوئی کاروبار نہیں۔ پھر وہی سوال، کہ کون سی بات ماننی ہے؟ اپ کہتے ہیں کہ میرے پاس 9 واٹس ایپ نمبرز ہیں۔ اپ کو ایک بندہ ہر دفعہ نئے نمبر سے کال کر کے بتاتا ہے کہ اب ریڈ ہونے والی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس کی کال کے سات منٹ بعد ریڈ ہوگئی۔ کوئی منہ اٹھا کر فون کر دیتا ہے کہ کشتی میں ڈنکی لگواتا ہوں، دوسری طرف جنرل فیض جب چیف تھے، تو وہ بیچارے صحافیوں کے ترلے کرتے پھرتے تھے کہ خدا کے لیے، میری عمران ریاض سے بات کروا دو، لیکن ان کی بات نہ ہو پائی۔ ابھی اگلے روز ہی طارق متین نے پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں نے عمران ریاض سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہو نہیں پایا۔ دوسری طرف اپ کا مخبر ہر بار نئے نمبر سے کال کرتا یے، جسے آپ اٹینڈ بھی کرتے ہیں۔ کون سی سائنس ہے یہ ؟ میری عمران ریاض سے گزارش ہے کہ ائندہ کبھی ایسی کوئی کہانی بنانی ہو تو بہتر ہے کہ Frederick Forsyth کے کچھ ناول پڑھ لیں، تاکہ آپ کی کہانی کچھ قابلِ یقین لگے، Pierce Brosnan کی فلم November Man کی طرح۔ صاحب بات یہ ہے کہ جناب کے انٹرویو میں اتنے زیادہ تضادات ہیں کہ ایک چھوٹی سی کتاب لکھی جا سکتی ہے ان پر۔ مجھے سچ میں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اتنا زیادہ ڈرامہ کیوں؟ عمران ریاض کی کہانی پر فلم بنائی جائے، تو یقین مانیے فلم بنانے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ یہ کامیڈی فلم بن گئی یا تھرلر، رونا ہے یا ہنسنا ہے۔ حد ہوتی ہے چھوڑنے کی۔ ادھر عمران ریاض اپنی درد بھری کہانی سناتے ہیں، ادھر پاکستانی مسلم خواتین مصلے پر گر کر دعاؤں میں لگ جاتی ہیں، بچے رونے لگ جاتے ہیں، مردوں کے چہرے لٹک جاتے ہیں کہ شائد اب وطن دشمن عمران ریاض کو نہ چھوڑیں گے، بعد میں خواتین ایکس پر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ عمران ریاض سے سوال نہ پوچھیے ، انہوں نے بہت کچھ سہا ہے۔ مرد یاد کرواتے رہتے ہیں کہ مراد سعید بھی غائب ہے۔ اعتماد عمران ریاض کا بھی دیکھیے۔ بے دھڑک چھوڑے چلے جاتے ہیں۔ وہ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑتے کہ کہانی میں کوئی منطق ہے یا نہیں، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم پھدو بننے کو ہر وقت تیار رہتی ہے، بلکہ پھدو بنانے والوں کا سواگت پھولوں کی پتیوں سے کرتی ہے، اور انہیں اپنے سر پر بٹھاتی ہے۔ وگرنہ ایسی بے سر و پا رام لیلا سنانے کی ہمت وہ کبھی نہ کرتے۔ خیر موضوع کی طرف واپس اتے ہیں، مراد سعید اور عمران ریاض، دونوں کی کہانی اور حالات مکمل مختلف ہیں۔ عمران ریاض نے مگر کمال ہوشیاری سے اپنے آپ کو مراد سعید کے پہلو میں کھڑا کر دیا۔ باریک واردات کسے کہتے ہیں؟ اسے ہی کہتے ہیں !!

Kashif Aslam

140,092 Aufrufe • vor 9 Monaten

Kaashif999's profile picture

عمران ریاض کی ایک اور آڈیو لیک۔ سچ کہوں تو مجھے اس پر یقین نہیں آ رہا۔ عمران ریاض ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اس بار، مجھے لگتا ہے کہ عمران ریاض کی طرف سے اس کی تردید آ جائے گی۔ اگر انہوں نے مجھے فالو کر کے بلاک نہ کیا ہوتا، تو میں ان سے ویریفائی کر لیتا۔ یہ ویڈیو جو مجھے موصول ہوئی، دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں ان کے ایک انٹرویو کا کلپ ہے، جس میں وہ بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں، دعوے کر رہے ہیں، بڑھکیں لگا رہے ہیں ۔ دوسرے حصے میں، ان کی کسی سے گفتگو کے چند جملے ہیں۔ ایک جملہ ایسا ہے جو ان کی شخصیت کو بے نقاب کر کے رکھ دیتا ہے، سارے پردے اتار دیتا ہے۔ اگر یہ آڈیو سچی ہے، تو یہ جملہ عمران ریاض کی اصل شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔ اگر یہ آڈیو سچی ہے تو۔ اپ نے زندگی میں دیکھا ہوگا، کہ لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہتے۔ لیکن جب گفتگو چلتی ہے، کسی سے اپنے موقف کا دفاع ہو نہیں پاتا، تو اچانک ہونٹوں سے ایک جملہ پھسل جاتا ہے، جو من کی دنیا کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اگر آڈیو سچی ہے تو یہی عمران ریاض کے ساتھ ہوا۔ عمران ریاض بظاہر کوئی دلیل دے نہیں پا رہے تھے، دلائل لا رہے تھے، عادل راجہ کے حوالے سے، عمران ریاض اچانک کہتے ہیں کہ میں کیوں گواہی دوں؟ میں تو ان کی لڑائی کا مزا لوں گا ! پبلک پلیٹ فارمز پر عمران ریاض کہتے رہے کہ کسی نے ان سے گواہی کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ انہیں بلایا جاتا تو وہ ضرور جاتے۔ اس گفتگو سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ رابطے تو ہوتے رہے۔ عادل راجہ کی ایما پر بھی لوگوں نے کہا، اور خود بھی کوششیں کیں۔ کتنے زیادہ کھلے خط تو میں خود لکھ چکا، عمران ریاض تھوڑی سی بھی لچک دکھاتے، دونوں فریق گلے شکوے کرتے، گلے ملتے، مسئلہ حل ہو جانا تھا۔ مگر، اگر آڈیو سچی ہے تو، عمران ریاض لچک کیوں دکھاتے ؟ وہ تو عادل راجہ کی لڑائی کا مزا لینا چاہتے تھے ! عمران ریاض کہتے ہیں کہ عادل راجہ نے ان کے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ تفصیل میں جائے بغیر عرض کروں گا کہ کم تو عمران ریاض نے بھی نہیں کی۔ عادل راجہ نے پھر بھی پبلکلی معافی مانگ لی، کھلے لفظوں میں، بغیر اگر مگر، بغیر کسی شرط کے۔ مگر، کیا عمران ریاض نے معافی مانگی ؟؟ ایک طرف لوگوں کی کوشش تھی، کہ ایجنسی کے خلاف جنگ میں عادل راجہ اکیلے نہ پڑیں۔ مگر دوسری طرف، عمران ریاض تھے، اگر آڈیو سچی ہے تو، جو صرف تماشا دیکھنے کا انتظار کر رہے تھے !! تو پیارے پیارے بچو، آپ نے کیا سیکھا؟؟ حب الوطنی، حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد جیسے الفاظ وغیرہ وغیرہ صرف عام لوگوں کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بڑے لوگ، ان کی مدد سے عام لوگوں کو بس بے وقوف بناتے ہیں، اور ڈالرز چھاپتے ہیں - آڈیو اگر سچی ہے تو ۔۔ !! کاش عمران ریاض کہہ دیں کہ یہ آڈیو جھوٹ ہے ۔۔ ! گواہی تو آپ نے دی نہیں۔ نو پرابلمز۔ یہی کہہ دیں کہ آڈیو جھوٹ ہے۔ کہہ دیں کہ انہوں نے یہ جملہ نہیں کہا کہ میں باہر بیٹھ کر لڑائی انجوائے کروں گا۔ کچھ بھرم تو رہنے دیں عمران بھائی 🙏

Kashif Aslam

112,522 Aufrufe • vor 9 Monaten

Kaashif999's profile picture

عمران ریاض کی لیک آڈیو، میاں اشفاق کا مشکوک کردار ڈاکٹر شہباز گل کی نظر میں ! اس ویڈیو میں ڈاکٹر شہباز گل کی گواہی کے بعد عمران ریاض کی آڈیو سنی جا سکتی ہے، جس میں میاں اشفاق کے حوالے سے ان کے خیالات جانے جا سکتے ہیں۔ کمپنی بہادر کی ایک ادا بہت اچھی لگتی ہے مجھے، کہ یہ اپنے ہر اثاثے کو بے نقاب کر کے رہتی ہے۔ ایک بات مجھے اپنی قوم کی بھی بہت اچھی لگتی ہے کہ اپنے صیاد کے پریم میں رہنے کے تصور سے بھی بہت پریم کرتی ہے۔ کل سے ڈاکٹر شہباز گل کا ایک کلپ وائرل ہوا پڑا ہے، جس میں وہ میاں اشفاق کو مبینہ طور پر آئی ایس آئی کا وکیل کہہ رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب بڑے نیچرل سے انداز میں کسی پر یہ پھبتی بھی کس جاتے ہیں کہ میں نے خود کو ٹارزن بنا کر پیش نہیں کرنا۔ پاکستانی صحافت میں یہ اعزاز جناب عمران ریاض کے حصہ میں آیا ہے کہ انہیں ٹارزن کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، ٹارزن صاحب کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر ٹارزن جی میاں اشفاق کے بہت بڑے حمائتی نظر آتے ہیں۔ یہ بات عادل راجہ بھی کہہ چکے کہ میاں اشفاق اصل میں ایجنسیوں کے وکیل ہیں، اپنی آڈیو میں ٹارزن جی اس بات پر سیخ پا نظر آتے ہیں کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو غدار کیوں کہا؟ حقیقت جبکہ یہ ہے کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو ایجنسی کا بندہ کہا تھا، جس کی گواہی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی دے دی۔ یعنی عادل راجہ ایک بار پھر سچے ثابت ہوئے۔ ممکن ہے کہ ٹارزن جی کی یہ مبینہ آڈیو ان کی نہ ہو، اگر وہ چاہیں تو اس کی تردید کر سکتے ہیں ! تمام آثار اب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹارزن صاحب کوئی نہ کوئی ڈیل کر چکے میاں اشفاق کی وساطت ، مگر ٹارزن جی کی ضد ہے کہ انہیں صحافت کا ٹیپو سلطان ہی مانا جائے۔ دوسری طرف عوام کی بہت بڑی تعداد بھی ابھی تک ٹارزن صاحب کو ہیرو مانتی ہے۔ ٹارزن جی خود اشارہ کر چکے ہیں کہ عنقریب ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہو گا، لگتا ہے کہ ٹارزن صاحب کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ بہت جلد ان کی حقیقت بے نقاب شروع ہونے والی ہے، لگتا ہے کہ لیکس کا موسم شروع ہونے والا ہے۔

Kashif Aslam

106,841 Aufrufe • vor 9 Monaten