
Khadim Ali khan Yousaf zai
@Alikhanyzai • 96,659 subscribers
Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰
Shorts
Videos

احسن بھون اور امجد علی شاہ کے ساتھ جرگہ میں مناظرے کے لئے تیار ہوں۔ اگر ہار گیا تو معافی مانگ کے اٹھوں گا۔ اعظم نذیر تارڑ جس شاخ پہ بیٹھے ہیں اس کو کاٹ رہے ہیں۔ کیپٹن(ر) محمد صفدر اعوان کا احسن بھون اور امجد علی شاہ کو جرگہ میں مناظرے کا چیلنج۔ اعظم نذیر تارڑ عربی والے وزیر لا مطلب وزیر نہیں ہیں۔ وہ جس شاخ پہ بیٹھے ہیں اس ہی کو کاٹ رہے ہیں۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مزید تفصیلات جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ ہفتہ شب 10 بجکر پانچ منٹ پر
Khadim Ali khan Yousaf zai66,542 görüntüleme • 1 gün önce

یہ ویڈیو وزیرستان کی ہے، اس وزیرستان کی جہاں نام نہاد پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا گڑھ ہے اور جہاں سے شب و روز پاک فوج اور ریاست کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، لیکن یہی منافق رہنما اور نام نہاد قبیلے کے ہزاروں روایتی ٹھیکیدار بدامنی و دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ عورت دشمنی اور جہالت کا علم بلند کرنے اکٹھے ہوئے؛ جہاں جرگے کے نام پر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، وراثت کے شرعی حق کی پامالی اور شادی کے نقد ریٹ طے کر کے، حقوقِ نسواں کے حامیوں کو بے غیرت کا طعنہ دیا گیا اور پھر اس کھلی بربریت پر ڈھول کی تھاپ پر اتنڑ کر کے اسے "پشتون غیرت" کا نام دیا گیا؛ بدامنی اور غم کا جھوٹا واویلا مچانے والے یہ بے حسی کے پجاری اگر واقعی مظلوم ہوتے تو یوں بے شرمی سے ڈانس نہ کرتے، اور ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والے پی ٹی ایم کے نا نہاد علمدار خود اپنے گھر کی خواتین کو انسانی حقوق سے محروم رکھ کر پشتون قوم کی گردن میں جہالت کا طوق ڈال رہے ہیں۔ وسیے پختون معاشرہ میں کوئی اور اقوام اس قسم کے کام کرسکتے ہیں ؟
Khadim Ali khan Yousaf zai226,409 görüntüleme • 23 gün önce
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

دہشت گردوں نے ایک پختون جوان ایف سی اہلکار عمر گل کو اغوا کے بعد بے دردی سے شہید کر دیا۔ عمر گل پانچ وقت کا نمازی تھا، جسے ناحق شہید کیا گیا۔یہ کون سی شریعت اور کون سا دین ہے جو ایک پانچ وقت کے نمازی، بے گناہ پختون کا خون بہانے کی اجازت دیتا ہے؟ اور یہ کس امیر کا حکمِ جہاد ہے کہ ایک اسلامی ملک کے محافظوں، روزی کمانے والے غریب نوکری پیشہ افراد اور بے گناہ شہریوں کو پرندوں کی طرح نشانہ بنایا جائے؟ اس تمام تر صورتِ حال میں سب سے بڑا المیہ اور افسوسناک پہلو خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کی ترجیحات ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے اور عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔جب اپنے گھر میں بدامنی کی آگ لگی، تب صوبے کے تمام ذمہ داران سیاسی نعرے بازی، سیاسی معرکے مارنے میں مصروف ہیں۔خیبر پختونخوا کے حکمران بدامنی کو روکنے کے بجائے سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں، دوسری جانب، پختونوں کے حقوق اور تحفظ کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی ایم اس ظلم و بربریت پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مظلوم کے بجائے ظالم کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی قیادت اور سہیل آفریدی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار صرف امانت اور اختیار نہیں، بلکہ شدید ترین آزمائش ہے۔ اللہ تعالی کے ہاں ایک دن اپنی رعایا اور عوام کے تحفظ کا حساب دینا ہو گا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا تھا: اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا یا ضائع ہو کر مر جائے، تو مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں عمر سے اس کا بھی حساب لیا جائے گا۔ جب ایک جانور کے تحفظ پر خلیفہ وقت اتنی بڑی ذمہ داری محسوس کرتا ہو، تو پھر جن کی حکمرانی میں بے گناہ انسان، غریب روزی کمانے والے اور دھرتی کے محافظ دن دہاڑے قتل ہو رہے ہوں، وہ روزِ محشر اللہ کی عدالت میں کیا جواب دیں گے؟
Khadim Ali khan Yousaf zai71,909 görüntüleme • 23 gün önce

سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خیبر پختونخوا میں طالبان نے 3811 حملے کئے، جن میں بنوں 394، شمالی وزیرستان 181 اور جنوبی وزیرستان 102 حملے شامل ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 12 دہشت گردی کے واقعات۔ 19 خودکش حملے ہوئے، 502 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے، جن میں 235 پولیس افسران اور جوان شامل تھے، جبکہ سویلین، فوج، پولیس اور ایف سی کے 1584 اہلکار زخمی یا معذور ہوئے، یعنی روزانہ تقریباً 7 افراد شہید ہوئے۔80 فیصد حملوں کے وقت وزیر اعلیٰ صوبے میں موجود نہیں تھا بلکہ قیدی نمبر 804 چھڑاؤ مہم کے سلسلے میں دوسرے صوبوں کی یاترا کر رہا تھا۔ 150 سے زائد تھانوں اور پولیس چوکیوں پر حملے ہوئے، جن میں کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز کا حملہ بھی شامل ہے، جس میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 31 افراد شہید ہوئے۔ کل کا واقعہ اس سے سوا ہے۔ ہمارا صوبہ دو دہائیوں سے دھشت گردی کا شکار ہے پچھلے 13 سال میں خیبر پختونخوا کو این ایف سی کے ایک فیصد اضافی ملا 804 ارب روپے سیکورٹی کی مد میں صوبے کو ملے لیکن نہ پولیس کی استعداد بڑھانے پر توجہ دی گئی، نہ سی ٹی ڈی بنائی گی نہ سیف سٹیپروجیکٹسش شروع کیے گئے ، بلکہ پولیس کو سیاسی بنانے کے لیے قانون سازی شروع کر دی گئی۔ جنہوں نے عوام اور سیکیورٹی فورسز کو شہید کیا، سہیل آفریدی نے آج تک ان کی مذمت نہیں کی۔ افغانستان سے ڈرون اٹیک ہوئے، کرم سیکٹر میں لڑائی جاری ہے، مگر صوبائی حکومت خاموش ہے۔ ہمارے صوبے میں اسمگلنگ اور منشیات فروشی جاری ہے اور امن ختم ہو چکا ہے۔گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے دورے نے نااہل حکومت کو میاؤں میاؤں کرتے ہوئے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اب نامکمل چوکوں اور فلائی اوورز کی افتتاح بھی ہورہے ہیں اور زخمیوں کی عیادت بھی کررہے ہیں ، مگر عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئے گی۔ علی خان یوسفزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات یوتھ ونگ
Khadim Ali khan Yousaf zai19,725 görüntüleme • 6 gün önce

لکی مروت میں صورتحال انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک ٹریفک اہلکار کی قیادت میں پولیس امن کمیٹی نے ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کو تالے لگانے کے بعد مرکزی شاہراہ بھی بند کر دی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ان اہلکاروں کی جانب سے طالبان طرز کی ایک متوازی حکومت، متوازی پولیس، اور متوازی انتظامی و عدالتی نظام قائم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری عوام کے ٹیکسوں سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات تو حاصل کر رہے ہیں، لیکن صوبائی پی ٹی آئی حکومت اس سارے معاملے سے مکمل لاتعلق نظر آتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت، گورنر اور وفاقی وزیر داخلہ کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے، جنہوں نے اس نازک صورتحال پر اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai68,070 görüntüleme • 1 ay önce

یہ نجم الدین خان ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق صوبائی صدر اور سابق وفاقی وزیر، 75 برس کی عمر میں، جہاں لوگ آرام اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں دیر بالا کے اس غیور فرزند کا جذبہ اور ہمت دیکھئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں امن و امان کے قیام، فتنہ الخوارج کے فتنے کو روکنے اور سیکیورٹی فورسز کی پشتیبانی کے لیے خود اپنے ہاتھوں میں بندوق اٹھا کر مورچہ سنبھال لیا ہے۔ دیر کی دھرتی اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے اس عمر میں فرنٹ لائن پر ایستادگی اور جرات کی ایسی مثال قائم کرنے پر تمغہِ امتیاز واقعی ان کا حق ہے۔ ان کا یہ عملی کردار اور بے باک جذبہ ان تمام مقامی منتخب نمائندوں، ایم این اے اور ایم پی ایز کے لیے اک آئینہ ہے جو اس مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا چھوڑ کر میدان سے غائب ہو چکے ہیں۔ 75 سالہ نجم الدین خان کا یوں ہاتھ میں بندوق لیے اپنے قبائل اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ دیر کے حقیقی مشران کے لیے قوم اور ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور یہی وہ غیور قیادت ہے جو کسی بھی اعزاز اور تمغے کی واقعی حقدار ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai82,383 görüntüleme • 1 ay önce

مردان میں ایک ایم پی اے ترکان تھے ، وہ خانوں اور نوابوں کی تاریخی جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ سوات میں والیٔ سوات کی جائیدادیں ایک قصاب ایم پی اے بن کر خرید رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اچانک ان کے پاس اربوں روپے کہاں سے آ گئے؟ جو لوگ کل تک چند ہزار کے محتاج تھے، وہ آج کروڑوں اور اربوں کی جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے؟ سابق اسپیکر اسد قیصر کو دیکھیں جو بنی گالا میں 35 کنال کے مالک بن چکے ہیں، جبکہ انہی کا ایک اور ایم پی اے بنی گالا میں 200 کنال جائیداد کا مالک بن بیٹھا۔ پی ٹئ ائی کے تو سارے ایم این ایز اور ایم پی ایز عام بیگ گراونڈ کے لوگ تھے جن کے پاس کل تک سائیکل تک نہیں تھی، وہ آج ارب پتی بن چکے ہیں۔ میں تو ہمیشہ کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی والے چوری نہیں کرتے بلکہ ڈاکے ڈالتے ہیں، اور ایسے ڈاکے کہ انہوں نے 13 سالوں میں خیبر پختونخوا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور ہی کو دیکھ لیجیے۔ ان 13 سالوں میں پشاور شہر میں نہ کوئی نیا پرائمری یا مڈل اسکول بنا، نہ کوئی کالج، نہ نئی یونیورسٹی قائم کی گئی اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنایا گیا۔ میں کسی دور دراز علاقے کی نہیں، صوبے کے مرکز کی بات کر رہا ہوں۔ یہی حال ضلع خیبر کا ہے، جہاں سے سہیل افریدی اور اقبال آفریدی کا تعلق ہے ، ان لوگوں نے پختون نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ 2024 کے الیکشن میں عوام کو ’Absolutely Not اور غلامی نامنظور کے دلکش نعروں سے بہلایا گیا اور انہی نعروں کی بنیاد پر دیگر تمام سیاسی نمائندوں کو غدار قرار دیا گیا۔ لیکن آج عوام ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ ان نعروں کا عملی نتیجہ کیا نکلا؟ آپ نے ملک، صوبے اور پختون نوجوانوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کی شکل میں کیا دیا سوائے نعروں، احتجاج اور سیاسی انتشار کے؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان رہنماؤں کے اپنے بچے تو اٹلی، فرانس، آسٹریلیا، جرمنی، امریکہ اور لندن کے 'بلیو پاسپورٹ لے کر بیرون ملک سیٹل ہو چکے ہیں، جبکہ عام کے بچوں کو جلاؤ گھیراؤ، احتجاج اور فساد کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر دھکیلا جا رہا ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai15,868 görüntüleme • 9 gün önce

چار دن پہلے دشمن کا میزائل لیفٹننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر گرا، اور اُن کا سات سالہ معصوم بیٹا ارتضاء شہید ہو گیا۔آج اُسی مٹی پر باپ جشنِ فتح میں مسکرا رہا ہے،فوجی جوانوں کے کندھوں پر ارتضاء کے چھوٹے بہن بھائی خوشی سے جھوم رہے ہیں،یہ ہے وہ قوم جو کبھی شکست نہیں کھا سکتی!
Khadim Ali khan Yousaf zai437,534 görüntüleme • 1 yıl önce

عدالت کے باہر مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے باریش اے ایس آئی کو اینٹی کرپشن حکام نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، جبکہ کارروائی کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر کوئی نہی کرپشن کرے گا تو قانون کی گرفت میں آئے گا۔ بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی عوام کا اعتماد بحال کرے گی۔
Khadim Ali khan Yousaf zai26,191 görüntüleme • 29 gün önce

اگر پنجاب میں اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک امن ہے، بدمعاش کلچر کا خاتمہ ہوا، نامی گرامی بدمعاش ختم ہوئے یا مسجدوں میں جا کر تائب ہو گئے، اب کوئی کسی کی بہن بیٹی کو چھیڑ نہیں سکتا اور لفنگے پورے پنجاب میں کسی کالج کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے، تو ہمیں سی سی ڈی (CCD) کی تعریف کرنی چاہیے اور سہیل ظفر چٹھہ کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ جہاں تک نیفے میں پستول چلنے کی بات ہے، اگر چار پانچ سال کی معصوم بچی کے ساتھ کوئی زیادتی کرنے کی کوشش کرے یا راہ چلتے ہماری بہن بیٹی کو چھیڑے اور ویڈیو ثبوت بھی موجود ہو، تو پھر اگر مجرم کے اپنے نیفے میں پستول چل جائے تو اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ اسی طرح پشاور میں بھی ایک شیر جوان اور بہادر پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید ہے جس سے پورا پشاور محبت کرتا ہے اور میرا پشاور امن کا گہوارہ بن رہا ہے۔ میرا تو خیال تھا کہ آپ ان کی تعریف کرتے، لیکن آپ ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جو عوام کے مزاج یا ضد کے برعکس ہو۔
Khadim Ali khan Yousaf zai19,995 görüntüleme • 23 gün önce

لکی سیمنٹ فیکٹری کے باہر وردی میں کھڑے یہ افراد لکی مروت پولیس کے وہ اہلکار ہیں جو ڈسپلن کی تمام حدیں عبور کر کے کھلم کھلا قانون ہاتھ میں لے چکے ہیں۔ پسماندہ ضلع میں قائم لکی سیمنٹ فیکٹری کو انہوں نے پشاور میں مبینہ طور پر گرفتار ایک اہلکار سمیع اللہ کی بازیابی جیسے غیر قانونی مطالبے پر بند کروا دیا ہے۔پہزو (لکی مروت) میں قائم یہ فیکٹری کوئی عام ادارہ نہیں ہے۔ سیف اللہ برادران، جو ٹیکسٹائل انڈسٹریز، جاز/موبائل لنک، اسلام آباد کے ماڈل ٹاؤن 18 اور کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال سمیت کئی بڑے پراجیکٹس کے مالکان ہیں، انہوں نے اپنے ہی علاقے کے نوجوانوں کو روزگار دینے اور قوم کی خدمت کی خاطر یہ انڈسٹری یہاں لگائی، جس سے آج ہزاروں گھرانوں کا چولہا جلتا ہے۔ مگر افسوس کہ پولیس ڈسپلن کو توڑنے والے ان عناصر نے غریب مزدوروں کا روزگار یرغمال بنا رکھا ہے۔ لکی مروت میں نام نہاد پولیس امن کمیٹی اب مکمل طور پر بے لگام ہو چکی ہے۔ پشاور کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کے مطابق یہ کمیٹی اب سنگین جرائم اور اغوا برائے تاوان جیسی کارروائیوں میں ملوث ہو چکی ہے۔ حال ہی میں قاری رشید کے اغوا اور قتل کا دردناک واقعہ پیش آیا جس میں مخالفین سے 90 لاکھ روپے وصول کیے گئے، اور اس طرح کے کئی دیگر واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جہاں یہ قانون کے محافظ کے بجائے خود بدمعاشوں کی طرح رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صوبائی حکومت اس تمام صورتِ حال سے نہ صرف لاتعلق ہے بلکہ ان باغی پولیس اہلکاروں کی سہولت کار بن چکی ہے۔ ہم وفاقی حکومت سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس سنگین صورتِ حال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ چونکہ آئی جی پی کی تعنیاتی وفاق کے پاس ہے، لہٰذا آئی جی خیبر پختونخوا کو فوری اور سخت احکامات جاری کیے جائیں کہ ان شرپسند اور ڈسپلن توڑنے والے اہلکاروں کو بلا تاخیر ملازمتوں سے فارغ کیا جائے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور لکی سیمنٹ فیکٹری سمیت علاقے میں قانون اور ریاست کی رٹ بحال کرائی جائے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai28,254 görüntüleme • 1 ay önce

جو لوگ دن رات پنجاب اور پنجابیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں، انہیں افغان طالبہ حسنہ نوری کا حسن خان کے ساتھ یہ انٹرویو ضرور سننا چاہیے۔ حسنہ نوری کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف افغان طلبہ کا بحیثیت چیف منسٹر اور بحیثیت ایک ماں بے حد خیال رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ان کی سرپرستی پر شکر گزار ہیں، بلکہ امید رکھتی ہیں کہ جس طرح مریم نواز نے پنجاب کی خواتین کے لیے تعلیم کے میدان میں سہولیات فراہم کی ہیں، اسی طرح وہ افغان طالبات کے لیے بھی اعلیٰ تعلیم کے راستے مزید آسان بنائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ تعصب اور عصبیت کے مارے محض ایک فیصد نسل پرست عناصر نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے دو برادر قوموں کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ جب ان افغان طلبہ پر مشکل وقت آیا، تو یہی پنجاب کے بالخصوص لاہور کے طالب علم اور نوجوان ان کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، اور بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے پر ایک تاریخی اور منصفانہ فیصلہ سنا کر انصاف کے علم کو بلند کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ طرزِ عمل اور پنجاب کے عوام کا یہ رواداری پر مبنی رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرتیں پھیلانے والوں کے دعوے کتنے کھوکھلے ہیں اور محبت اور بھائی چارے کے رشتے آج بھی کتنے مضبوط ہیں۔ Maryam Nawaz Sharif
Khadim Ali khan Yousaf zai14,902 görüntüleme • 18 gün önce

شہادت سے قبل مشن پر روانگی کی آخری ویڈیو دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر، بہادر کمانڈر ایس پی اسد زبیر تین نسلوں سے یہ خاندان وردی، وفا اور قربانی کا امین رہا دادا شہاب الدین آفریدی، والد اورنگزیب آفریدی شہید ، اور بیٹا اسد زبیر شہید 24 اکتوبر کو ایس پی اسد زبیر نے اپنے خون سے اس روایت کو امر کر دیا۔ اللّٰہ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai174,525 görüntüleme • 11 ay önce

کیا راولپنڈی کا تاریخی راجہ بازار تباہ ہوگیا؟ کروڑوں کا نقصان؟ حقیقت کیا ہے؟ راجہ بازار کا اصل حال کیا ہے؟ کیا واقعی کروڑوں کا نقصان ہوا؟ سیلاب یا صرف افواہیں؟ راجہ بازار میں تباہی؟ اصل حقیقت کیا؟ لوگ کیا کہتے ہیں؟ راجہ بازار سے براہِ راست! راجہ بازار ڈوب گیا؟ حقیقت سامنے آگئی
Khadim Ali khan Yousaf zai27,790 görüntüleme • 1 ay önce

فہیم بھائی، سچائی یہ ہے کہ اس وقت وادیٔ تیراہ میں پاک فوج یا وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی باقاعدہ ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا۔ تیراہ پاک افغان بارڈر کا انتہائی حساس علاقہ ہے جہاں پاک فوج صرف چند سرحدی چوکیوں پر موجود ہے اور فورسز کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ فروری میں بھی سیکیورٹی حکام نے واضح کر دیا تھا کہ وہاں کوئی بڑا ملٹری آپریشن جاری نہیں ہے بلکہ صرف مخصوص اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت جو کہ طالبان کے باقاعدہ سہولت کار ہے کہ جانب سے باقاعدہ اور حتمی آپریشن کی مسلسل مخالفت کی جاتی رہی ہے، جس کی وجہ سے فوج کو وسیع پیمانے پر کلیئرنس آپریشن کی اجازت نہیں مل رہی۔ اس انتظامی اور سیاسی رکاوٹ کا خمیازہ ہمارے سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان بھگت رہے ہیں جن پر گھات لگا کر حملے کیے جاتے ہیں۔6 اگست 2026 کو لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی بارودی سرنگ کے دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے ،پچھلے سال خیبر رائفلز کے کمانڈنٹ کرنل حسن حیدر، لیفٹیننٹ عزیر اور ہمارے دیگر سینکڑوں شہید جوان شہید ہوئے تھے ، پاک فوج کے جوانوں کو اغوا کر کے ان کی سر کٹی لاشیں خچروں پر لانے کے بھیانک واقعے کا تو اپ کو پتہ ہوگا کہ عسکریت پسند گروہ وہاں کتنے متحرک ہیں۔ سب سے بڑی انتظامی ناکامی یہ ہے کہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا انضمام کے بعد سیکیورٹی اور پولیسنگ کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست صوبائی حکومت کے پاس آ چکی ہے۔ انضمام کو 8 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اب تک وادیٔ تیراہ میں پولیسنگ کا نظام قائم کر سکی اور نہ ہی وہاں کوئی باقاعدہ تھانہ بنایا جا سکا ہے۔ جب تک کسی علاقے میں تھانہ نہیں ہوگا، پولیس کی نفری موجود نہیں ہوگی اور قانون کی عملداری کا کوئی مقامی ڈھانچہ نہیں ہوگا، وہاں امن و امان کیسے قائم ہو سکتا ہے؟ تھانہ کلچر اور پولیس کی غیر موجودگی کا سیدھا فائدہ منشیات مافیا، بھتہ خوروں اور عسکریت پسند گروہوں کو پہنچتا ہے، اور خیبر پختونخوا حکومت پولیس کا نظام قائم کرنے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں پاک فوج کو اکیلے ہی ان تمام چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے وادیٔ تیراہ کے فروری سے بے گھر ہونے والے سوا لاکھ شہریوں کی بحالی اور امداد کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز کا اعلان کیا تھا۔ 8 ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے؟ یہ خطیر رقم بغیر استعمال ہڑپ ہو چکی ہے، اور یہ ویڈیو اج کی ہے تیراہ میں دھشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں
Khadim Ali khan Yousaf zai17,787 görüntüleme • 28 gün önce

لکی مروت میں کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں قائم نام نہاد امن کمیٹی کے حقیقی کردار کو خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی عبداللہ خان نے بے نقاب کیا ہے۔ ڈسپلن فورسز کے کچھ عناصر اس حد تک بے لگام ہوچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ روز سکیورٹی اداروں کے خلاف کھلم کھلا نعرے بازی کی، جو نہ صرف خطے کے امن اور شہدا کی عظیم قربانیوں کی نفی ہے بلکہ ایک سنگین سوال بھی کھڑا کرتی ہے کہ آخر کوئی نظم و ضبط کی پابند فورس کسطرح بغاوت پر اتر سکتی ہے؟ پولیس ایک منظم اور ڈسپلن فورس ہے جہاں کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک ایک باقاعدہ سلسلۂ کمان (Chain of Command) ہوتا ہے۔ کسی کانسٹیبل کا ڈسپلن اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود ساختہ کمیٹی بنانا، پولیس افسران و انتظامیہ کے سامنے غیر جواب دہ ہونا اور مغوی اہلکار کی بازیابی کے وقت سکیورٹی جوانوں سے بدتمیزی اور ہوائی فائرنگ کرنا قانون کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے، جس پر آئی جی پی اور حکومت کو سخت ترین قانونی نوٹس لینا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے نام نہاد کمیٹی کے صدر حیدر خان نے پاک فوج کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سڑک کو عوام کے خلاف سازش اور قلعہ بندی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر ذاتی زمین، معاوضے یا معیار کے حوالے سے سوال اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن محض فوج کے استعمال کی وجہ سے سڑک کو عوام دشمن کہنا بالکل غیر منطقی اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔ سکیورٹی فورسز کی محفوظ آمد و رفت کے لیے بننے والی سڑکیں مقامی آبادی، بیماروں، طالب علموں اور کسانوں کے بھی کام آتی ہیں۔ سابق فاٹا میں ایف ڈبلیو او (FWO) کے زیر اہتمام 1,205 کلومیٹر طویل شاہراہوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ متاثرہ علاقوں کی بحالی ہمیشہ ریاست کی ترجیح رہی ہے۔ پاک فوج کوئی سیاسی جماعت نہیں جو جلسے جلوسوں میں نعرے بازی کا جواب دے؛ اس کا اصل کام دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہے۔ اصل تشویش اس سوچ سے ہے جو ہر سکیورٹی و ترقیاتی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ کر عوام اور ریاست کے درمیان بدگمانی پیدا کرتی ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai24,153 görüntüleme • 1 ay önce

آٹو خیل ضلع مہمند میں مقامی افراد کی جانب سے ایک پختون افسر کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور مذاکرات کی ویڈیو کو لیک کرنا پختون ولی اور مقامی روایات کے بالکل منافی ہے۔ پختون کلچر میں جرگہ، اعتماد اور گفتگو کا ایک خاص تقدس ہوتا ہے۔ جب ایک فوجی پختون افسر واضح طور پر یہ بتا رہا ہو کہ یہ سیکیورٹی فورسز کے اپنے جوان ہیں اور انہوں نے کوئی غیر قانونی کام یا جرم نہیں کیا، تو اس معاملے کو سمجھنے کے بجائے اس کی ویڈیو بنا کر عام کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ اس ویڈیو کو جس طرح کالعدم پی ٹی ایم اور فارن فنڈڈ فتنہ پی ٹی آئی نے فوج کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا، اس کا بنیادی مقصد عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا اور بدامنی کو ہوا دینا ہے، حالانکہ یہی سیکیورٹی فورسز خطے میں امن کی ضامن ہیں۔ مہمند اور صافی اقوام تمام پختون قبائل میں اپنی ان تھک محنت، غیرت اور خود داری کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ مہمند کے پہاڑ اصل میں لال اور جواہرات کے خزانے ہیں۔ جنوب ایشیا کا سب سے خوبصورت اور اعلیٰ معیار کا زیارت ماربل اسی دھرتی سے نکلتا ہے، جبکہ دنیا کا انتہائی قیمتی اور نایاب پتھر نیفرائٹ (Nephrite) بھی مہمند کی پہاڑیوں میں پایا جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مہمند اور صافی برادری نے صفر سے شروعات کی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ملک بھر کی بڑی تجارتی منڈیوں پر چھا گئے۔ آج آپ پشاور کا رخ کریں تو سبزی منڈی، فروٹ منڈی، فردوس مارکیٹ، شعبہ بازار، نمک منڈی، ڈبگری بازار، کوچی بازار، شاہین بازار اور صدر بازار کے اکثریتی تجارتی صدور مہمند یا صافی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی کے اہم کاروباری مراکز جیسے رحمان آباد، راجہ بازار، صادق آباد، رحمان کا کنواں اور سیٹلائٹ ٹاؤن ہوں، یا لاہور کی معروف شاہ عالمی اور لبرٹی مارکیٹس ہر جگہ مہمند برادری کے کامیاب کاروبار قائم ہیں۔ مردان کو تو مہمند قوم کا دوسرا بڑا گھر اور تجارتی مسکن کہا جاتا ہے۔ 2007 کے بعد کچھ گمراہ عناصر نے ٹی ٹی پی کا رخ کیا تھا، لیکن پاک فوج اور مقامی عوام کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں 2011 کے بعد سے مہمند میں مکمل امن بحال ہو چکا ہے۔ پی ٹی ایم جیسے گروہ دراصل ٹی ٹی پی اور ملک دشمن عناصر کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو متنازع بنایا جا سکے۔ مہمند کی وطن دوست اور باصلاحیت قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو خوب پہچانتی ہے، اس لیے پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کے منفی پروپیگنڈے اور گمراہ کن بیانیے میں آئے بغیر اپنے خطے کے امن، استحکام اور معاشی ترقی کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai19,034 görüntüleme • 1 ay önce

یہ ویڈیو 2009 کی ہے جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، اور دیر کے علاقے اسبنڑ میں طالبان نے راج قائم کیا تھا۔ پھر ایک دن لوگ ان کی ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم ان وحشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پولیس اور فوج موجود نہیں تھیں، تھانے خالی تھے؛ اور پھر جب عوام نے خود جواب دیا، تو علاقہ صاف ہو گیا۔ تب آرمی اور پولیس اس علاقے میں آ گئے۔ آج بھی وہاں امن قائم ہے کیونکہ دیر کے عوام نے پہلے دن سے پختہ یقین رکھا کہ اپنی مٹی پر کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو جگہ نہیں دینی۔ یہ کمیونٹی اونیڑشپ کا وہ تاریخی ماڈل ہے جو ثابت کرتا ہے کہ امن کا قیام کسی مادی وسائل کے مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے مزاج، سماجی رویے اور قومی مشران کے عزم سے ہوتا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں پختون دھرتی کا مستقبل دو متضاد ماڈلز کے سامنے کھڑا ہے: پہلا ماڈل: عوامی عزم اور قومی مشران کی جرات (امن کا راستہ) یہ دیر، سوات مردان چترال صوابی پشاور ، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ کی سلارزئی و اتمان خیل اقوام کا ماڈل ہے۔اپر دیر میں 2006 ہی سے عوام کا عزم تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑنا۔ مقامی مشران جیسے ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین نے روایتی لشکر کھڑے کیے، اجنبیوں کا بائیکاٹ کیا اور مٹی پاک کی۔ اسی طرح باجوڑ کی پانچ تحصیلوں (سلارزئی، اتمان خیل، خار وغیرہ) میں نامور قومی مشر شہاب الدین خان سلارزئی، بسم اللہ خان اور دیگر مشران نے ہزاروں کا قومی لشکر بنایا اور سہولت کاروں کے گھر مسمار کیے۔ سوات میں افضل خان لالا نے دھرتی چھوڑنے سے انکار کیا، بونیر میں فتح خان، اور خیبر تیراہ میں ملک خدو خیل نے لشکر سازی سے امن قائم کیا۔ مہمند میں ملک مصطفیٰ اور ملک یونس نے جانیں قربان کیں۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جہاں قوم مشران کے پیچھے متحد ہو، وہاں دہشت گردی ناامید ہو جاتی ہے۔ دوسرا ماڈل: مسلط کردہ بدامنی اور فکری انتشار (تباہی کا راستہ) یہ وزیرستان، بنوں ، ٹانک ، لکی مروت ، کرم کے تحصیل صدہ خیبر کے تحصیل تیراہ اور باجوڑ کی تحصیلوں لوئے ماموند و وڑکے ماموند کا ماڈل ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں تحریکِ طالبان نے منظم منصوبے کے تحت سب سے پہلے بااثر قبائلی مشران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ جب روایتی قبائلی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، تو سماجی خلا پیدا ہوا اور مقامی سطح پر ملنے والی خاموش یا اعلانیہ سہولت کاری (Facilitation) کی وجہ سے بدامنی کا یہ سلسلہ طول پکڑتا گیا۔ جہاں بھی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور ہمدردی میسر ہو، وہاں بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں، کیونکہ مستقل امن صرف مقامی برادری کے رویے اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ معدنیات کے جھوٹے بیانیے کی حقیقت اسی ہائبرڈ جنگ کے تحت یہ زہریلا پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ ریاست معدنیات پر قبضے کے لیے بدامنی پھیلاتی ہے، جبکہ معاشی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں زمرد، لعل اور گرینائٹ کے سب سے قیمتی ذخائر سوات، دیر، مانسہرہ اور چترال میں ہیں، جو مکمل پرامن اور سیاحت کے گڑھ ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ گیس اور تیل دینے والے اضلاع کوہاٹ اور کرک پرامن ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ کے ماموند یا خیبر کی وادی تیراہ میں معدنیات کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں، لیکن وہاں حالات کا خراب ہونا وسائل کی لوٹ مار نہیں بلکہ بیرونی پراکسیز (جیسے 'را'، صیہونی پشت پناہی اور افغان عبوری حکومت کے مہرے) کو ملنے والی مقامی سہولت کاری ہے۔ یہ دشمن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پختون کا خون بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے، پختونوں کو اب خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بیرونی پراکسیز کا تزویراتی اثاثہ بن کر تباہی کا وزیرستان ماڈل چاہتے ہیں، یا پھر بیداری، یکجہتی اور ترقی کا وہ دیر اور سلارزئی ماڈل اپنائیں گے جہاں عوام خود اٹھ کھڑے ہو کر بدامنی کے سوداگروں کا سماجی مقاطعہ کرتے ہیں اور اپنے امن کے خود ضامن بنتے ہیں۔ اب پختونوں کا فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے: دیر و سلارزئی کا غیور پختون ماڈل نہ کہ کسی کی مسلط کردہ پراکسی وار
Khadim Ali khan Yousaf zai40,069 görüntüleme • 2 ay önce

یہ بندوق اٹھائے نوجوان اور بوڑھے دیر کے غیرت مند غیور عوام ہیں، جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دہشت گرد انہیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؛ وہ اپنی دھرتی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اک ناقابلِ تسخیر چٹان بن کر کھڑے ہیں۔ دیر اپر کے انہی غیرت مندوں، ان کے فولادی عزم اور ایکٹو ڈیفنس ماڈل کا نتیجہ ہے کہ پچھلے اکیس سالوں میں نہ کبھی اس خطے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند ہوئیں، نہ کسی تاجر کو بھتے کی کال آئی، نہ سیاحت و کاروبار کو کوئی نقصان پہنچا، اور نہ ہی یہاں کے غیرت مند عوام کو سوات یاقبائلی اضلاع کی طرح اپنا گھر بار چھوڑ کر آئی ڈی پیز بننا پڑا۔ شجاعت، قومی غیرت اور اپنی پاک سرزمین کے دفاع کا یہ شاندار جذبہ اپر دیر کے علاوہ سوات کے مٹہ، مدین، بحرین، کالام، باجوڑ کی تحصیل سالارزئی، خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل و راجگال، اور کرم کے علاقے پاڑہ چنار میں نظر آتا ہے، جہاں کے عوام نے اپنی جانیں قربان کر کے بھی دہشت گردوں کو پاؤں پھیلانے نہیں دیے۔ کاش! باقی تمام علاقوں کے پختون بھی دیر اور ان غیور خطوں کی طرح بیدار ہوتے، اپنے علاقوں کا تحرک خود سنبھالتے، فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اک ہی مورچے میں کھڑے ہو جاتے، تو آج پورے پشتون وطن میں اک بھی دہشت گرد کا وجود باقی نہ رہتا اور ہر طرف صرف اور صرف امن و ترقی کا دور دورہ ہوتا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai25,356 görüntüleme • 1 ay önce