Khadim Ali khan Yousaf zai's banner
Khadim Ali khan Yousaf zai's profile picture

Khadim Ali khan Yousaf zai

@Alikhanyzai95,972 subscribers

Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰

Shorts

دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، سچے اور سادہ دل لوگوں کی محبت ہی انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ 2018ء میں جب کیپٹن (ر) محمد صفدر صاحب گرفتار ہوئے تھے، تو یہ فقیر ان کے لیے زار و قطار رویا تھا۔اس کی ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی ، آج اتنے سالوں بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی، تو خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ گلے سے لگ گیا۔ خلوص، سچی چاہت اور محبت سے بھرپور ایک انتہائی جذباتی اور یادگار منظر! ❤️🤲

دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، سچے اور سادہ دل لوگوں کی محبت ہی انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ 2018ء میں جب کیپٹن (ر) محمد صفدر صاحب گرفتار ہوئے تھے، تو یہ فقیر ان کے لیے زار و قطار رویا تھا۔اس کی ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی ، آج اتنے سالوں بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی، تو خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ گلے سے لگ گیا۔ خلوص، سچی چاہت اور محبت سے بھرپور ایک انتہائی جذباتی اور یادگار منظر! ❤️🤲

46,588 次观看

خوارج نے انبیاء اور صحابہ کو نہیں چھوڑا تو ہمیں کیسے چھوڑ دینگے اسلئے ہم کوئی دفاعی پوزیشن نہیں لینگے اور کھل کر انکی مخالفت کرینگے شہید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شہادت سے کچھ روز پہلے کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

خوارج نے انبیاء اور صحابہ کو نہیں چھوڑا تو ہمیں کیسے چھوڑ دینگے اسلئے ہم کوئی دفاعی پوزیشن نہیں لینگے اور کھل کر انکی مخالفت کرینگے شہید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شہادت سے کچھ روز پہلے کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

39,478 次观看

اسلام آباد کچہری کے مرکزی گیٹ کے باہر دھماکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کا خدشہ

اسلام آباد کچہری کے مرکزی گیٹ کے باہر دھماکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کا خدشہ

52,661 次观看

اللّٰهمَّ انصرهم نصرًا عزيزًاوافْتَحْ لَهُمْ فتحًا مبينًا اے اللہ! انہیں ایک زبردست اور عزت والی نصرت عطا فرما اور ان کے لیے کھلی اور واضح فتح کا دروازہ کھول دے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

اللّٰهمَّ انصرهم نصرًا عزيزًاوافْتَحْ لَهُمْ فتحًا مبينًا اے اللہ! انہیں ایک زبردست اور عزت والی نصرت عطا فرما اور ان کے لیے کھلی اور واضح فتح کا دروازہ کھول دے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

55,031 次观看

پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب میں مقیم اوورسیز پاکستانی اپنی گاڑیوں پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان، ولی عہد و وزیراعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر لگا رہے ہیں

پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب میں مقیم اوورسیز پاکستانی اپنی گاڑیوں پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان، ولی عہد و وزیراعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر لگا رہے ہیں

34,009 次观看

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

16,301 次观看

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کیپٹن ر محمد صفدر پشاور میں مفتی محمود رحمہ اللہ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں،

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کیپٹن ر محمد صفدر پشاور میں مفتی محمود رحمہ اللہ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں،

22,054 次观看

Videos

Alikhanyzai's profile picture

اس وقت میں پشاور میں ہوں، ہر طرف جشن کا سماں ہے، اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر پاکستان کا جشن منا رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے غیرتمند پختونوں نے ان تمام منفی بیانیوں، انتشار پسند سوچ اور تقسیم کی سازشوں کا دندان شکن جواب ہے جو اس دھرتی کی وحدت کو تار تار کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔خیبر کی تاریخی گھاٹیوں سے لے کر وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے بلند و بالا پہاڑوں تک، پشتون قوم نے اپنے لہو، اپنی غیرت اور اپنے نسل در نسل مستقبل کا رشتہ ہمیشہ اس پاک دھرتی کے ساتھ جوڑا ہے۔ جو مٹھی بھر عناصر عسکریت پسندوں کے دباؤ یا مخصوص سیاسی بیانیوں کی آڑ میں پشتونوں کی ریاست سے وفاداری پر سوال اٹھاتے تھے، آج پشاور کی سڑکوں پر یہ تاریخی عوامی سمندر ان کے تمام نظریات کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔ جن قبائلی علاقوں، وزیرستان کے غیور عوام اور سوات کے عوام نے فتنے، بارود اور نقل مکانی کے ہولناک عذاب جھیلے، آج وہی غیور عوام ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے یہ حتمی فیصلہ سنا رہے ہیں کہ پشتون کا مان، شان، پہچان اور واحد وطن صرف اور صرف پاکستان ہے! یہ ملک ہمارا ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ ہماری ہے، اور اس کے آئین و بقا کی خاطر ہمارے آباؤ اجداد، مسلح افواج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہیں کہ پاکستان اور پشتون لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پختون قوم کا مقدر، عزت اور بقا صرف اور صرف پاکستان میں ہے! پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

Khadim Ali khan Yousaf zai

21,241 次观看 • 4 天前

Alikhanyzai's profile picture

یہ ویڈیو 2009 کی ہے جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، اور دیر کے علاقے اسبنڑ میں طالبان نے راج قائم کیا تھا۔ پھر ایک دن لوگ ان کی ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم ان وحشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پولیس اور فوج موجود نہیں تھیں، تھانے خالی تھے؛ اور پھر جب عوام نے خود جواب دیا، تو علاقہ صاف ہو گیا۔ تب آرمی اور پولیس اس علاقے میں آ گئے۔ آج بھی وہاں امن قائم ہے کیونکہ دیر کے عوام نے پہلے دن سے پختہ یقین رکھا کہ اپنی مٹی پر کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو جگہ نہیں دینی۔ یہ کمیونٹی اونیڑشپ کا وہ تاریخی ماڈل ہے جو ثابت کرتا ہے کہ امن کا قیام کسی مادی وسائل کے مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے مزاج، سماجی رویے اور قومی مشران کے عزم سے ہوتا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں پختون دھرتی کا مستقبل دو متضاد ماڈلز کے سامنے کھڑا ہے: پہلا ماڈل: عوامی عزم اور قومی مشران کی جرات (امن کا راستہ) یہ دیر، سوات مردان چترال صوابی پشاور ، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ کی سلارزئی و اتمان خیل اقوام کا ماڈل ہے۔اپر دیر میں 2006 ہی سے عوام کا عزم تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑنا۔ مقامی مشران جیسے ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین نے روایتی لشکر کھڑے کیے، اجنبیوں کا بائیکاٹ کیا اور مٹی پاک کی۔ اسی طرح باجوڑ کی پانچ تحصیلوں (سلارزئی، اتمان خیل، خار وغیرہ) میں نامور قومی مشر شہاب الدین خان سلارزئی، بسم اللہ خان اور دیگر مشران نے ہزاروں کا قومی لشکر بنایا اور سہولت کاروں کے گھر مسمار کیے۔ سوات میں افضل خان لالا نے دھرتی چھوڑنے سے انکار کیا، بونیر میں فتح خان، اور خیبر تیراہ میں ملک خدو خیل نے لشکر سازی سے امن قائم کیا۔ مہمند میں ملک مصطفیٰ اور ملک یونس نے جانیں قربان کیں۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جہاں قوم مشران کے پیچھے متحد ہو، وہاں دہشت گردی ناامید ہو جاتی ہے۔ دوسرا ماڈل: مسلط کردہ بدامنی اور فکری انتشار (تباہی کا راستہ) یہ وزیرستان، بنوں ، ٹانک ، لکی مروت ، کرم کے تحصیل صدہ خیبر کے تحصیل تیراہ اور باجوڑ کی تحصیلوں لوئے ماموند و وڑکے ماموند کا ماڈل ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں تحریکِ طالبان نے منظم منصوبے کے تحت سب سے پہلے بااثر قبائلی مشران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ جب روایتی قبائلی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، تو سماجی خلا پیدا ہوا اور مقامی سطح پر ملنے والی خاموش یا اعلانیہ سہولت کاری (Facilitation) کی وجہ سے بدامنی کا یہ سلسلہ طول پکڑتا گیا۔ جہاں بھی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور ہمدردی میسر ہو، وہاں بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں، کیونکہ مستقل امن صرف مقامی برادری کے رویے اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ معدنیات کے جھوٹے بیانیے کی حقیقت اسی ہائبرڈ جنگ کے تحت یہ زہریلا پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ ریاست معدنیات پر قبضے کے لیے بدامنی پھیلاتی ہے، جبکہ معاشی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں زمرد، لعل اور گرینائٹ کے سب سے قیمتی ذخائر سوات، دیر، مانسہرہ اور چترال میں ہیں، جو مکمل پرامن اور سیاحت کے گڑھ ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ گیس اور تیل دینے والے اضلاع کوہاٹ اور کرک پرامن ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ کے ماموند یا خیبر کی وادی تیراہ میں معدنیات کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں، لیکن وہاں حالات کا خراب ہونا وسائل کی لوٹ مار نہیں بلکہ بیرونی پراکسیز (جیسے 'را'، صیہونی پشت پناہی اور افغان عبوری حکومت کے مہرے) کو ملنے والی مقامی سہولت کاری ہے۔ یہ دشمن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پختون کا خون بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے، پختونوں کو اب خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بیرونی پراکسیز کا تزویراتی اثاثہ بن کر تباہی کا وزیرستان ماڈل چاہتے ہیں، یا پھر بیداری، یکجہتی اور ترقی کا وہ دیر اور سلارزئی ماڈل اپنائیں گے جہاں عوام خود اٹھ کھڑے ہو کر بدامنی کے سوداگروں کا سماجی مقاطعہ کرتے ہیں اور اپنے امن کے خود ضامن بنتے ہیں۔ اب پختونوں کا فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے: دیر و سلارزئی کا غیور پختون ماڈل نہ کہ کسی کی مسلط کردہ پراکسی وار

Khadim Ali khan Yousaf zai

39,935 次观看 • 1 个月前

Alikhanyzai's profile picture

عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تقریباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ان کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

31,704 次观看 • 3 个月前