
Agha Sheikh Sarwar
@Agha_Sarwar804 • 94,847 subscribers
Muslim Pakistani Journalist / Anchor Person / Youtuber / Columnist صحافت کا معنی غیر جانبدار ہونا نہیں مظلوم کا ساتھی اور ظالم کا دشمن بننا ہے
Shorts
Videos

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
Agha Sheikh Sarwar178,336 просмотров • 1 месяц назад

سب سے پہلے میں تمام احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور میرے حق میں آواز بلند کی ہم دھمکیوں اور تشدد سے اپنی ہمت نہیں ہاریں گے اور اسی عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہ کر کوریج کا سلسلہ جاری رکھیں گے کوئی بھی شخص ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا سندھ تحریک کی کوریج کا آغاز ہم نے رحیم یار خان سے کیا تھا لاہور سے اپنی مدد آپ کے تحت مقامی سفری ذرائع استعمال کرتے ہوئے سندھ پہنچے اور کبھی کسی سے غیر ضروری سہولت یا مالی معاونت کا مطالبہ نہیں کیا ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق کام کیا اور ہماری کوشش رہی کہ کارکنوں کی آواز ان کے جذبات اور عوامی ردعمل کو براہ راست سامنے لایا جائے شکارپور میں بھی ہم سہیل آفریدی کے قافلے کی کوریج کر رہے تھے قافلہ آگے بڑھا تو میں نیچے اترا اور پیدل چلنے والے کارکنوں کے انٹرویوز شروع کر دیے بعد ازاں قافلے تک دوبارہ پہنچنے کے لیے ہم نے ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ طلب کی جس نے ہمیں اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا لیا شکارپور کے قریب ایک مقام پر ایک سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی نے ہماری موٹر سائیکل کو راستہ کاٹتے ہوئے روکا اور اوورٹیک کرکے سامنے سے گھیر لیا گاڑی سے چند افراد باہر نکلے اور اسی کارکن پر بھی تشدد شروع کر دیا گیا جس نے ہمیں لفٹ دی تھی جبکہ مجھ پر اور میرے چھوٹے بھائی پر بھی تشدد کیا گیا میں مسلسل انہیں بتاتا رہا کہ میں صحافی آغا شیخ سرور ہوں اور تشدد سے باز رہنے کی درخواست کرتا رہا وہاں موجود متعدد کارکن بھی انہیں آگاہ کرتے رہے کہ میں صحافتی کوریج کے لیے موجود ہوں اور واقعے کے عینی شاہد بن گئے کہ کس طرح مجھ پر تشدد کیا جا رہا تھا اسی دوران نادیہ خٹک صاحبہ کے شوہر جناب ہارون صاحب موقع پر پہنچے اور انہوں نے مداخلت کرتے ہوئے ہمیں بچانے کی کوشش کی تاہم ان کے ساتھ بھی تشدد کیا گیا اسی دوران ایک شخص جس کا نام وہاں موجود افراد کی جانب سے ایمان اللہ بتایا گیا اپنے ایک گارڈ کو مبینہ طور پر فائرنگ کا حکم دیتا ہے جب وہ شخص وہاں سے جانے لگا تو میں نے اسے روکنے کی کوشش کی اور اس سے سوال کیا کہ اپنے لوگوں سے تشدد کروانے کے بعد وہ کس طرح وہاں سے فرار ہو سکتا ہے شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی بھی موقع پر پہنچے جنہیں بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا میرے ساتھی صحافی شاکر محمود اعوان زعیم لغاری اور رائے غلام علی جب واقعے کی ویڈیو بنانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہاں موجود افراد کی جانب سے ویڈیو بنانے والے متعدد افراد کے موبائل فون چھین کر توڑے گئے اور زمین پر پھینکے گئے اسی دوران وہ شخص جو پورے واقعے کے احکامات دے رہا تھا مینا خان آفریدی کی جانب گاڑی چلاتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگیا تشدد کے نتیجے میں میری حالت انتہائی خراب ہوگئی جس کے بعد شاکر محمود اعوان اور دیگر صحافی ساتھیوں کے ہمراہ میں علاج کے لیے شکارپور کے ایک سرکاری ہسپتال پہنچا جہاں طبی معائنے کے دوران میرے دائیں ہاتھ کی انگلی میں شدید چوٹ کی نشاندہی ہوئی جبکہ شاکر محمود اعوان کے بازو پر بھی چوٹ آئی جس کا طبی معائنہ اور علاج کروایا گیا واقعے کے دوران ہماری صحافتی کوریج کا سامان بھی متاثر ہوا ہمارے مائیکروفونز اور موبائل فون توڑ دیے گئے میرا موبائل فون توڑا گیا جبکہ میرے بھائی کا موبائل فون بھی چھین کر توڑ دیا گیا شاکر محمود اعوان کا موبائل فون بھی پکڑ کر ان کے سامنے توڑا گیا زعیم لغاری صاحب کا گزشتہ روز موبائل فون چوری ہوگیا تھا اور انہوں نے آج کوریج کے لیے نیا موبائل خریدا تھا وہ موبائل بھی توڑ دیا گیا رائے غلام علی کا موبائل فون بھی توڑ دیا گیا جبکہ وہاں موجود دیگر کارکنوں کے موبائل فون بھی تشدد کے دوران توڑے گئے جو لوگ واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا میں نے ہمیشہ پی ٹی آئی کو اس وقت بھی کوریج دی ہے جب بیشتر لوگ کوریج سے گریز کر رہے تھے ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق ہمیشہ میدان میں رہ کر کارکنوں کی آواز عوام تک پہنچانے کی کوشش کی ہے اور آج بھی ہمارا مقصد یہی ہے کہ جو کچھ میدان میں ہو رہا ہے اسے عوام کے سامنے حقیقت کے ساتھ پیش کیا جائے پی ٹی ائی کی قیادت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کا احتساب کیا جائے اگر کسی مقام پر ہماری کوئی غلطی ثابت ہوتی ہے تو ہم اس کے جواب دہ ہونے کے لیے تیار ہیں اگر ہمارے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں ہم قانون اور دلیل کے دائرے میں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں ہم نے کل بھی میدان نہیں چھوڑا تھا آج بھی نہیں چھوڑیں گے اور آئندہ بھی اپنی صحافتی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے میدان میں موجود رہیں گے
Agha Sheikh Sarwar132,237 просмотров • 1 месяц назад

سندھ میں برداشت احترام بقائے باہمی اور جمہوری اقدار کی بات کی جا رہی ہے جبکہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا معاملہ سامنے آ رہا ہے گزشتہ چند روز کے دوران کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ گرفتاریوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے
Agha Sheikh Sarwar100,488 просмотров • 29 дней назад

میری خبر دینے کے بعد کہ عمران خان نے مشال یوسف زئی کو فارغ کرنے کا کہا تھا اس کے بعد میری پیاری بہن ذاتیات پر اتر آئیں اور مجھ پر الزامات لگانے لگیں اور کہا کہ تم پارٹی لیڈرشپ کے کہنے پر ٹویٹس کرتے ہو "قسم کھاؤ" میں نے قسم کھائی اور کلمہ پڑھ کر قسم کھائی کہ میں کسی پارٹی قیادت کے ایما پر نہیں ہوں پھر میں نے کہا کہ آپ بھی قسم کھائیں کہ آپ صحافیوں کے ساتھ مل کر آڈیو لیکس نہیں کرواتیں تو محترمہ پھر ادھر اودھر کی باتیں کرنے لگیں اور صاف جواب دینے سے گریز کرتی رہیں
Agha Sheikh Sarwar184,542 просмотров • 1 месяц назад

یہ سلیمان سہیل ہے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے مگر آج جب خود اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تو طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں ذرا ایک لمحے کے لیے اس ماں کا سوچیے جس کے گھر میں اس وقت نہ اس کا بیٹا موجود ہے نہ اس کا شوہر اپنے اختلافات بھول جائیے اور اگر سلیمان سہیل کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے آواز بلند کیجیے
Agha Sheikh Sarwar109,498 просмотров • 1 месяц назад

بات اب محض نغموں سے کہیں آگے جا چکی ہے یہ طرز عمل وردی پوش اہلکاروں کے رویے کی عکاسی کرتا ہے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں ایک باوردی فوجی افسر کی مبینہ فائرنگ پولیس افسر کی جانب سے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر ڈنڈے مارے جانے پر طلبہ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے کرنل کو دھکے دیے کرنل نے طلبہ پر فائرنگ کی کوشش کی تاہم گولی نہ چل سکی بعد ازاں ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے بعد اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے
Agha Sheikh Sarwar121,179 просмотров • 1 месяц назад

شفا انٹرنیشنل کے باہر سے عوام کو منتشر کرنا شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں کو بھی وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے اس وقت شفا انٹرنیشنل کے اطراف غیر معمولی سیکیورٹی موجود ہے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند لمحات میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جا سکتا ہے صحافی بلال احمد Bilal Ahmad
Agha Sheikh Sarwar110,429 просмотров • 1 месяц назад

فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں جس پہ فلک جاوید کا جواب 1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
Agha Sheikh Sarwar154,810 просмотров • 2 месяцев назад

جب آئینہ دکھایا تو برا مان گئے میں نے سوال کیا کہ آپ کو انتخابات میں 80 ہزار ووٹ پڑے ہیں لیکن آپ یہاں دس لوگ بھی اپنے ساتھ جمع نہیں کر پاتے تو کہنے لگے کہ آپ پنجاب کور کرتے ہیں پنجاب میں تو کوئی فسطائیت نہیں ہوئی... میں نے بات کاٹتے ہوئے انہیں بتایا کہ پنجاب میں صنم جاوید صاحبہ, فلک جاوید صاحبہ , جن پر شاندانہ گلزار صاحبہ نے کہا اوہو بس کرو بس کرو وہیں پر میں نے اپنی بات مکمل کی اور کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد یہ وہ تمام خواتین ہیں جنہوں نے پنجاب میں فسطائیت کا سامنا کیا فضا عالم کو پنجاب پولیس کے مرد اہلکاروں نے دو مرتبہ گرفتار کیا اور آپ کہہ رہی ہیں کہ پنجاب میں فسطائیت نہیں تو پھر محترمہ نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں پنجاب میں فسطائیت تو ہے
Agha Sheikh Sarwar93,903 просмотров • 1 месяц назад

یہ وہ مناظر ہیں جب ایک شیر کا بچہ 9 مئی کے بعد اسی نظام کے سامنے ڈٹ کر زمان پارک پہنچا تھا وہ وقت دور نہیں جب عمران خان دوبارہ زمان پارک یا بنی گالہ جائیں گے مگر کسی ڈیل کے نتیجے میں نہیں بلکہ حق اور سچ کا پرچم بلند کرتے ہوئے آج عمران خان کی قید کو 1111 دن ہو گئے ہیں تین سال سے زائد عرصہ گزر گیا مگر حوصلہ اور جدوجہد آج بھی قائم ہے یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا
Agha Sheikh Sarwar75,661 просмотров • 1 месяц назад

مجھے رات 8 بجے کے قریب بلایا گیا اور مجھے ایک گاڑی میں لے جایا گیا میرے پاس موبائل فون نہیں تھا اور نہ ہی کوئی گھڑی وغیرہ تھی مجھے لے کر شفا انٹرنیشنل اسپتال جایا گیا میں بار بار پوچھتا رہا کہ خان صاحب کب آئیں گے لیکن وہ بھی ٹال مٹول سے کام لیتے رہے گویا انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ خان صاحب آئیں گے یا نہیں بعد میں انہوں نے مجھے کہا کہ اب لگتا ہے کہ وہ یہاں نہیں آئیں گے تو پھر اسی گاڑی میں جس میں مجھے لایا گیا تھا مجھے واپس چھوڑ دیا گیا جیسے ہی میں وہاں پہنچا تو میں نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کہاں ہیں میری عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل
Agha Sheikh Sarwar70,790 просмотров • 1 месяц назад

عمران خان کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کے ساتھ ہی لاہور کی عوام نے خوف کے بت پاش پاش کر دیے اور مریم نواز کی فسطائیت زدہ رجیم کے سامنے اسی زمان پارک میں جا کر الحمدللہ اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے جہاں سے 5 اگست کو عمران خان کو گرفتار کر کے لے جایا گیا تھا
Agha Sheikh Sarwar63,981 просмотров • 1 месяц назад

ہم نے انہیں کہا کہ یہ صرف 15 افراد ہیں انہیں فوراً گرفتار کریں میں خود 2 ایس ایچ اوز کو ساتھ لے کر آیا اور کہا کہ اپنی نفری طلب کریں مگر پولیس موقع پر پہنچی ہی نہیں جب میں نے ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران سے پوچھا کہ یہ کیوں ہوا تو وہ کہتے رہے کہ ہمیں معلوم ہی نہ ہو سکا کہ یہ کون تھے حالانکہ وہ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ لوگ پُرامن تھے اور ہمارے ساتھ تعاون کر رہے تھے سوال یہ ہے کہ اگر وہ تعاون کر رہے تھے تو پھر ان پر شیلنگ کیوں کی گئی اور ان پر ظلم کیوں ڈھایا گیا کسی ایک بھی شخص نے اپنے ملک کے پولیس اہلکار کو چوٹ نہیں پہنچائی لڑائی صرف امریکہ سے ہے اس لیے اپ دیکھ سکتے ہیں پولیس وہاں پر موجود ہے اور وہاں کے لوگ انہیں کچھ نہیں کہہ رہے
Agha Sheikh Sarwar227,605 просмотров • 7 месяцев назад

مشال یوسف زئی صاحبہ کے بقول اگر واقعی عمران خان نے ایسا کہا ہے تو آپ مجھے ڈی نوٹیفائی کر دیں آخر ڈر کس بات کا لیکن اس پوری کنورسیشن میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی اس خبر کی تردید نہیں کی مشال یوسف زئی صاحبہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان نے مجھ سے معافی مانگنے کا کہا تھا اور پھر انہوں نے مجھ سے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ مشال میری چھوٹی بہن ہے اب جا کر ان سے پوچھیے کہ وہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں
Agha Sheikh Sarwar63,217 просмотров • 1 месяц назад

پنجاب اور سندھ کے بارڈر پر عوام کا کس طرح ہجوم برپا ہوا آپ دیکھ سکتے ہیں سندھ کی عوام عمران احمد خان نیازی کے ساتھ
Agha Sheikh Sarwar36,735 просмотров • 1 месяц назад

آج فیصل آباد میں محنت کش مزدوروں نے یہ اعلان کیا کہ جب تک عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شفا انٹرنیشنل منتقل نہیں کیا جاتا اور اگر اس فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تو ہم محنت کش مزدور حقوقِ خلق پارٹی اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے اور سڑکیں بند کریں گے عمران خان وہ رہنما ہے جس نے ہمیشہ ہم جیسے محنت کشوں کے احساسات کو سمجھا اور ہمارے حقوق کی آواز بلند کی ہم آج بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں
Agha Sheikh Sarwar51,352 просмотров • 1 месяц назад

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے
Agha Sheikh Sarwar41,790 просмотров • 1 месяц назад